عمرانیات » نفرتوں میں گهرا شخص

نفرتوں میں گهرا شخص

اتوار, 23 نومبر 2014, 9:37 | زمرہ: میری ڈائیری
ٹیگز: , , , ,

اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔ یہ خواہش کہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ اپنے لیے۔۔۔ دوسروں کے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے۔۔۔

محبت اتنا مشکل کام نہیں۔۔۔ جتنا سب نے بنا لیا ہے۔۔۔

مجھ سے نا سہی۔۔۔ میری خاطر ہی سہی۔۔۔ ایک دوجے سے محبت کر لو۔۔۔ میری خاطر بھی نا سہی۔۔۔ تو اللہ واسطے ہی اپنی بدگمانیاں، تلخیاں اور نفرتیں مٹا دو۔۔۔

کیا لے جائیں گے اس دنیا سے۔۔۔ نفرت۔۔۔!!! تلخیاں۔۔۔!!! بدگمانی۔۔۔!!!

نفرت کرو گے تو نفرت پاو گے۔۔۔

محبت کا بدلہ محبت اور عزت کے بدلے عزت پاو گے۔۔۔

گر بانٹ سکتے ہو تو محبت بانٹو۔۔۔ نفرت کسی کام نا آئے گی۔۔۔

محبت دعا کی صورت حساب آسان کر دے گی۔۔۔ اور نفرت دنیا کو بھی عذاب بنا دے گی۔۔۔

ایک دوسرے کو معاف کر دو۔۔۔ دل سے۔۔۔ معاف کر کے۔۔۔ معافیاں مانگ کر۔۔۔ خود کو صاف کر لو۔۔۔ دل کے داغ مٹا دو۔۔۔ اپنے لیے نا سہی۔۔۔ تو میرے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے ہی سہی۔۔۔

میں اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔



3 تبصرے برائے “نفرتوں میں گهرا شخص”

  1. 1افتخار اجمل بھوپال

    گستاخی ہو جانے کے خدشہ کی وجہ سے پیشگی معذرت کی درخواست کے بعد عرض ہے کہ کم تعلیم کے ساتھ ساتھ ناتجربہ کار ہونے کے باعث غلطی اور گستاخی ہو جانے کا بہت خدشہ رہتا ہے میں اسی لئے بالعموم تبصرہ سے گریز کرتا ہوں ۔
    عرض یہ ہے کہ دوسروں پر عبور حاصل کرنا جسے بذبان فرنگی کنٹرول کرنا کہتے ہیں بہت مشکل بلکہ ناممکن عمل ہے ۔ آدمی اپنے پر عبور حاصل کر لے ۔ یہ بھی بہت بڑی بات ہے ۔ چنانچہ دوسروں میں نفرت سے متاءثر ہو کر اپنا دل بوجھل کرنے کی بجائے خود محبتیں پھیلایئے کہ سیانے کہہ گئے ہیں محبت سب پر حاوی ہوتی ہے یعنی نفرتوں کے فُقدان میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے

  2. 2be naam

    جو شخص دوسروں کو تکلیف دیتا ہے اور نفرت پھیلاتا ہے وہ خوف نہ تو چین سے رہ سکتا ہے اور نہ ہی نفرت کے بدلے پیار پا سکتا ہے۔

  3. 3محمد اشفاق

    اچھی چیزیں شیئر کرنا میری عادت ہے
    اپنے نام سے نہیں کرتا میں کسی کے لکھے ہوئے کو جو باتیں مجھے پسند ہوتی ہیں اُسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں پر کچھ لوگ یہ نہیں چاہتے اس لئے کاپی رائٹ بنا کر رکھ دیتے ہیں اچھے خیالات اُمت کی امانت ہوتے ہیں یوں اسے قید کرکے مت رکھیں
    “شُکرا

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔