طنز و مزاح

میاں صاحب کی ڈائری

shrek

8 جون 2015

آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔ لیکن عوام  بھی میری طرح “چُنی کاکی” ہی نکلی، وہ بھی سبق نہیں سیکھتی۔۔۔

آج حسب ِ معمول صبح سو کر اٹھا، شرٹ اتارنے ہی لگا تھا کہ سوچا، چلو رہنے دو۔۔۔ یہ جسم کسی کو دکھانے لائق تھوڑا ہے۔۔۔ دوڑ تو دور کی بات، میرے لیے تو اب دو قدم چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یاد  آیا کہ اعوان روڈ کی ایک گلی میں بنی نئی نالی کے افتتاح کے لیے مدعو ہوں۔۔۔ عوامی خدمت ہو اور میری تصاویر اخباروں میں شائع نا ہوں، یہ ہو نہیں سکتا۔۔۔  تو بادل ناخواستہ  اپاونٹمنٹ لینے کیمرہ مین کے کوارٹر کی طرف جانا پڑا۔۔۔ سانس تک پھول گئی، پسینے سے شرابور۔۔۔ افف گرمی۔۔۔  کوارٹر تک پہنچا ہی تھا کہ اندر سے عطااللہ عیسی خیلوی کے گانے کی آواز آئی۔۔۔ “جب آئے گا عمران۔۔۔ سب کی شان۔۔۔ بنے گا نیا پاکستان”۔۔۔ یہ سنتے ہیں میرے پسینے مزید چھوٹ گئے۔۔۔ غصے سے حالت پتلی ہو گئی۔۔۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو کیمرہ مین کا بیٹا لال اور سبز شرٹ میں ملبوس باہر نکلا۔۔۔ اس کا گریبان پکڑ کر اس سے اس کے باپ کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت تو گلگت بلتستان چلے گئے ، کسی “ارجنٹ” کام سے۔۔۔

بوجھل قدموں سے واپس پہنچا تو کلثوم اور مریم ناشتے کے میز پر میرا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ میری نظر مریم کے پہلو میں صفدر کو ڈھونڈتی رہی۔۔۔ پھر خود ہی خاموش رہا کہ اب بیٹی کے سامنے کیا گالیاں دوں داماد کو۔۔۔ جب بیٹی راضی تو کیا کرے گا ابا جی۔۔۔

ٹی وی آن کیا تو  80 انچ کے ایل ای ڈی پر مریم اپنے پسندیدہ کارٹون “Shrek” دیکھ رہی تھی۔۔۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ Shrek اچانک سبز سے دودھیا سفید کیسا ہو گیا۔۔۔ اور  کیا فیونا پر چھایا سحر ٹوٹ گیا ۔۔۔ اچانک مریم گویا ہوئی کہ پاپا آپ کی شادی پر تو آپ بہت ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔۔ احساس ہوا کہ کارٹون shrek نہیں۔۔۔ میں خود ہوں۔۔۔ خود میں ہی شرمندہ ہوکر رہ گیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں چھوٹا بھی اپنے ننھے کے ساتھ ناشتہ کرنے پہنچ گیا۔۔۔  جانے کیوں چھوٹے کی اینڈکس انگلی بھی ہمیشہ کھڑی اور ہلتی ہی رہتی ہے۔۔۔  بے چارہ غریب چاہ کر بھی اپنی انگلی کنٹرول میں نہیں رکھ پاتا۔۔۔ خیر،  کلثوم نے ننھے کو بِب باندھی اور نہاری  اس کے آگے رکھ دی۔۔۔ چھوٹا جو کُن اکھیوں سے نہاری کو دیکھ رہا تھا اس نے اچک کر نہاری کا ڈونگا ننھے کے سامنے سے اٹھا لیا اور اپنا منہ شریف پورے کا پورا ڈونگے میں ڈال دیا۔۔۔ افف، کب سلجھیں گے یہ لوگ۔۔۔ پیسہ آ گیا لیکن رہے لوہار کے لوہار۔۔۔ اندر سے ایک آواز آئی کہ میں خود بھی تو لوہار ہوں۔۔۔ اور میں پھر سے خود میں ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا۔۔۔

ابھی ناشتے سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے، سوچا کہ آج کلثوم سے رومانس کیا جائے گا۔۔۔ ویسے بھی نہ کوئی کام ہے کرنے کو اور اگر ہو بھی تو کہاں کچھ کرنے کا جی چاہتا ہے۔۔۔ خیر۔۔۔ بات ہو رہی تھی کلثوم کی۔۔۔ اہ سوری۔۔۔ رومانس کی۔۔۔ تو رومانس سے یاد آیا کہ طاہرہ سید بھی کیا غضب کا گایا کرتی تھی۔۔۔ اوہ سوری۔۔۔ بات ہو رہی تھی رومانس کی۔۔۔ تو کلثوم کے ساتھ کچھ وقت تنہا گزارنا چاہتاتھا ۔۔۔ کچھ اپنی کہنا چاہتا تھا ۔۔۔ کچھ اس کی سننا چاہتا تھا۔۔۔ کلثوم تو رہی سدا کی اللہ لوک۔۔۔ جو کہنا تھا مجھے ہی کہنا تھا۔۔۔ اللہ بھلا کرے مینا ناز کا، جس کے کتابیں پڑھ کر کچھ رومانٹک باتوں کی پرچی بنا لی تھی۔۔۔  جیب میں ہاتھ ڈالا کہ پرچی نکال سکوں اور کلثوم سے بات کر سکوں۔۔۔ تو یاد آیا کہ پرچی تو کل کی پہنی شلوار کی جیب میں تھی۔۔۔ اور شلوار، لانڈری میں۔۔۔  اب کیا کریں۔۔۔ خاموشی پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔۔۔ لمبی خاموشی۔۔۔ نہ اللہ لوک کچھ بولی۔۔۔ اور میرے پاس تو کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔۔۔

اسی اثنا میں عطاالحق قاسمی صاب کا فون آ گیا۔۔۔ وہ جنگ کے دفتر سے بول رہے تھے۔۔۔ ان کی ڈیمانڈ تھی کہ بول جلد از جلد بند کیا جائے۔۔۔ میں نے چھوٹے سے مشورہ کیا۔۔۔ کہ کیا کریں۔۔۔ چھوٹا بولا۔۔۔ بھائی جان، شرط یہ رکھیں کہ جنگ والے سب مل کر کپتان کو گندا کریں۔۔۔ تو ہم بھی بول کو بند کرنے کا سوچیں گے۔۔۔  عطاءالحق قاسمی صاب ٹھرے “شریف” آدمی۔۔۔ ان کو پٹانا کیا مشکل۔۔۔ بس ایک بنک ٹرانسفر۔۔۔ اور پھر ہم جو چاہیں گے قاسمی صاب وہی کریں گے۔۔۔ دیکھا۔۔۔ ہمارے جیسا ہوتا ہے لیڈر۔۔۔ اور ایسا ہوتا ہے ہمارا ویژن۔۔۔

گلگت بلتستان اور منڈی بہاوالدین میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔۔۔ ہمارے آدمی جیت کا  سب بندوبست کر چکے ہیں۔۔۔ بس ہمیں انتظار ہے عرفان صدیقی کا ۔۔۔ کہ کب وہ آئے اور ہماری وکٹری سپیچ لکھے۔۔۔ عجیب ہی خلقت ہیں عرفان صاب بھی۔۔۔ انہوں نے آتے آتے بھی بارہ بجا دیے۔۔۔ اور یہاں انتظا ر کی کوفت سے ہم “ہلکے” ہو جا رہے تھے۔۔۔ یہ بھی کیا بات ہوئی کہ وزیر اعظم پاکستان، ایک سپیچ رائٹر کا انتظار کریں۔۔۔ کاش ابا جی نے بچپن میں ہی میری پٹائی کی ہوتی تو میں کچھ لکھ پڑھ جاتا۔۔۔ اور بولنے سے پہلے نوٹس کا انتظار تو نا کرنا پڑتا۔۔۔

اس کے بعد قیلولہ کیا ۔۔۔  اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خدمت ، محنت اور گڈ گورننس پر تقریر کی خوب مشق کی۔۔۔ یہ تقریر میں نے آج اعوان ٹاون میں کرنی تھی۔۔۔ مشق کے بعد چھوٹے سے پوچھا کہ کہ کیسی لگی تقریر۔۔۔ تو چھوٹے نے کہا کہ میں تو اپنی انگلی قابو کرنے کے مصروف تھا۔۔۔ اب ایک ہی بات کتنی بار سنوں۔۔۔ میں آپ کا بھائی ہوں، پٹواری غلام نہیں کہ جو آپ کہیں اس کو پکڑ کر منہ متھا کھول دوں سب کا۔۔۔ چھوٹے کی صاف گوئی مجھے پانی پانی کر گئی لیکن پھر ننھے کو اپنی طرف گھورتا دیکھ کر خاموش  رہنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔

افتتاحِ نالی و گٹر ، اعوان ٹاون ۔۔۔ روانہ ہوا تو راستے سے ایک نیا کیمرہ مین پکڑ لیا۔۔۔ اور اسے ہدایت دی کہ کیمرہ صرف میرے اور چھوٹے پر فوکس ہونا چاہیے۔۔۔ چھوٹا تا اتنا جذباتی ثابت ہوا ہے کہ لانگ شوز بھی ساتھ لےآیا۔۔۔ ارادہ تھا کہ لانگ شوز پہن کر گٹر میں اتر کر تصویر کھینچوائے گا جو کل کے اخبار میں لگے گی۔۔۔ اب چھوٹے کے سامنے میری کہاں چلتی ہے۔۔۔ جوچاہے کرے۔۔۔

میرا ٹویٹر اور فیس بک سے کیا لینا دینا۔۔۔ مریم نے سوشل میڈیا غلاموں کی ایک بھاری فوج بنا رکھی ہے۔۔۔ جو سارا دن میرے لیے مخالفین کو ذلیل کرتے ہیں۔۔۔ مریم کی سب سے اچھی خوبی ہے کہ “مین مینجمنٹ” میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔ اس نے بتایا تھا مجھے کہ ہر بندے کو ٹیم میں بھرتی کرنے سے پہلے اس کی نفسیاتی ٹریننگ کی جاتی ہے، جس میں انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ان سے اچھا کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔ ان سے  زیادہ پڑھا لکھا اور کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔۔ ان سے اچھی اردو کوئی اور نہیں بول سکتا سوائے ہمارے۔۔۔ غرض یہ کہ ان میں ایک خاص قسم کی احساسِ برتری کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے۔۔۔ اور جب یہ بندے ٹویٹر پر بیٹھ کر میرا دفا ع کرتے ہیں۔۔۔ تو مجھے  فخر ہوتا ہے کہ مریم نے کیا ہجڑوں کی فوج بنائی ہے جو ہمارے لیے اپنے ماں باپ کی عزت بھی بھول جاتے ہیں۔۔۔ واہ مریم واہ۔۔۔ تمہارے پاپا کو تم پر فخر ہے۔۔۔

 

_nSEWA2E (1)

اتنی مصروفیت کے بعد تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔ تو سوچا آج جلدی سو جاوں۔۔۔ سونے کے لیے لیٹا تو خیال آیا کہ کافی عرصہ ہو گیاڈائری لکھے۔۔۔ لکھنے بیٹھا تو کچھ نا لکھ پایا۔۔۔ مجبورا عرفان صدیقی صاحب کو بلا کر ڈائری مکمل کی۔۔۔

 آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔

شب بخیر۔

Tags : , , , , , ,

روزہ دار کی ڈائیری

دوستوں کے ساتھ سگریٹ اور شیشے کی محفل میں مذہب، سیاسیات اور اقتصادیات پر سیر حاصل بحث کے بعد رات دو بجے تھکا ہارا گھر پہنچا ۔۔۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کچھ قرآن پڑھوں گا اور اللہ کو یاد کروں گا۔۔۔ لیکن ٹھنڈے کمرے میں داخل ہوتے ہی آرام دہ بستر کی گرمائش نے یاد اللہ کا ارادہ بدل دیا۔۔۔ دل نے کہا۔۔۔ “ابھی تو آیا ہے، تھوڑا آرام کر لے۔۔۔ ساری رات باقی ہے۔۔۔” اور نا چاہتے ہوئے بھی سونا پڑا۔۔۔

صبح ساڑھے تین بجے بیگم نے اٹھایا کہ سحری کی جائے۔۔۔ کون کمبخت اتنی پیاری نیند چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن خالی پیٹ روزہ رکھنا بھی مشکل تھا۔۔۔ بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا۔۔۔

فجر کی نماز جیسے تیسے پڑھ کر نیند جیسی نعمت عطا کرنے کے لیے اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا اور خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگا۔۔۔

ابھی سوئے ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ بیگم نے پھر اٹھایا کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔ آنکھیں مسلتے پھر اٹھا اور نہا دھو کر مسجد چلا گیا۔۔۔ مسجد تک کے سفر، پھر نماز اور پھر واپسی کے سفر میں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا۔۔۔ خاص طور پر نیند ، ای سی اور گاڑی جیسی نعمتوں کے لیے بارہا شکر ادا کیا۔۔۔

گھر پہنچ کر بیگم کو سختی سے منع کیا کہ اب کے مت اٹھانا، عصر کے لیے خود ہی اٹھ جاوں گا۔۔۔ اے سی فل سپیڈ پر آن کر کے کمبل اوڑھا اور پھر سو گیا۔۔۔

عصر کی آزان کانوں میں پڑی۔۔۔ ارادہ کیا کہ اٹھوں اور نماز کے لیے جاوں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار تہیہ تھا کہ نیند پوری کرنی ضروری ہے۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ دل میں سوچا کہ تھوڑی دیر بعد اٹھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر کرتے چھ بج گئے۔۔۔ اٹھتے ہی بیگم کو ڈانٹا کہ عصر کے لیے کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔ گھر پر ہی نمازِ عصر ادا کی۔۔۔ اور لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔ خبریں پڑھتے ، ای میلز دیکھتے، جوں جوں افطار کا وقت قریب آ رہا تھا، انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ روزہ اپنی آب و تاب سے “لگنا” شروع ہو چکا تھا۔۔۔ اللہ کو یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور دعا میں اللہ سے ایمان، صبر و استقامت اور نماز روزے سے محبت مانگی۔۔۔

افطار کو دعوتِ ولیمہ سمجھ کر اس پر ٹوٹنے اور پھر تراویح میں بڑی مشکل سے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے پر اللہ کا روزہ اچھی طرح گزارنے پر شکر اور قبول فرمانے کی دعا کرتے اگلے روزے کی تیاریاں شروع کر دیں۔۔۔

Tags : , , ,

کالا صاب – پارٹ ٹو

یوں تو جو بھی استادِ محترم نے لاہور ائیرپورٹ پر دیکھا ، میرا تجربہ کچھ زیادہ مختلف نا تھا۔۔۔ ما سوائے کہ استادِ محترم صبر کا پیمانہ ہاتھ میں تھامے امیگریشن کی قطار میں کھڑے اپنے سبزپاسپورٹ پر “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں آفیشل داخلے کا ٹھپہ لگوانے کے منتظر رہے۔۔۔ اور میں اپنے سب اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جرم کر بیٹھا۔۔۔

قصہ یوں ہوا کہ جوں ہی ہمارے شاہین مسافر لاہور ائیرپورٹ پر اترے۔۔۔ ساری تمیزداریاں بھولے، اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دینے کو اتاولے ہوئے جاتے تھے۔۔۔ پاسپورٹ کنٹرول پر چار عدد خوبرو اور بانکے چھبیلے بزرگ افسران بیٹھے “مستعدی” دکھا رہے تھے۔۔۔ حالانکہ امارات ائیرلائن کا بوئنگ 777 طیارہ جو نان سٹاپ ، بارو باری، فل پیسنجر آیا تھا۔۔۔ اور اتنی کثیر تعداد کو جلد اذ جلد نپٹنے کے لیے چار وں حضرات بظاہر ناکافی تھے ۔۔۔ لیکن انا بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ اب کاونٹروں پر قطار لگانا تو ہم پاکستانیوں کی شان کے خلاف ہے۔۔۔ اس لیے چار کی بجائے ان گنت قطاریں سج گئیں۔۔۔

میں اپنے طور پر ممی ڈیڈی بچہ بنے، حیرت سے یہ سوچ رہا تھا کہ کونسی قطار کا حصہ بنوں ۔۔۔ جس سے باری جلدی آ جائے۔۔۔ لیکن سمجھ جواب دے گئی اور میں آنکھیں کھولے کوئی آسان حل ڈھونڈنے لگا۔۔۔ میری شکل اور عقل کا اندازہ لگا کر ایک پورٹر صاحب میری جناب بڑھے۔۔۔ اور اپنے لب میری کانوں کے پاس لا کر گویا ہوئے۔۔۔
” سر جی، جلدی ہے۔۔۔!!!”
ہاں یار جلدی تو ہے۔۔۔
“فکر نا کریں جناب۔۔۔ آپ چاہیں تو آپ کا کام جلدی کروا دیتا ہوں۔۔۔”
وہ کیسے۔۔۔؟
“آپ اپنا پاسپورٹ مجھے دیں، اور میرے پیچھے چلے آئیں۔۔۔”
بھائی جان، وہ تو ٹھیک ہے، پیسے کتنے لو گے۔۔۔؟
“کیسی بات کرتے ہیں سر جی، آپ تو اپنے بھائی جیسے ہیں۔۔۔ جتنا دل چاہے، اتنی عیدی دے دیجیے گا۔۔۔”
ھممم ، چلو ٹھیک ہے۔۔۔

اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔۔ ان حضرت نے مجھے کاونٹر کراس کروایا اور ایک بزرگ افسر کے پاس جا کر میرا پاسپورٹ اس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔ آنکھوں آنکھوں میں دونوں حضرات نے کچھ باتیں کیں۔۔۔ افسر نے میرے پاسپورٹ پر ٹھپہ لگایا۔۔۔ اور میری طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔ میں نے بھی جوابی مسکراہٹ سے ان کی مستعدی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
پورٹر صاحب میرے پاس آئے۔۔۔ اور پاسپورٹ مجھے دیتے ہوئے بولے، “آئیں سر، اب آپ کا سامان لے لیں۔۔۔”

سامان آتے آتے مزید پندرہ منٹ لگ گئے۔۔۔ لیکن پورٹر صاحب پوری جانفشانی سے میری خدمت کا لطف اٹھا رہے تھے۔۔۔ سامان آتے ہی میرا سامان ٹیکسی تک پہنچایا۔۔۔ اور میرے سامنے آ کر دانت دکھاتے ہوئے بولے۔۔۔ “سر جی، دیکھ لیں، آپ کے دو گھنٹے بچا لیے۔۔۔”

میں نے پورٹر بھائی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ اور جیب سے دو سو روپے نکال کر اسے اس کی محنت کا صلہ دینے کی کوشش کی۔۔۔ اب کی بار ان کے دانت نہیں، بلکہ آنکھیں باہر نکل آئیں۔۔۔ “سر جی، کیا مذاق کر تے ہیں۔۔۔ پانچ سو تو صرف پاسپورٹ افسر کو دینا ہے۔۔۔ کچھ درہموں میں دیں نا۔۔۔ بچے دعائیں دیں گے۔۔۔”

میں نے کہا یار، میرے پاس درہم تو فی الحال نہیں ہیں، لیکن تم نے اتنی مدد کر دی ہے تو میں زیادہ سے زیادہ تمہیں سات سو روپے دے سکتا ہوں۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔۔ بڑی بحث کے بعد آخر اسے پیار محبت سے آٹھ سے روپے کی “رشوت” دے کر اپنی جان چھڑوائی اور اپنی بیٹی سے ملنے ڈسکہ روانہ ہوا۔۔۔

نخرے تو ہم نے ساری عمر دوسروں کے اٹھائے ہیں۔۔۔ لیکن پاکستان پہنچتے ہی جو”عزت” مجھے پورٹر صاحب اوربزرگ افسر نے دی۔۔۔ اس نے مجھے میرے نفس کو یقین دلا دیا۔۔۔ کہ ہونہہ، گورے کیا ہوتے ہیں۔۔۔ اپنے ملک میں تو ہم کالے بھی، “کالے صاحب” ہی ہیں۔۔۔ جہاں جہاں دوسروں کی عزتِ نفس پامال کرنی ہو۔۔۔ یہ خدمت ہم سے اچھی کوئی کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے جیسے ہزاروں “کالے صاحب” اپنی عزت نفس خود اپنے ہاتھوں سے مجروح کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔۔۔ اور انہیں کوئی تکلیف یا بےعزتی بھی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔

رکیے حضرات، یہ ایسا واحد جرم نہیں جو میں نے پاکستان میں کیا۔۔۔ اس طرح کے “ہلکے پھلکے “جرم قدم قدم پر میں کرتا آیا ۔۔۔ اس لیے نہیں کہ میرے پاس بڑے پیسے تھے۔۔۔ بلکہ اس لیے کہ میرے پاس اور کوئی “چوائس ” نہیں تھی۔۔۔ ان جرائم کی تفصیلات پھر کبھی۔۔۔

یہ تحریر استادِ محترم جناب جعفر حسین کے کالمکالا صاحب   سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔۔۔

 

Tags : , ,

حجاب۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

بھائی حجاب کے بارے میں ان کو لکھنا چاہیے جن کو “حجاب” کی زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ ہم کیوں لکھیں۔۔۔ تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایک بار کہہ کر اپنا فرض پورا کرو۔۔۔ اب اگلی بات نا مانے تو اس کا مسئلہ۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

اور ویسے بھی مرد حضرات کو کیا ضروت ہے حجاب کے بارے میں لکھنے کی۔۔۔ ہمیں تھوڑی کرنا ہے “حجاب”۔۔۔ جنہیں کرنا ہے، وہی پریشانی سر لیں۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

اب پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ایک پاکستانی خاتون جو ہماری کمپنی کے لیے کافی میٹیریل سپلائی کرتی ہیں۔۔۔ وہ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ میں شادی شدہ ہوں اور ایک بچی کا باپ ہوں، اپنے طور پر مجھ سے “فلرٹ” کر رہی تھی۔۔۔ قسمے “مرد” ہوتے ہوئے بھی ان کی چھچھوری حرکات مجھے سخت ناگوار گزری۔۔۔  اب ایسی خاتون “حجاب” کر بھی لیں تو کوئی “مرد” ان کا کیا بگاڑ لے گا۔۔۔ خیر۔۔۔ ساہنوں  کی۔۔۔

مرد کے لیے حکم ہے کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں۔۔۔ اور یہی ان کا پردہ ہے۔۔۔  تو مرد حضرات، قسم کھا کر بتاو۔۔۔ کہ کتنی بار “اپنی نظریں” بوقتِ ضرورت جھکا دیں۔۔۔  اگر ایک دو بار کی مجبوری یاد آ گئی ہے تو ۔۔۔ “شاباش”۔۔۔ ورنہ۔۔۔ عورتوں کے حجاب کو چھوڑو۔۔۔ اور اپنی نظروں کی فکر کرو۔۔۔ ورنہ “نظر کا زنا” یاد کر لیں۔۔۔ شاید شرم آ جائے۔۔۔

یارو۔۔۔ یہ عورت بڑی عجیب چیز ہوتی ہے۔۔۔ آج تک کسی سقراط، بقراط یا افلاطون کو ان کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔  تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں۔۔۔  یہ حجاب میں بھی اچھی  یا بری۔۔۔ اور بے پردگی میں بھی اچھی یا بری۔۔۔  مدعہ سارا ہمیشہ مرد حضرات کے سر ہی آنا ہے۔۔۔ اس لیے پیش قدمی کرنا بہتر ہے۔۔۔ اپنی نگاہیں نیچے کر لو۔۔۔ اور چھوڑ دو کسی دوسرے کی ماں بہن کو دیکھنا۔۔۔ اسی طرح کوئی ہماری ماں بہن کو گھورنا بھی چھوڑ دے گا۔۔۔ صحیح بات ہے نا بھائی۔۔۔!!!

چلیں۔۔۔ ہم مرد حضرات خود کو بدلیں۔۔۔ کسی دوسرے کو بدلنا ہو گا تو وہ خود ہی بدل جائے گا۔۔۔  کیا خیال ہے۔۔۔؟

Tags :

ڈپلومیسی۔۔۔

خوامخواہ کی یاریاں نبھاتے میں تو تھک گیا ہوں بھائی۔۔۔ اتنا بھی مجھے دنیا اور دنیا کے لوگوں سے پیار نہیں، جتنا دکھانا اور سمجھانا پڑتا ہے۔۔۔ اب یہ ڈرامہ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ کہ سامنے والا بک بک پر بک بک کیے جا رہا ہے۔۔۔ اور آپ دستورِ دنیا نبھانے کو اس کی ہاں میں ہاں اور فضول سی مسکراہٹ کے بدلے ایک چھوٹا سا گھٹیا قہقہہ لگانا ضروری سمجھتے ہیں۔۔۔

یار یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ کوئی بندہ پسند نہیں ہے تو اس کے منہ متھے کیوں لگنا۔۔۔ جب دل نہیں چاہ رہا کسی سے بات کرنے کا، تو ایسی کیا مجبوری آ گئی کہ اٹھ کر اس سے گلے بھی ملا جائے۔۔۔ کیا یہ ڈپلومیسی آج کل ہماری جان نہیں مار رہی۔۔۔؟

بنیادی طور پر میں حد درجہ کا بور بندہ ہوں۔۔۔ تنہائی پسند۔۔۔ شور شرابے سے نفرت کرنے والا۔۔۔ سکون کا متلاشی۔۔۔ لیکن شو مئی قسمت کہ سکون اور تنہائی سے میرا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔۔۔ اب جب بیٹھے بیٹھے کوئی بندہ اپنا سا منہ لے کر میرے منہ لگنے کی کوشش کرتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ اس کا منہ پن کے رکھ دوں۔۔۔ مثال کے طور پر:

‘ عمران صاحب، پاس کی کمپنی میں آیا تھا، سوچا آپ سے بھی ہیلو ہائے کرتا چلوں’۔۔۔

’ بھائی تو اُدھر آیا تھا تو اِدھر تیرا کیا کام۔۔۔ مجھے تیری ہیلو ہائے سے کیا لینا دینا۔۔۔’ (اب یہ بھی دل میں سوچا جا سکتا ہے۔۔۔) منہ سے تو نکلا، اچھا کیا جناب چکر لگا لیا۔۔۔ کافی دن سے آپ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ (آئے ہائے۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا۔۔۔ وہ تو واقعی سچ سمجھ بیٹھا۔۔۔ اور یہ کیا، کرسی کھینچ کر بیٹھ بھی گیا۔۔۔ )

‘چائے پلائیں عمران صاحب، بڑی طلب ہو رہی ہے’

‘تیری تو۔۔۔ ً!#$٪ۂۂ&’ بیٹھ بھی گیا تو !#$٪ۂۂ۔۔۔ ‘ (کاش یہ سب کچھ بھی دل میں سوچنے کی بجائے اس کے منہ پر مار دیتا۔۔۔ کم از کم میری جان چھوڑ کر بھاگ جاتا اور پھر کبھی ادھر کا چکر نا لگاتا۔۔۔۔ !#$٪ۂۂ)

اب اس حضرت بندے کی بکواس کا سلسلہ شروع ہوتا ہوتا ایک آدھ گھنٹے تک پہنچ گیا اورمیں اپنی مصروفیت یا کہہ لیں کہ تنہائی کے چند قیمتی لمحات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔۔۔

اب میں تو ہوں ہی ایسا۔۔۔  منہ متھے اس لیے لگتا ہوں کہ کسی دانشور کا قول کبھی پڑھ لیا تھا کہ بھائی کسی بھی بندے کے ساتھ برا مت پیش آو۔۔۔ کیا پتا کل کلاں تجھے اس کی ضرورت پڑ جائے۔۔۔ اب کل کی ضرورت کا تو پتا نہیں۔۔۔ یہ ضرور جانتا ہوں کہ میرے آج کا سکون اس بندے کے ہیلو ہائے نے خراب کر دیا۔۔۔ وہ سکون جو میری تنہائی کے روپ میں مجھے ملتا ہے۔۔۔ لیکن سکون اور تنہائی کا مجھ سے کیا واسطہ۔۔

Tags : , , , ,

ایک مظلوم باپ کا خط

اس تحریر میں مذکورہ کریکٹر فرضی ہیں. حقیقی افراد سے کوئی مشابہت، زندہ اور مردہ، مکمل طور پر اتفاق ہے.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجھ جیسے غریب بندے کے بگڑے ہوئے بیٹےعبداللہ۔۔۔

تو تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے قطع تعلقی کا اعلان کر چکا ہوں۔۔۔ پاکستان کے ہر بڑے اخبار میں نوٹس بھی شائع کروا چکا ہے۔۔۔ اردو لکھنی نہیں آتی تھی لیکن تجھ تک پیغام بھیجنے کے لیے اس عمر میں آنٹی سے ٹیوشن بھی لینی پڑی اور ان کی چاکری الگ۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں غریب آدمی ضرور ہوں لیکن عزت والا ہوں۔۔۔ ساری عمر کبھی حرام نہیں کھایا۔۔۔ ساری عمر بڑوں بزرگوں کی سیوا کی ہے۔۔۔ اسلام کے بول بالے کے لیے بھی بڑی محنت کی ہے۔۔۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں غلطی ہو گئی مجھ سے تیری پرورش میں۔۔۔

بیٹا بچپن سے تجھے سمجھاتے آئے ہیں کہ سیاست گندی چیز ہے۔۔۔ اس کو ہاتھ مت لگا۔۔۔ اس کے قریب مت جا۔۔۔ لیکن ایک نظر کی چوک تجھے بھیا جی کی گود میں لے گئی۔۔۔ وہ لمحہ اور آج کا دن، تو ہمارا نہیں رہا۔۔۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اچانک تجھے ہوا کیا ہے۔۔۔ تیری سوچ اتنی گندی کیوں ہو تی جا رہی ہے آہستہ آہستہ۔۔۔

پھر ایک دن تو نرسری سے گھر نہیں آیا۔۔۔ بہت ڈھونڈا تجھے۔۔۔ تجھے نہیں ملنا تھا، تو نا ملا۔۔۔ تین ماہ تجھے کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ کس کس کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔۔۔ تھک ہار کر، صبر شکر کر کے بیٹھ گئے۔۔۔ کہ شاید تو مر گیا ہے۔۔۔ (کاش تو مر ہی گیا ہوتا۔۔۔)۔۔۔

ایک دن تو اچانک لوٹ آیا۔۔۔ خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ اتنی سی عمر میں تیری اتنی گھنی مونچھیں کیسے آ گئیں۔۔۔ بہت پوچھا تجھے کہ کہاں تھا۔۔۔ “کیا کیا ہوا” تیرے ساتھ۔۔۔ لیکن تو کچھ بولتا ہی نہیں تھا۔۔۔

کبھی تو گلی میں کھیلتے بچوں سے لڑ پڑتا اور کبھی مسجد میں جاتے نمازیوں کو دور دور سے منافق منافق کہتا رہتا۔۔۔ کبھی گزرتی ہوئی عورتوں کو ان کے حجاب کے باوجود بے شرم، بے حیا کہہ کر آوازیں کستا۔۔تو کبھی میری داڑھی کی وجہ سے مجھے جماعتی جماعتی کے طعنے دیتا۔۔۔ ہر پرائے مسئلے میں اپنی ٹانگ اڑانا تیری عادت بن گیا۔۔۔ کسی فوتگی میں بھی چلا جاتا تو “بھیا جی زندہ باد” کے نعرے لگاتا۔۔۔ جس کی وجہ سے کئی بار تجھ سمیت مجھے بھی مار کھانی پڑی۔۔۔ ہر رات کو سونے سے پہلے اپنی انگلیوں پر بھیا جی بھیا جی کا ورد کرتا رہتا۔۔۔ ماسی بشیراں کے ساتھ تیری دوستی بڑھتی گئی، جو مجھ سمیت کسی محلے والے کو پسند نہیں تھی۔۔۔ (تو تو جانتا ہے کہ ماسی بشیراں “پھپھے کٹنی” کے طور پر مشہور تھی)، سب کو یقین ہوگیا کہ تو اسی کے کہنے پر ساری حرکتیں کرتا ہے۔۔۔

محلے کو کچھ غیور نوجوانوں نے کئی بار تیری پٹائی بھی کی لیکن ان تین ماہ میں تیری برین واشنگ ہو چکی تھی۔۔۔ لعن طعن اور مار کٹائی کا بھی تجھ پر کوئی اثر نا ہوا۔۔۔ ہر مار کے بعد تیری گھٹیا حرکتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔۔۔

پھر تیرے پاس اچانک پیسے کی ریل پھیر شروع ہو گئی۔۔۔ کبھی نئی شرٹ، کبھی نئی پینٹ، کبھی نیا موبائل۔۔۔ اور پھر ایک دفعہ نئی گاڑی۔۔۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اتنی بالی عمریا میں تجھے گاڑی کسی نے لے کر دی۔۔۔ کچھ چھان بین کے بعد پتا چلا کہ تو تو بھیا جی چیلوں کے “ہاتھوں اور گودوں” میں کھیلتا پایا جاتا ہے۔۔۔

ایک دن تو نیا لیپ ٹاپ لے آیا۔۔۔ اور پھر سارا دن تو اس لیپ ٹاپ سے چپکا رہتا۔۔۔ تیرے دو ہی کام رہ گئے، لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھنا،  ماسی بشیراں کو رپورٹ دینا۔۔ اور پھر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے رہنا۔۔۔ اس کا اثر ہم نے یہ دیکھا کہ کبھی تو بستر پر الٹا پڑا روتا رہتا اور کبھی غسل خانے سے تیری دھاڑوں کی آواز آتی۔۔۔ رو رو کر تیری آنکھوں کے گرد “حلقے” بھی پڑ گئے۔۔۔ جب تو اپنی تنہائی میں یہ آوازیں لگاتا کہ “کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔۔۔ اور سب مجھے ذلیل کرتے رہتے ہیں”۔۔۔ تو تو نہیں جانتا کہ ہم پر کیا بیتتی تھی۔۔۔

تجھے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ اس لیے برداشت کرتے رہے تجھے۔۔۔ آخر کار ہمیں کسی نے مشورہ دیا اور ہم نے سعودی عرب سے ایک ڈاکٹر کو طلب کیا۔۔۔ ڈاکٹر “ج” نے ہر طرح سے تجھے سمجھانے اور تیرے علاج کی کوشش کی۔۔۔ لیکن جلد ہی  ڈاکٹر صاحب بھی امید چھوڑ بیٹھے۔۔۔ انھوں  نے ہم سے جو کہا، اس کے جواب میں ہم پکار اٹھے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا عبداللہ نفسیاتی مریض ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ پاگل ہو گیا ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ کو کوئی علاج نہیں۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچا لیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچالیں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ورنہ عبداللہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کا علاج مفت میں کر دیں۔۔۔ پگلا ہے ہماراا عبداللہ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ آپ ہماری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔۔۔ اور اسے دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا آپ نے۔۔۔ ہم تو دعائیں مانگ مانگ کے تھک گئے۔۔۔ اسے تو شاید اب کسی کی بددعا ہی لگے تو کام آئے۔۔۔

” ڈاکٹر “ج” بھی چلے گئے۔۔۔ تیرا علاج ان کے بس میں بھی نہیں تھا۔۔۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔۔۔

تیری کرتوتوں کی وجہ سے تو محلے بھر میں “بارہ سنگھا” اور “آنٹی عبداللہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔۔ آج تک تو نا میری سمجھ نہیں آئی اور نا ہی کسی سپیشلسٹ ڈاکٹر کی، کہ تیرے سر پر سینگ کیسے نکل آئے۔۔۔ پیدا تو انسان ہوا تھا، لیکن انسان کے سر پر سینگ کب ہوتے ہیں۔۔۔  سب مجھے شک سے دیکھتے اور طرح طرح کی آوازیں کستے۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں عزت دار بندہ ہوں۔۔۔ جب تک زندہ ہوں حق حلال کی ہی کھاوں گا۔۔۔ تجھے بھی بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن تو نہیں مانا۔۔۔ تو نے بھیجا جی اور ماسی بشیراں کی صحبت میں بہت پیسہ کما لیا۔۔۔ لیکن بیٹا، ہمیں تیرے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس تیرے بوڑھے باپ کی تجھ سے درخواست ہے کہ بیٹا اب بہت ہوگئی۔۔۔ اب تو سدھر جا۔۔۔ اب تو تو سیانا ہو گیا ہے۔۔۔ ہر اچھے بندے سے بھڑنا چھوڑ دے۔۔۔ آخر تیری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی۔۔۔ کہ جو تو، تیرابھیا جی اور تیری ماسی بشیراں سوچتی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ آخر تو عقل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا۔۔۔ کب تک تیری بے وقوفیاں برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔ کب تک دنیا ہمیں تیرے نام سے طعنے دیتی رہے گی۔۔۔ آخر کب تک۔۔۔ بیٹا، ان بوڑھی ہڈیوں پر کچھ رحم کر۔۔۔ اور ہمیں بخش دے۔۔۔ ہم تیری وجہ سے بہت ذلیل ہو چکے۔۔۔ بس کر بیٹا۔۔۔ بس کر۔۔۔

تیرا بوڑھا قابلِ رحم باپ۔۔۔

ابو عبداللہ

یہ ہے بلاگستان میری جان۔ ۔

آپ سب کو اردو بلاگستان میں خوش آمدید ۔۔۔امید ہے آپ کے پاس اپنی زندگی کی کچھ لمحے فارغ ہونگے یا آپ اپنی زندگی سے اس قدر اکتا چکے ہوں کہ آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے کچھ لمحے ضائع ہوں یا سارا دن ہی بغیر کسی مقصد کے گزرتا ہو۔۔۔

ویسے جتنا ٹائم آپ بلاگستان میں گزارتے ہیں۔۔۔ یقین تو نہیں آتا لیکن ہو سکتا ہے کہ مختلف بلاگز پر جھانکتے جھانکتے کچھ سیکھ ہی لیتے ہوں۔۔اب یہ تو نا کہیں کہ میں نےیہ بیان دے کر کچھ دانشور بلاگرز کی علم و فضائل کی توہین کر دی ہے۔۔۔ چھڈو جی۔۔۔

خیر۔۔۔ تو بات پھر سے جوڑتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں آپ سب کو پھر سے خوش آمدید۔۔۔ امید ہے کہ آپ کا یہ سفرِ بلاگستان بہت عمدہ گزرے گا۔۔۔ تو آئیے۔۔۔ میں آپ کو بلاگستان کے بارے میں کچھ تعارف دیتا چلوں۔۔۔

بلاگستان وہ جگہ ہے۔۔۔ جہاں ہربلاگر خود کو دنیا کا نہیں تو کم از کم پاکستان کا سب سے بڑا عالم و دانشور بندہ سمجھتا ہے۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھنے میں اور ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔۔۔ جب بھی کوئی بلاگر ” بلاگ سپاٹ یا ورڈ پریس” پر اپنا نیا بلاگ بنانے کا اہتمام کرتا ہے۔۔۔ تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی میں تو میری کوئی مانتا نہیں۔۔۔ چلو۔۔۔ لکھ کر ہی کچھ چولیں مار لیں۔۔۔ بلاگ پر ہماری کوئی مانے یا نا مانے۔۔۔ ہم بھی کسی کی نہیں مانیں گے۔۔۔

نہیں نہیں۔۔۔ آپ غلط سمجھے۔۔۔ یہاں صرف “دانشور” ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر طرح کے بلاگر پائے جاتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسند بھی ہیں۔۔۔ روشن خیال بھی ہیں اور ترقی پسند بھی۔۔۔ لیکن کچھ بلاگرز کی بدقسمتی سے یہاں کچھ زیادہ ہی انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔۔۔ بدقسمتی اس لیے کہ ان بلاگرز کی تبلیغِ روشن خیالی میں اگرکوئی پتھر حائل ہے تو وہ انتہاء پسند ہی ہیں۔۔۔ اوہ ہو۔۔۔ اب یقین نہیں آتا تو آنٹی سے ہی پوچھ لیں۔۔۔

کیا کہا۔۔۔ اب آنٹی کون ہیں۔۔۔ میں نہیں بتاتا بھائی۔۔۔۔ پڑھنا ہے تو یہاں پڑھ لو۔۔۔ میرا وقت کھوٹا نہیں کرو۔۔۔

ہاں جی تو ہم بات کر رہے تھے بلاگرز کی۔۔۔ جناب عالی۔۔۔ بلاگستان کا ایک طبقہ “روشن خیال ریوڑ” کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔۔۔ اب ریوڑ کس چیز کو کہتے ہیں۔۔۔ وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

روشن خیال ریوڑ کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ بلاگستان پہنچتے ہی اپنی اوقات سے باہر آ جاتے ہیں۔۔۔ ان کے خیال میں جوبات ان کے دماغِ ناچیز میں بچپن سے فٹ کر دی گئی ہے۔۔۔ وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔۔۔ ساری دنیا غلط ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن وہ غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔ پھر اپنی عادت سے بھی کچھ مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی کہہ دے کہ “یار کوا کالا ہے۔۔۔ تو فورا اٹھ کر کہہ دیں گے۔۔۔ اوبجیکشن ۔۔۔ کوا کبھی کالا نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے بچپن میں سفید کوا بھی دیکھا ہے۔۔۔ اور پھر مغربی مصنفین کی ایسے ایسے حوالے پیش کریں گے کہ آپ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا۔۔۔ آپ کا کام بس ہوشیار رہنا ہے۔۔۔

ان حضرات کو اسلام سے عمومی اور علماء اسلام سے خصوصی خدا واسطے کا بیر ہے۔۔۔ ملک و ملت کی ہر خرابی کا زمہ دار علماء کو ٹھرانا ان کے لیے سب سے آسان کام ہے۔۔۔ آج تک ان بلاگرز کی اتنی تحاریر پڑھنے کے بعد آپ کے اس نا چیز میزبان کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ اگر علماء نے کچھ نہیں کیا تو ان کے بھائی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔ اور اگر اسلام ان کے مطلب کا نہیں تو اپنا نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے۔۔۔

ان روشن خیالوں میں زیادہ تر خواتین پائی جاتی ہیں۔۔۔ اور کچھ خواتین نما مرد حضرات بھی۔۔۔ ان کی زندگی کا مقصد، مرد حضرات کو بالادستی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہے۔۔۔ اپنی کسی نا کسی تحریر میں خرابی ثقافت، بربادیِ مذہب اور تکلیف ِعورت کا ملبہ مرد حضرات پر ڈالتی نظر آئیں گی۔۔۔ بقول ان کے۔۔۔ ان کے عورت ہونے کا قصور بھی کسی مرد کا ہی لگتا ہے۔۔۔ ورنہ یہ آج مغرب کے کسی بار میں بیٹھی بیر کا مزہ “لے رہے ہوتے”۔۔۔۔ نہیں جی یہ کھلے عام کہتی نہیں۔۔۔ محسوس کرواتی ہیں۔۔۔

 

چلیں کچھ آگے چلتے ہیں۔۔۔ اوہ یہ دیکھیے۔۔۔ اس عجوبہ خلقت سے آپ کی جان پہچان کرواتے چلیں۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ یہ بارہ سنگھا ہی ہے۔۔۔

اوہ ہو۔۔۔ جی درست فرمایا۔۔۔ دور سے انسان ہی لگتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ صرف دور سے۔۔۔
کیا کہا۔۔۔؟ اس کے سینگھ بارہ نہیں ہیں۔۔۔ دیکھیے غور سے دیکھیے۔۔۔ کچھ سینگھ اس نے کہیں نا کہیں پھنسا رکھے ہیں۔۔۔ قریب مت جائیے۔۔۔ دیکھیں اسے چھیڑیں مت۔۔۔ ورنہ آپ پر منافق، جھوٹا اور کمینہ النفس ہونے کا فتویٰ لگ جائے گا۔۔۔ جی صحیح پہچانا آپ نے۔۔۔ یہ “روشن خیال ریوڑ” کی دوسری قسم ہے۔۔۔ بارہ سنگھے سے مزید تعارف کے لیے۔۔۔ یہاں کلک کریں۔۔۔۔

 

آئیے آپ کو اب روشن خیالوں کی تیسری قسم سے بھی ملواتے چلیں۔۔۔ یہ آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔۔۔ لیکن کسی انتہا پسند بلاگر کے بلاگ پر اگر آپ کو فحش یا بیہودہ کلمات نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ اس کارنامے کے پیچھےاسی تیسری مردانہ و زنانہ کمزوری کا ہاتھ ہے۔۔۔ داراصل اپنی خصلت سے مجبور ہیں۔۔۔ بچپن سے مادر پدر آزاد ٹھرے۔۔۔ تو کسی دوسرے کی عزت کرنا اور رکھنا انہیں آتا ہی نہیں۔۔۔ ہم انہیں روشن خیال ریوڑ کا بایاں بازو بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ جہاں روشن خیالیوں کو لگتا ہے کہ ان کی دال نہیں گل رہی تو وہ اس تیسری قسم کو چھو کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اور پھر ان کے مقابل شرفا کو خود ہی خاموش ہونا پڑتا ہے۔۔۔ کہ جاہلوں اور احمقوں کی بکواس کا کیا جواب دیں۔۔۔ خاموشی ہی بہتر ہے۔۔۔

صبر کریں جی۔۔۔

ہاں جی روشن خیالوں کی یہی تین قسمیں ہیں۔۔۔ اگر مزید قسمیں دریافت ہونگی تو بذریعہ ڈاک آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔۔۔

امید ہے آپ بلاگستان سے اپنا تعارف انجوائے کر رہے ہونگے۔۔

آئیے اب مزید آگے بڑھتے ہیں۔۔۔

یہ حضرات ترقی پسند ہیں۔۔۔ انگریزی ان کی محبوب زبان ہے۔۔۔ اتنی محبوب کہ اردو میں بھی انگریزی الفاظ لکھ کر قارئین کو مرعوب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی تحاریر کے سر پاوں کا انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔۔ بس کہیں سے فلسفے اور اردو انگریزی ادب کو ملا کر کچھ نا کچھ لکھ دیتے ہیں۔۔۔ ان کا ماننا ہے کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کا سب سے آسان طریقہ انہیں کنفیوز کرنا ہے۔۔۔ اس طرح ان کی پگڑی بھی اونچی رہتی ہے اور دال بھی گل جاتی ہے۔۔۔ ویسے انہیں بلاگستان میں اتنی سنجیدگی سے لیا بھی نہیں جاتا۔۔۔

وہ دیکھیے۔۔۔ یہ کچھ حضرات سر جھکائے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے پاس کرنے کو کئی کام نہیں۔۔۔ فیس بک سے یاری ہے۔۔۔ کسی کے لیے خطرہ جان یا ایمان نہیں ہیں۔۔۔ بس کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ لکھنے کا تو مہینے میں ایک آدھ پوسٹ لکھ مارتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں ان کا زیادہ تر وقت روشن خیالوں کے بلاگز پر تبصرے کرنے میں اور انہیں سمجھانے بجھانے میں ضائع ہوتا ہے۔۔۔ سنا ہے کہ اسلام کے متعلق روشن خیالوں کےمغلظات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔۔۔

جی ایک مرتبہ پھر آپ نے درست سمجھا۔۔۔۔ یہی انتہاء پسندِ اردو بلاگستان ہیں۔۔۔ چلیں، ان میں سے کچھ سے آپ کا بالمشافہ تعارف کرواتے چلیں۔۔۔ کیا یاد کریں گے۔۔۔

وہ داڑھی والے مولبی ہیں۔۔۔ بڑا خطرناک بندہ ہے۔۔۔ اس کا خاصہ ہے کہ ایک انگریزی کا حرف کہہ کر ہی اپنا سارا غصہ نکال لیتا ہے۔۔۔

وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوا بندہ ڈفر ہے۔۔۔ اوے نہیں یار۔۔۔ نام نہیں ہے اس کا۔۔۔ ویسے ہی ڈفر ہے۔۔۔ اسے سیریس مت لینا۔۔۔ ورنہ جان کے لالے پڑ جائیں گے۔۔۔

جی نہیں وہ کوئی جاپانی بلاگر نہیں پاکستانی ہیں۔۔۔ شریف آدمی ہے۔۔۔ لیکن روشن خیال اسے شریف رہنے نہیں دے رہے۔۔۔

اور وہ بچہ جو نظر آ رہا ہے آپ کو۔۔۔ بلاگرِاعظم کہا جا سکتا ہےانتہاء پسندوں کے وقار کو بلند رکھنے میں اس کا بڑا کردار رہا ہے۔۔۔زرا بچ کے۔۔۔ بڑے حوالے نکالتا ہے۔۔۔

دیکھیں۔۔۔ وہ نقلی مونچھیں لگائے “انکل سام کا رہائشی” ہے۔۔۔ حقیقت میں کاکا ہے اپنا۔۔۔ لیکن بڑوں کے ساتھ بیٹھنے کا بڑا شوق ہے اسے۔۔۔بڑی بڑی باتیں کرتا ہے۔۔۔

اور وہ سب کا استاد۔۔۔ بڑا استاد آدمی ہے۔۔۔

حیران مت ہوں۔۔۔ یہ آپ کو کوئی خطرہ نہیں پہنچائیں گی۔۔۔ آپ کو ان کی شکل نظر نہیں آ رہی۔۔۔ آئے گی بھی نہیں۔۔۔ حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں۔۔۔

اور یہ ڈاکٹر ہے جی۔۔۔ روشن خیالیوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے اس بندے نے۔۔۔

اہمم اہممم۔۔۔ زرا تمیز سے۔۔۔ ہمارے بزرگ ہیں۔۔۔ انتہا پسند بلاگر انہیں اپنا استاد اور پیرومرشد مانتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسندوں کے لیے باعث افتخار ہیں۔۔۔ ۔۔۔سلام کرو انہیں۔۔۔ شاباش۔۔۔

اور یہ جو بندہ فارغ بیٹھا ہے۔۔۔ کبھی کبھی اپنا منہ دکھاتا ہے۔۔۔ لیکن سلوک سب سے بلا امتیاز کرتا ہے۔۔۔

اوئے۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ میں کس گروپ کا بندہ ہوں۔۔۔ بڑے فارغ بندے ہو یار۔۔۔ تمہیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

چچ چچ چچ

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا۔۔۔ کہ جاہلوں کے منہ نا لگا کرو۔۔۔ ان سے نیکی کی کوئی امید نا رکھو۔۔۔ جاہل ہمیشہ اپنی بات کو ہی ٹھیک سمجھتا ہے۔۔۔ اس کے پاس لاجک والی بات تو ہوتی نہیں۔۔۔ بس جو محلے کی بڑی بی سے سن لیا، اسے ہی حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔۔۔ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے جاہل کا آخری حربہ چچ چچ چچ اورغوں غوں غاں غاں ہی رہ جاتا ہے۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا،  بس ہمیں ہی طبع آزمائی کاشوق ہو گیا تھا۔۔۔ گرمی بڑھتی جارہی تھی تو  ہم نے اس تالاب میں چھلانگ لگا دی جہاں بیشتر بارہ سنگھے غسل کیا کرتے ہیں۔۔۔ بارہ سنگھوں کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گزری اور کرنے لگے اپنے سینگھوں سے  حملے۔۔۔ میں نے بڑا سمجھایا کہ کسی اور کے نچلے بھائی، تیرا کیا کام۔۔۔؟ تو اپنی صفائی کر اور مجھے زرا ٹھنڈ ماحول لینے دے۔۔۔ لیکن عجب دماغ پایا ہے بارہ سنگھے نے۔۔۔ کہنے لگا، اس تالاب کے جملہ حقوق "کسی" نے انہیں اور "ان" کے شاگرد خاص کو عطا فرمائے ہیں۔۔۔ اور "ان" کو یہ تالاب "ان" کے جی داروں کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔ حکم ملا کہ نکلوں، ورنہ "منافقت"، "جہالت" اور "چچ چچ چچ" کا لیبل لگوا کر دربدر کروا دیا جاوں گا۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا تھا کہ اس تالاب میں سارے ہی گندے ہیں، ادھر کا رخ نا ہی کروں لیکن تجربہ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ بس جی اب تجربہ ہو گیا کہ "ان" سے بچ کے ہی رہا جائے۔۔۔ اور "لاحول ولا قوة" کا مستقل ورد رکھا جائے۔۔۔ ورنہ کالا جادو صرف بنگالی بابوں کی ہی میراث نہیں۔۔۔ آجکل بنگالی بابوں کے شاگرد بھی اس ہنر میں طاق ہو گئے ہیں۔۔۔

محلے کی آنٹی

برے دنوں کا ذکر ہے۔۔۔ایک محلے میں ایک خاتون رہا کرتی ہیں۔۔۔ عمر کی تو اتنی پکی نہیں لیکن آس پاس کے ہمسائے نا جانے کیوں انہیں آنٹی کہہ کر عزت بخشتے ہیں۔۔۔

آنٹی اتنی ذہین تو نہیں لیکن انہیں بڑی بڑی باتیں کرنے کا بڑا شوق ہے۔۔۔ انگریزی زبان کی بڑی دلدادہ ہیں لیکن شو مئی قسمت انگریزی بولنے میں مار کھا گئیں۔۔۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہےکہ اردو کو منہ گھما کر انگریزی لہجے میں بول کر رعب جمانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں۔۔۔  آنٹی فلاسفر بننے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔۔۔ لیکن دماغ میں خون کی مکمل فراہمی نا ہونے کے باعث اب تک فلاسفر کے انگریزی ہجے ہی یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔

اب جب آنٹی “کہلاتی” ہی ہیں تو آنٹی “بننے” کا بھی بڑا شوق ہے۔۔۔ اکثر چیخ چلا کر سارے محلے کو روشن خیالی کی تبلیغ کیا کرتی ہیں۔۔۔ اپنی ہاں میں ہاں ملوانے کے لیے دو عدد بارہ سنگھے پال رکھے ہیں۔۔۔ اگر عام عوام میں سے کبھی کوئی ان کی روشن خیالی کے خلاف  اٹھ کھڑا ہوتو وہ اپنے دونوں پالتووں کو ان پر چھوڑ دیتیں ہیں۔۔۔اور وہ پالتو مگر بہادر بارہ سنگھے تب تک پرائی لڑائی سے اپنے سینگھ نہیں نکالتے جب تک عوام ان کو ذلیل کر کر کے ادھ موا نا کر دیں۔۔۔ معلوم نہیں کیا کھلاتی ہیں انہیں کہ پھر بھی یہ بارہ سنگھے آنٹی کے لیے سماج سے لڑ جاتے ہیں۔۔۔ شاید آنٹی کے ہاتھوں ذلالت کی بیعت لے چکے ہیں۔۔۔

آنٹی کو “عورت” زات سے بڑا بیر ہے۔۔۔ محلے کی کم و بیش تمام خواتین سے پھڈے بازی کر چکی ہیں۔۔۔  اور تو اور انہیں وہ مرد حضرات بھی بہت کم ظرف محسوس ہوتے ہیں جو خواتیں کی عزت کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ بقول آنٹی وہ “بلاوجہ” عزت نہیں کرتے۔۔۔ کوئی نا کوئی تو بات ہو گی۔۔۔ خیر تو بات چل رہی تھی آنٹی کے خواتین کے ساتھ ان گنت مسائل کی۔۔۔ محلے کی خواتین نے ان کے رویے کی وجہ یہ نکالی کہ چونکہ آنٹی خود حسن کی دولت سے مالامال نہیں، اس لیے انہیں دوسری حسیناوں سے حسد ہے۔۔۔ اور مرد حضرات یہ چہ مگوئیاں کرتے کہ کیونکہ ہم آنٹی کو کوئی لفٹ نہیں کرواتے، اس لیے انہیں دوسری عزت دار خواتین نہیں بھاتی۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ یہ آنٹی جانیں یا اللہ میاں۔۔۔

آنٹی روشن خیالی کی ایک زندہ مثال ہیں۔۔۔ خواتیں کی بے پردگی کو جائز ٹھراتے ہوئے “حجاب” کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔۔۔ ان کا مقصدِزندگی ہے کہ اسلام میں جکڑی ہوئی خواتین کو آزادی دلائیں اور ان میں شعور پیدا کریں کہ وہ عورت نہیں، ایک “کموڈیٹی” ہے۔۔۔ جس کا مقصد “دکھی انسانیت” کی ہمیشہ ہمیشہ خدمت کرنا ہے۔۔۔

آنٹی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ “متحدہ قومی مردار” کے قائد “چلبل پانڈے عرف بھیا جی” کے ہاتھوں بالمشافہ بیعت لینا ہے۔۔۔ آنٹی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پاکستان میں رہتے ہوئے “گوری میم عرف بڑی آنٹی عرف ملکہ الزبتھ” کے ایجنڈوں پر عمل کرنے کی قسم کھائی ہے اور اب ان کی پوری کوشش ہے کہ محلے کی کچھ کمسن بچیاں ہی لونگ سکرٹ پہن کر “بھیا جی – زندہ باد” کا نعرہ لگا دیں۔۔۔

آنٹی کو “ادب” بہت پسند ہے۔۔۔ مسندِبارہ سنگھا سے یہ شعر ان کو بہت پسند ہے:
آوٰ بچو سیر کرائیں تم کو “بلاگستان” کی۔۔۔
جس کی خاطر سہی ذلالت ہم نے دنیا جہاں کی۔۔۔

ادب کی خاطر ان کی قربانیاں رہتی دنیا یاد کی جائیں گی۔۔۔ انہوں نے ادب کے لیے ہر قسم کے ادب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے ادبی کی انتہا کی ہے۔۔۔ اور پھر بھی دوسروں سے ادب کی امید رکھتی ہیں۔۔۔ آخر آنٹی ہیں تو ان کا ادب کرنا تو “بنتا ہے نا باس”۔۔۔

محلے والوں نے اس جمعہ کو بعد از نماز جمعہ “آنٹی” کی دماغی صحت مندی کے لیے خصوصی مولوی کا انتظام کیا ہے۔۔۔ جو اللہ کے حضور رو رو کر آنٹی کے لیے دعا مانگے گا۔۔۔ آپ سب صرف آمین ہی کہہ دو۔۔۔ شاید آپ کی ہی سنی جائے اور محلے والے آپ کے ممنون ہو جائیں۔۔۔

ٓٓٓٓٓٓٓۤ———————————————————————————

میری اس تحریر کا کوئی سر پاوں نہیں۔۔۔ لیکن آنٹی کی باتوں کا بھی تو کوئی سر پاوں نہیں ہوتا نا۔۔۔ اس لیے جس نے میری یہ تحریر پڑھی ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اسے نا صرف پسند کرے بلکہ اچھا سا تبصرہ بھی کرے۔۔۔ ورنہ گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔۔۔

ۤۤۤۤۤۤۤۤۤٓٓٓٓٓٓٓ

ابا جان عرف سر جی

ابا جان بڑے سخت ہیں۔۔۔ اور پھربڑے کٹر معلم یعنی استاد بھی ہیں۔۔۔

سکول میں جب ان کا پیریڈ ہماری کلاس میں لگنے کا کوئی چانس ہوتا تھا تو منتیں ماننے والوں میں سب سے پہلے میں ہوتا تھا کہ اللہ میاں سر جی کا پیریڈ ہماری کلاس میں نا لگوانا۔۔۔ پورے دس نفل پڑھوں گا۔۔۔

یہ سن عیسوی 1993 کا زکر ہے  ابا جان یعنی سر جی ہمیں میتھ میٹکس پڑھاتے تھے۔۔۔ اب میرے جیسا نکما بچہ جو حساب کتاب اور پھر سر جی کے پڑھانے کے انداز سے زہنی مطابقت ہی نہیں رکھتا تھا، ڈرتا گھبراتا سر جی کی ہاں جی ہاں جی میں سر دائیں سے بائیں گھوماتا رہتا تھا کہ جیسے سب سمجھ آ رہا ہے جی۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ جب سر جی کلاس میں ٹیسٹ لیتے اور میں اعلی اور امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا تو جہاں فیل یافتہ طلباء کو دو دو ڈنڈے ہاتھوں پر پڑتے تھے، مجھے ان گنت ڈنڈوں کا سواد ملتا تھا اور اب یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ کہاں کہاں ملتا۔۔۔ بس کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کہیں بیٹھا ہوں یا نہیں۔۔۔

ابا جان بہت نفیس آدمی ہیں۔۔۔ سکول کے تقریبا سارے طلبا ان کے مداح تھے۔۔۔ لیکن میں ہی ایک ایسا جانباز تھا جس نے ان کے “مجھ” پر تشدد کے خلاف بغاوت کا علم اٹھایا اور بھر پور سیاسی انداز میں امی جان سے پرنسپل کو فون کروا دیا۔۔۔ کہ جی “ میں سر جی کی بیگم نہیں بلکہ ان کے ایک شاگرد کی والدہ کے طور پر بات کر رہی ہوں۔۔۔ سر جی نے میرے معصوم بچے پر پھر سے قہر نازل کیا ہے اور معصوم بچہ دن رات  درد سے کراہتا رہتا ہے۔۔۔ آپ سر جی کو پابند کریں کہ جتنی سزا باقی بچوں کو ملتی ہے اتنی ہے میرے معصوم بچے کو دیا کریں۔۔۔ نا کم نا زیادہ”۔۔۔ پرنسپل صاحب نے امی جان کو یقین دہانی کروائی کہ سر جی کو قانون کی پاسداری پر پابند کر دیں گے۔۔۔ میں اپنی اس کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔۔ آج پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ آج سر جی میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔۔۔ خیر۔۔۔ سر جی کا ٹیسٹ اور پھر سزا کا مرحلہ بڑی آسانی سے گزر گیا اور امی کی سفارش رنگ لائی۔۔۔ میں حسب معمول فیل ہو گیا لیکن خلاف توقع مجھے وہ دو ڈنڈے بھی نہیں پڑے ۔۔۔ میں حیران تھا کہ سر جی کے دل میں اتنی پدرانہ شفقت کیسے امڈ آئئ۔۔۔

لیکن پھر اچانک دل میں  ایک ہوک سی اٹھی۔۔۔ چھٹی حس مشکل وقت کے آمد آمد کی نوید سنا رہی تھی۔۔۔ لیکن یہ مشکل وقت ہو گا کیا کیسا۔۔۔ سر جی کی مار سے تو چھٹکارا مل گیا تھا۔۔۔ اب اس سے زیادہ مشکل وقت اور کیسا ہو سکتا ہے۔۔۔

تھکا ہارا سکول سے گھر پہنچا۔۔۔ اور امی کی مدد کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ اماں خاموش کھڑی دروازے کو تک رہی تھیں۔۔۔ ابا جی بھی سکول سے تشریف لا چکے تھے۔۔۔  نہایت شفقت سے مجھے مخاطب ہوئے۔۔۔ کہ “بیٹا، ہر بار کلاس ٹیسٹ میں فیل ہوتے ہو۔۔۔ میری ناک کیوں کٹواتے ہو۔۔۔ آج سے شام کو تم مجھ سے پڑھا کرو گے۔۔۔” میں نے مجبورا اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔ لیکن ان کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ “سکول میں تو تمہاری والدہ کی سفارش نے تمہیں بچا لیا۔۔۔ لیکن گھر میں تو کوئی پرنسپل صاحب نہیں ہیں۔۔۔”

اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ سواد مجھے اس دن بھی ملا۔۔۔ بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ جگہوں پر ملا۔۔۔

نوٹ: مجھے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بہت عرصے بعد ایک ہندی فلم “تارے زمن پر” بھی بنا ئی گئی ہے۔۔۔

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: