مری میں آمد – شنگریلا ریسورٹ

223 بار دیکھا گیا

شنگریلا ریسورٹ ، مال روڈ مری سے تقریباً دس منٹ کی ڈرائیو پر ایک چھوٹا سا ہِل سٹیشن ہے۔۔۔   16 کمروں پر مشتمل  یہ ریسورٹ نہایت خوبصورت اور پرسکون ہے۔۔۔ چاروں طرف سبزہ   اور قدرتی حسن۔۔۔

میرے لیے یہ منظر یوں بھی بلکل نیا ہی تھا۔۔۔ میں نے ساری عمر مصنوعی ترقی اور خوبصورتی تشکیل ہوتے دیکھی ہے۔۔۔  دبئی کے بڑے بڑے شاپنگ مال اور عمارات مجھے کبھی بھی ایسے نہیں بھائے۔۔۔  اور گرمی نے تو ویسے بھی مت مارے رکھی ہے۔۔۔  یہاں کی ہر شے مجھے بے جان اور بےکیف محسوس ہوتی ہے۔۔۔  شاید روز روز ایسے مناظر دیکھ کر اب جذبات میں کوئی “ایکسائٹمنٹ” باقی نہیں رہی۔۔۔

تیس اکتوبر، رات 8 بجے شنگریلا ریسورٹ پہنچے۔۔۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔ سردی کافی ہو رہی تھی۔۔۔ اور کمروں کی قطار کے سامنے ، چوکیدار انگیٹھی لگائے ہاتھ سیک رہا تھا۔۔۔  کھانا وغیرہ کھا کر میں بیگم اور علیزہ کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکل کھڑا ہوا۔۔۔

 ماحول کا جادو تھا یا فراغت کا سکون، کہ آسمان پر جگمگاتے ان گنت ستاروں کی چمک اور انتہائی خاموشی  ایک عجب سا پرکیف لطف دے رہے تھے۔۔۔  میں باہر کرسی پر بیٹھ کر ان ستاروں کو تکنے لگا، جو مجھے ایک طویل عرصے بعد آسمان پر ایک ساتھ اتنی تعداد میں نظر آئے۔۔۔   کچھ پرانے گیت اور یادیں امڈ آئیں۔۔۔ اور  زیر لبِ “تاروں بھری رات، بھولے نا کبھی” گنگنانے لگا۔۔۔

درختوں کی اوٹ میں چھپا چاند – شنگریلا

خاموشی اور یادوں کا یہ تسلسل، علیزہ کی  آواز نے توڑا۔۔۔ “بابا ، بابا۔۔۔۔ اُدھر چلو نا”۔۔۔ علیزہ کا اشارہ ایک طرف اونچائی پر جاتے رستے کی جانب تھا۔۔۔   “بیٹا ، ابھی نہیں۔۔۔ ابھی بہت اندھیرا ہے۔۔۔ صبح چلیں گے”۔۔۔ علیزہ نے ضد پکڑ لی کہ ابھی جانا ہے۔۔۔ انہیں چوکیدار نے بتایا تھا کہ وہاں بچوں کے جھولے ہیں۔۔۔  خیر کسی نا کسی طرح اسے منایا کہ صبح ناشتہ کر کے اوپر چلیں گے۔۔۔

مجھے کرسی پر براجمان چھوڑ کر،  علیزہ کبھی پھولوں کے پاس اور کبھی جگہ جگہ بنے بینچوں پر کھیلنے لگی۔۔۔ بیگم اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔ وہ اسے پکڑ کر لاتی اور علیزہ ہاتھ چھڑا کر پھر آگے بھاگ جاتی اور ساتھ ساتھ قہقہے لگاتی ، بابا ۔۔۔ بابا پکارتی جاتی۔۔۔   اور میں علیزہ کی شرارتیں دیکھ کر  اللہ کا بڑا شکر ادا کر رہا تھا کہ اللہ تبارک تعالٰی نے مجھ گناہگار کو علیزہ کے روپ میں بہترین تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ اللہ اس کے نصیب اچھے فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

ہم نے پروگرام بنایا کہ صبح ناشتے کے بعد مال روڈ چلیں گے۔۔۔ اور علیزہ بڑی مشکل سے منا کر کمرے میں لے آئے۔۔۔ وہ مزید کھیلنا چاہتی تھی اور میرا تھکاوٹ سے برا حال تھا۔۔۔ کمروں میں ہیٹر کی سہولت موجود تھی۔۔۔ اس لیے بڑا سکون رہا۔۔۔

میری آنکھ صبح چھ بجے کھلی۔۔۔ علیزہ اور بیگم اب بھی سو رہے تھے۔۔۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی سے پردے سرکائے۔۔۔ باہر کا منظر میرے لیے حیران کن حد تک خوبصورت تھا۔۔۔ دور دور تک سبز پہاڑ  اور افق  پر کہیں سفید اور کہیں گہرے کالے بادل میرے لیے دلکشی کی انتہاء تھے۔۔۔ میں نے جیکٹ پہنی اور  کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔ سیدھا ریسٹورنٹ گیا، وہاں سے ایک کپ کافی کا پکڑا اور چہل قدمی کرتا، ایک پگڈنڈی کی طرف چل نکلا۔۔۔ دونوں طرف طویل قامت درخت  کی قطار،  پرندوں کی چہکنے کی آواز اور نیم گیلی سڑک جو پستی کی جانب مڑ رہی تھی۔۔۔ چلتا چلتا کافی دور چلا آیا۔۔۔ حُسن ِ منظر میں ایسا کھو چکا تھا کہ کتنا چلا، اس کا اندازہ نہیں۔۔۔ کہیں کہیں رک کر اپنے موبائل سے تصاویر بھی بناتا رہا۔۔۔  دل یوں چاہ رہا تھا کہ کاش یہ سفر کبھی ختم نا ہو۔۔۔ یہ وقت یہیں تھم جائے۔۔۔ اور میں ہمیشہ کے لیے یہیں بسر کر لوں۔۔۔

 

صبح کا منظر

افق کے خوبصورت رنگ

خوبصورت درخت اور آسمان کے مختلف رنگ

پستی کی جانب جاتی یہ سڑک

کمروں کے باہر کشادہ اور پرسکون جگہ

 

 

 

ٹیگز: , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

10 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: