کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

622 بار دیکھا گیا
مصنف: ZAF / مانوبلی

 

کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے…
 
مجھے لکھنا نہیں آتا، نہ ہی میٹھے میٹھے الفاظ میں لپیٹ کر بغض نکالنا آتا ہے۔ بلاگز لکھنے کا ہرگز کوئی شوق یا ارادہ نہیں لیکن مجھے تاریخ پڑھنے کا جنون ہے۔ پاکستانی سیاست کی رولر کوسٹر تاریخ پر ہر طرح کی کتابیں اور تجزیئے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ کس چیز کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے ہیں اور اسکے محرکات کیا ہیں، سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ آپ کو تاریخ کا صحیح علم ہو۔ 

 

پسندیدہ تاریخ پڑھنا اور اسی کو دلائل کیلئے استعمال کرنا ہمارے ملک میں درباری کلچر کو فروغ دینے میں خاصہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ میں سیاسی غیر جانبداری کا دعوی تو نہیں کرتی لیکن اتنا دعوی ضرور کرتی ہوں کہ جو تاریخی حقائق بیان کرونگی من و عن کرونگی اور اس سے میری کسی سیاسی وابستگی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسلم لیگ قیامِ پاکستان کے بعد ایک واحد مرکزی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی جس کے سربراہ قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسلم لیگ مفاد پرستوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ پہلا مارشل لا لگنے کے بعد مسلم لیگ کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور 1962 میں  جنرل ایوب خان کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ کے نام سے سیاسی منظر نامے پر ابھرنے کے بعد یہ کنگز پارٹی بن گئی اور اس نے ہر جائز و ناجائز کام میں فوجی ڈکٹیٹروں کا ساتھ دے کر ملک کی سیاسی تاریخ کو شرمناک حد تک آلودہ کیا۔ مارشل لا کی کیاریوں میں پروان چڑھنے والے یہ پودے اب جمہوریت کی مالا جپتے نہیں تھکتے۔ اس جمہوری لبادے نے ہی تو انکو فرش سے عرش پر بٹھایا اور آج یہ اور انکی آل پاکستان کو اپنی سلطنت سمجھتی ہے لیکن اس بدقسمت ملک کے عوام کو جمہوریت کا مطلب تو دور کی بات اس لفظ سے ہی شناسائی نہیں ہے۔ 

ایوب خان کی پاکستان مسلم لیگ کے قیام کے بعد قائداعظم کا نام اور پاکستان مسلم لیگ ایک فرینچائز بن گئی۔ اسٹیبلشمنٹ اس فرینچائز کو استعمال کرتے ہوئے ہر نااہل ترین شخص کو سیاسی لیڈر بناتی چلی گئی۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ کے کئی دھڑے بنتے ٹوٹتے رہے۔ پہلا دھڑا عوامی مسلم لیگ کی صورت میں ڈھاکہ میں عمل میں آیا اور اسکے بعد مسلم لیگ اور قائداعظم کے نام پر مفاد حاصل کرنے کی ایک لمبی تاریخ ہے جو میرا آج کا موضوع نہیں ہے۔ 

نواز شریف ایک اوسط درجے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انکے والد صاحب کی ایک چھوٹی سی فاؤنڈری تھی جو بھٹو کے زمانے میں قومیائی گئی اور ضیاالحق نے واپس دی۔ اس کی تفصیلات اگلے مضمون میں لکھوں گی۔

اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل جیلانی کے توسط سے نواز شریف جیسا ناعاقبت اندیش شخص جی ایچ کیو تک رسائی میں کامیاب ہوا اور تاریخ کے بدترین فرعون صفت ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کا منظورِ نظر بنا۔ آج ضیا کی قبر پر کتے بچے دے رہے ہیں لیکن نواز شریف اپنے محسن کی قبر تو دور کی بات نام لینے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ضیا کی وفات کے بعد میاں صاحب نے آن ریکارڈ ‘شہید’ کا مشن پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مشن کیا تھا؟ پاکستان میں فرقہ وارا نہ دہشتگردی کو فروغ اور عوام خاص طور پر پنجاب میں انتہاپسندی کا جو بیج ضیا نے بویا اسکی آبیاری کے علاوہ تو مجھے ‘شہید’ کا کوئی اور مشن سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ یہی ایک کام میاں صاحب نے بخوبی کیا۔ آج بھی دہشتگرد تنظیموں کو پیغام بھیجے جاتے ہیں کہ پنجاب کو چھوڑ کر کہیں بھی دہشتگردی پر انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ 
 بینظیر کی حکومت گرانے کیلئے اسامہ بن لادن سے پیسے لینے والے میاں صاحب آج ضربِ عضب کا تمغہ بھی اپنی شیروانی پر سجانا چاہتے ہیں۔ 

شریف برادران کے مرحوم والد المعروف ابا جی ہی بنیادی طور پر اپنے صاحبزادوں کو کامیاب سیاسی بزنسمین بننے کے گر سکھاتے رہے۔ پاکستانی سیاست  میں ہارس ٹریڈنگ جیسے گھناؤنے کھیل کو متعارف کروانے کا سہرا بھی ان دو بھائیوں کے سر جاتا ہے۔ 

نواز شریف کی سیاست میں لائے جانے اور کرپشن کی داستان اگلی قسط میں لکھوں گی۔ آج پاکستان مسلم لیگ سے پی ایم ایل این تک کر سفر کی داستان سنیئے۔ 

جب ضیاالحق نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر ایک نام نہاد منتخب حکومت بنا کر پاکستان مسلم لیگ جونیجو گروپ بنوائی تو تاریخ بھی شرما گئی ہوگی۔ ان ربر اسٹیمپ اسمبلیوں میں شریف برادران، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی، عابدہ حسین وغیرہ سمیت تقریباً وہ تمام سیاستدان اقتدار کے مزے لوٹتے رہے جو آج جمہوری بن کر اقتدار پر قابض ہیں۔ یہی لوگ ہر حکومت میں پائے جاتے ہیں چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی آمر کی مرضی سے آئی ہو۔ آئین کی جمہوری دھجیاں اڑانے والی ہر ترمیم میں یہ لوگ ضیاالحق کے ساتھ کھڑے رہے۔ 

ضیا کیونکہ صدر کیساتھ ساتھ چیف آف آرمی سٹاف بھی تھا لہٰزا اسکی طاقت کا پلڑا بھاری تھا۔

جلد ہی وزیراعظم محمد خان جونیجو سے اسکے اختلافات شروع ہوگئے اور اس نے اٹھاون بی کا استعمال کرتے ہوئے جونیجو کی حکومت ختم کردی۔ جونیجو نے اس معزولی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جونیجو تاحال مسلم لیگ کے صدر تھے۔ یاد رہے کہ اس دوران نواز شریف کی پنجاب حکومت کو معزول نہیں کیا گیا۔ 

 جونیجو کو سبق سکھانے کیلئے کنگز پارٹی کے اندر ہی ضیا کی ایما پر جونیجو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لا کر مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹا کر فدا محمد خان کو مسلم لیگ کا صدر بنا دیا۔ جونیجو کے حامی اراکین نے مسلم لیگ جونیجو گروپ بنا لیا۔ راولپنڈی کے پی سی ہوٹل میں ہونیوالی اس میٹنگ میں گالم گلوچ کیساتھ ایک دوسرے پر کرسیاں بھی چلائی گئیں۔ یہ غالباً ۸۸ کا واقعہ ہے۔ ہر سینئیر صحافی اس واقعہ کے بارے میں جانتا ہو گا اور اخبارات میں بھی ذکر ہوگا۔ 

اس مقصد کیلئے ضیا نے اپنے سب سے وفادار نوکر نواز شریف کا انتخاب کیا جو اس وقت وزیرِ اعلی پنجاب تھا۔ یہاں سے صحیح معنوں میں نواز شریف کی شرمناک سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ 

۸۸ کے عام انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا اور اسی دوران جونیجو عدالت سے اپنی معزولی کے خلاف مقدمہ بھی جیت چکا تھا لیکن اس وقت تک انتخابی عمل اتنا آگے بڑھ چکا تھا کہ عدالت نے بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے انتخابات کروانے کو ہی بہتر آپشن سمجھا۔ 

اس دوران ضیاالحق فضائی حادثے میں ہلاک ہوگیااور نواز شریف کی لاٹری کھل گئی۔ 

جنرل حمید گل جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، کسی بھی صورت بینظیر بھٹو کی inevitable لینڈ سلائڈ وکٹری کو روکنا چاہتے تھے۔ بھٹوز اور اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی کی بھی ایک لمبی علیحدہ داستان ہے۔ 

ایک گرینڈ اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے نام سے جی ایچ کیو میں تشکیل پایا جس میں تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں اور سیاسی یتیم شامل تھے۔ اس اتحاد کا سربراہ نواز شریف تھا۔ بینظیر اور انکی والدہ کو بدنام کرنے کیلئے نواز شریف نے ضیاالحق کے ایک اور چھوٹے حسین حقانی کے توسط سے اورئینٹ ایڈورٹائزنگ سے ان خواتین کی برہنہ تصاویر بنوائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے مہیا کردہ ہیلی کاپٹرز نے پنجاب میں وہ تصاویر گرائیں۔ انتہاپسندی کا جو بیج ضیاالحق پنجاب میں بو رہا تھا انکے لیئے یہ تصاویر ناقابلِ قبول تھیں۔ “جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ” والا تعصب بھی نواز شریف کی مہربانی سے متعارف ہوا۔ 

انتخابات ہوئے، آئی ایس آئی کے دفتر میں نقشے پھیلا کر مارک کیا گیا کہ IJI کو کتنی سیٹیں دینی ہیں۔ بینظیر کو سادہ سی اکثریت سے وفاق دے دیا گیا۔ پنجاب پلان کے مطابق نواز شریف کے حصے میں آیا۔ بینظیر کے بیس ماہ کے دورِ اقتدار کے دوران آپریشن مڈنائٹ جیکال اور چھانگا مانگا نے جنم لیا اور نواز شریف نے ہارس ٹریڈنگ کی سیاہ تاریخ رقم کی جو ریکارڈ پر ہے۔
 

بینظیر کو اسحق خان نے اٹھاون بی کے ذریعے معزول کردیا۔ نواز شریف کو اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت کیساتھ وزیرِ اعظم کے منصب پر بٹھا دیا گیا۔ اس وقت تک دونوں شریف بھائی بےتحاشہ مال بنا چکے تھے اور وفاداریاں خریدنے کے سارے رموز سے واقف ہوچکے تھے۔ 

نواز شریف اس وقت تک اٹھاون بی کا حمایتی تھا جب تک یہ ۹۳ میں اسکے خلاف نہیں استعمال ہوا۔ اسحق خان سے اختلافات ہوئے، معزول کردیا گیا۔ حامد ناصر چٹھہ، وٹو، سردار آصف وغیرہ IJI سے علیحدہ ہوگئے اور مسلم لیگ میں چٹھہ گروپ اور نواز گروپ بن گئے۔ نواز گروپ کے پاس بےتحاشہ پیسے کی طاقت تھی لیکن الیکشن ہار گئے کیونکہ اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ نے ساتھ نہیں دیا تھا۔ آگے چل کر وہی کہانی دہرائی گئی۔ بینظیر معزول ہوئی اور نواز شریف پھر اسٹیبلشمنٹ کا بلیو آئیڈ بوائے بن کر وہاں سے بھی لینڈ سلائڈ وکٹری لے گیا جہاں لوگ اسکا نام بھی نہیں جانتے تھے۔ 

لالچ، پیسے اور اقربا پروری کے مصالحے سے تیار پاکستان مسلم لیگ (ن) کی یہ مختصر سی تاریخ ہے۔ ترانوے سے پہلے ان کا وجود صرف اتحادوں اور سازشوں میں پایا جاتا تھا۔ آج یہ جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئین بنے ہوئے ہیں اور انکے حواری جب انکا دفاع کرتے ہیں تو میرے ذہن میں صرف ایک جملہ آتا ہے۔۔۔۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، کوئی گریس ہوتی ہے۔ 

نوٹ: سیاسی ہے اس لئے خشک ہے لیکن حقائق پر مبنی ہے۔ اگر کسی دوست کو اختلاف ہو یا ذہن میں کوئی سوال آئے تو میں جواب دینے کیلئے حاضر ہوں۔ اگر میں نے کہیں کوئی واقعہ مسخ کرکے لکھا ہو تو نشاندہی ضرور کیجیئے گا۔ 

عمران بہت اچھے دوست ہیں۔ انکی مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے بلاگ پر اس تحریر کو پبلش کرنے کی اجازت دی۔  
دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ٹیگز: , , , , , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

11 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: