بڑھاپا یا مجبوری

377 بار دیکھا گیا

اسلام آباد ائیرپورٹ پر بے ہنگم قطار میں کھڑے میری نظر ایک بزرگ خاتون پر پڑی۔۔۔ اور نگاہ ان پر ایسی رکی کہ بس ویٹنگ ہال پہنچنے تک انہی پر ٹکی رہی۔۔۔ خاتون کی عمر  کچھ ستر کی دہائی میں  ہوگی۔۔۔ سادہ سی شلوار قمیض ، جرابیں اور چپل پہنےہوئی، انتہاء کی معصومیت اور نور چہرے پر نمایاں تھا۔۔۔ میں نے غیرارادی طور پر ان کے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔ ان کے ساتھ شاید ان کا بیٹا تھا۔۔۔ بہو اور دو پوتے  ۔۔۔ امیگریشن کی قطار میں وہ پورا خاندان میرے برابر کی قطار میں کھڑا تھا۔۔۔

یہ خاندان شاید بذریعہ دوحہ یورپ کے کسی ملک جا رہا تھا۔۔۔ بیٹے، بہو اور پوتوں کے ہاتھ میں میرون پاسپورٹ اور بزرگ خاتون کے ہاتھ میں سبز پاکستانی پاسپورٹ۔۔۔

معلوم نہیں کیوں۔۔۔ مجھے ان خاتون کی انتہائی پروقار شخصیت پر بہت پیار آ رہا تھا۔۔۔ میرا دل چاہا کہ میں ان کے ہاتھ تھاموں اور انہیں کہوں، چلو اماں میرے ساتھ چلو۔۔۔  اور میرے ساتھ رہو۔۔۔ میری نظر ان کےخوبصورت اور معصوم چہرے سے ہٹ ہی نہیں پا رہی تھی۔۔۔

تجسس کے ہاتھوں مجبور میں ان کے بچوں کی تاثرات بھی دیکھ رہا تھا۔۔۔ بیٹا شاید مجبور تھا کہ ماں کی پرواہ کرنے والا اب پاکستان میں کوئی نہیں، اس لیے اسے ساتھ لے جانا ضروری تھا۔۔۔  بہو انتہاء کی بے زار لگ رہی تھی۔۔۔ اور چہرے پر فرعونیت  نمایاں تھی۔۔۔ ایسا محسوس ہوا کہ کہہ رہی ہو۔۔ میرے بندے کی کمائی اب اس بڈھی پر بھی لگے گی۔۔۔ اور الٹا اس کی خدمت بھی کرنی پڑے گی۔۔۔  دونوں پوتے جو شاید چودہ پندرہ سال کے ہوں گے۔۔۔ ماں سے بھی زیادہ بیزار۔۔۔   جیسے باپ کو کہہ رہے ہوں۔۔۔ “پاپا، یہ ہم کو کہاں پولیوشن میں لے آئے ہو۔۔۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو کم بیک ہیر”

باپ بے چارہ بنا، کبھی اپنی بیوی کے تیور دیکھتا۔۔۔ کبھی اپنے بچوں کے نخرے۔۔۔ اور کبھی اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیتا۔۔۔ جس پر ماں کی آنکھوں میں تھوڑی سی چمک آتی، ایک مسکراہٹ چکمکاتی اور پھر غائب ہو جاتی۔۔۔

اسلام آباد ائیرپورٹ کی بے ہنگم اور گھٹیا سروس۔۔۔ انتہائی زیادہ رش۔۔۔ اور افسران کی سستی۔۔۔ ہر کام آہستہ آہستہ ہو رہا تھا۔۔۔ رات گئے کی دو پروازیں تھیں۔۔۔ اس درمیان۔۔۔ بزرگ خاتون کے جسم اور چہرے  پر تھکاوٹ کےآثار واضح تھے۔۔۔ لیکن اپنی بیٹے اور بہو پوتوں کا ساتھ ، ان جیسی تیزی سے دینا بھی چاہتی تھی۔۔۔ امیگریشن قطار میں کھڑے۔۔۔ خاتون نے اپنے بڑے پوتے کے چہرے کے قریب ہو کرہلکی مسکراہٹ کےساتھ اس سے کچھ بات کی۔۔۔ پوتا، جو شاید کسی قسم کے زعم میں مبتلا تھا۔۔۔ اس نے اپنی دادی کی بات سن کر ایسا منہ بنایا ، جیسے بات سن کر بھی کوئی احسان کیا ہو۔۔۔

میری آخری نظر اس خاتون پر تب پڑی جب امیگریشن کاونٹر عبور کر کے اس کی بہو اس کا ہاتھ تھامے، گویا اسے کھینچتے ہوئے جا رہی تھی۔۔۔ بہو رانی  شاید وہ وقت بھول گئی تھی جب یہی خاتون کتنی چاہ اور ارمانون سے اسے بیاہ کر اپنے گھر لائی تھی۔۔۔ اس کے ناز نخرے اٹھائے تھے۔۔۔ اسے اپنے بیٹے کے ساتھ کے لیے باہر بھیج دیا تھا۔۔۔ اب وہ اپنی بہو کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔ کہ اگلی زندگی اسی کے گھر گزارنی تھی۔۔۔

دو دن گزر گئے واپس دبئی آئے۔۔۔ لیکن نا جانے کیوں میں اس خاتون کا چہرہ نہیں بھلا پا رہا۔۔۔ اس کے چہرے کی معصومیت میرےذہن پر کچھ انمٹ نقوش چھوڑ چکی ہے۔۔۔  بار بار اس خاتون کی مسکین مسکراہٹ یاد آتی ہے۔۔۔

بار بار اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کے بچوں کو اس کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔ مجبوری سے نہیں۔۔۔دل سے۔۔۔ پوری محبت اور پیار سے۔۔۔

ٹیگز:

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

9 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: