238 بار دیکھا گیا

ایک مظلوم باپ کا خط

اس تحریر میں مذکورہ کریکٹر فرضی ہیں. حقیقی افراد سے کوئی مشابہت، زندہ اور مردہ، مکمل طور پر اتفاق ہے.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجھ جیسے غریب بندے کے بگڑے ہوئے بیٹےعبداللہ۔۔۔

تو تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے قطع تعلقی کا اعلان کر چکا ہوں۔۔۔ پاکستان کے ہر بڑے اخبار میں نوٹس بھی شائع کروا چکا ہے۔۔۔ اردو لکھنی نہیں آتی تھی لیکن تجھ تک پیغام بھیجنے کے لیے اس عمر میں آنٹی سے ٹیوشن بھی لینی پڑی اور ان کی چاکری الگ۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں غریب آدمی ضرور ہوں لیکن عزت والا ہوں۔۔۔ ساری عمر کبھی حرام نہیں کھایا۔۔۔ ساری عمر بڑوں بزرگوں کی سیوا کی ہے۔۔۔ اسلام کے بول بالے کے لیے بھی بڑی محنت کی ہے۔۔۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں غلطی ہو گئی مجھ سے تیری پرورش میں۔۔۔

بیٹا بچپن سے تجھے سمجھاتے آئے ہیں کہ سیاست گندی چیز ہے۔۔۔ اس کو ہاتھ مت لگا۔۔۔ اس کے قریب مت جا۔۔۔ لیکن ایک نظر کی چوک تجھے بھیا جی کی گود میں لے گئی۔۔۔ وہ لمحہ اور آج کا دن، تو ہمارا نہیں رہا۔۔۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اچانک تجھے ہوا کیا ہے۔۔۔ تیری سوچ اتنی گندی کیوں ہو تی جا رہی ہے آہستہ آہستہ۔۔۔

پھر ایک دن تو نرسری سے گھر نہیں آیا۔۔۔ بہت ڈھونڈا تجھے۔۔۔ تجھے نہیں ملنا تھا، تو نا ملا۔۔۔ تین ماہ تجھے کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ کس کس کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔۔۔ تھک ہار کر، صبر شکر کر کے بیٹھ گئے۔۔۔ کہ شاید تو مر گیا ہے۔۔۔ (کاش تو مر ہی گیا ہوتا۔۔۔)۔۔۔

ایک دن تو اچانک لوٹ آیا۔۔۔ خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ اتنی سی عمر میں تیری اتنی گھنی مونچھیں کیسے آ گئیں۔۔۔ بہت پوچھا تجھے کہ کہاں تھا۔۔۔ “کیا کیا ہوا” تیرے ساتھ۔۔۔ لیکن تو کچھ بولتا ہی نہیں تھا۔۔۔

کبھی تو گلی میں کھیلتے بچوں سے لڑ پڑتا اور کبھی مسجد میں جاتے نمازیوں کو دور دور سے منافق منافق کہتا رہتا۔۔۔ کبھی گزرتی ہوئی عورتوں کو ان کے حجاب کے باوجود بے شرم، بے حیا کہہ کر آوازیں کستا۔۔تو کبھی میری داڑھی کی وجہ سے مجھے جماعتی جماعتی کے طعنے دیتا۔۔۔ ہر پرائے مسئلے میں اپنی ٹانگ اڑانا تیری عادت بن گیا۔۔۔ کسی فوتگی میں بھی چلا جاتا تو “بھیا جی زندہ باد” کے نعرے لگاتا۔۔۔ جس کی وجہ سے کئی بار تجھ سمیت مجھے بھی مار کھانی پڑی۔۔۔ ہر رات کو سونے سے پہلے اپنی انگلیوں پر بھیا جی بھیا جی کا ورد کرتا رہتا۔۔۔ ماسی بشیراں کے ساتھ تیری دوستی بڑھتی گئی، جو مجھ سمیت کسی محلے والے کو پسند نہیں تھی۔۔۔ (تو تو جانتا ہے کہ ماسی بشیراں “پھپھے کٹنی” کے طور پر مشہور تھی)، سب کو یقین ہوگیا کہ تو اسی کے کہنے پر ساری حرکتیں کرتا ہے۔۔۔

محلے کو کچھ غیور نوجوانوں نے کئی بار تیری پٹائی بھی کی لیکن ان تین ماہ میں تیری برین واشنگ ہو چکی تھی۔۔۔ لعن طعن اور مار کٹائی کا بھی تجھ پر کوئی اثر نا ہوا۔۔۔ ہر مار کے بعد تیری گھٹیا حرکتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔۔۔

پھر تیرے پاس اچانک پیسے کی ریل پھیر شروع ہو گئی۔۔۔ کبھی نئی شرٹ، کبھی نئی پینٹ، کبھی نیا موبائل۔۔۔ اور پھر ایک دفعہ نئی گاڑی۔۔۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اتنی بالی عمریا میں تجھے گاڑی کسی نے لے کر دی۔۔۔ کچھ چھان بین کے بعد پتا چلا کہ تو تو بھیا جی چیلوں کے “ہاتھوں اور گودوں” میں کھیلتا پایا جاتا ہے۔۔۔

ایک دن تو نیا لیپ ٹاپ لے آیا۔۔۔ اور پھر سارا دن تو اس لیپ ٹاپ سے چپکا رہتا۔۔۔ تیرے دو ہی کام رہ گئے، لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھنا،  ماسی بشیراں کو رپورٹ دینا۔۔ اور پھر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے رہنا۔۔۔ اس کا اثر ہم نے یہ دیکھا کہ کبھی تو بستر پر الٹا پڑا روتا رہتا اور کبھی غسل خانے سے تیری دھاڑوں کی آواز آتی۔۔۔ رو رو کر تیری آنکھوں کے گرد “حلقے” بھی پڑ گئے۔۔۔ جب تو اپنی تنہائی میں یہ آوازیں لگاتا کہ “کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔۔۔ اور سب مجھے ذلیل کرتے رہتے ہیں”۔۔۔ تو تو نہیں جانتا کہ ہم پر کیا بیتتی تھی۔۔۔

تجھے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ اس لیے برداشت کرتے رہے تجھے۔۔۔ آخر کار ہمیں کسی نے مشورہ دیا اور ہم نے سعودی عرب سے ایک ڈاکٹر کو طلب کیا۔۔۔ ڈاکٹر “ج” نے ہر طرح سے تجھے سمجھانے اور تیرے علاج کی کوشش کی۔۔۔ لیکن جلد ہی  ڈاکٹر صاحب بھی امید چھوڑ بیٹھے۔۔۔ انھوں  نے ہم سے جو کہا، اس کے جواب میں ہم پکار اٹھے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا عبداللہ نفسیاتی مریض ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ پاگل ہو گیا ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ کو کوئی علاج نہیں۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچا لیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچالیں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ورنہ عبداللہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کا علاج مفت میں کر دیں۔۔۔ پگلا ہے ہماراا عبداللہ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ آپ ہماری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔۔۔ اور اسے دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا آپ نے۔۔۔ ہم تو دعائیں مانگ مانگ کے تھک گئے۔۔۔ اسے تو شاید اب کسی کی بددعا ہی لگے تو کام آئے۔۔۔

” ڈاکٹر “ج” بھی چلے گئے۔۔۔ تیرا علاج ان کے بس میں بھی نہیں تھا۔۔۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔۔۔

تیری کرتوتوں کی وجہ سے تو محلے بھر میں “بارہ سنگھا” اور “آنٹی عبداللہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔۔ آج تک تو نا میری سمجھ نہیں آئی اور نا ہی کسی سپیشلسٹ ڈاکٹر کی، کہ تیرے سر پر سینگ کیسے نکل آئے۔۔۔ پیدا تو انسان ہوا تھا، لیکن انسان کے سر پر سینگ کب ہوتے ہیں۔۔۔  سب مجھے شک سے دیکھتے اور طرح طرح کی آوازیں کستے۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں عزت دار بندہ ہوں۔۔۔ جب تک زندہ ہوں حق حلال کی ہی کھاوں گا۔۔۔ تجھے بھی بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن تو نہیں مانا۔۔۔ تو نے بھیجا جی اور ماسی بشیراں کی صحبت میں بہت پیسہ کما لیا۔۔۔ لیکن بیٹا، ہمیں تیرے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس تیرے بوڑھے باپ کی تجھ سے درخواست ہے کہ بیٹا اب بہت ہوگئی۔۔۔ اب تو سدھر جا۔۔۔ اب تو تو سیانا ہو گیا ہے۔۔۔ ہر اچھے بندے سے بھڑنا چھوڑ دے۔۔۔ آخر تیری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی۔۔۔ کہ جو تو، تیرابھیا جی اور تیری ماسی بشیراں سوچتی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ آخر تو عقل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا۔۔۔ کب تک تیری بے وقوفیاں برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔ کب تک دنیا ہمیں تیرے نام سے طعنے دیتی رہے گی۔۔۔ آخر کب تک۔۔۔ بیٹا، ان بوڑھی ہڈیوں پر کچھ رحم کر۔۔۔ اور ہمیں بخش دے۔۔۔ ہم تیری وجہ سے بہت ذلیل ہو چکے۔۔۔ بس کر بیٹا۔۔۔ بس کر۔۔۔

تیرا بوڑھا قابلِ رحم باپ۔۔۔

ابو عبداللہ

275 بار دیکھا گیا

سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟

کوئی سمجھائے مجھے۔۔۔

حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے۔۔۔؟

سنت وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔۔۔

حدیث وہ الفاظ، احکامات یا ارشادات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔۔۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔۔۔؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔۔؟

کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل میں تضاد تھا۔۔۔؟

اگر ایسا نہیں ہے جو میرے جیسا جاہل سمجھ رہا ہے تو کیوں ہم سنت اور حدیث کو مختلف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔

خدا کے واسطے کوئی تو سمجھائے مجھے۔۔۔

ٹیگز: , ,

142 بار دیکھا گیا

کیا قرآن کریم انسانی تصنیف ہے؟

قرآن کریم کو پڑھتے ہوۓ مختلف لوگ مختلف جذبات سے گزرتے ہیں.ایک بڑی اکثریت کے دل نرم پڑ جاتے ہیں اور ایک فکر آمیز سنجیدگی گھیر لیتی ہے. محسوس یوں ہوتا ہے کہ کوئی بہت زبردست ہستی انسان سے خطاب کر رہی ہے جو انسان کو بہت قریب سے جانتی ہے. یوں تو ہر مسلمان کے لئے پورا قرآن کریم اور اسکا ایک ایک لفظ ہدایت اور تحذیر لئے ہوۓ ہے. مگر کچھ آیتیں خاص طور پر مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں. جیسے :

مکمل تحریرکے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے

مصنف: جناب ڈاکٹر جواد خان

147 بار دیکھا گیا

ان گنت سوالات

میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہے اب۔۔۔ بہت مایوس ہو چکا ہوں۔۔۔ کیا لکھوں۔۔۔ کیوں لکھوں۔۔۔؟ کس کے لیے لکھوں۔۔۔؟ میری قوم سو چکی۔۔۔ میری قوم کو میرے الفاظ کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ سن نہیں سکتی۔۔۔ اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔۔۔

کیا میری قوم مر چکی۔۔۔؟ کیا واقعی میں مردہ قوم میں شامل ہوں۔۔۔؟ لیکن اگر قوم مردہ ہے تو برداشت کی حس کیوں نہیں ختم ہو رہی۔۔۔؟

کیا میرے الفاظ کسی کو تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ مجھے تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ میری سوئی ہوئی مردہ قوم کو تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟

کیا میری سوچ کسی کی سوچ بدل سکتی ہے۔۔۔؟ کیا میری سوچ میری قوم کی سوچ بدل سکتی ہے۔۔۔؟ کیا میری قوم میری سوچ پر عمل کر سکتی ہے۔۔۔؟

کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم میں پھر روح پھونکی جائے گی۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم پھر جاگ اٹھے گی۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم سوچ سکے گی۔۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم سمجھ سکے گی۔۔۔؟

کیا میرے الفاظ مجھے ہمت دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ میری قوم کو ہمت دے سکتے ہیں۔۔۔؟

کتنے سوالات ہیں میرے پاس۔۔۔ اور میرے پاس لکھنے کو پھر بھی کچھ نہیں۔۔۔!!!

ٹیگز:

87 بار دیکھا گیا

سائنسی علوم اور علوم وحی

حق تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کو دو قسم کے علم عطا کئے گئے ہیں۔
ایک کائنات کے اسرار و رموز، اشیاء کے اوصاف و خواص اور فوائد و نقصانات کا علم جسے “علمِ کائنات” یا “تکوینی علم” کہا جاتا ہے، تمام انسانی علوم اور ان کے سینکڑوں شعبے اسی “علمِ کائنات” کی شاخیں ہیں، مگر معلوماتِ خداوندی کے مقابلے میں انسان کا یہ کائناتی علم سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی اور پہاڑ کی مقابلے میں ایک ذرّہ کی نسبت بھی نہیں رکھتا۔
مکمل تحریر کے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے
مصنفِ تحریر: جناب بنیاد پرست

 

ٹیگز: , , , , , ,

69 بار دیکھا گیا

انبیاء کرام ہی معصوم کیوں ؟

عصمت کا مطلب ہے گناہوں سے معصوم ہونا، اہلسنت کا اس پر اجماع  ہے کہ نبی  معصوم ہوتا ہے،  وہ ظاہر وباطن‘ قلب وقالب‘ روح وجسد ہراعتبار سے عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے‘ وہ ایسا پاک طینت اور سعید الفطرت پیدا کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات رضاء ومشیتِ الٰہی کے تابع ہوتی ہیں‘ ردائے عصمت اس کے زیب تن ہوتی ہے‘ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہردم اس کی نگرانی کرتی ہے‘اس کی ہرحرکت وسکون پر حفاظتِ خداوندی کا پہرہ بٹھادیا جاتا ہے اور وہ نفس وشیطان کے تسلط واستیلاء سے بالاتر ہوتا ہے۔۔۔۔۔

مکمل تحریر کے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے۔۔۔

مصنف تحریر: جناب بنیادپرست

 

ٹیگز: , , , , , , , ,

325 بار دیکھا گیا

میں جاہل ہوں۔۔۔

میں بڑا ہی جاہل بندہ ہوں جی۔۔۔ مجھے نا تو سائنس کا علم ہے اور نا ہی فلسفے سے کوئی دلچسپی۔۔۔ مجھے نا تو مشکل باتیں سمجھ آتی ہیں۔۔۔ اور نا ہی میں زومعنی گفتگو کر سکتا ہوں۔۔۔

میری جہالت کی انتہا دیکھیے کہ مذہب میں فلسفے کی شمولیت کا قائل نہیں ہوں۔۔۔ اندھوں کی طرح مذہب کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے۔۔۔ مذہب بھی کونسا۔۔۔ ساڑھے چودہ سو سال پرانا۔۔۔ وہ مذہب جسے دنیا آج دقیانوس کہلانے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔ لیکن ناجانے کیوں۔۔۔ مجھے میرا مذہب اتنا اچھا کیوں لگتا ہے۔۔۔

میں اتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں۔۔۔ لیکن مجھے خدا کی خدائی میں کوئی شک نہیں نظر آتا۔۔۔ مجھے بس یہ سمجھ آتی ہے کہ ہر سبب کے پیچھے مسبب الاسباب کا ہونا لازمی ہے۔۔۔ ہر فکر کے پیچھے ایک مفکر کا ہونا واجب ہے۔۔۔ جب میں “ایاک نعبد و ایاک نستعین” پڑھتا ہوں تو پھر مجھے کچھ اور سوچنے کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔ بس آنکھیں بند کیے ایک خدا کے وجود کا یقین کر لیتا ہوں۔۔۔ وہ خدا جس نے کائنات کی تخلیق کی، آسمان بنائے اور زمین بنائی۔۔۔ ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔۔۔ اور ہمیں وہ سب کچھ دیا جس کے بغیر زندگی نا ممکن لگتی ہے۔۔۔ میری ناقص سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں کچھ فلسفی اس کے وجود کے دلائل ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ کچھ نا ہوتا تو بھی میرا خدا ہوتا۔۔۔ اور کچھ بھی نا رہے گا تو بھی میرا اللہ ہو گا۔۔۔

مجھ میں اتنی سمجھ بھی نہیں کہ انبیاء کے تقدس اور وجود پر نظر ثانی کر سکوں۔۔۔ مجھے انبیاء ہر غلطی سے مبرا نظر آتے ہیں۔۔۔ مجھ جیسے جاہل کا ایمان ہے کہ ہر نبی اللہ کی زبان بولتے تھے۔۔۔ ہر رسول اللہ کا پیغام پہنچاتے تھے۔۔۔ اور اللہ کی زبان اور پیغام کبھی غلطی نہیں کر سکتے۔۔۔ انبیاء تو معصوم تھے۔۔۔ انبیاء کو جو کام اللہ نے دے کر بھیجا۔۔۔ سب نے اپنا اپنا کام کیا اور واپس اپنے محبوب کے پاس لوٹ گئے۔۔۔

میرا جیسا گنوار یہ سوچتا ہے۔۔۔ کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتا دیا۔۔۔ چاہے ہم نے دیکھا یا نہیں دیکھا۔۔۔ اس پر ایمان لانا فرض ہے۔۔۔ چاہے وہ امام  مہدی ہوں، دجال ہو، عیسی علیہ السلام کا ظہور ہو یا یا جوج ماجوج ہوں۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ کہ وہ آئیں گے۔۔۔ ویسے ہی جیسے میرا اس بات پر یقین ہے کہ اللہ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا کی اصلاح کے لیے مامور کیے۔۔۔ میں ان سے بھی نہیں ملا۔۔۔ لیکن ان کا وجود تھا۔۔۔

مجھے قرآن سے عشق ہے۔۔۔ کہ مجھے قرآن کی بتائی ہوئی ہر تعلیم سمجھ آتی ہے۔۔۔ مجھے کوئی اور کتاب اچھی نہیں لگتی کہ ہر دوسری کتاب کا اپنا علیحدہ موقف ہے۔۔۔ جب کہ قرآن میرا انسائیکلوپیڈیا ہے۔۔۔ جب بھی کوئی مشکل ہوئی۔۔۔ قرآن کھولا اور اس میں سے ہر مشکل کا حل ڈھونڈ لیا۔۔۔ میرے جیسے گنوار بندے کے لیے اللہ نے کیا آسان حل دے دیا۔۔۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا اندھا یقین ہے۔۔۔ کہ ہر وہ لفظ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے نکلا۔۔۔ وہ میرے اللہ کا تھا۔۔۔ زندگی بہترین طریقے سے گزارنے کے جو اصول مجھے حدیث سے ملے۔۔۔ وہ مجھے سائنس نہیں دے سکا۔۔۔ میرے کند دماغ کو یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ ہزار کوششوں کے باوجود حدیث سے منکر حضرات، اب تک اپنے مقاصد میں کامیاب کیوں نہیں ہوئے۔۔۔ فلسفہ اور سائنس کے کلیے استعمال کرتے کرتے وہ اتنے پرسکون کیوں نہیں، جتنا میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کو پورا کر کے ہوتا ہوں۔۔۔ کیا سنت اور حدیث رسول پر عمل کرنا زیادہ آسان ہے۔۔۔ جی۔۔۔ آسان تو ہوگا۔۔۔ ورنہ میرے جیسے کاہل اور جاہل انسان اسے کبھی نا اپناتے۔۔۔

میری جاہلانہ سمجھ بھی یہاں آ کر رک جاتی ہے ۔۔ کہ میں وہ سارے کام کرنے کی کیوں کوشش کرتا ہوں جو مجھے پر میرے اللہ نے فرض کیے ہیں۔۔۔ یا جن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی ہے۔۔۔ اگر خدا نا ہوتا تو نماز کس لیے پڑھتا، روزہ کس لیے رکھتا، زکوٰۃ کس کے حکم سے دیتا۔۔۔ نیکی کیوں کرتا۔۔۔ کماتا کس کے لیے۔۔۔؟ یہ کام ہمیں کس نے کرنے کے لیے کہا۔۔۔؟ کیوں کہا۔۔۔؟ بس کہہ دیا اور ہم نے مان لیا۔۔۔ اب کرنا تو ہے۔۔۔ فرض جو ہے۔۔۔

جب یہ سب سوچتا ہوں تو مجھے خود کے جاہل، ان پڑھ اور گنوار ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔۔۔ کہ آنکھ بند کیے میں جس نبی کی پیروی کر رہا ہوں، جس دین کو اپنا کے بیٹھا ہوں۔۔۔ اور جس خدا کی عبادت کرتا ہوں۔۔۔ وہ ہی حقیقت ہیں۔۔۔ اور لاکھ فلسفہ دوڑا لیں۔۔۔ حقیقت نہیں بدلے گی۔۔۔ لاکھ لاجیکس پیدا کر لیں۔۔۔ وجود الہیٰ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔۔۔۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی سائنس اور فلسفے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔۔۔

ٹیگز:

285 بار دیکھا گیا

سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔۔۔

بیس سال کا تھا جب سگریٹ نوشی کی شروعات کی۔۔۔ فیشن کے طور پر نہیں بس ایویں۔۔۔ دراصل، نوکری کے سلسلے میں گھر سے دور رہتا تھا۔۔۔ ڈیوٹی کے بعد اپنے کمرے میں بند ہو جاتا تھا اور سوشل زندگی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے ایک بار سگریٹ جلا لی۔۔۔ پھر وہ دن اور آج کا دن سگریٹ نوشی نے میرا ساتھ نا چھوڑا۔۔۔ دس سال سے دن کی ایک ڈبی ختم کرنا معمول ہو چکا ہے۔۔۔ گھر والوں نے بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن سب کے مشورے ایک کان سے سنے اور دوسرے سے اڑا دیے۔۔۔ شروع میں کہا کرتا تھا کہ جب چاہوں گا سگریٹ چھوڑ دوں گا۔۔۔ لیکن یہ دعویٰ بھی فضول ہی تھا۔۔۔کہ خاک چھوٹتی ہے منہ سے لگی ہوئی۔۔۔ ابو تو غصے میں یہاں تک کہتے کہ سگریٹ پیتاہے تو شراب بھی پیتا ہو گا۔۔۔ مجھے دیکھتے، میرے چھوٹے بھائی نے بھی سگریٹ نوشی شروع کر دی۔۔۔ اور اس کا الزام آج تک میرے سر پر آتا ہے۔۔۔ اور سچ بھی ہے۔۔۔ میں نا پیتا تو شاید وہ بھی نا پیتا۔۔۔

 

ws_Sketch_of_a_smoker_1024x768

اب تیس سال کی عمر میں  کافی عرصہ سے محسوس کر رہا تھا کہ دس قدم چلتے ہی میرا سانس پھول جاتا ہے۔۔۔ تھوڑا سا بھی مشقت کرنے سے اپنی سانس پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ پسینہ پسینہ ہو جاتا ہوں۔۔۔ توند بھی آہستہ آہستہ آگے کی جانب کھسک رہی ہے۔۔۔ بازوں میں طاقت نہیں رہتی اور ٹانگیں زیادہ بوجھ اٹھا نہیں پا رہی۔۔۔ وزن بھی بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔

اب جب یہ ساری علامات آہستہ آہستہ میرے سامنے آئیں تو مجھے کچھ کچھ پریشانی شروع ہو گئی کہ کہیں کوئی بڑا مسئلہ نا ہو جائے۔۔۔ صحت مزید خراب نا ہو جائے۔۔۔ اور میں بھری جوانی میں ہی بڈھا نا ہو جاوں۔۔۔

گھر کے قریب نیا جم کھلا تو سوچا بہت ہو گئی۔۔۔ اب کچھ مشقت کی جائے۔۔۔ شاید طبیعت کچھ سنبھل جائے۔۔۔ اور سٹیمنا بھی بہتر ہو جائے۔۔۔

دو دن جم میں مشقت کے بعد ہی یہ اندازہ ہو گیا ہےکہ میرے جسم میں سگریٹ نوشی نے اپنا وہ زہر چھوڑا ہے جس نے مجھے عمر سے قبل ہی کمزور کر دیا ہے۔۔۔میرے لیے دس منٹ ٹریڈ مل پر جاگنگ کرنا بھی عذاب جان ہو گیا ہے۔۔۔ سائیکلنگ کرنا تو اور مشکل۔۔۔ کہ دو پیڈل چلے نہیں اور سانس پھول گئی اور سارا جسم پسینے سے نہا گیا۔۔۔۔ شرمندگی الگ ہوتی ہے کہ میری ہی عمر والے لوگ بھاگے جا رہے ہیں اور میں۔۔۔ بس دو قدم۔۔۔!!!  گھر کے باہر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ کاش میرا سٹیمنا بھی ان جیسا ہو جائے۔۔۔

بڑی شد و مد کے بعد اب سوچ لیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔۔۔ اتنی ہمت تو نہیں ہے مجھ میں کہ یک دم چھوڑ دوں۔۔۔ پلان کے مطابق، روز کی بنیاد پر سگریٹوں کی تعداد میں کمی کرنی ہوگی۔۔۔ اور چاہے جتنا بھی مشکل ہو، جم میں محنت کرنی ہوگی۔۔۔ تاکہ میں اپنی بیٹی کے لیے صحت مند رہ سکوں۔۔۔ کہ میں اس کی خوشیاں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

میری گزارش ہے سب سے۔۔۔ کہ سگریٹ نوشی ایک لعنت ہے۔۔۔۔ یہ انسان کی صحت کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔۔۔ اور اندر اندر گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔۔۔ خدارا اس لعنت سے بچیں۔۔۔

ٹیگز:

129 بار دیکھا گیا

مقصدِحیات

اس جگہ کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں سے سورج سمندر میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔۔۔

نارنگی روشنی، آسمان کے صفحہ پر پھیلتی ہوئی، شارجہ کارنش کو سنہرے رنگوں میں ڈبو دیتی ہے۔۔۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ، کہہ کر اپنے بائیں کاندھے  کی طرف سر موڑتے ہوئے اس نے نماز مغرب مکمل کی۔۔۔ ایک لمبی سانس بھری اوراپنے سامنے بچھے آسمان پر نظر ٹکا دی۔۔۔

ہزاروں دانشوروں اور علماء نے آسمانوں میں چھپی جنت کو کھوجنے کی کوشش کی۔۔۔ اور زندگی کے معمہ کو جاننا چاہا ہے۔۔۔

فرابی سے غزالی تک۔۔۔
ارسطو سے اقبال تک۔۔۔

لیکن کوئی روح کی تسکین کا سامان نہیں کر سکا۔۔۔

یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دیا اور پھر بلاوجہ سڑکیں ناپتا رہا۔۔۔

سوچنا اور تحقیق کرنا اس کی بہت پرانی عادت تھی۔۔۔ وہ کرہ ارض میں مخفی خزانوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ آسمان کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ زندگی کے بارے میں سوچتاتھا۔۔۔ انسانی خصلتوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔

اس نے اپنی گاڑی کا رخ عجمان کارنش کی طرف کر دیا۔۔۔ جہاں ٹریفک جام اس کا منتظر تھا۔۔۔

ہم سب دنیا کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہیں۔۔۔ اپنے طور پر دنیا کے بارے میں سب کچھ جاننے کے دعویدار بھی ہیں۔۔۔ دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنا بھی چاہتے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔

کوئی بھی دنیا کی حقیقت سے واقف نہیں۔۔۔ اور وہی حقیقت تو مقصدِ حیات ہے۔۔۔

بھاری ٹریفک میں بریک پر پاوں رکھے وہ سوچتے ہوئے مسکرا اٹھا۔۔۔

“مقصدِ حیات تو مقصد سے بھرپور زندگی ہی ہے۔۔۔”

ٹیگز:

166 بار دیکھا گیا

کوئی بتائے گا۔۔۔؟

تاریخی ہیرو یا ولن:

اسامہ بن لادن مر گیا یا شہید ہوا۔۔۔؟ میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔ میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن نے امت مسلمہ کی کس طرح اور کس حد تک اور کیسی خدمت کی ہے۔۔۔؟ جہاں تک میں جانتا ہوں۔۔۔ اگر اس نے امریکہ، اس کے یورپی حواریوں اور پھر مسلمان حواریوں کو کسی حد تک زق پہنچایا تو بدلے میں بہت سے بے گناہ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی اب تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔۔۔

کیا اسامہ بن لادن نے غریب مسلمان ممالک میں خیراتی ہسپتال، اسکول یا ادارے بنائے۔۔۔؟ کیا کسی اور طرح ہی اسامہ مسلمانوں کے کام آ سکا۔۔۔؟؟؟

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب جب اسامہ منظر عام پر آیا یا اس نے کوئی کارنامہ انجام دیا۔۔۔ تو اس کا فائدہ کسی نا کسی طرح صرف اور صرف امریکہ اور اس کی حواریین کو ہی ہوا۔۔۔؟ اور ہم مسلمان اور پاکستانی ہمیشہ سزا کا مستحق ٹھرے۔۔۔؟

کیا اسامہ اب ہلاک ہوا ہے یا بہت پہلے ہلاک یا طبعی موت مر چکا تھا۔۔۔؟؟؟ امریکہ نے اسے سمندر میں جگہ دینے کی اتنی جلدی کیسے کی۔۔۔؟ اگر وہ واقعی دشمن تھا۔۔۔ تو اس فرعون کی طرح نشانِِعبرت کیوں نہیں بنا دیا گیا۔۔۔؟

کیا اسامہ بن لادن مسلمانوں کا ہیرو ہے۔۔۔ یا تاریخ اسے ایک ولن کے طور پر یاد کرے گی۔۔۔؟

حسب معمول میں تو شدید شدومد میں مبتلا ہوں۔۔۔

ہمارے ہجڑے حکمران:

جلال آباد سے چار فوجی ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں۔۔۔ کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے پاکستان کے ایک مرکزی شہر ایبٹ آباد پہنچتے ہیں۔۔۔ اس میں سے امریک میرین نکلتے ہیں۔۔۔ شہر کے ایک نہایت مصروف رہائشی محلے کا محاصرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک بڑا آپریشن کیا جاتا ہے۔۔۔ بمباری کی جاتی ہے۔۔۔ مرنے والے کو اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔۔۔

اور ہم۔۔۔ ہماری فوج لاعلم۔۔۔۔ ہمارے حکمران طاقت بانٹنے میں مصروف۔۔۔ ہماری عوام مردہ۔۔۔ ہجڑے ہی تو بن گئے ہیں۔۔۔

طالبان کا احسان:

تحریک طالبان پاکستان نے اعلان کیا۔۔۔ کہ “اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ پاکستانی فوج، حکمران اور عوام سے لیا جائے گا۔۔۔ “

تو پہلے ہم پر کیا کرم کر رکھا ہے آپ نے۔۔۔ پہلے ہی پاکستانی فوجی مر رہے ہیں۔۔۔ پہلے ہی آپ بے گناہ پاکستانی عوام کو مار رہے ہو۔۔۔ خدارا اب حکمرانوں کو نشانہ بنا لو۔۔۔ اگر مارنا ہی ہے تو انہیں مار دو۔۔۔ بندے تو آپ نے کم کرنے ہی ہیں۔۔۔ آپ ان دو اڑھائی ہزار سیاستدانوں کو مار کر کم کر لو۔۔۔ پاکستانی عوام ایویں آپ کے ساتھ ہو جائے گی۔۔۔ اور پھر آپ کی “شریعت” پر بھی عمل درآمد کروانا آسان ہو جائے گا۔۔۔

 

عوام کو کیا۔۔۔؟

بجلی نہیں ہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

تنخواہیں نہیں بڑھ رہی۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

ڈروون حملے نہیں رک رہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

آٹا مہنگا۔۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

چینی ناپید۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

اور جو کرنے والا کام ہے۔۔۔ وہ نا کرو۔۔۔

جو لوگ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے “رینٹل پلانٹس” پر لگا رہے ہیں۔۔۔  جو لوگ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں لیکن مزدور کی تنخواہ کی فکر نہیں۔۔۔ جو لوگ ڈروون حملے کرنے کی اجازت دے رہیں۔۔۔ جو لوگ آٹے اور چینی کی زخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے خلاف کیا کر رہے ہیں۔۔۔

انقلاب انقلاب کا نعرہ بھی ٹھندا ہو گیا۔۔۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔۔۔ برائی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس برے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، جو مستقل برائی پھیلا رہا ہے۔۔۔

 

ہمیں “شخص” کی فکر ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے مسئلوں” کا غم ہے۔۔۔ قوم کے نہیں۔۔۔

ہمیں “میری حفاظت” کرنی ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے پیسے” پیارے ہیں۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔