Posts Tagged ‘علیزہ

میری ماں

 

مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔  سب سے پیاری۔۔۔سب کی پیاری۔۔۔  سب کو پیار کرنے والی۔۔۔ سب سے پیار پانے والی۔۔۔ لیکن کچھ مائیں اولاد پر سب کچھ وار کر بھی تہی دامن ہی رہتی ہیں۔۔۔ ایسی ہی کہانی میری ماں کی ہے۔۔۔

میری ماں۔۔۔  آج ہسپتال کے بستر پر ایک زندہ لاش کی طرح پڑی ہیں۔۔۔

میری عادت تھی کہ روز آفس جاتے ہوئے رستے میں امی کو فون کرتا۔۔۔ ایک گھنٹے کی مسافت میں بیس پچیس منٹ ان سے بات ہوتی۔۔۔ ہر گفتگو کا اختتام ان کی اس دعا سے ہوتا۔۔۔ کہ اللہ تمہاری منتیں مرادیں پوری کرے۔۔۔ تمہیں ہر تکلیف سے بچائے۔۔۔ زندگی میں ہر کامیابی تمہیں ملے۔۔۔  میرا ایمان ہے کہ میری ہر کامیابی ان ہی کی دعاووں کا نتیجہ تھی۔۔۔

جمعرات کی شب میں علیزہ اور عنایہ کو لے کر ان سے ملنے آیا۔۔۔ تو وہ خوش تھیں۔۔۔ علیزہ کی تیراکی کی مشق کی ویڈیو دیکھی تھی۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔ علیزہ پر محنت کرو۔۔۔ سادہ ہے لیکن ذہین ہے۔۔۔ اسے ڈانٹا مت کرو۔۔۔

“اچھا سنو۔۔۔ کباب کا سالن بنانا مجھے بھی آتا ہے۔۔۔ آج بنایا ہے۔۔۔ کھا کر جانا۔۔۔”

میں نے کھاتے کھاتے ایسے ہی کہا کہ امی نمک زیادہ ہے۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ نمک نہیں۔۔۔ شاید ٹماٹر کی وجہ سے تمہیں زیادہ نمکین لگ رہا ہے۔۔۔  میرا ایک کام کرو۔۔۔ فارمیسی پر جاو۔۔۔ اور مجھے گیس کی کوئی دوا لا دو۔۔۔ اور تمہارے ابو پر بہت بوجھ ہے، روز کی میری انسولین کا انجیکشن لگ جاتا ہے۔۔۔ اب سے تم اور کامران مجھے مہینے کا ایک ایک ڈبہ لا کر دیا کرو۔۔۔

میں اٹھا اور جا کر ادویات لے آیا۔۔۔  گھر آیا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔۔ علیزہ عنایہ انہی کے بستر پر بیٹھی کھیل رہی تھیں۔۔۔ میں نے ماتھا چوما۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ اب تم گھر جاو۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔

بس وہ میرا آخری بوسہ تھا جو میں نے انہیں ان کے ہوش میں دیا۔۔۔ اور یہ آخری بات تھی جو مجھ سے انہوں نے کہی۔۔۔

جمعہ کے روز مجھے صبح صبح آفس جانا پڑا۔۔۔ حسبِ عادت امی کوفون کیا۔۔۔ تو ان کا فون بند ملا۔۔۔ میں نے ابو کے موبائل پر فون کیا تو ابو نے بتایا کہ وہ تو واش روم میں ہیں۔۔۔

گیارہ بجے مجھے ابو کا فون آیا۔۔۔ اور انہوں نے یہ قیامت مجھ پرتوڑی۔۔۔

چار دن پہلے ہنستی کھیلتی، لاڈ اٹھاتی۔۔۔ پھر اچانک باورچی خانے میں گر گئی۔۔۔ کچھ نا معلوم ہوا کہ کیوں گری۔۔۔ بس جب دیکھا تو بے حال، بےہوش، نڈھال۔۔۔ بے آسرا گری ہوئی۔۔۔ ایمبولینس بلائی اور ہسپتال پہنچے۔۔۔ وہاں جا کر علم ہوا کہ برین سٹروک ہوا ہے۔۔۔ جسم کا دایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج۔۔۔ اور میری ماں بے ہوش۔۔۔

میں آفس سے سیدھا ہسپتال پہنچا۔۔۔ تو بہن بھائی سب  پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔۔۔ سی ٹی سکین بھی ہو چکا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر لیا۔۔۔

اڑتالیس گھنٹوں بعد دوسرا سی ٹی سکین ہوا۔۔۔ تو علم ہوا کہ دماغ کا دو تہائی حصہ سٹروک کی وجہ سے انفیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اور آہستہ آہستہ انفیکشن پورے دماغ میں پھیل رہا ہے۔۔۔  ان انفیکشن کی وجہ سے جسم کے تقریبا سارے اعضاء طبی طور پر مر چکے ہیں۔۔۔ امی کوما میں جا چکی ہیں۔۔۔ چار دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔۔۔ ادویات بھی ناک کی ذریعے دی جا رہی ہیں۔۔۔

کل ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ اب بچنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔ سوائے کسی معجزے کے۔۔۔ جوں ہی وینٹی لیٹر اتارا تو امی اللہ کو پیاری ہو جائیں گی۔۔۔

میری ماں۔۔۔ میں ان کا سب سے بڑا مجرم۔۔۔ ایسا مجرم۔۔۔ جس کو انہوں نے سب سے زیادہ پیار کیا۔۔۔ جس کی ہر کامیابی  ، ہر خوشی اور ہر غم ان کی ذات سے وابستہ تھا۔۔۔ کہہ لیجیے کہ میری سب سے اچھی دوست بھی میری ماں ہی تھی۔۔۔ میری کوئی بات ان سے چھپی نا تھی۔۔۔ میں نے انہیں بہت تنگ کیا۔۔۔ بہت رلایا۔۔۔ لیکن میں ان کے لیے سب سے اچھا ہی تھا۔۔۔ سب بہن بھائی کہتے کہ امی صرف عمران کی سنتی ہیں۔۔۔ عمران کی ہی فکر کرتی ہیں۔۔۔  اور میں یہ جانتا مانتا بھی تھا۔۔۔

آج میری ماں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔۔ میں ان کے کمرے میں ان کے بستر کے سامنے بیٹھا یہ کہانی لکھ رہا ہوں۔۔۔ میری آنکھیں آنسووں سے بھری ہیں۔۔۔ مجھے بستر پر بیٹھی اپنی ماں اب بھی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ میرا دل بوجھل ہے کہ شاید اب میں کبھی اپنی ماں سے بات نا کر پاوں۔۔۔ کبھی ان کی گود میں سر نا رکھ پاوں۔۔۔ کبھی ان کو تنگ نا کر سکوں۔۔۔ شاید اب میں کبھی ان کی دعائیں نا لے سکوں۔۔۔

میری ماں۔۔۔ کاش میری ماں مجھے واپس مل جائے۔۔۔ کاش۔۔۔  میں اپنا سب کچھ دے کر اپنی ماں کو واپس اس دنیا میں ہنستا کھیلتا لے آوں۔۔۔ کاش۔۔۔  میری چھت میرے سر پر ہمیشہ رہے۔۔۔ کاش میں صحیح معنوں میں یتیم نا ہو جاوں۔۔۔

سب دوستوں اور قارئین سے ان کی صحت کے لیے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ کہ اللہ کوئی معجزہ دکھائے اور وہ بھلی چنگی ہو جائیں۔۔ جو بقول ڈاکٹروں کے اب ناممکن ہے۔۔۔ا

Tags : , , , , ,

ارھاء

5  اپریل کو  علیزہ اور عنایہ کی بہن ارھاءعمران  اس دنیا میں آئی۔۔۔ علیزہ اور عنایہ کی دوسری بہن۔۔۔ اور میری تیسری بیٹی۔۔۔

سچ بات تو یہ ہے کہ ہر عام انسان کی طرح اس مرتبہ  بھی میں نے بیٹے کے لیے بہت دعائیں کی۔۔۔ لیکن۔۔۔ ایک دعا یہ بھی کی کہ” یا اللہ مجھے اپنی رضا میں راضی رکھ۔۔۔”

اور اللہ نے میری “رضا میں راضی رکھنے” والی دعا قبول فرمائی۔۔۔ جیسے ہی ہسپتال میں مجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے اس بار بھی اپنی رحمت عطا فرمائی ہے۔۔۔ تو میں راضی ہو گیا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔ اپنے اللہ کی رضا میں۔۔۔  صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔ دل مطمئن ہو گیا۔۔۔ اضطراب ختم ہو گیا۔۔۔  بس پہلا خیال یہ آیا کہ چلو کسی بھی طرح تو اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت پر عمل ہوا۔۔۔  الحمدللہ۔۔۔

اگلا مرحلہ قدرے مشکل تھا۔۔۔ لوگوں کا سامنا ۔۔۔ دراصل لوگوں کا نہیں۔۔۔ ان کی ہمدردی کا سامنا۔۔۔   میرے دل میں شاید چور تھا یا اس بار میں میں لوگوں کے لہجوں بارے زیادہ حساس ہو گیا تھا۔۔۔ معلوم نہیں۔۔۔ لیکن ہمدردی کا سامنا ایک بار نہیں۔۔۔ کئی بار کرنا پڑا۔۔۔  کئی بار خود پر رحم کرنے کی بجائے ہمدردی کرنے والوں پر رحم آیا۔۔۔ ان کی سوچ پر رحم آیا۔۔۔

والدین اور بہن بھائی کی جانب سے تو الحمدللہ کوئی مشکل نہیں آئی۔۔۔ بلکہ میرے والدین نے تو پہلے سے بھی زیادہ خوشی منائی۔۔۔  اور ویسے بھی امی ابو بیٹیوں کی بیٹوں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں۔۔۔

ایک حضرت جو رشتے دار بھی ہیں۔۔۔ پڑھے لکھے  اور  پابندہ صوم و الصلوۃ بھی ہیں۔۔۔ ان کا فون آیا۔۔۔ اب تک یہ نہیں سمجھ آیا۔۔۔ کہ انہوں نے مبار ک دی یا افسوس کیا۔۔۔  گفتگو کا آغاز انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بتاتے کیا۔۔۔ کہ ان کی پہلے چار یا پانچ بہنیں تھیں۔۔۔ پھر یہ دو بھائی پیدا ہوئے۔۔۔  تو میں “ہمت نا ہاروں ” وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بیٹیاں بہت اچھی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بلکہ ان کا لہجہ واقعی سرد اور افسوس کرنے جیسا تھا۔۔۔   عمر اور رشتے میں مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔ اس لیے احترام ملحوظ خاطر رکھنا پڑا۔۔۔ خاموشی سے ان سے اپنے اور اپنی بیٹیوں کے اچھے نصیب کے لیے دعا کی درخواست کی۔۔۔

اور اسی طرح  کچھ اور حضرات بھی۔۔۔  مجھے ان سے ہمدردی ہوتی ہے۔۔۔ جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔۔۔ بیٹی کیسا رشتہ ہے۔۔۔ !!! کیا لوگ نہیں جانتے۔۔۔؟ کیا ان کی دی ہوئی محبت لوگوں کے دل نرم نہیں کرتی۔۔۔۔

جناب۔۔۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔۔۔ میرا بھائی  اپنی شادی کے چند ماہ بعد ہی بوجہ نوکری  والدین سے الگ  ہو گیا۔۔۔ میں بھی شادی کے سات سال بعد کچھ مسائل کی وجہ سے الگ ہو گیا۔۔۔ میرا ضمیر مجھے شدید لعن طعن و ملامت کرتا ہے کہ میں کسی طرح بھی اپنے والدین کی خدمت کا حق نہیں ادا کر پا رہا۔۔۔  میں اور میرا بھائی۔۔۔ “بیٹے ہیں”۔۔۔ لیکن میرے والدین کسی بھی طرح ہم سے مطمئن نہیں۔۔۔ جبکہ میری بہنیں۔۔۔ ہم وقت، ہر دم والدین کا خیال رکھتی ہیں۔۔۔ والدہ کی طبیعت خراب ہوئی تو بڑی بہن ہسپتال لے گئی۔۔۔ چھوٹی کتنے کتنے  دن امی کے ساتھ ہسپتال رہی۔۔۔ لیکن میں اور میرا بھائی۔۔۔ اپنی نوکریوں اور روزانہ کے طویل سفر کی وجہ سے چند ہی لمحات ہسپتال میں گزار پاتے۔۔۔ہفتے میں ایک بار ان سے ملنے جاتے ہیں۔۔۔

اس ساری رام کہانی کا مقصد یہ۔۔۔ کہ خدمت بیٹیاں ہی کرتی ہیں۔۔۔ خدمت گزار بیٹے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن جو سکون بیٹی انسان کو پہنچاتی ہے۔۔۔ وہ  شاید بیٹوں کےنصیب میں نہیں۔۔۔  رحمت بے شک اللہ نے بیٹیوں میں ہی رکھی ہے۔۔۔ پیار کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ اٹھواتی ہیں۔۔۔ آپ کے درد میں سب سے زیادہ تکلیف آپ کی بیٹی کو ہوتی ہے۔۔۔

جنابِ عالی۔۔۔ میں ٹھرا ایک جاہل انسان۔۔۔ کمزور ایمان اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نا رکھنے والا شخص۔۔۔ جب  سارے دن کے بعد تھکا ہارا گھر آتا ہوں۔۔۔ تو میری بیٹیاں بھاگتی میری طرف لپکتی ہیں۔۔۔  مجھے گلے لگا کر چومتی ہیں۔۔۔  میں بیمار ہوں تو میری پاس بیٹھی مجھے دباتی ہیں۔۔۔ دوا لینا یاد کراتی ہیں۔۔۔  تو میرا جیسا سخت دل انسان بھی پسیج جاتا ہے۔۔۔ تو کیوں نا پیار کروں انہیں۔۔۔ کیوں نا شکر ادا کروں اللہ کی ذات کا کہ اس نے اتنے حسین تحفے دیے۔۔۔

بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہیں۔۔۔ ان کی قدر کریں۔۔۔ انہیں پڑھائیں لکھائیں۔۔۔ اچھی تربیت کریں۔۔۔ اور اللہ سے یہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان کی اچھی تربیت کر سکیں۔۔۔  اور جنت کے حقدار بنیں۔۔۔ یاد نہیں  رسول اللہﷺ کی حدیثِ مبارکہ۔۔۔  کہ جس کی تین بیٹیاں یا تین  بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے لیے جنت ہے۔۔۔

الحمدللہ۔۔۔

Tags : , , , , , ,

جنت میں ایلسا اور اینا۔۔۔؟

میں:  بیٹے۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے بھیجا تاکہ وہ ہمیں اچھی باتیں بتا سکیں۔۔۔ ہمیں اچھے کام سکھا سکیں۔۔۔ مثلا جھوٹ نہیں بولنا۔۔۔ ہمیشہ سچ بولنا ہے۔۔۔ ہمیشہ صاف ستھرا رہنا ہے۔۔۔ ماما کے کاموں میں مدد کرنی ہے۔۔۔ عنایہ کا خیال رکھنا ہے۔۔۔ یو نو۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ اس دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔۔۔ وہ ہم سے بہت محبت کرتے تھے۔۔۔ اور اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے، وہ ہی آپ کی ہر دعا اور ریکوئسٹ بھی پوری کرتا ہے تو ہمیں ہر وقت صرف اللہ سے مانگنا چاہیے۔۔۔ اور اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔۔ 

علیزہ:  بابا۔۔۔ ہم اچھے کام کریں گے تو کیا ہوگا۔۔۔؟

میں: بیٹا۔۔۔ جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی بتائے ہوئے سارے اچھے کام کریں گے تو اللہ خوش ہوگا۔۔۔ آپ کو شاباشی دے گا۔۔۔

علیزہ:  تو بابا۔۔۔ اللہ میاں پھر ہمیں فائر میں نہیں ڈالے گا؟

میں:  نہیں بیٹا۔۔۔ پھر اللہ میاں ہمیں ایک گارڈن دے گا۔۔۔ جس میں ہمارا اپنا گھر ہو گا۔۔۔ بہت گرینری ہوگی۔۔۔ جھولے ہوں گے۔۔۔ بہت سے برڈز ہوں گے۔۔۔ اور جو آپ جو چاہو گی وہ ملے گا۔۔۔

علیزہ:  بابا۔۔۔ وہ کونسا گارڈن ہے۔۔۔؟

میں:  بیٹا اس گارڈن کا نام جنت ہے۔۔۔

علیزہ (میری بات کاٹتے ہوئے):  بابا۔۔۔ اس گارڈن میں فروزن کی ایلسا اور اینا بھی ہوں گی۔۔۔؟ صوفیہ اور ڈوری مون بھی ہوں گے؟ ہمین وہاں گلیکسی چاکلیٹ ملے گی؟ میرا بہت دل  چاہتا ہے کہ میں بہت سی چاکلیٹ کھاوں لیکن ماما نہیں کھانے دیتی تو جنت گارڈن میں، میں جتنی چاہے چاکلیٹ کھا سکتی ہوں؟ اور کیا میں جنت گارڈن میں  ایلسا والا ڈریس پہن سکتی ہوں؟ اور ہاں میں ایلسا والے ڈریس کے نیچے شوز بھی ایلسا والے پہنوں گی۔۔۔ اور کراون بھی لگاوں گی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔!!!

میں: جی بیٹا۔۔۔ آپ کو جو بھی چیز پسند ہے، وہ اللہ میاں آپ کو اس جنت گارڈن میں دیں گے۔۔۔

اس سارے مکالمے کے بعد ناجانے کیوں میرا دل ڈوب سا گیا۔۔۔

Tags : , , , ,

اللہ کی نعمت ۔۔۔ میری بیٹیاں

یہ سال 2010 کے اوائل کی بات ہے۔۔۔ میرے ایک عزیز دوست نے مجھے دعا دی کہ اللہ تجھے بیٹی عطا فرمائے۔۔۔  میں نے مصنوعی   مسکراہٹ کے ساتھ اس دوست کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ لیکن دل میں ایک بے چینی ہو گئی۔۔۔  کہ “بیٹی۔۔۔!!!”

کون سنبھالے گا اسے۔۔۔  میرا بازو کیسے بنے گی۔۔۔ اور اسی طرح کی کئی خرافات۔۔۔

موڈ سخت خراب ہو گیا۔۔۔  “یار دعا ہی دینی تھی تو بیٹے کی دیتے۔۔۔”

اسی طرح  جلتے کڑھتے سو گیا۔۔۔ رات کے گیارہ ، ساڑھے گیارہ کے قریب آنکھ کھلی۔۔۔  تو پہلا خیال یہ آیا۔۔۔ کہ ۔۔۔” بےشرم انسان۔۔۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔۔۔ ان کی چار بیٹیاں ۔۔۔ اور ان بیٹیوں کے لیے بھی رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا بے انتہا پیار۔۔۔ اور تو ہے کہ بیٹی کی خواہش نہیں رکھتا۔۔۔ افسوس ہے تیری ذات پر۔۔۔۔”

صبح اٹھا۔۔۔ تو دل میں یہ خواہش بیٹھ چکی تھی کہ اب اللہ بیٹی ہی دے۔۔۔ دعا ئیں بھی بیٹی کے لیے شروع کر دیں۔۔۔

11 جون 2010 کو اللہ تبارک تعالیٰ نے مجھے بیٹی کے روپ میں ایک انتہائی خوبصورت تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔

پہلی دفعہ علیزہ کو اپنی  گود میں اٹھایا اور اس کے کانوں میں آذان پڑھی۔۔۔  اور پھر یوں ہوا کہ گود میں اٹھائے علیزہ کو دیکھتا رہتا۔۔۔  یہ سوچتا کہ واللہ اعلم کوئی نیک کام کبھی کیا ہوگا کہ جس کا صلہ اللہ نے مجھے میری بیٹی کے روپ میں دیا ہے۔۔۔

11 جون 2010 کو  میری ہمیشرہ کے ہاں بھی بیٹی نے جنم لیا۔۔۔  جس کا نام “بیان” رکھا گیا۔۔۔  اور اللہ نے مجھے ایک ساتھ دو بیٹیوں سے نوازا۔۔۔  

آج علیزہ اور بیان ماشاءاللہ  تین سال کی ہو گئی ہیں۔۔۔ بیان علیزہ کے لیے اُستاد ہے۔۔۔ اس کو ایسے سنبھالتی ہے جیسے علیزہ اس سے بہت چھوٹی ہو۔۔۔ باہر جاتے ہوئے علیزہ کو جوتے پہنانا، اس کے کپڑے تیار کروانا۔۔۔  اس کو “میک اپ” کرنا۔۔۔ اور اس کے لیے میں سب سے اچھا ماموں۔۔۔ :biggrin:

   ان تین سالوں میں، میں نے اپنی بیٹی میں دوست  اور کسی حد تک ماں کا بھی روپ دیکھ لیا۔۔۔  آفس سے گھر پہنچتا ہوں تو بھاگتی ہوئی میری طرف لپکتی ہے اور لپٹ جاتی ہے۔۔۔  “بابا پانی لاوں۔۔۔؟”  پھر اونچی آواز میں ماں کو کہنا۔۔۔ “بابا کھانا دو۔۔۔  :cheerful:

اکثر رات کو سوتے سوتے میرے سینے پر چڑھ جانا اور نیند میں بھی میرے گالوں کو بوسے دے دینا۔۔۔۔  کبھی میرے بازو پر سر رکھ کہنا۔۔۔ “بابا کہانی سناو”۔۔۔ ایک دن جو کہانی مجھ سے سننی ۔۔۔ اگلے دن اپنی دادی  کی گود میں بیٹھ کر انہیں اپنی توتلی زبان میں سنانا۔۔۔  :sleeping:

دادا ، دادی، چاچو، پھپھو کی لاڈلی۔۔۔ جس کے لاڈ اٹھاتے کوئی نہیں تھکتا۔۔۔ جس کی ایک فرمائش پر سب واری جاتےہیں۔۔۔۔  کبھی کہوں کہ بیٹا سر میں درد ہو رہی ہے۔۔۔ تو سر پر اپنے ننھے منے ہاتھ رکھ کر ہاتھوں کی بجائے خود ایسے ہلنا جیسے سر دبا رہی ہے۔۔۔ پھر اپنی ماں سے کہنا کہ بابا کو  “ہائی” (درد) ہو رہا ہے انہیں “دآئی”  (دوائی) دو۔۔۔

اب کچھ دن سے امی نے علیزہ کو ایک نئی دعا یاد کروائی ہے۔۔۔ جو وہ اپنی توتلی زبان میں یوں کہتی ہے۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔” (اللہ میاں، علیزہ کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔  :cheerful:   :cheerful:   :cheerful: ) 

حرم مکہ، میں طواف کے دوران میرے کاندھوں پر بیٹھی ۔۔۔ بار بار یہی دعا دوہراتی رہی۔۔۔ شاید اس کو کسی نے بتا دیا کہ اللہ میاں کے گھر میں دعا مانگو۔۔۔ تو اب جب کبھی گزرتے گزرتے کوئی مسجد نظر آ جائے تو بے اختیار۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔”

مدینہ منورہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔۔۔ ماں ساتھ نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔ اس کی نقل اتارتے ہوئے، سجدے میں گر کر بولی۔۔۔ “اللہ بَت۔۔۔ ایتھے رکھ۔۔۔ :shocked:   ” 

میں اسے کلمہ طیبہ سکھا رہا ۔۔۔۔ جو میں کہتا وہ دوہراتی رہی۔۔۔ پھر میں کہا کہ چلو اب آپ سناو۔۔۔ تو ایسے شروع ہوئی۔۔۔” رِنگا رِنگا روزز۔۔۔ پاپا گیندا اوزز۔۔۔ ڈی شو۔۔۔ ڈی شو۔۔۔  :kissing: “

کوئی بھی فرمائش ہو، علیزہ صرف مجھ سے کرتی ہے۔۔۔ شاید اس یہ مان ہے کہ اس کی خواہش صرف اس کا باپ ہی پوری کر سکتا ہے۔۔۔ کسی سے کبھی کچھ نہیں مانگتی۔۔۔ ہاں میرے ساتھ کہیں باہر چلی جائے تو بس فرمائشیں اور شاپنگ ہی شاپنگ۔۔۔  اور جو کھلونے وغیرہ لیے وہ پیسوں کی ادائیگی تک اپنے ہاتھ میں رکھنا۔۔۔ کہ باپ کہیں واپس نا رکھ دے۔۔۔  اور پھر ادائیگی کے وقت بھی نظریں مستقل  کھلونوں پر جمے رکھنا۔۔۔  

واللہ۔۔۔ بیٹیاں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔۔۔ باپ کے لیے سکون ، چاہت اور خوشی کا ذریعہ۔۔۔  اُن  کی پہلی محبت اُن کا باپ ہوتا ہے۔۔۔  اُن کے لیے اُن کے باپ سے اچھا  دنیا میں کوئی اور ہوتا ہی نہیں۔۔۔ 

اللہ میری علیزہ اور سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔  اور انہیں ماں باپ کے لیے ذریعہِ فخر اور مومنات بنائے۔۔۔ آمین۔۔۔

Tags : , ,

بلاعنوان

میں امیگریشن کاونٹر سے آگے نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ سفید فراک میں ملبوس میری پری، علیزہ بار بار پیچھے مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہونے سے پہلے وہ پھر سے مڑی۔۔۔ اور مجھے زور سے آواز دی۔۔۔ “بابا، آ جاو۔۔۔”

میں اپنی جگہ کھڑے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ علیزہ نے سر اٹھا کر توتلی زبان میں اپنی ماں سے پوچھا۔۔۔ “ماما، بابا نہیں آلے۔۔۔؟”

اس کی ماں کو اشارہ کیا کہ اسے لے جاو۔۔۔ اور وہ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہوتے ہی میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔۔۔ بس علیزہ کی آخری نظر میں مجھے اداسی نظر آئی۔۔۔

امیگریشن کاونٹر  سے میری گاڑی تک دس منٹ کی پیدل مصافت تھی۔۔۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ گاڑی تک پہنچنے تک، میں چلتے چلتے ہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔۔۔  اور میرے آنسو  میرے چہرے کو مکمل طور پر بھگو چکے تھے۔۔۔

Tags :

میری دادی اماں

ابو نے اپنی گود میں بیٹھی علیزہ سے پوچھا۔۔۔ بیٹا دادی امی کہاں ہیں۔۔۔ علیزہ کی انگلی دیوار پر لگی میری دادی اماں کی تصویر کی طرف اٹھ گئی۔۔۔ پھر علیزہ نے تصویر کی جانب اپنے دونوں بازو پھلا دئیے۔۔۔ ابو اٹھے اور علیزہ کو دیوار تک لے گئے۔۔۔ علیزہ نے اچک کر تصویر دیوار سے اتاری اور اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پہلے اپنے سینے سے لگا لیا اور پھر اپنے ہونٹ دادی کی تصویر پر لگا دیئے، ایسے کہ جیسے اسے چوم رہی ہو۔۔۔

میں بغور ابو اور علیزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ ان دونوں کا روز کا معمول ہے۔۔۔ ابو روز علیزہ سے دادی اماں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور علیزہ ایسے ہی دادی اماں کو چومتی ہے۔۔۔

دادی اماں کو ہم سے بچھڑے تین سال ہو چکے ہیں۔۔۔ کل یہی کچھ دیکھتے ہوئے بہت کچھ یاد آ گیا۔۔۔ سن 2006 میں، میں پاکستان گیا۔۔۔ دادی اماں کی گود میں سر رکھے میں نے مذاقا ان سے ابو کی شکایت کرتے ہوئے کہا، دادی امی، ابو میری شادی کیوں نہیں کروا رہے۔۔۔ اب اتنا انتظار نہیں ہوتا۔۔۔ دادی اماں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پنجابی میں کہا۔۔۔ ”میں تیرے پیو نال گل کراں گی۔۔۔”یہ سننا تھا اور میں نے ابو کو فون ملا کر دادی اماں کو پکڑا دیا۔۔۔ دادی اماں ابو سے کہنے لگی۔۔۔ ”وے اقبال۔۔۔ عمران بڑا پریشان پھردا ہے۔۔۔ گل کی اے؟”۔۔۔ ابو نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ تو دادی نے انہیں مصنوعی غصے سے کہا۔۔ ” میں تینوں کہندی پئی آں، میرے منڈے دا ویا جلدی کر دے۔۔ “ میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔ ابو نے انہیں جانے کیا کیا کہانیاں سنائیں۔۔۔ لیکن دادی اماں بٖضد تھیں کہ میرے منڈے دی جلد شادی ہونی چائیدی اے۔۔۔

دادی اماں کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے، میں نے ان کی صحت کا پوچھنے کے لیے انہیں پاکستان فون کیا۔۔۔ تو طبیعت کافی خراب تھی۔۔۔ کہنے لگیں۔۔۔”پتر۔۔۔ ہون لگدا اے کہ بلاوا آن والا اے۔۔۔ “۔ میں نے کہا کہ ”دادی امی۔۔۔ اللہ آپ کو صحت دے۔۔۔ ابھی تو آپ نے ہمارے بچوں کے ساتھ بھی کھیلنا ہے۔۔۔ “

میرے چھوٹے بھائی کا یہیں دبئی میں رشتہ طے ہوا۔۔۔ ابو نے پاکستان دادی امی کو فون کیا۔۔۔ اور تقریبا ایک گھنٹہ بات ہوئی۔۔۔ دادی اماں نے بھائی کے ساس سسر سے بھی بات کی۔۔۔ سب کو خوب دعائیں دیں۔۔۔

اگلے دن۔۔۔ شام کو چاچو کو فون آیا۔۔۔ کہ دادی امی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ صبح سے دادی اماں بہت خوش تھیں۔۔۔ سب رشتے داروں کو خود فون کر کے بتایا کہ میرے چھوٹے منڈے دا وی رشتہ ہو گیا۔۔۔ میں اپنے سارے بچے پگتا لئے۔۔۔ شام کو اچانک طبیعت خراب ہوئی۔۔۔ ہسپتال لے کر جاتے ہوئے رستے میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔۔۔

میری منگنی میری دادی نے خود کروائی تھی۔۔۔ اور میری جانب سے میری منگیتر کو انگوٹھی بھی خود انہوں نے پہنائی تھی۔۔ان کے انتقال کے ایک سال بعد میری شادی ہوئی۔۔۔۔ میرے ابو بہت اداس تھے۔۔۔خوشی کے اس موقع پر دادی ہمارے ساتھ نہیں تھیں۔۔۔

دادی کے ساتھ ابو کا پیار بہت ہی زیادہ تھا۔۔۔ دادی کا ہر حکم مانتے تھے۔۔۔ اور ہر حکم کی تعمیل کے بعد بہت خوش ہوتے تھے۔۔۔ ہمیں جب بھی بات ابو سے منوانی ہوتی تھی۔۔۔ تو دادی اماں سے کہلواتے تھے۔۔۔ اور ابو ان کا حکم ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔

آخری عمر میں دادی اماں کی نظر کافی کمزور ہو گئی تھی۔۔۔ ایک دفعہ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ تو اچانک کہنے لگیں۔۔۔ “پتر تو سگریٹ پینا ایں۔۔۔” میں نے گھبرا کر جھوٹ بول دیا کہ نہیں دادی اماں۔۔۔ میں نے تو کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔۔ ”پتر چوٗھٹ نا بول۔۔۔ تیرے دند پیلے ہوندے جا رے نے۔۔۔”

دادی اماں کے ساتھ میرا بہت کم وقت گزرا۔۔۔ لیکن۔۔۔ ان کا پیار ہمارے لیے بے بہا تھا۔۔۔ میرے ساتھ ان کا بہت مذاق تھا۔۔۔ ہر وقت ان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا رہتا۔۔۔ اور دادی اماں خوشی خوشی اپنے ہمسایوں کو میرے کارنامے بتاتی۔۔۔ ‘اج میرے منڈے نے مینوں اے کیا۔۔۔ اج میرا منڈا اے کردا پیا سی۔۔۔’

کل علیزہ دادی اماں کی تصویر چوم رہی تھی۔۔۔ اور میں یادوں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ کاش آج دادی امی زندہ ہوتی تو وہ کتنی خوش ہوتیں۔۔۔

اللہ دادی اماں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین

Tags : , , , ,

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: