انصاف ملے گا؟
جب سے پاکستان آیا ہوں… کچھ دانشور اور معتبر لوگوں سے یہ سوال پوچھا… کہ سانحہ سیالکوٹ کے بارے میں ان کی کیا راے ہے… منیب اور معیز بےقصور تھے… یا دال میں کچھ کالا ان کی طرف سی بھی تھا… اور پہلے حضرت نے، جو سیالکوٹ کے قریبی شہر ڈسکہ سے تعلق رکھتا ہے… ان کا جواب تھا… “زیادتی ہویی ہے بچوں کے ساتھ… ان کا کوئی قصور نہیں تھا… “… پھر دوسرے شخص، جن کا تعلق بھی ڈسکہ سے ہی ہے… ان کا جواب تھا… “زیادتی ہویی ہے بچوں کے ساتھ… ان کا کوئی قصور نہیں تھا… “… اور پھر تیسرے شخص… جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے… ان کا جواب تھا… “زیادتی ہویی ہے بچوں کے ساتھ… ان کا کوئی قصور نہیں تھا… “… آپ سمجھ گئے ہونگے… کہ باقی دو یا تین حضرات کا جواب کیا ہوگا…
میں نے ان سے پھر یہ سوال کیا… کہ جناب منیب اور معیز کو انصاف ملے گا؟ اور پہلے شخص نے مسکرا کے کہا… ” بھائی جان یہ پاکستان ہے… “… دوسرے شخص کا جواب تھا… ” بھائی جان یہ پاکستان ہے… ” اور آپ سمجھ گئے ہونگے… کہ باقی حضرات کا جواب بھی ایسا ہی تھا…. اور میں سمجھ گیا کہ انصاف پاکستان کی کوئی عدالت نہیں دے گی… اب انصاف الله کی عظیم و شان عدالت میں ہی ہوگا…. ہمیں پھر سی صبر کرنا ہوگا…. اور الله بیشک…. صبر کرنے والوں کی ساتھ ہے…
ہور وی نیواں ہو…
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=qUcaCYx0kzI&w=560&h=345]
چلو پاکستان…
ساری عمر بیرون ملک گزار کر بہت ڈرپوک ہو گیا ہوں…. جب بھی پاکستان آیا… ہمیشہ ہی ایک انجانا سا خوف میرے دل میں ضرور ہوتا ہے…. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر انسان کرپٹ ہے… مجھے ائر پورٹ سے باہر نکلتے ہی لوٹ لینگے.. شاید قتل کر کے میری لاش کہیں بھی پھینک دینگے… اور مرے گھر والے میرا انتظار ہی کرتے رہ جایئنگے… یہ سوچ ہوتی ہے میری… اور یہ سوچ اور ڈر بہت پرانا ہے… آج کا نہیں ہے… ہر بار ہی ایسا ہوتا ہے…. ائر پورٹ سے میں ہمیشہ ڈرتے ہوے ہی نکلا ہوں… لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک کوئی تلخ تجربہ ہوا نہیں…
میرے والد صاحب میرے اور میرے بھائی کے لئے “فارمی چوزے” کا لفظ استمال کرتے ہیں… آرام پسند تو ہر دوسرے نوجوان کی طرح میں ہوں ہی… لیکن شاید دوسروں کی نسبت کچھ حساس بھی زیادہ ہوں اپنے ارد گرد کے ماحول کا…
اب بچپن سے یہی ہو رہا ہے… چھٹیاں منانی ہیں تو پاکستان چلو… اور جو تھوڑی بہت چھٹیاں ملتی ہی ہیں… وہ کبھی اس شہر میں چاچو جان سے ملنے چلو… کبھی دوسرے شہر میں ماموں جان کی خبر لے آؤ… اورکبھی اس رشتے دار کی شادی ہے تو بارات کے ساتھ پھر سے دوسرے شہر تک کا سفر کرو… لیکن پھر بھی یہ ساری اکسایٹمنٹ ہی ہے… ایک ایڈونچر ہوتا ہے… جو ہم دوسرے ملک میں نہیں کر سکتے… وہ پاکستان میں کر لیتے ہیں…
کل جب پاکستان پہنچا… تو سوچا کہ اس بار کے اپنے ٹرپ کو ایک دوسری نظر سے دیکھونگا… خوب مشاہدہ کرونگا… اور پھر تجزیہ کرونگا… کہ ہم جو روز میڈیا میں دیکھتے ہیں… اور ان کی رپورٹس پر اپنا مائنڈ سیٹ بنا لیتے ہیں وہ کس حد تک صحیح ہے…
تو سوچا اپنے دس دن کے قیام کی ڈائری لکھوں… ہر چھوٹی چیز محسوس کروں اور اپنے سب دوستوں سے شیئر کروں… تو انشااللہ جلد ہی اپنے محسوسات لے کر دوبارہ حاضر ہونگا………. اب رات کافی ہو گیی ہے… میری بیٹی کافی ڈسٹرب ہو رہی ہے… اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر پھر سے میری طرف دیکھ کر رونا شروع کر دے… آج کے لئے اجازت…
یہ زندگی بھی کتنی عجیب ہے…
یہ زندگی بھی کتنی عجیب ہے…
کبھی میں سوچتا ہوں… کہ اپنا کون ہے یہاں؟
مجھے یقین ہے… کہ کوئی نہیں ہے اپنا… ہر انسان خود اپنے لئے جی رہا ہے… سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے… کہ روز قیامت نفسہ نفسی کا عالم ہوگا… لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ آج ہی قیامت کا دن ہے… نفسہ نفسی ہی چل رہی ہے… ہر ایک کو صرف اپنی سوجی ہے… کسی دوسرے کی کوئی پرواہ ہی نہیں… چاہے ماں باپ ہوں… بہن بھائی ہوں… بیوی ہو یا اولاد ہو… اور چاہے دوست ہی ہوں… ایک وقت تک تو ساتھ ہونگے… لیکن وقت ضرورت انہیں اپنے ساتھ کھڑا کم ہی پاینگے…
خوشی میں تو سب شامل ہونگے… لیکن غم یا تنہائی میں شاید ہی کوئی ساتھ دے…
ان میں میں بھی شامل ہوں اور آپ بھی…
Roz
Roz aik nayee khawahish janam laiti hai…
Roz aik nayee umeed jaagata hun…
Roz sochta hun kai ab sab theek hoga…
Roz aik nayee seher dhoondata hun…
Roz sakoon ko talaash karta hun…
Roz khushi kai chand pal khojata hun…
Aur…
Roz jab wohi takleef bhare pal milte hain…
Roz jab wohi dhutkaar milti hai…
Roz jab sapne tootatey haoin…
Roz jab khawahishaat masali jaati hain…
Roz jab taareeki ko muqadar paata hun…
To…
Roz khud sai vaada karta hun…
Kai bas aur umeed mat karo…
Gar kismat mein hua to…
Subah ho gi meray naseeb ki…
Aur phir…
Roz aik nayee khawahish janam laiti hai…
Roz aik nayee umeed jaagata hun…
Posted with WordPress for BlackBerry.
محبّت عذاب جان ہوتی ہے
محبّت جیت ہوتی ہے مگر ہار جاتی ہے…
کبھی دل سوز لمحوں سے…
کبھی بیکار رسموں سے…
کبھی تقدیر والوں سے…
کبھی مجبور قسموں سے…
کبھی یہ خواب ہوتی ہے…
کبھی بیتاب ہوتی ہے…
کبھی یہ ڈرجاتی ہے…
کبھی یہ مر جاتی ہے…
محبّت جیت ہوتی ہے…
مگر یہ ہار جاتی ہے…
“نہیں … تم غلط که رہے ہو…محبّت نہ تو ہار سکتی ہے اور نہ ہی مر سکتی ہے… مگر… ادھوری ضرور رہ سکتی ہے… جس نے بھی محبّت کی ہے… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جو محبّت سمجھ نہ سکے… اس کی ہار ہوتی ہے… محبّت میں جو مٹ گیا… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جس نے محبّت کو تباہ کیا… اس کی ہار ہوتی ہے… اور لسٹ لمبی ہو جاےگی اگر میں نے گننا شروع کر دیا… تو بہتر ہے کہ میں یہیں خاموش ہو جاؤں… یہ میری سوچ ہے… شاید تم اتفاق نہ کرو…”
محبّت خواب ہوتی ہے…
محبّت بات ہوتی ہے…
جو کوئی پوچھ بیٹھے تو محبّت راز ہوتی ہے…
مچلتی ہویی امنگوں کا سہانا ساتھ ہوتی ہے…
جو کوئی ڈھونڈنا چاہے تو یہ نایاب ہوتی ہے…
محبّت پھول ہے شاید…
غموں کی دھول ہے شاید…
چمکتی رات ہے شاید…
کسی کی یاد ہے شاید…
محبّت پرسکون بھی ہے…
مگر بیتاب ہوتی ہے…
اگر مل نہ سکے تو…
پھر عذاب جان ہوتی ہے…
“ہیلو… یہ تو بتا دو کہ تمہارے نزدیک محبّت ہے کیا چیز…؟”
“آہ… بات یہ ہے کہ محبّت ہوتی تو ایک جیسی ہے لیکن ہر کوئی کرتا اپنے طریقے سے ہے… محبّت کی خوبصورتی ہر کوئی اپنے طور پر بیان کرتا ہے… اپنے لفظوں میں… اپنے خیالات کے مطابق… اور یہی بات یہ ثابت کرتی ہے… کہ کوئی بھی محبّت کے حقیقی معنی نہیں بیان کر سکتا… شاید محسوس تو کر لے لیکن بیان کرنا مشکل ہے… محبّت تو ایک احساس ہے… جو ہمارے دماغ تک ایک تار کے ذریے پہنچتا ہے… اور وہ تار ہمارے دل سے نکلتا ہے… اور جس کے سامنے کوئی لوجیک کام نہیں کرتی…خیر یار… اگر احساس پاکیزہ ہو تو اسے بیان کرنا یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا…”
“محبّت ایک جنگ ہے یار… فرق صرف یہ ہے… کہ اگر جیت جائے تو میری بھی جیت ہے اور تمہاری بھی… اور اگر ہار جائے… تو جیتے گا صرف ہم میں سے کوئی ایک… اور ہاں محبّت مر نہیں سکتی… یہ جنگ ہمیشہ جاری رہے گی… جب تک دنیا باقی ہے… تب تک… کوئی نہ کوئی تباہ ضرور ہوتا رہے گا…”
اور کیا تم مجھے سمجھا سکتے ہو… کہ محبّت میں کھو دینے اور ہار جانے میں کیا فرق ہے… تمہارے خیال میں کیا اپنی محبّت کو نہ پانا یا پا کر کھو دینا، محبّت کی شکست ہوتی ہے؟ اگر اپنی پوری زندگی میں تم کبھی اکیلے میں… یا پھر ایک ہجوم میں ہی صحیح… تم نے اپنے خواب خیال میں صرف اپنی کھوی ہویی محبّت کو ہی پایا ہو… یا کسی اور کی ہی کوئی بات تمہے اپنے محبوب کی یاد دلا دے… تو وہ ایک لمحہ ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے… کہ محبّت ہار نہیں سکتی… خیر یار تم مانو یا نہ مانو… میرا دل یہی کہتا ہے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… “
“وہ رات ہر طرح سے مجھ پر بہت بھاری تھی… اس رات میں نے بہت کچھ لکھا… میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ آج تک میں نے جو لکھا ہے وہ تمہارے سپرد کر جاؤنگی… تب مان لوگے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… کیونکے تب مجھ سے اور بہت پیار ہو جاےگا… اور میرے نا ہوتے ھوے بھی میری محبّت کا احساس ہر پل… ہماری جیت کا احساس دلا یگا… دیکھ لینا… کچھ دن پہلے تم نے کہا تھا کہ محبّت میں اثر نہیں ہے… تو جواب میں میں نے کہا تھا کہ ایک دن ضرور ہوگا… شاید وہ بات سچ بھی ہے… کیونکے میں نے رو کہ… تڑپ کہ یاد کیا… مگر شاید تمہے احساس ہی نہ ہوا… کیونکے میں جانتی ہوں کہ اگر احساس ہو جاتا میری تکلیف کا… تو خود کو نہ رکھ پاتے اور اگلے ہی لمحے مرے پاس ہوتے…”
میں ہار گیا ہوں…….. لیکن میری محبّت نہیں ہاری……… میری محبّت میری گور میں مرے ساتھ ہی جاےگی……… کیونکے میں ہار گیا ہوں… لیکن میری محبّت نہیں ہاری………..
میں ایک امن پسند انسان ہوں…
میں ایک امن پسند انسان ہوں… ہر اس شخص کی طرح… جسے اپنے گھر کی اور اپنے خاندان کی فکر ہے… اپنے ماں باپ کی فکر ہے اور اپنی اولاد کی فکر ہے… میں روز گھر سے روزی کے لئے نکلتا ہوں… سارا دن مختلف لوگوں سے ملتا ہوں…. گھر آ کر کوشش کرتا ہوں کہ ماں باپ کے ساتھ بیٹھوں… اپنی بیٹی کے ساتھ کھیلوں… یہ میری زندگی ہے…. مجھے امن پسند ہے… مجھے فساد سے نفرت ہے… مجھے بری خبریں سنانا برا لگتا ہے… اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ خبریں نہ سنو… مجھے مرنے مارنے والی باتیں اور لوگ نہیں بہاتے…
یہ خبریں مرے پر سکون ماحول کو آلودہ کر دیتی ہیں… لیکن قدرتی طور پر انسانیت کا ٹھپا لگ گیا ہے مرے جسم پر… اور مجھ میں نہ چاہتے ہوے بھی محسوس کرنے کی حس ابھی تک موجود ہے… کبھی دوستوں میں بیٹھے، کبھی ٹی وی پر چلتے چلتے خبر سن لیتا ہوں کہ مسجد میں دھماکہ ہو گیا… اتنے لوگ “شہید” ہو گئے… آج وزیر مملکت صاحب نے اپنے گیلانی ہونے کا ثبوت دے دیا… آج زرداری صاحب نے پھر خود پسندی کا اعلان کیا … آج سیلاب میں اتنے لوگ مر گئے… آج دینگی وایرس سے اتنی موتیں ہو گیے… آج آسمانی بجلی گرنے سے مزید کچھ لوگ شہید ہو گئے… کھانے کو چینی نہیں ہے…
اور بھی کچھ ایسی خبریں جو دل کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں…مرے اندر کے سوے ہوے ضمیر کو جگاتی ہیں ….. اور مرے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں… مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا… کبھی سوچتا ہوں کہ کیا میں کچھ کر سکتا ہوں… تو دماغ کہ ایک کونے سے یہ آواز آتی ہے… بس کر یار… چھوڑ ان باتوں کو… تجھے کیا تکلیف ہے… تو کر بھی کیا سکتا ہے… سواے سوچنے کے اور جلنے کے… میرا پر سکون ماحول مرے ضمیر کو آھستہ آھستہ تھپکیاں دیتا ہے اور پھر سب آوازیں بند ہو جاتی ہے…
میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں… مرے پاس کچھ بدلنے کی طاقت نہیں ہے… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…
میں بےحس ہوں… مرے سامنے لوگ مرتے ہیں… لیکن میں ایک امن پسند آدمی ہوں…
مرے سامنے غربت ہے… لوگ بھوک سے مر رہے ہیں… لیکن میں اپنی جیب سے انہیں کچھ کیوں دوں؟ میں امن پسند آدمی ہوں… میں نے تو ان کا کچھ نہیں بگاڑا …
میں ان لوگوں کو ووٹ خوشی سے دونگا جو حکومت میں آتے ہی میرے جیسے انسانوں کا خون چوسیں گے… لیکن مجھے کیا… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…
مجھے تکلیف کیوں ہو جب مرے ملک کے لوگوں کو ان کہ بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے… اور پھر حکومت کہ کچھ نمائندے وہیں بیٹھ کر اپنی حکومت کی قربانیوں کے قصیدے پڑھیں …
میرا دل کیوں رویے… جب میرے جیسے ایک انسان کو دہشت گرد یوں ہی “شہید” کر دیں… نہ مرنے والے کو اور نہ مارنے والے کو پتا ہو کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے …
کیا میں امن پسند انسان ہوں….. اگر ہوں تو لعنت ہے امن پسند ہونے پر…
اور کیا میں مسلمان ہوں… اور اگر ہوں تو جھوٹ بولتا ہوں… نہ میں مسلمان ہوں اور نہ مجھے انسان کہلانے کا کوئی حق ہے…
نہ مجھ میں اپنی آواز اٹھانے کی طاقت ہے… اور نہ ہی اٹھ کر کچھ کرنے کی…
میں اس معاشرے میں جی رہا ہوں جس نے مرے اندر امن کے نام پر بے حسی بھر دی ہے…
میں امن پسند ہر گز نہیں ہوں… میں ڈرپوک ہوں… میرے اندر کی غیرت آھستہ آھستہ ختم ہو گیی ہے… میں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں… میں نے اپنے انسان ہونے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں… اور نا میں سمجھنا چاہتا ہوں… مجھے تو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہے… چاہے جیسے بھی… کسی کو دھوکہ دے کر ہی سہی… میں پہلے اپنا سوچتا ہوں… پھر کسی اور کا…
میں نماز کے لئے روز کھڑا تو ہو جاتا ہوں لیکن نماز پڑھنے کے پیچھے جو حقیقی پیغام ہے میں اس سے نا واقف ہوں… میں سجدے کرتا ہوں تو اصل میں میرا ماتھا زمین پر ضرور ہوتا ہے لیکن میرا دماغ میری روزی پر ٹکا ہوتا ہے… اور یوں میں ایک ڈرامہ کر رہا ہوں خود سے بھی اور اپنے خدا سے بھی… میں نماز کی لئے صف میں شامل تو ہوتا ہوں لیکن صف باندھنے کی حقیقت مجھے نہیں پتا… کہ ہم کیوں صف باندھتے ہیں…
میں روزے رکھتا ہوں لیکن روزے دار ہونے کے باوجود میں سارے وہ کام کرتا ہوں جس سے مجھے عام دنوں میں بھی منع فرمایا گیا ہے..
میں زکات دینا فضول سمجھتا ہوں کیونکے میرے پیسے جاتے ہیں… لیکن زکات کے اصل پیغام کو بھول کر میں ان غریبوں کو اس مدد سے محروم کر دیتا ہوں… جس کی شاید انہیں بہت ضرورت ہو…
میں حج یا عمرہ کے لئے تو پیسے خرچ سکتا ہوں لیکن ایک مسکین کو کھانا کھلاتے ہوے مجھے تکلیف ہوتی ہے…
مجھے حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں… اور میں یہ تک نہیں جانتا کہ حرام کا ایک قطرہ میری ساری نمازیں، میری ساری عبادات کو ضایع کر دیتا ہے… لیکن پھر بھی میں دعا مانگتا ہوں… اور اپنے حرام رزق کی کشادگی کے لئے الله سے منتیں کرتا ہوں…
مجھے اپنے کل کی بہت فکر ہے… لیکن بد قسمتی سے میں نہیں جانتا کہ میرا کل آیگا بھی یا نہیں…
بہت سوچ کر یہی فیصلہ ہے میرا کہ نا تو میں انسان ہوں اور نا ہی ایک مسلمان… نا مجھے انسانیت کا پتا ہے اور نا اپنے مذہب کا… میں اس دنیا میں ایک انسان کی طرح جینا تو چاہتا ہوں لیکن ایک جانور کی سوچ لے کر…
بہتر یہی ہے کہ دنیا کو دکھانے کہ لئے یہی کہتا رہوں کہ میں ایک امن پسند انسان ہوں…….





