سفر نامہ / Suffer-nama

208 بار دیکھا گیا

یوں تو بندہ (مراد بذات خود، یعنی میں یعنی عمران اقبال) ہر طرح کے سفر سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر تین گھنٹے کی فلائیٹ گزار کر لاہور بھی جانا پڑے تو جان پر بن آتی ہے۔۔۔ آخر کیا کریں ان تین گھنٹوں میں۔۔۔ سوائے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کروٹیں بدلنے کے۔۔۔ یا اپنے ہمسائے کی “ڈاکخانہ” ملانے کی کوشش اور پھر ان کے سفر کرنے کی ذاتی وجوہات سننے اور برداشت کرنے کے۔۔۔ آن فلائیٹ اینٹرٹینمنٹ بھی کچھ زیادہ اینٹرٹین نہیں کرتا۔۔۔ ایک دو کلک کے بعد بور ہو جاتا ہوں۔۔۔۔

میرا یار برھان منہاس جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔۔۔ اکثر ضد کرتا ہے کہ ویزہ لگواں اور امریکہ کا چکر لگا لوں۔۔۔ اور میں یہ سوچ کر ہی ویزہ کے لیے اپلائی نہیں کرپاتا کہ کون اٹھارہ گھنٹے جہاز میں بیٹھے۔۔۔ سفر سے میری بیزاریت کا عالم یہاں تک ہے کہ آئل اینڈ گیس کی ایک کانفرنس مئی میں ہیوسٹن میں منعقد ہو رہی ہے۔۔۔ اور میرا اس میں شرکت کرنا میرے کیرئیر کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔ میری کمپنی مجھے اور میری ایک کولیگ کو وہاں بھیجنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔۔۔ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔۔۔ اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔۔۔

واللہ، میں بھی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کہ نا تو سکون سے بیٹھا پاتا ہے۔۔۔ اور نا اپنی خاموش خلا میں کسی کی غیر ضروری مداخلت پسند کرتا ہے۔۔۔ سفر کے دوران وقت گزاری کے لیے کوئی کتاب پڑھنا تو بہتر محسوس ہوتا ہے۔۔۔ لیکن کسی اجنبی شخص سے “وقت گزاری” کرنا مجھے زرا بھی نہیں بھاتا۔۔۔ خیر۔۔۔ جیسے میں نے عرض کی کہ میں بڑا ہی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کوئی اور سمجھے تو سمجھے، میں تو خود کو زرہ برابر نہیں سمجھ پایا۔۔۔

اس مرتبہ سفر کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ اپنی گزری زندگی ایسے تجربے سے بلکل نافہم ہی رہی۔۔۔ اور وہ یہ تھی کہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی کے ہمراہ چھٹیاں گزاری جائیں۔۔۔ اور یہاں چھٹیوں سے مراد، ایک محدود مدت کے لیے آفس کی چخ چخ ، باقی دنیا سے کنارہ کشی ، کچھ پرانے اور نئے احباب سے ملاقات ہے۔۔۔ تو اپنی بارہ دن کی چھٹیوں کو ایسے پلان کیا کہ ڈسکہ، اپنے آبائی گاوں “بوبکانوالہ” ، گوجرانوالہ، لاہور، اسلام آباد، مری اور کراچی کی “سیاحت” کی جائے۔۔۔ اور ان بارہ دنوں میں جان، مال اور رشتے داروں سے عزت بچا کر واپس دبئی پہنچنا ہی شایدمیری کامیابی رہی۔۔۔

چیدہ چیدہ تجربے جن کے بارے میں لکھنے کا ارادہ ہے اور انشاءاللہ موقع ملا تو جلد ہی لکھ بھی دوں گا وہ یہ رہے۔۔۔

مری میں قیام اور تجربے
اسلام آباد میں انتہائی دلکش بلاگر دوست”بلاامتیاز” سے ملاقات۔۔۔
خانصپور میں ایک بزرگ “ٹورسٹ گائیڈ” سے ملاقات۔۔۔
کراچی میں دو دن کی روداد اور اپنے بہت عزیز دوست “وقار اعظم اور کاشف نصیر” سے ملاقات۔۔۔

(یہ سلسلہِ سفرنامہ امتیاز کی فرمائش پر لکھ رہا ہوں۔۔۔ ورنہ جو خوبصورت وقت گزرا، اس کے بارے لکھنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔ اب بس دعا کریں کہ سلسلہ پورا لکھ ہی دوں۔۔۔)

ٹیگز: , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

11 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: