میرا پسندیدہ کلام

یادیں

یہ بھی نہیں کہ۔۔۔

میں یاد نا آوں۔۔۔

میں یاد تو آونگا۔۔۔

جب بھی محبت کی بات چلے گی۔۔۔

کچھ کہنے لگو گی۔۔۔

کچھ لکھنے لگو گی۔۔۔

تو ایسے میں لمحے بھر کو۔۔۔

یاد کے دروازے پر اک دستک ہوگی۔۔۔

ٹھٹک کر رک جاو گی۔۔۔

سوچو گی۔۔۔

دل دھڑک جائے گا۔۔۔

میرا نام لب پر آیگا۔۔۔

آنکھ نم ہو جائے گی۔۔۔

سر جھٹک کر۔۔۔

بامشکل مسکراو گی۔۔۔

پھر سے مجھے بھول جاو گی۔۔۔

مگر ہاں۔۔۔ اتنا تو ہوگا۔۔۔

تم کچھ بھی کہہ نا پاو گی۔۔۔

کچھ لکھ نا پاو گی۔۔۔

لمحہ بھر ہی سہی۔۔۔

میری محبت سے۔۔۔

ہار جاو گی۔۔۔

 

Tags : , , ,

کتنے اچھے تھے ہم دونوں..


مکمل تحریر پڑھیں »

میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح


لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں
درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں
آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں
بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں

٭٭٭

کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں
چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری
ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے
رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری

٭٭٭

میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں
قہقہوں کی داستان کیا لکھوں
بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی
میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں

٭٭٭

آرزووں کا، تمناوں کا خون!
خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا
قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف
خون بھوکے مفلس و نادار کا

٭٭٭

مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے
دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں
چیختی ہے آبرو مظلوم کی!
گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں

٭٭٭

میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں
جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در
حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو
جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر

٭٭٭

میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں
حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں
مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی!
جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں

٭٭٭

تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں
پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں
جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے
خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں

٭٭٭

کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر
اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی
سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں
درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی

٭٭٭

کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے
جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا
کارخانہ دار کا اس کے سبب
گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا

٭٭٭

بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم
اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں
میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم
خون کے آنسو بہائے آسماں

٭٭٭

دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی
کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب
قافلے والو! بتاو تو سہی!
کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب

٭٭٭

آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے
دوستو میں مسکراوں کس طرح
مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں
میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

(محمد انوار المصطفیٰ)

Tags : , , ,

درخواست

جو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں۔۔۔untitled

تم میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔

میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا۔۔۔

خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا۔۔۔

میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا۔۔۔

قریب اپنے بٹھا کر۔۔۔

الفت کی دو باتیں کر لینا۔۔۔

میرا حال پوچھ لینا۔۔۔

اپنا حال سنا دینا۔۔۔

کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا۔۔۔

تحفے میں اک مسکان دے دینا۔۔۔

روک لینا اس پل کو۔۔۔

اک لمحہ میرے نام کر دینا۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)


چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔Man in Front on Lake

خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

بکھرے کی۔۔۔ بچھڑنے کی۔۔۔

بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔

بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔

میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔

تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔

کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔

مجھے آواز دے دینا۔۔۔

تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔

سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

 

ابھی ہنسنے کو دل چاہے۔۔۔

تو رو دینا۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی تم دل کو رہنے دو۔۔۔

ابھی چپ چاپ سہنے دو۔۔۔

ؐمحبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی اشکوں کے ایندھن میں۔۔۔

ہمارے خواب جلتے ہیں۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی منزل کہاں کوئی۔۔۔

رہِ برباد میں ہوگی۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔

یہ کچھ دن بعد میں ہوگی۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

 

میرے گھر آئی ایک ننھی پری۔۔۔

12 فروری کی رات کو خوشخبری ملی کہ پی آئی اے کا احتجاج ختم ہو گیا ہے اور پروازیں پھر سے اپنے معمول کے مطابق چلیں گی۔۔۔

13 فروری کی صبح دو بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائیٹ شارجہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔۔۔ یہ پرواز ایک بج کر چالیس منٹ پر آنی تھی لیکن کچھ نا معلوم وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔۔۔

میں پونے دو بجے ایر پورٹ پہنچ گیا۔۔۔ مجھے شدت سے انتظار تھا وہ چہرہ دیکھنے کا، جو مجھے میری زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔ جس نے میری زندگی میں آتے ہی اسے بہار کر دیا۔۔۔ جو مجھ سے اتنی قریب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔جب سے وہ میری زندگی میں آئی تو ہمارا ہر وقت کا ساتھ تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔

پھر اسے پاکستان جانا پڑا۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ نانا، نانی کے گھر۔۔۔ آج وہ پورے دو ماہ اور تین دن بعد آ رہی تھی۔۔۔

مجھے امید تھی کہ جیسے ہی وہ ٹرمینل سے باہر آئے گی۔۔۔ اور مجھے اپنا منتظر پائے گی تو مچل کر مسکرا اٹھے گی، ویسے ہی جیسے دو ماہ پہلے مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھل جاتی تھی۔۔۔

دو گھنٹے ائیر پورٹ کے ارائیول لاونج میں بیٹھے بیٹھے۔۔۔ کبھی موبائل سے کھلیتا اور کبھی کوئی اخبار پکڑ لیتا۔۔۔۔ اور پھر کچھ لمحوں کے بعد نظر فلائیٹس کی معلوماتی سکرین پر اٹھ جاتی کہ شاید اب کم وقت رہ گیا ہو جہاز کے آنے میں۔۔۔ لیکن یہ وقت تھا کہ کٹ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اللہ اللہ کر کے جہاز کی آمد کا اعلان ہوا اور پھر سے انتظار کی نئی گھڑیاں شروع ہو گئیں۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد مجھے وہ نظر آئی۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ باہر آتی ہوئ۔۔۔ میں خوشی سے نہال ہو گیا اور اس کی جانب لپکا کہ اسے اپنے سینے سے لگا سکوں اور پھر اسے اس کی ماں سے چھین کر اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے وہ مجھے جانتی ہی نہیں۔۔۔ اتنی بے یقینی اس کے آنکھوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔ شاید وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی میں نے اسے تھاما۔۔۔ اس کے ہونٹ تکلیف سے سکڑ گئے اور اس نے رونا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے ڈرتے ہوئے پھر سے اسے اس کی اماں کے حوالے کر دیا۔۔۔ اپنی ماں کے پاس جاتے ہی اس کا زور زور سے رونا ہلکی ہلکی سسکیوں میں بدل گیا اور مجھے غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ پھر سے اپنی ماں سے لپٹ گئی۔۔۔

اسکی اماں نے مجھے مخاطب کیا کہ دو ماہ بعد آپ کو دیکھ رہی ہے تو پہچانی نہیں۔۔۔ ایک دو دن میں پھر سے مانوس ہو جائے گی۔۔۔ یہ سن کر میرے اجڑے ہوئے دل کو حوصلہ ہوا کہ چلو جہاں دو ماہ گزار لیے۔۔۔ یہ دو دن بھی گزر جائیں گے۔۔۔

گھر پہنچنے تک وہ مجھے گھورتی رہی۔۔۔ اور میں اپنی بیٹی، علیزہ عمران کو (جو اب ماشاءاللہ آٹھ ماہ کی ہو گئی ہے) پیار سے منانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔

اب دو دن بعد علیزہ کو اپنے بابا جان یاد آگئے ہیں اور وہ پھر سے میری طرف بانہیں پھیلا کر مجھے بلاتی ہے۔۔۔ اوں اوں کرتی یہ کوشش کرتی ہے کہ میں اسے اٹھا لوں اور وہ میرے کندھے پراپنا سر رکھ کر ادھر ادھر دیکھتی رہے۔۔۔

————————————————

ایک نظم پڑھی کچھ دن پہلے۔۔۔ جسے پڑھ کر کچھ غمگین سا ہو گیا ہوں۔۔۔ پتا نہیں کیوں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔ بہت اچھی لگی تو شئیر کر رہا ہوں۔۔۔ امید ہے پسند آئے گی۔۔۔

بیٹی:
مجھے اتنا پیار نا دو بابا۔۔۔
کل جانا مجھے نصیب نا ہو۔۔۔
یہ جو ماتھا چوما کرتے ہو۔۔۔
کل اس پر شکن عجیب نا ہو۔۔
میں جب بھی روتی ہوں بابا۔۔۔
تم آنسو پونچھا کرتے ہو۔۔۔
مجھے اتنی دور نا چھوڑ آنا۔۔۔
میں رووں اور تم قریب نا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میرے لاڈ اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میری چھوٹی چھوٹی خواہش پر۔۔۔
تم جان لٹاتے ہو بابا۔۔۔
کل ایسا ہو ایک نگری میں۔۔۔
میں تنہا تم کو یاد کروں۔۔۔
اور رو رو کر فریاد کروں۔۔۔
اے اللہ۔۔۔ میرے بابا سا۔۔۔
کوئی پیار جتانے والا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھانے والا ہو۔۔۔
میرے بابا، مجھ سے عہد کرو۔۔۔
مجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔
دنیا کی ظالم نظروں سے۔۔۔
ؐمجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔

باپ:
ہر دم ایسا کب ہوتا ہے۔۔۔
جو سوچ رہی ہو لاڈو تم۔۔۔
وہ سب تو بس ایک مایا ہے۔۔۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کو۔۔۔
کب جانے سے روک پایا ہے۔۔۔


میری محبت کے نام۔۔۔

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔!!!!

سوچتا ہوں‌کہ محبت سے کنارا کرلوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کرلوں
سوچتا ہوں‌کہ محبت ہے جنونِ رسوا
چند بے کار سے بے ہودہ خیالوں کا ہجوم
ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس
ایک بیگانے کو اپنانے کی سعئ موہوم
سوچتا ہوں کہ محبت سے سرور و مستی
اس کی تنویر سے روشن ہے فضائے ہستی
سوچتا ہوں کہ محبت ہے بشر کی فطرت
اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت سے ہے تابندہ حیات
اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں
اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش
چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی
دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی
درگہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی
سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں
ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اک کار زبوں
سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ
پیش ازاں وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش
یہی بہتر ہے کہ بیگانۂ الفت ہو کر
اپنے سینے میں‌کروں جذبۂ نفرت کی تلاش
سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کر لوں

(ساحر لدھیانوی)