میری ڈائیری

امی کے بعد ۔۔۔ایک  ماہ

آج 19 اکتوبر۔۔۔ آج ہی کے دن پچھلے مہینے 19 ستمبر  صبح ساڑھے آٹھ بجے ۔۔۔ امی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔۔۔

ایک ماہ گزر بھی گیا۔۔۔

پہلے دو ہفتے تو کُھل کر رو بھی نہیں پایا۔۔۔

کیسے روتا۔۔۔ سب کے سامنے روتا تو سب ٹوٹ جاتے۔۔۔ سب بکھر جاتے۔۔۔ ہم سب بہن بھائی ایک دوسرے کے سامنے اداکاری ہی کرتے رہے۔۔۔ کہ اگر روئے تو دوسرا پریشان  ہوجائے گا۔۔۔  ابو کے سامنے تو ہرگز نہیں۔۔۔ بہت ہمت والے ہیں ابو۔۔۔ بہت حوصلے والے۔۔۔ ہمیں یہی کہتے رہے کہ میری فکر مت کرو۔۔۔ میں تم سب سے زیادہ حوصلے والا ہوں۔۔۔ ایک طرح سے تو ان کو دیکھ کر ہی ہم صبر شکر کرتے رہے۔۔۔

گھر بنجر سا ہو گیا ہے۔۔۔ اگر کوئی ہنس کھیل بھی لے۔۔۔ تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کھنکھناہٹ بھی مصنوعی ہے۔۔۔  بچوں کی وجہ سے رونق تو ہو جاتی ہے۔۔۔ سب بہل جاتے ہیں۔۔۔ لیکن مسکراہٹوں میں چھپی اداسی سب کو نظر آتی ہے۔۔۔  گھر تو ہے۔۔۔ لیکن کیسا گھر۔۔۔ کہ چھت نظر ہی نہیں آتی۔۔۔  دیواریں بھی کھوکھلی سی لگتی ہیں۔۔۔  ویرانی سی ویرانی ہے۔۔۔  دل بھی ویران۔۔۔ گھر بھی ویران۔۔۔ سب خاموش۔۔۔ اداس۔۔۔ سب ایک دوسرے کو بہلاتے ہوئے۔۔۔

گھر سے آفس تک کے طویل سفر کا صرف فائدہ یہی ہوا کہ کھل کر رو لیتا ہوں اب۔۔۔ کسر صرف یہی باقی رہتی ہے کہ امی امی چیخوں۔۔۔ بین کروں  اور سینہ چاک کر لوں۔۔۔

امی نے ہمارے گھر کو اپنے دھاگے سے باندھ رکھا تھا۔۔۔ خاندان کا ہر شخص امی کے اردگرد ہی گھومتا تھا۔۔۔ یہ ان کی سب کے لیے چاہت تھی یا ان کی مقناطیسی شخصیت۔۔۔ کوئی بھی شخص ان کے سحر سے نا نکلنے کی دعا کرتاتھا۔۔۔  بچہ یا بڑا۔۔۔ امی نا صرف بھانجوں بھتیجوں کی پسندیدہ تھی بلکہ ان  سب کے لیے ہدایت اور مشوروں کا محور بھی تھی۔۔۔

ان کی دعائیں صرف اپنی اولاد کے لیے ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھی جس سے وہ ملتی تھیں۔۔۔ چاہےتنور والا ہو یا دھوبی ہو۔۔۔ تنور والے کو جب معلوم ہوا کہ اماں فوت ہو گئی تو ہاتھ میں تھامی روٹیاں زمین پر گر گئی۔۔۔ آنکھوں میں آنسو۔۔۔ کچھ دیر بعد بولا۔۔۔ “اماں بہت خیال رکھتی تھی ہمارا۔۔۔ جب بھی روٹی دینے گھر جاتا تھا تو جوس یا پانی ضرور دیتی تھی کہ دھوپ میں آئے ہو پیاس لگی ہوگی۔۔۔ بیوی بچوں کے بارے میں پوچھتی تھی۔۔۔ کھانے کو بھی سالن دیتی تھی” ۔۔۔ یہی حال دھوبی کا تھا۔۔۔

ابو کے ساتھ ان کا تعلق محبت  و عقیدت سے بھرپور لیکن  سردی گرمی کا  تھا۔۔۔ کبھی  ابو سےخفگی ہو بھی تو   ابو کی صحت، ان کے کھانے، کپڑوں اور جوتوں کا ایسا خیال کرتی کہ ہم حیران ہوتے۔۔۔ ہم اکثر مذاق میں امی سے کہتے کہ امی آپ کے لاڈ پیار نے ابو کو بگاڑ رکھا ہے۔۔۔  ابو  پیار سے امی کو “مائی” کہتے تھے۔۔۔  امی کو ان کا “دِلو ” یا “مائی ” کہنا بہت پسند تھا۔۔۔   امی کے بعد تو ابو اور خاموش ہو گئے ہیں۔۔۔ اور ان کی یہی خاموشی ہمیں کاٹتی ہے۔۔۔

ہم اولاد کی زندگی بنانے سنوارنے میں امی کی انتھک محنت تھی۔۔۔ جو وہ آخری سانس تک کرتی رہی۔۔۔ ہمیں اچھی بری چیز کی تمیز۔۔۔ ہمارے فیصلوں اور ارادوں میں ہماری ہمت افزائی۔۔۔  ہماری غلطیوں پر ہماری سرزنش اور مشورے۔۔۔ اب کون کرے گا۔۔۔

میں امی کا لاڈلا بیٹا۔۔۔ میری علیزہ امی کی سب سے پیاری بیٹی۔۔۔ ہم دونوں نے ماں ہی نا کھوئی۔۔۔ اپنی واحد رازداں۔۔۔ سچی محبت۔۔۔۔  اپنا حقیقی عشق۔۔۔ سب سے اچھی دوست بھی کھو دی۔۔۔

 ضمیر ہر وقت لعن طعن کرتا ہے کہ میں ان کے لیے کچھ نا کر پایا۔۔۔ انہیں بہت ستایا۔۔۔ ان سے بہت جھگڑا۔۔۔   لیکن ان کو منانا تو بہت آسان تھا۔۔۔ منا لیتا تھا ہر بار۔۔۔ معافی مانگ لیتا تھا ان سے۔۔۔  سب بتاتے ہیں کہ امی کو مجھ سے کوئی گلہ نہیں تھا۔۔۔ معلوم نہیں میری دل جوئی کے لیے کہتے ہیں یا واقعی امی مجھ سے خوش تھی۔۔۔  ہاں۔۔۔ سٹروک سے کچھ دن پہلے تو انہوں نے مجھے  کہا تھا کہ “اب مجھے کسی سے بھی بھی کوئی گلہ شکوہ نہیں رہا۔۔۔ اب میں سکون میں ہوں۔۔۔ “

میں رونا چاہتا ہوں۔۔۔ بہت رونا چاہتا ہوں۔۔۔ امی کی قبر پر جا کر ان کے ساتھ لیٹنا چاہتا ہوں۔۔۔ ان کے بازو پر سر رکھ کر سونا چاہتا ہوں۔۔۔  میں ان کے ہاتھ اپنے سر پر محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں ان کو خود سے دور بھیجنا نہیں چاہتا۔۔۔ ان کو اپنے سینے سے لگا کر کبھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔۔۔  میں اپنی بچیوں کے لیے ان کا مجھ کو ڈانٹتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

امی۔۔۔ آپ اپنے اس کمزور  حوصلے والے بیٹے کو کس آسرے پر چھوڑ گئی۔۔۔ سب جتنا بھی چاہ لیں۔۔۔ لیکن مجھے تو آپ کی محبت کی عادت ہے۔۔۔ آپ جیسی محبت مجھ سے کون کرے گا۔۔۔  میری ہر ناکامی پر میرا ہاتھ کون تھامے گا۔۔۔ کون میری ہر خوشی پر مجھ سے زیادہ خوش ہو گا۔۔۔

امی۔۔۔ میں  نے آپ کو بہت ستایا۔۔۔ آپ کے لیے کچھ نہیں کر پایا۔۔۔ میں خود کو کیسے معاف کروں گا۔۔۔ میں کبھی سکون کیسے پاوں گا۔۔۔

آپ کیا گئی۔۔۔ زندگی کی سب رونقیں ساتھ لے گئی۔۔۔

اللہ میری ماں کی مغفرت فرمائے۔۔۔ ان پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرمائے۔۔۔ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ ان کی قبر کو جنت کا حصہ بنا دے۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ میری ماں کا خیال رکھنا۔۔۔

 

Tags : , ,

ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے

ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے۔۔۔

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے۔۔۔ یہ عبرت کی جاہ ہے تماشہ نہیں ہے۔۔۔

دنیا میں تم آئے ہو تو جینا ہی پڑے گا۔۔۔

یا رب۔۔۔

میں تیری اس دنیا سے گھبرا گیا ہوں۔۔۔ کیوں مجھے اس دنیا سے کچھ بھی نہیں بھاتا۔۔۔ میں اکتا گیا ہوں میرے مالک۔۔۔ زندہ لاش کی طرح۔۔۔ ایسی مشکل دنیا۔۔۔ کیوں یا رب۔۔۔ یہ دنیا اتنی مشکل کیوں بنائی۔۔۔

اے میرے مولا۔۔۔ میرا جینا محال ہوچکا ہے۔۔۔ اتنی بےحسی کے دور میں بےحس بن کر رہنا میرے لیے بہت مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یا ربِ تعالیٰ کچھ آسانیاں پیدا فرما۔۔۔ یوں تو تُو آہستہ آہستہ ہر اچھی شے اس دنیا سے اُٹھاتا جا رہا ہے۔۔۔ ہر وہ شے جو مجھے بھاتی تھی۔۔۔ میری نظر سے اوجھل ہوچکی ہے۔۔۔ کیا میری روح کی بینائی بھی تُو نے واپس چھین لی۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ یہ کیسی سزا تو دے رہا ہے مجھے۔۔۔ نا دنیا عزیز نا آخرت کی فکر۔۔۔ نا زندگی میں لطف۔۔۔ نا موت کے آرام کی فکر۔۔۔ یہ کیسی سزا ہے میرے مالک۔۔۔

میں نے تو خبریں پڑھنا بھی بند کر دیا ہے۔۔۔ جس میں بچوں کی تذلیل اور ان کے ساتھ تشدد کی اخبار ہوتی ہیں۔۔۔ میں تو وہ ویڈیو بھی نہیں دیکھتا جس میں معصوم لوگوں کے اجتماعی قتل کی عکس بندی ہوتی ہے۔۔۔ میں توان بوڑھوں کے احوال بھی نہیں سنتا جن کی سننے والا اب کوئی نہیں۔۔۔ سوائے تیرے میرے مولا۔۔۔ سوائے تیرے۔۔۔ پھر کیوں۔۔۔!!!

یہ کیا دنیا ہے میرے مالک۔۔۔ جن کو تو نے اس دنیا میں بھیجا۔۔۔ ان کو واپس تیری طرف بھیجنے والے کیوں پیدا کیے۔۔۔ کیوں ان کے دل پتھر کے بنائے۔۔۔ کیوں ان کے دل میں رحم نا ڈالا۔۔۔

اے میرے اللہ۔۔۔ دین کے نام پر تشددوقتل کی اجازت تو نے کب دی۔۔۔ میں تو سمجھتا تھا کہ تو نے دین کو امن بنایا سب کے لیے۔۔۔ لیکن یہاں تو اس دین اور تیرے نام پر تیرے بندے متشدد اور قاتل بنے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ کیسی دنیا ہے مالک۔۔۔!!! یہ کیسے لوگ ہیں مالک۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ مجھے نہیں رہنا ایسی دنیا میں۔۔۔ جہاں مجھ جیسے کو بھی اپنی سانسں کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ جہاں میں ہر سو استحصال دیکھتا ہوں۔۔۔ جہاں محبت کے نام دھوکہ دہی ہے۔۔۔ جہاں صرف نفسا نفسی ہے۔۔۔ پیسہ خدا ہے تو تُو کون ہے میرے رب۔۔۔ تو نے کیسے اجازت دے دی ہمیں پیسے کو پوجنے کی۔۔۔ پیسے کے نام پر رشتے خراب کرنے کی۔۔۔ کیوں اجازت دی تو نے۔۔۔!!! جواب دے مالک۔۔۔!!! کیا یہی دنیا تھی جو تو نے اشرف المخلوقات کے لیے چنی تھی۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ تو پھر دنیا کو ایسا بننے کیوں دیا۔۔۔!!! کب تک تو طرح طرح سے ہمارا امتحان لیتا رہے گا۔۔۔!!! ہم ہار گئے مولا۔۔۔ ہم تجھ سے ہار گئے۔۔۔ بس کر۔۔۔ بس کردے۔۔۔ ہم تیرے امتحان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔۔۔

میں تھک گیا ہوں یہ سب دیکھتے دیکھتے یا رب۔۔۔ میرا دل ہر لمحہ کٹتا ہے۔۔۔ ہر لمحہ خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔ کسی اور کے لیے نہیں۔۔۔ خود کے لیے۔۔۔ خود کی حالت پر۔۔۔

یہ دنیا ہم سے واپس لے لے مولا۔۔۔ ہم اس کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔۔۔

Tags : ,

ارھاء

5  اپریل کو  علیزہ اور عنایہ کی بہن ارھاءعمران  اس دنیا میں آئی۔۔۔ علیزہ اور عنایہ کی دوسری بہن۔۔۔ اور میری تیسری بیٹی۔۔۔

سچ بات تو یہ ہے کہ ہر عام انسان کی طرح اس مرتبہ  بھی میں نے بیٹے کے لیے بہت دعائیں کی۔۔۔ لیکن۔۔۔ ایک دعا یہ بھی کی کہ” یا اللہ مجھے اپنی رضا میں راضی رکھ۔۔۔”

اور اللہ نے میری “رضا میں راضی رکھنے” والی دعا قبول فرمائی۔۔۔ جیسے ہی ہسپتال میں مجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے اس بار بھی اپنی رحمت عطا فرمائی ہے۔۔۔ تو میں راضی ہو گیا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔ اپنے اللہ کی رضا میں۔۔۔  صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔ دل مطمئن ہو گیا۔۔۔ اضطراب ختم ہو گیا۔۔۔  بس پہلا خیال یہ آیا کہ چلو کسی بھی طرح تو اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت پر عمل ہوا۔۔۔  الحمدللہ۔۔۔

اگلا مرحلہ قدرے مشکل تھا۔۔۔ لوگوں کا سامنا ۔۔۔ دراصل لوگوں کا نہیں۔۔۔ ان کی ہمدردی کا سامنا۔۔۔   میرے دل میں شاید چور تھا یا اس بار میں میں لوگوں کے لہجوں بارے زیادہ حساس ہو گیا تھا۔۔۔ معلوم نہیں۔۔۔ لیکن ہمدردی کا سامنا ایک بار نہیں۔۔۔ کئی بار کرنا پڑا۔۔۔  کئی بار خود پر رحم کرنے کی بجائے ہمدردی کرنے والوں پر رحم آیا۔۔۔ ان کی سوچ پر رحم آیا۔۔۔

والدین اور بہن بھائی کی جانب سے تو الحمدللہ کوئی مشکل نہیں آئی۔۔۔ بلکہ میرے والدین نے تو پہلے سے بھی زیادہ خوشی منائی۔۔۔  اور ویسے بھی امی ابو بیٹیوں کی بیٹوں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں۔۔۔

ایک حضرت جو رشتے دار بھی ہیں۔۔۔ پڑھے لکھے  اور  پابندہ صوم و الصلوۃ بھی ہیں۔۔۔ ان کا فون آیا۔۔۔ اب تک یہ نہیں سمجھ آیا۔۔۔ کہ انہوں نے مبار ک دی یا افسوس کیا۔۔۔  گفتگو کا آغاز انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بتاتے کیا۔۔۔ کہ ان کی پہلے چار یا پانچ بہنیں تھیں۔۔۔ پھر یہ دو بھائی پیدا ہوئے۔۔۔  تو میں “ہمت نا ہاروں ” وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بیٹیاں بہت اچھی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بلکہ ان کا لہجہ واقعی سرد اور افسوس کرنے جیسا تھا۔۔۔   عمر اور رشتے میں مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔ اس لیے احترام ملحوظ خاطر رکھنا پڑا۔۔۔ خاموشی سے ان سے اپنے اور اپنی بیٹیوں کے اچھے نصیب کے لیے دعا کی درخواست کی۔۔۔

اور اسی طرح  کچھ اور حضرات بھی۔۔۔  مجھے ان سے ہمدردی ہوتی ہے۔۔۔ جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔۔۔ بیٹی کیسا رشتہ ہے۔۔۔ !!! کیا لوگ نہیں جانتے۔۔۔؟ کیا ان کی دی ہوئی محبت لوگوں کے دل نرم نہیں کرتی۔۔۔۔

جناب۔۔۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔۔۔ میرا بھائی  اپنی شادی کے چند ماہ بعد ہی بوجہ نوکری  والدین سے الگ  ہو گیا۔۔۔ میں بھی شادی کے سات سال بعد کچھ مسائل کی وجہ سے الگ ہو گیا۔۔۔ میرا ضمیر مجھے شدید لعن طعن و ملامت کرتا ہے کہ میں کسی طرح بھی اپنے والدین کی خدمت کا حق نہیں ادا کر پا رہا۔۔۔  میں اور میرا بھائی۔۔۔ “بیٹے ہیں”۔۔۔ لیکن میرے والدین کسی بھی طرح ہم سے مطمئن نہیں۔۔۔ جبکہ میری بہنیں۔۔۔ ہم وقت، ہر دم والدین کا خیال رکھتی ہیں۔۔۔ والدہ کی طبیعت خراب ہوئی تو بڑی بہن ہسپتال لے گئی۔۔۔ چھوٹی کتنے کتنے  دن امی کے ساتھ ہسپتال رہی۔۔۔ لیکن میں اور میرا بھائی۔۔۔ اپنی نوکریوں اور روزانہ کے طویل سفر کی وجہ سے چند ہی لمحات ہسپتال میں گزار پاتے۔۔۔ہفتے میں ایک بار ان سے ملنے جاتے ہیں۔۔۔

اس ساری رام کہانی کا مقصد یہ۔۔۔ کہ خدمت بیٹیاں ہی کرتی ہیں۔۔۔ خدمت گزار بیٹے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن جو سکون بیٹی انسان کو پہنچاتی ہے۔۔۔ وہ  شاید بیٹوں کےنصیب میں نہیں۔۔۔  رحمت بے شک اللہ نے بیٹیوں میں ہی رکھی ہے۔۔۔ پیار کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ کرتی ہیں۔۔۔ لاڈ اٹھواتی ہیں۔۔۔ آپ کے درد میں سب سے زیادہ تکلیف آپ کی بیٹی کو ہوتی ہے۔۔۔

جنابِ عالی۔۔۔ میں ٹھرا ایک جاہل انسان۔۔۔ کمزور ایمان اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نا رکھنے والا شخص۔۔۔ جب  سارے دن کے بعد تھکا ہارا گھر آتا ہوں۔۔۔ تو میری بیٹیاں بھاگتی میری طرف لپکتی ہیں۔۔۔  مجھے گلے لگا کر چومتی ہیں۔۔۔  میں بیمار ہوں تو میری پاس بیٹھی مجھے دباتی ہیں۔۔۔ دوا لینا یاد کراتی ہیں۔۔۔  تو میرا جیسا سخت دل انسان بھی پسیج جاتا ہے۔۔۔ تو کیوں نا پیار کروں انہیں۔۔۔ کیوں نا شکر ادا کروں اللہ کی ذات کا کہ اس نے اتنے حسین تحفے دیے۔۔۔

بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہیں۔۔۔ ان کی قدر کریں۔۔۔ انہیں پڑھائیں لکھائیں۔۔۔ اچھی تربیت کریں۔۔۔ اور اللہ سے یہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان کی اچھی تربیت کر سکیں۔۔۔  اور جنت کے حقدار بنیں۔۔۔ یاد نہیں  رسول اللہﷺ کی حدیثِ مبارکہ۔۔۔  کہ جس کی تین بیٹیاں یا تین  بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے لیے جنت ہے۔۔۔

الحمدللہ۔۔۔

Tags : , , , , , ,

جنت میں ایلسا اور اینا۔۔۔؟

میں:  بیٹے۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے بھیجا تاکہ وہ ہمیں اچھی باتیں بتا سکیں۔۔۔ ہمیں اچھے کام سکھا سکیں۔۔۔ مثلا جھوٹ نہیں بولنا۔۔۔ ہمیشہ سچ بولنا ہے۔۔۔ ہمیشہ صاف ستھرا رہنا ہے۔۔۔ ماما کے کاموں میں مدد کرنی ہے۔۔۔ عنایہ کا خیال رکھنا ہے۔۔۔ یو نو۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ اس دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔۔۔ وہ ہم سے بہت محبت کرتے تھے۔۔۔ اور اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے، وہ ہی آپ کی ہر دعا اور ریکوئسٹ بھی پوری کرتا ہے تو ہمیں ہر وقت صرف اللہ سے مانگنا چاہیے۔۔۔ اور اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔۔ 

علیزہ:  بابا۔۔۔ ہم اچھے کام کریں گے تو کیا ہوگا۔۔۔؟

میں: بیٹا۔۔۔ جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی بتائے ہوئے سارے اچھے کام کریں گے تو اللہ خوش ہوگا۔۔۔ آپ کو شاباشی دے گا۔۔۔

علیزہ:  تو بابا۔۔۔ اللہ میاں پھر ہمیں فائر میں نہیں ڈالے گا؟

میں:  نہیں بیٹا۔۔۔ پھر اللہ میاں ہمیں ایک گارڈن دے گا۔۔۔ جس میں ہمارا اپنا گھر ہو گا۔۔۔ بہت گرینری ہوگی۔۔۔ جھولے ہوں گے۔۔۔ بہت سے برڈز ہوں گے۔۔۔ اور جو آپ جو چاہو گی وہ ملے گا۔۔۔

علیزہ:  بابا۔۔۔ وہ کونسا گارڈن ہے۔۔۔؟

میں:  بیٹا اس گارڈن کا نام جنت ہے۔۔۔

علیزہ (میری بات کاٹتے ہوئے):  بابا۔۔۔ اس گارڈن میں فروزن کی ایلسا اور اینا بھی ہوں گی۔۔۔؟ صوفیہ اور ڈوری مون بھی ہوں گے؟ ہمین وہاں گلیکسی چاکلیٹ ملے گی؟ میرا بہت دل  چاہتا ہے کہ میں بہت سی چاکلیٹ کھاوں لیکن ماما نہیں کھانے دیتی تو جنت گارڈن میں، میں جتنی چاہے چاکلیٹ کھا سکتی ہوں؟ اور کیا میں جنت گارڈن میں  ایلسا والا ڈریس پہن سکتی ہوں؟ اور ہاں میں ایلسا والے ڈریس کے نیچے شوز بھی ایلسا والے پہنوں گی۔۔۔ اور کراون بھی لگاوں گی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔!!!

میں: جی بیٹا۔۔۔ آپ کو جو بھی چیز پسند ہے، وہ اللہ میاں آپ کو اس جنت گارڈن میں دیں گے۔۔۔

اس سارے مکالمے کے بعد ناجانے کیوں میرا دل ڈوب سا گیا۔۔۔

Tags : , , , ,

فیصلے

زندگی کے کچھ ایسے فیصلے ہوتے ہیں، جو آپ کو ہر ہر لمحے تکلیف پہنچاتے ہیں۔۔۔ جن سے واپسی کا یوٹرن بھی ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ اور جن کے زخم اپنے سائے ساتھ رکھنے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ جن سے رہائی ممکن بھی نہیں ہوتی۔۔۔ اور جن کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ان بارے سوچ کر آہ بھی بھری جاتی ہے۔۔۔ اور ان کے بارے سوچنے سے گریز بھی کیا جاتا ہے۔۔۔

یہ وہ تکلیف ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ آپ کو اذیت پسند بنا دیتی ہے۔۔۔ آپ اس سے چھٹکارا بھی پانا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کی شدت بغیر آپ کو نیند بھی نہیں آتی۔۔۔

اکثر یہ فیصلے آپ کے اپنے نہیں ہوتے۔۔۔ بلکہ آپ کے لیے، لیے گئے ہوتے ہیں۔۔۔ آپ پر مسلط کیے جاتے ہیں۔۔۔ اور آپ خود میں جلتے رہتے ہیں۔۔۔ خود میں گھٹتے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی خاموشی کی زبان میں چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا سکوت بھرا شور کوئی نہیں سن سکتا۔۔۔ آپ کے فیصلے کی طرح یہ خاموشی بھی آپ کی دشمن ہوتی ہے۔۔۔

فیصلوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے بھاگا نہیں جا سکتا۔۔۔ مجبورا انہیں اپنا ہی پڑتا ہے عمر بھرکے لیے۔۔۔ اپنے سینے کے ساتھ لگا کر ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کبھی سوچیں، اپنے کسی ایسے فیصلے کے بارے میں۔۔۔ ایسے فیصلے کے بارے میں، جن کی وجہ سے آپ اپنی زندگی میں “پچھتاوے” جیسے بوجھ بھی خود پر لادے چل رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ کا کوئی ایسا فیصلہ ہے۔۔۔ تو آپ کو میری باتیں سمجھ آ ہی جائیں گی۔۔۔

اللہ آپ کو غلط فیصلے کے دکھ سے بچائے۔۔۔ آمین۔۔۔

Tags : ,

ناشکرا

دوست۔۔۔ اور دوست بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم ہی کسی کے ساتھ بنا کر نہیں رکھ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ دوست ہیں کہاں۔۔۔ جو تھے وہ دور چلے گئے اپنی اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور جو ہیں۔۔۔ وہ دوست بنتے ہی نہیں۔۔۔

زندگی۔۔۔ اور زندگی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں۔۔۔ کہ تم نے اپنی زندگی خود اجیرن بنا رکھی ہے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ زندگی ہے کہاں۔۔۔ جو تھی وہ چلی گئی کچھ میری غلطیوں اور کچھ اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور اب جو ہے۔۔۔ وہ زندگی نہیں۔۔۔

رشتے۔۔۔ اور رشتے بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تمہیں ہی رشتے نبھانے نہیں آتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ رشتے ہیں کہاں۔۔۔ جو ہیں۔۔۔ وہ نبھانے مشکل ہیں۔۔۔ اور جو نہیں ہیں۔۔۔  وہ رشتے ہی تو نہیں ہیں۔۔۔

خوشی۔۔۔ اور خوشی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ خوشی ہے کہاں۔۔۔ جو محسوس نا ہو سکے۔۔۔ جو بانٹی نا جا سکے۔۔۔ جس کا جشن نا منایا جا سکے۔۔۔ جس میں کھلکھلا کر ہنسا نا جا سکے۔۔۔ اور جو ہے۔۔۔ وہ خوشی تو ہرگز نہیں۔۔۔

غم۔۔۔ اور غم بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہے کہ کیا ہر دم غمگین بیٹھے رہتے ہو۔۔۔ درست کہتی ہے۔۔۔ کہ غم فطرت میں شامل ہو چکا ہے۔۔۔ بغیر کسی وجہ یا ایسی کئی وجوہات کے کہ جن کے بارے میں کہنا تو کجا لکھنا بھی دشوار ہے۔۔۔۔ غم، اداسی اور سنجیدگی۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ چیخیں مار کر رو بھی نا سکو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ گریباں چاک نا کرو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ اپنے سینے میں سمیٹےسمیٹے آخری سانس کا انتظار کرو۔۔۔

غم۔۔۔ اداسی۔۔۔ سنجیدگی۔۔۔

بنا کسی دوست، زندگی، رشتے اور خوشی کے۔۔۔ انسان ایک “غم” ہی تو ہے۔۔۔ میں بھی “غم” ہوں۔۔۔ اور اپنے ساتھ سب کو غمگین بنا رہا ہوں۔۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔۔ بنا کسی مقصد کے۔۔۔

ناشکرا ہی تو ہوں۔۔۔ کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی احساس اور شکر کی نعمت سے تہی دامن ہوں۔۔۔

Tags : , , , , , ,

لکهو

کبھی اگر کچھ کہنے کادل چاہے تو لکھ لینا کہ لکھنا دل میں رکھنے سے بہتر ہے۔۔۔

ضروری نہیں کہ ہمیں سننے والا بھی کوئی موجود ہو۔۔۔ اور کوئی ہو بھی تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کی سن کر سمجھ بھی سکے۔۔۔!!! اس لیے بہتر ہے کہ لکھ لیا جائے۔۔۔ دل کا بوجھ اتر جائے گا اور ایک ہم راز بھی مل جائے گا۔۔۔

ہمراز۔۔۔ جو ہم سب کی ضرورت ہے۔۔۔ مجبوری بھی ہے اور طاقت بھی۔۔۔

اگر لکھ لیا تو چھپا دو کہ جو لکھ سکتے ہو وہ کسی دوسرے کے سامنے بول نہیں سکتے۔۔۔

جو راز صفحہ چھپا سکتا ہے، انسان نہیں چھپا سکتا۔۔۔

اور جو راز صفحے میں سما سکتا ہے۔۔۔ وہ دل میں نہیں سما سکتا۔۔۔

ہزاردوں دکھ لکھ لو۔۔۔ ہزاروں سکھ لکھو لو کہ تاریخ بن جائے۔۔۔ تاریخ محفوظ ہو جائے۔۔۔

جو کل بھول جاو، وہ آج لکھ لو ۔۔۔ تاکہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خوش فہمی تو پنپ سکے کہ کوئی ہمراز ہے جو تمہارے ہزاروں قصوں کو محفوظ رکھے چُھپا بیٹھا ہے۔۔۔

اپنی محبتیں لکھ دو۔۔۔ اپنی نفرتیں لکھ لو۔۔۔

اپنے تجربے لکھ دو۔۔۔ اپنی ناکامیاں لکھ دو۔۔۔

اور اگر سمجھو تو مرنے سے پہلے اپنی تحاریر کسی کو سونپ جانا۔۔۔ کہ دنیا محسوس صرف دوری کے بعد کرتی ہے۔۔۔  قدر صرف جدائی اور محرومی کے بعد کرتی ہے۔۔۔

سونپ دینا اپنا اثاثہ۔۔۔

نفرتوں میں گهرا شخص

اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔ یہ خواہش کہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ اپنے لیے۔۔۔ دوسروں کے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے۔۔۔

محبت اتنا مشکل کام نہیں۔۔۔ جتنا سب نے بنا لیا ہے۔۔۔

مجھ سے نا سہی۔۔۔ میری خاطر ہی سہی۔۔۔ ایک دوجے سے محبت کر لو۔۔۔ میری خاطر بھی نا سہی۔۔۔ تو اللہ واسطے ہی اپنی بدگمانیاں، تلخیاں اور نفرتیں مٹا دو۔۔۔

کیا لے جائیں گے اس دنیا سے۔۔۔ نفرت۔۔۔!!! تلخیاں۔۔۔!!! بدگمانی۔۔۔!!!

نفرت کرو گے تو نفرت پاو گے۔۔۔

محبت کا بدلہ محبت اور عزت کے بدلے عزت پاو گے۔۔۔

گر بانٹ سکتے ہو تو محبت بانٹو۔۔۔ نفرت کسی کام نا آئے گی۔۔۔

محبت دعا کی صورت حساب آسان کر دے گی۔۔۔ اور نفرت دنیا کو بھی عذاب بنا دے گی۔۔۔

ایک دوسرے کو معاف کر دو۔۔۔ دل سے۔۔۔ معاف کر کے۔۔۔ معافیاں مانگ کر۔۔۔ خود کو صاف کر لو۔۔۔ دل کے داغ مٹا دو۔۔۔ اپنے لیے نا سہی۔۔۔ تو میرے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے ہی سہی۔۔۔

میں اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔

Tags : , , , ,

گفتگو

میں:       حاضر ہوں جی۔

بابا:          تجھے سکون نہیں۔۔۔!!!

میں:       سکون ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا۔۔۔

بابا:         سچ بتا، کیا چاہیے تجھے۔۔۔؟

میں:       سکون۔۔۔

بابا:         کیسا سکون چاہتا ہے۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         تو پھر میں تیری مدد کیسے کروں؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         سب کچھ تو ہے تیرے پاس۔۔۔ پھر کیا بے چینی ہے تیری۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         جا۔۔۔ تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔

میں:       کیوں۔۔۔؟ میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے بس میں بہت کچھ ہے۔۔۔

بابا:         تجھے کس نے کہا۔۔۔؟

میں:        پڑھا تھا،  کہ آپ چاہو تو  جنت۔۔۔ آپ چاہو تو جہنم۔۔۔

بابا:         پڑھ تو لیا۔۔۔ اب یقین بھی کر۔۔۔

میں:       میری مدد تو کرو۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ مجھے بے چینی کیا ہے۔۔۔

بابا:         سن ، تو اپنے آپ سے خوش نہیں ہے۔۔۔  تیرے پاس سب کچھ ہے لیکن تو اس  سے بھی خوش نہیں ہے۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔۔۔

میں:       وہ کیا۔۔۔؟

بابا:         کہ تیرا کوئی اپنا تیرے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ جا اسے خوش کر۔۔۔

میں:       یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری خوشی سے کسی کا کیا تعلق۔۔۔؟

بابا:         یہ ہوئی نا بات۔۔۔ جب تیری خوشی صرف “میری خوشی “سے نکل کر “سب کی خوشی” بن جائے گی تو مل جائے گا سکون۔۔۔

میں:       ایسا کرنے کا حل تو بتائیے۔۔۔

بابا:         حل بڑا آسان ہے۔۔۔ اب سے تو جو اپنے لیے کرتا ہے، جو اپنے لیے سوچتا ہے، وہ سب کے لیے کرنا اور سوچنا شروع کر دے۔۔۔ تو خود کو اچھا سمجھتا ہے تو دوسروں کو بھی اچھا سمجھنا شروع کر دے۔۔۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتا ہے تو دوسروں کی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دے۔۔۔  تو چاہتا ہے نا کہ تیرا رب تجھے معاف کر دے۔۔۔ تو ، تُو بھی سب کو معاف کر دے۔۔۔

میں:       یار، یہ کرنا اتنا آسان ہر گز نہیں۔۔۔ کیسے کر دوں سب کو معاف۔۔۔

بابا:         ویسے ہی، جیسے اللہ نے تجھے طاقت  اور ہمت دی ہے معاف کرنے کی۔۔۔

میں:       اچھا۔۔۔تو پھر کیا سکون مل جائے گا۔۔۔؟

بابا:       گرنٹیڈ۔۔۔ پکا۔۔۔ آزما کر دیکھ لے۔۔۔

بابے کی باتیں سمجھ کر گاڑی کا دروزہ کھولا، بیک سیٹ سے اپنا بیگ نکالا اور ایک گھنٹے کے “تنہا سفر” کے بعد گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

Tags : ,

اللہ کی نعمت ۔۔۔ میری بیٹیاں

یہ سال 2010 کے اوائل کی بات ہے۔۔۔ میرے ایک عزیز دوست نے مجھے دعا دی کہ اللہ تجھے بیٹی عطا فرمائے۔۔۔  میں نے مصنوعی   مسکراہٹ کے ساتھ اس دوست کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ لیکن دل میں ایک بے چینی ہو گئی۔۔۔  کہ “بیٹی۔۔۔!!!”

کون سنبھالے گا اسے۔۔۔  میرا بازو کیسے بنے گی۔۔۔ اور اسی طرح کی کئی خرافات۔۔۔

موڈ سخت خراب ہو گیا۔۔۔  “یار دعا ہی دینی تھی تو بیٹے کی دیتے۔۔۔”

اسی طرح  جلتے کڑھتے سو گیا۔۔۔ رات کے گیارہ ، ساڑھے گیارہ کے قریب آنکھ کھلی۔۔۔  تو پہلا خیال یہ آیا۔۔۔ کہ ۔۔۔” بےشرم انسان۔۔۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔۔۔ ان کی چار بیٹیاں ۔۔۔ اور ان بیٹیوں کے لیے بھی رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا بے انتہا پیار۔۔۔ اور تو ہے کہ بیٹی کی خواہش نہیں رکھتا۔۔۔ افسوس ہے تیری ذات پر۔۔۔۔”

صبح اٹھا۔۔۔ تو دل میں یہ خواہش بیٹھ چکی تھی کہ اب اللہ بیٹی ہی دے۔۔۔ دعا ئیں بھی بیٹی کے لیے شروع کر دیں۔۔۔

11 جون 2010 کو اللہ تبارک تعالیٰ نے مجھے بیٹی کے روپ میں ایک انتہائی خوبصورت تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔

پہلی دفعہ علیزہ کو اپنی  گود میں اٹھایا اور اس کے کانوں میں آذان پڑھی۔۔۔  اور پھر یوں ہوا کہ گود میں اٹھائے علیزہ کو دیکھتا رہتا۔۔۔  یہ سوچتا کہ واللہ اعلم کوئی نیک کام کبھی کیا ہوگا کہ جس کا صلہ اللہ نے مجھے میری بیٹی کے روپ میں دیا ہے۔۔۔

11 جون 2010 کو  میری ہمیشرہ کے ہاں بھی بیٹی نے جنم لیا۔۔۔  جس کا نام “بیان” رکھا گیا۔۔۔  اور اللہ نے مجھے ایک ساتھ دو بیٹیوں سے نوازا۔۔۔  

آج علیزہ اور بیان ماشاءاللہ  تین سال کی ہو گئی ہیں۔۔۔ بیان علیزہ کے لیے اُستاد ہے۔۔۔ اس کو ایسے سنبھالتی ہے جیسے علیزہ اس سے بہت چھوٹی ہو۔۔۔ باہر جاتے ہوئے علیزہ کو جوتے پہنانا، اس کے کپڑے تیار کروانا۔۔۔  اس کو “میک اپ” کرنا۔۔۔ اور اس کے لیے میں سب سے اچھا ماموں۔۔۔ :biggrin:

   ان تین سالوں میں، میں نے اپنی بیٹی میں دوست  اور کسی حد تک ماں کا بھی روپ دیکھ لیا۔۔۔  آفس سے گھر پہنچتا ہوں تو بھاگتی ہوئی میری طرف لپکتی ہے اور لپٹ جاتی ہے۔۔۔  “بابا پانی لاوں۔۔۔؟”  پھر اونچی آواز میں ماں کو کہنا۔۔۔ “بابا کھانا دو۔۔۔  :cheerful:

اکثر رات کو سوتے سوتے میرے سینے پر چڑھ جانا اور نیند میں بھی میرے گالوں کو بوسے دے دینا۔۔۔۔  کبھی میرے بازو پر سر رکھ کہنا۔۔۔ “بابا کہانی سناو”۔۔۔ ایک دن جو کہانی مجھ سے سننی ۔۔۔ اگلے دن اپنی دادی  کی گود میں بیٹھ کر انہیں اپنی توتلی زبان میں سنانا۔۔۔  :sleeping:

دادا ، دادی، چاچو، پھپھو کی لاڈلی۔۔۔ جس کے لاڈ اٹھاتے کوئی نہیں تھکتا۔۔۔ جس کی ایک فرمائش پر سب واری جاتےہیں۔۔۔۔  کبھی کہوں کہ بیٹا سر میں درد ہو رہی ہے۔۔۔ تو سر پر اپنے ننھے منے ہاتھ رکھ کر ہاتھوں کی بجائے خود ایسے ہلنا جیسے سر دبا رہی ہے۔۔۔ پھر اپنی ماں سے کہنا کہ بابا کو  “ہائی” (درد) ہو رہا ہے انہیں “دآئی”  (دوائی) دو۔۔۔

اب کچھ دن سے امی نے علیزہ کو ایک نئی دعا یاد کروائی ہے۔۔۔ جو وہ اپنی توتلی زبان میں یوں کہتی ہے۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔” (اللہ میاں، علیزہ کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔  :cheerful:   :cheerful:   :cheerful: ) 

حرم مکہ، میں طواف کے دوران میرے کاندھوں پر بیٹھی ۔۔۔ بار بار یہی دعا دوہراتی رہی۔۔۔ شاید اس کو کسی نے بتا دیا کہ اللہ میاں کے گھر میں دعا مانگو۔۔۔ تو اب جب کبھی گزرتے گزرتے کوئی مسجد نظر آ جائے تو بے اختیار۔۔۔ “انا میاں، ایجا کو بھائی دو۔۔۔ آمین۔۔۔”

مدینہ منورہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔۔۔ ماں ساتھ نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔ اس کی نقل اتارتے ہوئے، سجدے میں گر کر بولی۔۔۔ “اللہ بَت۔۔۔ ایتھے رکھ۔۔۔ :shocked:   ” 

میں اسے کلمہ طیبہ سکھا رہا ۔۔۔۔ جو میں کہتا وہ دوہراتی رہی۔۔۔ پھر میں کہا کہ چلو اب آپ سناو۔۔۔ تو ایسے شروع ہوئی۔۔۔” رِنگا رِنگا روزز۔۔۔ پاپا گیندا اوزز۔۔۔ ڈی شو۔۔۔ ڈی شو۔۔۔  :kissing: “

کوئی بھی فرمائش ہو، علیزہ صرف مجھ سے کرتی ہے۔۔۔ شاید اس یہ مان ہے کہ اس کی خواہش صرف اس کا باپ ہی پوری کر سکتا ہے۔۔۔ کسی سے کبھی کچھ نہیں مانگتی۔۔۔ ہاں میرے ساتھ کہیں باہر چلی جائے تو بس فرمائشیں اور شاپنگ ہی شاپنگ۔۔۔  اور جو کھلونے وغیرہ لیے وہ پیسوں کی ادائیگی تک اپنے ہاتھ میں رکھنا۔۔۔ کہ باپ کہیں واپس نا رکھ دے۔۔۔  اور پھر ادائیگی کے وقت بھی نظریں مستقل  کھلونوں پر جمے رکھنا۔۔۔  

واللہ۔۔۔ بیٹیاں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔۔۔ باپ کے لیے سکون ، چاہت اور خوشی کا ذریعہ۔۔۔  اُن  کی پہلی محبت اُن کا باپ ہوتا ہے۔۔۔  اُن کے لیے اُن کے باپ سے اچھا  دنیا میں کوئی اور ہوتا ہی نہیں۔۔۔ 

اللہ میری علیزہ اور سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔  اور انہیں ماں باپ کے لیے ذریعہِ فخر اور مومنات بنائے۔۔۔ آمین۔۔۔

Tags : , ,

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: