عشق الہی

چھوٹا شیطان، بڑا شیطان

رمضان آ گیا۔۔۔ شیطان قید کر دیا گیا۔۔۔ چھوٹے شیطان اب بھی دھرتی پر دندناتے پھر رہے ہیں۔۔۔ شیطان چھوٹا ہو یا بڑا، شیطان تو شیطان ہوتا ہے۔۔۔

معاف کیجیے گا۔۔۔ پاکستانی حکمرانوں کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ بلکہ عام عوام کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ اور عام عوام میں بھی میرا مقصد صرف پاکستانی ہی نہیں۔۔۔ دنیا جہاں کے مسلمان ہیں۔۔۔ مسلمان کم اور شیطان کے پرستار زیادہ ہو گئے۔۔۔ اللہ سے محبت کے دعویٰ لیکن اللہ کی ماننی نہیں۔۔۔ شیطان سے بھرپور دبانگ سے پناہ مانگنا لیکن کھلے عام اس کی پیروی بھی کرنا۔۔۔ تو ہوئے نا چھوٹے شیطان۔۔۔


کچھ دن پہلے سوچ رہا تھا کہ جب شیطان قید کر دیا گیا ہے تو کم از کم رمضان میں ہی وسوسے کیوں نہیں جان چھوڑتے۔۔۔ ایک حضرت سے ہنستے ہنستے یہ سوال کر دیا۔۔۔ حضرت کوئی قابلِ تسلی جواب تو نا دے سکے۔۔۔ سارا الزام چھوٹے شیطان پر ڈال دیا۔۔۔

اب سوچ میں اضافہ یہ ہوا۔۔۔ کہ چھوٹے شیطان کو قید کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ کیا رمضان میں بھی ہمارا امتحان مقصود تھا۔۔۔ کیوں جی۔۔۔ رمضان میں تو ہم ویسے ہی ایک با برکت امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔۔ تو آخر یہ منحوس امتحان ہمارے سروں پر ڈالنا ضروری تھا۔۔۔؟

شیطان تو ہماری روح پرایسا قبضہ کر کے بیٹھا ہے جیسے خون ہمارے جسم میں مستقل آوارہ گردی کر رہا ہے۔۔۔ جان ہی نہیں بخشتا۔۔۔ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ کہ برے کام، گناہ اور جرائم ہم سے شیطان کروا رہا ہے۔۔۔ یا ہم بذاتِ خود شیطان بنے یہ کام کر رہےہیں۔۔۔ شیطان کو الزام دینا تو بڑا آسان ہے۔۔۔ لیکن خود کا محاسبہ کیسے کریں۔۔۔ آخر ہمارا نفس جو مہا شیطان ہے، وہ اپنی غلطیاں ماننے سےبھی تو انکاری ہے۔۔۔ اور ماننا تو دور کی بات۔۔۔ غلطیاں پہچاننا اور سمجھنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔۔۔

فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم شیطان کے زیرِ اثر ہیں یا شیطان ہمارے زیرِ اثر آ چکا ہے۔۔۔ اگر دوسری بات سچی ہے تو مبارک ہو جی۔۔۔ ہم ابلیس سے بڑے ابلیس بن چکے۔۔۔ اور ابلیس اپنے چیلوں سے نہیں، ہم جیسے انسانوں سے مشورے کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھ رہا ہوگا۔۔۔ مبارک ہو جی۔۔۔ ہم شیطان سے جیت چکے۔۔۔۔


Tags : , , , ,

میری موت

چھوڑ دو مجھے، مت لے کر جاو۔۔۔ میں نہیں جاتا تمہارے ساتھ۔۔۔ مجھے یہ کپڑے کیوں پہنا رکھے ہیں۔۔۔ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔ چھوڑ دو مجھے، مجھے میرے گھر والوں کے پاس رہنے دو۔۔۔ یہ سب کیوں رو رہے ہیں۔۔۔ مجھے کہاں بھیج رہے ہیں۔۔۔ خدا کے واسطے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے نہیں جانا۔۔۔

تم لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے۔۔۔ کیا میری آواز تم کو نہیں آتی۔۔۔ کیوں مجھے نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ تم لوگ مجھے یہیں چھوڑ دو۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ کہاں چھوڑ دیا مجھے۔۔۔ اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں۔۔۔ اوہ ہو، اتنی مٹی۔۔۔ اتنی گرمی۔۔۔ اف، کوئی مجھے اس کپڑے سے نجات دے۔۔۔ میں تو گرمی سے پگھل رہا ہوں۔۔۔ کیسا گھٹا ہوا ماحول ہے۔۔۔ میری تو جان نکل رہی ہے۔۔۔

کوئی ہے۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کون ہیں؟ او ر یہاں کیا کر رہے ہیں؟

ہم منکر نکیر ہیں اور تم سے تمہاری زندگی کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔

کیا کہا؟ کون ہو تم؟ کیا میں مر چکا ہوں؟ تم لوگ کیا پوچھو گے مجھ سے؟ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے واپس میں دنیا میں جانے دو۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تم کو۔۔۔ مجھے جانے دو۔

شور مت کرو، تم مر چکے ہو اور اب واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ اب ہمارے سوالات کا جواب دو۔۔۔ بتاو کہ تمہارا رب کون ہے؟

میرا رب۔۔!!! میرا رب۔۔۔ کون ہے میرا رب۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے یاد نہیں میرا رب کون ہے۔۔۔

تمہارا رسول کون ہے؟

خدا کے واسطے مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ میرا رسول کون ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔

تمہارا مذہب کیا ہے؟

مذہب نہیں معلوم۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میرے آنسووں پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب کون ہے، میرا رسول کون ہے اور میرا مذہب کیا ہے۔۔۔؟ مجھے کچھ نہیں معلوم۔

تمہارا رب اللہ تبارک تعالیٰ ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا مذہب ، اسلام ہے۔ اور تمہیں کچھ یاد اس لیے نہیں آ رہا، کہ تم نے اپنی ساری زندگی اپنے رب اور اس کے احکامات کو جھٹلایا ہے۔۔۔ اس کی نافرمانی کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کو مانتے تو اس کے احکامات پر عمل کرتے، احکامات کو مانتے تو محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرتے اور محمدﷺ کی سنت کو مانتے تو دین اسلام کے ہر ہر حکم اور اصول پر پابند ہوتے۔

اے ابن آدم، تم نے اپنی زندگی برباد کر دی۔ شور شرابے اور کفر میں گزار دی۔ عیش و عشرت میں مبتلا رہے اور اپنا رب نا پہچان سکے۔ روزانہ پانچ دفعہ اللہ کی پکار سنتے رہے کہ وہ تمہیں بار بار اپنے پاس بلاتا رہا کہ اس کی طرف آو، نماز پڑھو اور اس کو یاد کرو، لیکن تم نے اللہ کی پکار کو نظر انداز کیا، اب تمہیں نافرمانی کی سزا ملے گی۔ تمہارے ہر گناہ کی سزا ملے گی۔

مجھے معاف کر دو۔۔۔ مجھے ایک بار پھر دنیا میں بھیج دو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ کی عبادت میں اپنی ہر سانس مصروف کر دوں گا۔۔۔ اس کے ہر حکم کا تابع رہوں گا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔

نہیں اے بشر، تیری مدت ختم ہو چکی۔۔۔ اب تو واپس نہیں لوٹ سکے گا۔ اب تو قیامت تک سزا بھگتتا رہے گا۔ اب آخری فیصلہ اللہ ہی روزِ قیامت کرے گا۔ تب تک تو مجرم ٹھرا اور سزا تیرا مقدر ٹھری۔

بچاو۔۔۔ کوئی تو مجھے بچاو۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ اے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے قبر کی ہولناکی سے بچا۔۔۔ اے اللہ مجھے بچا۔۔۔ اے اللہ میرے گناہ معاف فرما دے۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں

 


Tags : , , , , , ,

ماہ رمضان اور میرے ایمان کی کمزوری

رمضان آنے کو ہے اور پہلا روزہ کل یا پرسوں متوقع ہے۔ متحدہ عرب امارات ، سعودی رویت ہلال کمیٹی کی تلقید کرتی ہے۔ عشاء کی نماز کے فوراً بعد روزہ ہونے یا نا ہونے کی خبر آ جائے گی۔

سچ بتاوں تو دل بہت گھبرایا ہوا ہے۔ ایک ڈر دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس دفعہ روزے بھی کافی لمبے ہونگے۔ تقریباً پندرہ گھنٹے کا۔ 48 سے 50 فارہنایٹ ڈگری کی گرمی اور بنا پانی کے پندرہ گھنٹے۔۔۔!!! اف، کتنے مشکل روزے ہونگے۔ بھوک پیاس کو اتنا برداشت کیسے کروں گا۔


ایمان کی کیسی زبردست کمزوری ہے۔ ہاں دل کا سچا حال لکھنے کی ہمت ضرور ہے کہ کئی حضرات کی طرح دلوں میں روزے رکھنے کی جھنجلاہٹ چھپائے دنیا دکھاوے کے لیے “رمضان مبارک” کے ایس ایم ایس فارورڈ نہیں کرتا۔

نیکی کرنے کا خوف کس حد تک بیٹھ گیا ہے میرے دل میں کہ ڈائٹ کے نام پر ہفتہ ہفتہ کچھ نا کھاوں پیوں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن احکام الہیٰ پورے کرتے میری جان جا رہی ہے۔

شاید میرے جیسا حال اور بہت سے حضرات کا ہے۔ شاید وہ بھی دنیاوی تکلیف کا سوچ کر آخرت کی حساب اور جزا سزا کو بھول رہے ہیں۔ شاید کہ میری یہ تحریر میرے اور ان کے دلوں کے حال بدل دے۔

اسلام کے کسی بھی مسلک میں رمضان کی اہمیت، فرضیت، قوانین و قواعد اور ثواب محترم ہیں۔ میرے جیسے “بے ایمان” اور “شیطان کا تابع” انسان اگر مندرجہ ذیل نکات پر غور کرلے اور ان کو سنجیدگی سے خود پر طاری کر لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ہمیں معاف فرما دیں اور ہمارے روزے ہمارے لیے باعث ِلطف اور کارخیر ثابت ہو سکتے ہیں

دعا ہے کہ اللہ مجھ سمیت سب مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے روزوں کوقبول فرمائے۔ آمین

Tags : , ,

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا…

میں نے  جب لکھنا سیکھا تھا…

پہلے تیرا نام لکھا تھا…

میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو…

جن و ملک نے سجدہ کیا تھا…

میں وہ صبر صمیم ہوں جس نے…

بار امانت سر پر لیا تھا…

تو نے کیوں میرا ہاتھ نہ پکڑا…

جب میں رستے سے بھٹکا تھا…

پہلی بارش بھیجنے والے…

میں تیرے درشن کا پیاسا تھا…

(ناصر کاظمی)

الله نے پکارا… ہے کوئی جو میری ایک امانت کا بوجھ اٹھاے… یہ سن کر سمندر کی سانسیں ٹوٹنے لگیں… پہاڑ ہیبت سے لرزنے لگے… پوری کائنات پر لرزہ طاری ہو گیا… کسسی کو طاقت نہ تھے کہ وہ یہ بوجھ اٹھاتا… پھر الله نے وہ امانت انسان کو سونپ دی… اور انسان اسے اٹھاے مضطرب اور سرگرداں ہے… یہ کائنات کا سب سے بڑا صبر ہے…

وہ امانت الله کی تمام صفات کا پر تو ہے… ہلکا سا عکس…

الله نے اپنی تمام صفات انسان کو سونپ دی… رحم، کرم، قہر، جبر، پوری ٩٩ صفات… اور اپنا اسم ذات نور سے لکھ کر پہلے ہی اس کی پیشانی میں رکھ دیا… الله نے جب جن و ملائک کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ شرک کا حکم نعوذ باللہ نہیں دیا تھا… وہ سجدہ آدم کے لئے نہیں تھا بلکے وہ تو پیشانی میں محفوظ اسم ذات کے لئے تھا… الله کے لئے تھا…  اس لئے شاعر نے کہا کے میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا… پھر اپنی ٩٩ صفات کا عکس انسان پر ڈالا تو اس نے یہ  بتا  دیا کہ انسان اس کا خلیفہ، اس کا نائب ہے… اس میں اتنا صبرہے کہ وہ یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے… تو انسان میں رحیمی بھی ہے…  جباری  بھی ہے…اور قہاری بھی ہے… اب انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ان صفات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے… رحمتوں کا اور صفات کا یہ توازن صرف ایک انسان نے قائم کر کے دکھایا ہے… اور وہ ہیں… رحمت العالمین صل الله ہو علیہ وسلم…

یوں انسانیت سرخرو ہوئ اور امانت کا حق ادا ہوا…

(علیم حقی کی کتاب “عشق کا عین سے ماخوذ)

حجامۃ–رسولﷺ کا طریقہِ علاج

عرب ممالک میں حجامۃ ایک ایسا طریقہ علاج ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی سنت قرار کیا جاتا ہے۔ میری کم علمی ہی سمجھ لیں کہ مجھے حجامۃ کے بارے میں دو دن قبل ہی علم ہوا۔ میرے والد صاحب کے کندھوں، کمر اور گھٹنوں میں شدد درد رہتا تھا۔ ایک حضرت گھر تشریف لائے اور انہوں نے دعوٰی کیا کہ حجامۃ سے میرے والد صاحب کو سو فیصد آرام آ جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حجامۃ رسول اللہﷺ کی سنت ہے اور معراج شریف کے دوران فرشتوں نے رسول اللہﷺ کو حجامۃ کرنے کی تلقین کی تھی۔ ان حضرت نے ایک کتاب پڑھنے کے لیے دی جس میں صحیح حدیثوں کی ریفرنس سے حجامۃ کے بارے میں تفصیلاًلکھا گیا تھا۔ وہ کتاب تو حضرت کل واپس لے گئے اس لیے ریفرنس نوٹ کرنا یاد نہیں رہا۔

hijama

ایک حدیث یہ بھی پڑھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ” شفا تین چیزوں میں رکھی گئی ہے،، شہد، حجامۃ اور آگ سے داغنے میں، لیکن آگ کے داغنے کو میں پسند نہیں کرتا۔” واللہ و اعلم بالصواب

قصہِ مختصر یہ کہ پرسوں جناب نے میرے والد صاحب کے گھٹنوں کے نزدیک چار جگہ حجامۃ کیا اور کل کندھوں کی دنوں جانب، کندھوں کے  درمیان، کمر میں ایک جگہ، اور ٹخنوں کے پاس چار جگہ حجامۃ کیا۔ فرق یہ پڑا کہ میرے والد صاحب کی ٹانگوں اور کمر کے درد میں نمایاں کمی ہوئی اوربقول ان کے، وہ کافی ہلکا پھلکامحسوس کر رہے ہیں۔ کندھوں میں درد کم ضرور ہوا ہے لیکن ابھی مکمل طور پر سکون نہیں ملا۔

حجامۃ کرنے کا طریقہ یوں ہے کہ ایک پلاسٹک کی کھلی شیشی درد والی جگہ پر رکھی جاتی ہے اور ایک چھوٹی سی گن نما اوزار کی مدد سے جسم پر شیشی کو چسپاں کیا جاتا ہے۔ جوں جون شیشی جسم پر چسپاں ہوتی ہے،  جسم کے وہ حصہ ابھرنا شروع ہو جاتا ہے، دور سے دیکھا جائے تو ایک بڑی پھنسی لگتی ہے۔ بقول حضرت، جسم کے قریبی حصوں کا گندہ خون اور گیس اس ابھری ہوئی جگہ پر جمع ہو جاتی ہے۔ پانچ منٹ تک انتظار کیا جاتا ہے اور پھر شیشی اتار کا بلیڈ کی مدد سے جسم کے اس پھولے ہوئے حصے پر چھوٹے چھوٹے کٹ  نہایت مہارت سے لگائے جاتے ہیں۔ کٹ لگانا ہی سب سے بڑا فن ہے، کہ کہیں چمڑی کے نیچے نس نا کٹ جائے۔ جب ان چھوٹے چھوٹے ذخموں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے تو پھر سے اسی شیشی کو چسپاں کیا جاتا ہے تا وقتیکہ کہ شیشی کے اندر گندہ خون اور گیس نا بھر جائے۔ جب شیشی خون سے بھر جاتی ہے تو جگہ دوبارہ صاف کر کے شیشی کو دو مرتبہ اور چسپاں کیا جاتا ہے۔

بقول حضرت، ہمارے جسم کی زیادہ تر دردیں، گندے خون اور گیس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ جن کا وقتاً فوقتاً خارج ہونا جسم کے لیے بہت بہتر ہے۔  حجامۃ کے لیے کرنے والے کاماہر ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے کٹ لگانا ہی سب سے زیادہ اہم اور شفا ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ ہو سکے تو اس تحریر کے تبصروں میں صحیح حدیثوں کے ریفرنس مہیا کر دیں۔ اللہ آپ سب کو اس چیز کی جزا عطا فرمائے گا۔ انشاءاللہ

نیچے دی گئی ویڈیو میں حجامۃ کے طریقے کار کو بخوبی دکھایا گیا ہے۔

Tags : , , , ,

عجب چیز ہے لذت آشنائی۔

رات کو میں اپنے کمرے کی ساری روشنیاں گل کرنے سے پہلے اپنی بیوی اور بیٹی کوسکون کی نیند سوتے ہوئے دیکھتاہوں  اور اپھر اپنے والدین کے کمرے میں نظر دوڑاتا ہوں کہ وہ جاگ تو نہیں رہے۔۔۔ انہیں کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ صحن سے منسلک اپنےچھوٹے بھائی کے کمرے کی طرف جھانکتا ہوں کہ وہ اب تک سویا یا نہیں۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کے کمرے کی جلتی روشنی دیکھ کر سوچتا ہوں کہ یہ اتنا پڑھتی کیوں ہے۔۔۔

وضو کرتا ہوں اور روشنی گل کرنے کے بعد نماز وتر کے لیےجائے نماز بچھا کر 10 سے 15 سیکند کے لیے کھڑا ہو کر سوچتا ہوں کہ میں کیا کرنے والا ہوں؟ کس کے سامنے کھڑا ہونے والا ہوں؟ میں کیا بات کروں گا اس سے؟ میرا مقصد کیا ہے یہ مشق کرنے کا۔۔۔؟

اندھیرے کمرے میں، مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میری بیوی، میری بیٹی اور میرے علاوہ کوئی اور بھی ہے۔۔۔ جو اتنا بڑا ہے کہ وہ میرے کمرے میں سما نہیں سکتا۔۔۔ لیکن پھر بھی موجود ہے۔۔۔ وہ ایسا ہے کہ جس کے سامنے میں آنکھوں سے دو آنسو بہاوں گا تو وہ میرے پاس آ کر کہے گاا کہ بس۔۔۔ فکر نا کر۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔

وہ ایسا ہے۔۔۔ کہ جس کے سامنے میں اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہونگا۔۔۔ تو وہ حکم کرےگا  کہ بخش دو میرے اس گناہگار بندے کو۔۔۔ اس نے کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے لیکن صرف مجھ سے بخشش مانگی۔۔۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں زور زور سے چلا کر ساری دنیا کو بتاوں کہ “اللہ سب سے بڑا ہے۔۔۔” ۔۔۔ لیکن میں آداب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرگوشی کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔۔۔  ہاتھ باندھے کہتا ہوں کہ “ساری تعریف صرف اللہ کی ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے”۔۔۔ میں اس کے سامنے جھک کر اسے بتاتا ہوں کہ “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو سب سے عظیم ہے”۔۔۔ اور جب میں  زمیں پر اپنا ماتھا لگاتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ میں اس ہستی کے سامنے جھک رہا ہوں جس نے مجھے سب کچھ دیا۔۔۔ زندگی دی، سانسیں دی۔۔۔ اتنے خوبصورت  رشتے دیے۔۔۔عزت اور محبت دیے۔۔۔ اور آج تک مجھے بھوکا نہیں رہنے دیا۔۔۔ تو میرے ہونٹ اور دل ایک ساتھ کہہ اٹھتے ہیں کہ  “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو بلند تر ہے”۔۔۔ اور “اے اللہ تو پاک ہے، اے میرے پروردگار اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔۔۔ یا اللہ مجھے بخش دے”۔۔۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس اندھیرے کمرے میں میرا آقا، میرا پروردگاراور میرا دوست میرے ساتھ ہے جو میری سرگوشیاں سن رہا ہے ۔۔  میں جو بھی کچھ اسے بتاتا ہوں وہ سنتا ہے۔۔۔ اور پھر نماز کے بعد دعا کے لیے جب میرے ہاتھ اٹھتے ہیں اوربے اختیار میں اپنے دوست سے دل کے سب حال کہہ جاتا ہوں کہ میرا یہ کام بنا دے۔۔۔ میرا وہ کام پورا کر دے۔۔۔ میرے والدین، میری بیوی، میری بیٹی، میرے بھائی بہنوں اور پھر سب مسلمانوں  کو صحت، معافی اور ہدایت عطا فرما۔۔۔ تو میں یہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میرے دو کھلے ہاتھوں کو کوئی تھام رہا ہے۔۔۔ کوئی مجھے کہہ رہا ہے کہ تو فکر نا کر۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تو نے کس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہیں۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تیرا پروردگار تیرا صرف بھلا چاہتا ہے۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ تو جانتا ہے کہ اگر تو وہ کرے جو میں نے تجھے کرنے کا حکم دیا تو، تو کبھی افسوس نا کر پائے گا۔۔۔ میں تجھے وہ دوں گا جو میں نے نیک کاروں سے وعدہ کیا ہے۔۔۔ لیکن اگر تو کرے گا وہ جو شیطان کہتا ہے تو اس کی سزا تو تجھے ملے گی ہی۔۔۔

میرا پروردگار۔۔۔ میرا آقا۔۔۔ میرا ولی۔۔۔ میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔ جب ساری دنیا کے رشتے مجھے چھوڑ جائیں گے تو میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔ اور جب میں دنیا چھوڑ جاوں گا تب بھی میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔

میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی اچھائیوں پر خوش ہوتا اور ثواب کے ڈھیر لگا دیتا ہے۔۔۔ اور میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میں کوئی غلطی کر دوں۔۔۔ کوئی گناہ کر دوں تو شرمندگی کے دو آنسو کے عوض وہ مجھے معاف کر دیتا ہے۔۔۔ اب دوست ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔

میرا دوست ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ غم میں مجھے حوصلہ دیتا ہے اور خوشیوں میں شکرکرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔۔۔

میں یہ سوچنا ہی نہیں چاہتا کہ اللہ کہاں رہتا ہے۔۔۔ عرش پر ہے یا زمین پر ہر جگہ موجود ہے۔۔۔ میرے لیے تو یہی کافی ہے کہ وہ میرا دوست ہے اور میری شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے۔۔۔ جو میری خاموشی سے کہی گئی عرضیں بھی سنتا ہے۔۔۔

میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔  جب مجھے اس پر پیار آتا ہے تو یون محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجھے محسوس کروا رہا ہے کہ وہ بھی مجھے پیار کرتا ہے۔۔۔ اور میرے دوست سے زیادہ اور کون مجھےپیار کرنے والا ہوگا کہ جو جو یہ چاہے کہ میں نہ صرف اس دنیا میں، بلکہ اگلی دنیا میں بھی ہر تکلیف اور عذاب سے بچ جاوں۔۔۔

اورپھر جب میں اپنے دوست سے باتیں کرتے کرتے اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹتا ہوں تو میرا یہ ایمان کامل ہو جاتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔ میرا خیال رکھ رہا اور اب مجھے کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اتنا سکون اور محبت بھرا احساس لیے میں نیند کی آغوش میں اتر جاتا ہوں۔۔۔

 

 

سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟

کوئی سمجھائے مجھے۔۔۔

حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے۔۔۔؟

سنت وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔۔۔

حدیث وہ الفاظ، احکامات یا ارشادات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔۔۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔۔۔؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔۔؟

کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل میں تضاد تھا۔۔۔؟

اگر ایسا نہیں ہے جو میرے جیسا جاہل سمجھ رہا ہے تو کیوں ہم سنت اور حدیث کو مختلف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔

خدا کے واسطے کوئی تو سمجھائے مجھے۔۔۔

Tags : , ,

کیا قرآن کریم انسانی تصنیف ہے؟

قرآن کریم کو پڑھتے ہوۓ مختلف لوگ مختلف جذبات سے گزرتے ہیں.ایک بڑی اکثریت کے دل نرم پڑ جاتے ہیں اور ایک فکر آمیز سنجیدگی گھیر لیتی ہے. محسوس یوں ہوتا ہے کہ کوئی بہت زبردست ہستی انسان سے خطاب کر رہی ہے جو انسان کو بہت قریب سے جانتی ہے. یوں تو ہر مسلمان کے لئے پورا قرآن کریم اور اسکا ایک ایک لفظ ہدایت اور تحذیر لئے ہوۓ ہے. مگر کچھ آیتیں خاص طور پر مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں. جیسے :

مکمل تحریرکے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے

مصنف: جناب ڈاکٹر جواد خان

سائنسی علوم اور علوم وحی

حق تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کو دو قسم کے علم عطا کئے گئے ہیں۔
ایک کائنات کے اسرار و رموز، اشیاء کے اوصاف و خواص اور فوائد و نقصانات کا علم جسے “علمِ کائنات” یا “تکوینی علم” کہا جاتا ہے، تمام انسانی علوم اور ان کے سینکڑوں شعبے اسی “علمِ کائنات” کی شاخیں ہیں، مگر معلوماتِ خداوندی کے مقابلے میں انسان کا یہ کائناتی علم سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی اور پہاڑ کی مقابلے میں ایک ذرّہ کی نسبت بھی نہیں رکھتا۔
مکمل تحریر کے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے
مصنفِ تحریر: جناب بنیاد پرست

 

Tags : , , , , , ,

انبیاء کرام ہی معصوم کیوں ؟

عصمت کا مطلب ہے گناہوں سے معصوم ہونا، اہلسنت کا اس پر اجماع  ہے کہ نبی  معصوم ہوتا ہے،  وہ ظاہر وباطن‘ قلب وقالب‘ روح وجسد ہراعتبار سے عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے‘ وہ ایسا پاک طینت اور سعید الفطرت پیدا کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات رضاء ومشیتِ الٰہی کے تابع ہوتی ہیں‘ ردائے عصمت اس کے زیب تن ہوتی ہے‘ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہردم اس کی نگرانی کرتی ہے‘اس کی ہرحرکت وسکون پر حفاظتِ خداوندی کا پہرہ بٹھادیا جاتا ہے اور وہ نفس وشیطان کے تسلط واستیلاء سے بالاتر ہوتا ہے۔۔۔۔۔

مکمل تحریر کے مطالعے اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کیجیے۔۔۔

مصنف تحریر: جناب بنیادپرست

 

Tags : , , , , , , , ,