میرے گیت
درخواست
جو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں۔۔۔![]()
تم میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔
میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا۔۔۔
خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا۔۔۔
میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا۔۔۔
قریب اپنے بٹھا کر۔۔۔
الفت کی دو باتیں کر لینا۔۔۔
میرا حال پوچھ لینا۔۔۔
اپنا حال سنا دینا۔۔۔
کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا۔۔۔
تحفے میں اک مسکان دے دینا۔۔۔
روک لینا اس پل کو۔۔۔
اک لمحہ میرے نام کر دینا۔۔۔
(شاعرہ: ت ع)
اکیلے نا جانا۔۔۔
پاکستانی فلم آرمان کا ایک خوبصورت گیت جو زیبا اور وحید مراد پر فلمایا گیا۔۔۔
یہی گیت جب نجم شیراز نے گایا تو ایک نئی تازگی کا احساس ہوا۔۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=3w73Vfr4BKY
اے دلِ نادان
محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔
ابھی ہنسنے کو دل چاہے۔۔۔
تو رو دینا۔۔۔
محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔
ابھی تم دل کو رہنے دو۔۔۔
ابھی چپ چاپ سہنے دو۔۔۔
ؐمحبت اب نہیں ہوگی۔۔۔
ابھی اشکوں کے ایندھن میں۔۔۔
ہمارے خواب جلتے ہیں۔۔۔
محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔
ابھی منزل کہاں کوئی۔۔۔
رہِ برباد میں ہوگی۔۔۔
محبت اب نہیں ہوگی۔۔
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی۔۔۔
محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔
بیتے دنوں کی یاریاں۔۔۔
آئیے، یاد کرتے ہیں اپنے پرانے دن۔۔۔ وہ دن جو دوستوں کے ساتھ گزارے تھے۔۔۔
[youtube http://www.youtube.com/watch?v=6Nl2VoGTa38&w=425&h=349]
ایک خوبصورت ںظم
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=5OjnsZY3Qg0&w=425&h=349]
ٹوٹا جو آ کہ لب پہ تیرا۔۔۔ نام ہی تو ہے۔۔۔
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=_3WvZYp9E_o&w=425&h=349]
اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔
امریتا پرتم کور 31 اکتوبر 2005ء کو بھارت میں فوت ہو گئی ۔ وہ 31 اگست 1919ء کو پنجاب کے اس حصہ میں پیدا ہوئی تھی جو اب پاکستان میں شامل ہے ۔ 1947ء میں ہجرت کر کے بھارت چلی گئی تھی ۔ مندرجہ بالا نظم اس نے 1947ء کے قتل عام سے متاءثر ہو کر لکھی تھی جس نے بھارت میں اس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔ (افتخار اجمل بھوپال)
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=cBtHFFBAZbE&fs=1&hl=en_US&color1=0x3a3a3a&color2=0x999999]
نثار تیری گلیوں کے اے وطن۔۔۔ فیض احمد فیض
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=594TuB-4aO8&fs=1&hl=en_US]
مجھے خبر تھی۔۔۔ وہ میرا نہیں پرایا تھا۔۔۔
[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=T5k2SS0s3z8&fs=1&hl=en_US]
محبت ذات ہوتی ہے
محبت ذات ہوتی ہے
محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے
کوئی جنگل میں جا ٹھہرے
کسی بستی میں بس جائے
محبت ساتھ ہوتی ہے
محبت خوشبوؤں کی لے
محبت موسموں کا دھن
محبت آبشاروں کے نکھرتے پانیوں کا من
محبت جنگلوں میں رقص کرتی مورنی کا تن
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں کی مانند
محبت دل
محبت جاں
محبت روح کا درماں محبت مورتی ہے
اور کبھی دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو
محبت کانچ کی گڑیا
فضاؤں میں کسی کے ہاتھ سے گر چھوٹ جائے تو
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو
محبت روگ ہوتی ہے





