سفرنامہ

کراچی میں ایک رات

رات د و بجے اٹریم مال  سے “دا سکائی فال” کا شو دیکھ کر نکلے۔۔۔   بڑے گیٹ سے باہر نکلتے ہی جو پہلا منظر دیکھا۔۔۔   وہ ایک بڑی گاڑی کا تھا، جس کے عقب میں کوئی چھ سات بندوق بردار حضرات بیٹھے کسی کے منتظر تھے۔۔۔ گاڑی کے آگے پیچھے رینجرز کی ایک ایک گاڑی کھڑی تھی۔۔۔   میں اور کاشی ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے۔۔۔ اور انتظار کرنے لگے کہ معاملہ دیکھیں۔۔۔  کچھ دیر بعد ایک حسین و جمیل جوڑا ہاتھ تھامے مال سے نمودار ہوا اور درمیان میں کھڑی گاڑی میں بیٹھ ، ہارن بجاتے یہ جا اور وہ جا۔۔۔ ہم دونوں دوست ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔ کاشی گویا ہوا کہ بھائی سیکورٹی صرف انہی کی ہے۔۔۔ ہو گا کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ  کی اولاد ۔۔۔

کاشی کا موڈ پوری رات مٹر گشتی کرنے کا تھا۔۔۔  اٹریم مال سے روانہ ہوا اور کلفٹن کا رخ کر لیا۔۔۔   ارادہ ساحلِ سمندر  کے سکون کو محسوس کرنے کا تھا۔۔۔ راستے میں “عبداللہ شاہ غازی  کا مزار” تھا…  وجہ عقیدت تھی، کاشف سے درخواست کی کہ بھائی چل اندر چل کر بابا جی کے لیے دعائےِ خیر کرتے چلیں۔۔۔ کاشی نے گاڑی ایک طرف روک لی۔۔۔ گاڑی سے اترتے ہی جو منظر کریہہ منظر دیکھا ، وہ برداشت نا ہوا۔۔۔  مزار کی چوکھٹ پر ہی کچھ چرسی بیٹھے نشے میں دھت ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیوں سے نواز رہے تھے۔۔۔ تھوڑا آگے، کچھ ملنگ (جن پر شاید پانی حرام ہے) بیٹھے منکوں کا ڈھیر لگائے بلند آواز میں کچھ شرکیہ کلام پڑھ رہے تھے۔۔۔  کلام کے الفاظ یاد نہیں، لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ انہوں نے بابا عبداللہ شاہ غازی کو اللہ تبارک تعالیٰ کا ہم پلہ ضرور بنا دیا تھا  (نعوذ باللہ) ۔ یہ سب دیکھ کر واپس گاڑی میں بیٹھا اور کاشی کو چلنے کا کہا۔۔۔ کاشی ہکا بکا تھا کہ اچانک مجھے کیا ہو گیا۔۔۔ لیکن میرا وہاں رکنے کا تھوڑا سا بھی موڈ نا رہا۔۔۔

ساحلِ سمندر پرسکون تھا۔۔۔۔  چاندنی رات اور ہر طرف خاموشی ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھی جس کو محسوس کرنے کی خواہش مجھے ہمیشہ سے ہی تھی۔۔۔  پیزا ہٹ کے قریب کاشی نے گاڑی پارک کی۔۔۔ اور  باہر بنی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔۔۔ باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔۔۔ کاشی سے تقریبا پانچ سال بعد ملاقات ہوئی تھی، اس لیے باتیں کرتے کرتے وقت کا بھی کچھ اندازہ نہیں رہا۔۔۔

پیزا ہٹ کے قریب کچھ نوجوان  کھڑے تھے۔۔۔ جن کے پاس تین موٹر سائیکلیں  تھیں۔۔۔  تھوڑی دیر میں ایک موٹر سائیکل ان کی طرف آتی دکھائی دی۔۔۔ جس پر تین پولیس والے سوار تھے۔۔۔ وہ ان لڑکوں کے پاس پہنچے اور ان میں کچھ تکرار ہونے لگی۔۔۔ اب کاشی مجھے لائیو کمنٹری سنانے لگا۔۔۔

“اب پولیس والے لڑکوں سے پیسے مانگ رہے ہیں۔۔۔   لڑکے تھوڑے بہت پیسے دے کر انہیں بھگانے کی کوشش کریں گے۔۔۔ لیکن پولیس والے نہیں مانیں گے”

میری نظریں اس منظر پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔  ان کی ہلکی پھلکی آوازیں ہم تک بھی پہنچ رہی تھیں لیکن سمجھنے کے لیے نا کافی تھیں۔۔۔

“اب ایک پولیس والا ان لڑکوں کی ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ جائے گا اور اسے تھانے لے جانے کی دھمکی دے گا۔۔۔”

میں نے دیکھا کہ ایک پولیس والا  واقعی لڑکوں کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا اور آگے ایک دوسرا لڑکا بیٹھ گیا۔۔۔ اسی طرح دوسری موٹر سائیکل پر بھی ایک پولیس والا اور ایک لڑکا بیٹھ گیا۔۔۔ چار موٹر سائیکلوں کا کارواں روانہ ہوا اور ہمارے سامنے سے گزر گیا۔۔۔

“اب یہ سب تھوڑی دور جا کر رک جائیں گے اور پولیس والے ان لڑکوں کو تھوڑا اور ڈسکاونٹ دیں گے۔۔۔ لیکن پیسے لیے بغیر جانے نہیں دیں گے”

ہمارے سامنے سے گزر کر تین چار سو میٹر کے فاصلے پر سب موٹر سائیکل والے پھر رک گئے اور پھر ان میں بحث ومباحثہ شروع ہو گیا۔۔۔  میں نے دیکھا کہ لڑکوں نے کچھ پیسے ان پولیس والوں کو دئیے ہیں لیکن پولیس والے پھر بھی ان سے بحث کر رہے ہیں۔۔۔ اسی اثنا میں ایک پولیس موبائل دور سے آتی دکھائی دی۔۔۔

“اب جیسے ہی یہ پولیس موبائل ان کے قریب پہنچے گی۔۔۔ یہ لوگ لڑکوں کو بھگا دیں گے اور خود سائیڈ پر کھڑے ہو جائیں گے”۔۔۔

پولیس موبائل کے قریب پہنچتے ہیں، لڑکے اپنی موٹر سائیکلوں پر بیٹھے اور ایسے روانہ ہوئے جیسے یہ ان کے لیے روز کی بات ہو۔۔۔  موبائل پولیس والوں کے قریب پہنچ کر کچھ دیر رکی اور  پھر آگے بڑھ گئی۔۔۔

میں نے کاشی کو کہا، کہ یار میں نے یہ سب کچھ پہلے سنا ضرور تھا لیکن کبھی دیکھنے کا تجربہ نہیں ہوا۔۔۔ اور آج جب مشاہدہ ہو گیا ہے تو اندازہ ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی واقعی بہت مشکل اور ذلت آمیز ہے۔۔۔

خیر، کچھ دیر بیٹھ کر ہم  نے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔۔۔ پولیس والے اب تک وہیں کھڑے تھے۔۔۔   گاڑی ان کے قریب سے گزارتے ہوئے، کاشی نے اونچی آواز میں پولیس والوں کو کہا۔۔۔ “میں نے دیکھ لیا ہے سب کچھ۔۔۔” اور یہ کہہ کر گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔

Tags : ,

مزارِ قائد اور جسم فروشی

“کاشی یار، کراچی آیا ہوں۔۔۔ تو قائدِ اعظم کے مزار پر ہی لے چل۔۔۔ سلام ہی کر آوں انہیں۔۔۔ “

سڑکوں پر مٹر گشتی کرتے ہوئے میں نے کاشی سے درخواست کی۔۔۔ اور کاشی نے گاڑی مزارِ قائد کی طرف موڑ لی۔۔۔  ایک گیٹ پر اندر داخل ہونے لگے تو ڈیوٹی پر کھڑے اہلکار نے کہا کہ آج داخلہ منع ہے کیونکہ کوئی سرکاری وفد مزار پر حاضری دے رہا ہے۔۔۔ سیکیورٹی کے پیش نظر کسی بھی “سیویلین” کا حاضری دینا آج ممکن نہیں۔۔۔

میں نے کاشی کو کہا ، یار چل ادھر ہی کھڑے ہو کر سلام کرلیتے ہیں۔۔۔ کاشی نے گاڑی تھوڑی آگے کر کے کھڑی کر دی۔۔۔   میں اور کاشی کسی بات پر مشغول تھے، کہ باہر سے ایک نقاب پوش خاتون گاڑی کی طرف آتی دکھائی دیں۔۔۔ میں نے حیرت سے کاشی سے پوچھا کہ یہ بی بی ہماری جانب کیوں آ رہی ہے۔۔۔ بھکارن تو نہیں لگ رہی۔۔۔ جوابا کاشی نے قہقہ لگایا کہ بھائی جان، یہ کاروباری خاتون ہے۔۔۔ جس لہجے میں اس نے بتایا، میں سمجھ گیا کہ “کاروبار” سے مراد کونسا کاروبار ہے۔۔۔

  اس اثنا میں خاتون نے گاڑی کے بند شیشے پر دستک دی۔۔۔ ناجانے میرے پسینے کیوں چھوٹ گئے۔۔۔ میں نے کاشی کو کہا کہ چل یار، یہاں سے نکلیں۔۔۔ کاشی بھی میری کیفیت دیکھ کر مزے لینے کے موڈ میں تھا۔۔۔ اس نے بھی گاڑی نہیں بڑھائی۔۔۔ بلکہ ہنستا رہا اور کہا، کہ چل اب بی بی سے نپٹ۔۔۔ نقاب پوش خاتون  نےدو تین دفعہ دستک دینے کے بعد شاید یہ  اندازہ لگا لیا کہ گاڑی میں بیٹھے یہ دونوں بندے بس ٹائم پاس کر رہے ہیں۔۔۔  وہاں سے ہٹ کر وہ قریب میں کھڑے رکشے کے پاس جا کھڑی ہوئی اور ہماری طرف اشارے کرتے رکشہ ڈرائیور کو کچھ بتانے لگی۔۔۔ میں جو پہلے حواس باختہ ہوئے بیٹھا تھا اور ڈر گیا کہ اب رکشہ ڈرائیور آ کر کہیں ہم سے پھڈا ہی نا شروع کر دے۔۔۔ کاشی  صورتحال سے بھرپور مزے لے رہا تھا۔۔۔

“یار تو دبئی سے آیا ہے۔۔۔ اور اتنی سے بات پر تیرے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔”

خیر اللہ اللہ کر کے اس نے گاڑی دوڑا دی۔۔۔ میں نے کاشی سے پوچھا  کہ یار “مزارِ قائد” میں بھی یہ سب کام ہوتے ہیں۔۔۔ !!! تو کاشی نے بتانا  شروع کیا کہ” یہاں پورا نیٹ ورک ہے جرائم پیشہ افراد کا۔۔۔۔  “جسم فروشی” کا کام جتنامزارِ قائد کے اردگرد اور احاطوں میں ہوتا ہے، شاید ہی کراچی کے کسی اور علاقے میں ہوتا ہو۔۔۔  نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے بھی “ڈیٹنگ” کا سب سے محفوظ مقام  مزارِ قائد کے اردگرد بنے خوبصورت گارڈن اور پارک ہیں۔۔۔ جہاں کونوں کدروں میں بیٹھے جوڑے راز و نیاز اور وہ  وہ کام کرتے ہیں جو شاید بند کمروں میں کرتے ہوئے بھی شرم کا باعث بنیں۔۔۔”

میں نے پوچھا کہ یار کھلے عام ، ان لوگوں کو ہمت کیسے بڑھ جاتی ہے، کیا یہاں  ان کی کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوتی۔۔۔؟   کاشی جو ایک مشہور ٹی وی چینل میں کام کرتا ہے،  کہنے لگا کہ  سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ عورتیں جو یہاں کھڑی ہوتی ہیں، یہ تو  صرف ڈیل کروانے والی ہیں۔۔۔  ان کے ساتھ سودا طے ہو جائے تو یہ گاہگ کو کسی اور جگہ لے جا کر لڑکیاں مہیا کرتی ہیں۔۔۔  اردگرد کے لوگوں کو خاموش رہنے کا الگ پیسہ دیتی ہیں اور پولیس کو الگ۔۔۔ تو کون ان کو روکے۔۔۔

میں قائدِ اعظم  محمد علی جناح کی آخری آرامگاہ کے تقدس کو پامال ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ حیرت ، اورتاسف کے جذبات لیے چلتی گاڑی میں ہاتھ اٹھا کر اپنے قائد کے لیے فاتحہ پڑھی  اور کراچی گھومنے آگے نکل گیا۔۔۔

Tags : , ,

مری میں آمد – شنگریلا ریسورٹ

شنگریلا ریسورٹ ، مال روڈ مری سے تقریباً دس منٹ کی ڈرائیو پر ایک چھوٹا سا ہِل سٹیشن ہے۔۔۔   16 کمروں پر مشتمل  یہ ریسورٹ نہایت خوبصورت اور پرسکون ہے۔۔۔ چاروں طرف سبزہ   اور قدرتی حسن۔۔۔

میرے لیے یہ منظر یوں بھی بلکل نیا ہی تھا۔۔۔ میں نے ساری عمر مصنوعی ترقی اور خوبصورتی تشکیل ہوتے دیکھی ہے۔۔۔  دبئی کے بڑے بڑے شاپنگ مال اور عمارات مجھے کبھی بھی ایسے نہیں بھائے۔۔۔  اور گرمی نے تو ویسے بھی مت مارے رکھی ہے۔۔۔  یہاں کی ہر شے مجھے بے جان اور بےکیف محسوس ہوتی ہے۔۔۔  شاید روز روز ایسے مناظر دیکھ کر اب جذبات میں کوئی “ایکسائٹمنٹ” باقی نہیں رہی۔۔۔

تیس اکتوبر، رات 8 بجے شنگریلا ریسورٹ پہنچے۔۔۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔ سردی کافی ہو رہی تھی۔۔۔ اور کمروں کی قطار کے سامنے ، چوکیدار انگیٹھی لگائے ہاتھ سیک رہا تھا۔۔۔  کھانا وغیرہ کھا کر میں بیگم اور علیزہ کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکل کھڑا ہوا۔۔۔

 ماحول کا جادو تھا یا فراغت کا سکون، کہ آسمان پر جگمگاتے ان گنت ستاروں کی چمک اور انتہائی خاموشی  ایک عجب سا پرکیف لطف دے رہے تھے۔۔۔  میں باہر کرسی پر بیٹھ کر ان ستاروں کو تکنے لگا، جو مجھے ایک طویل عرصے بعد آسمان پر ایک ساتھ اتنی تعداد میں نظر آئے۔۔۔   کچھ پرانے گیت اور یادیں امڈ آئیں۔۔۔ اور  زیر لبِ “تاروں بھری رات، بھولے نا کبھی” گنگنانے لگا۔۔۔

درختوں کی اوٹ میں چھپا چاند – شنگریلا

خاموشی اور یادوں کا یہ تسلسل، علیزہ کی  آواز نے توڑا۔۔۔ “بابا ، بابا۔۔۔۔ اُدھر چلو نا”۔۔۔ علیزہ کا اشارہ ایک طرف اونچائی پر جاتے رستے کی جانب تھا۔۔۔   “بیٹا ، ابھی نہیں۔۔۔ ابھی بہت اندھیرا ہے۔۔۔ صبح چلیں گے”۔۔۔ علیزہ نے ضد پکڑ لی کہ ابھی جانا ہے۔۔۔ انہیں چوکیدار نے بتایا تھا کہ وہاں بچوں کے جھولے ہیں۔۔۔  خیر کسی نا کسی طرح اسے منایا کہ صبح ناشتہ کر کے اوپر چلیں گے۔۔۔

مجھے کرسی پر براجمان چھوڑ کر،  علیزہ کبھی پھولوں کے پاس اور کبھی جگہ جگہ بنے بینچوں پر کھیلنے لگی۔۔۔ بیگم اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔ وہ اسے پکڑ کر لاتی اور علیزہ ہاتھ چھڑا کر پھر آگے بھاگ جاتی اور ساتھ ساتھ قہقہے لگاتی ، بابا ۔۔۔ بابا پکارتی جاتی۔۔۔   اور میں علیزہ کی شرارتیں دیکھ کر  اللہ کا بڑا شکر ادا کر رہا تھا کہ اللہ تبارک تعالٰی نے مجھ گناہگار کو علیزہ کے روپ میں بہترین تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ اللہ اس کے نصیب اچھے فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

ہم نے پروگرام بنایا کہ صبح ناشتے کے بعد مال روڈ چلیں گے۔۔۔ اور علیزہ بڑی مشکل سے منا کر کمرے میں لے آئے۔۔۔ وہ مزید کھیلنا چاہتی تھی اور میرا تھکاوٹ سے برا حال تھا۔۔۔ کمروں میں ہیٹر کی سہولت موجود تھی۔۔۔ اس لیے بڑا سکون رہا۔۔۔

میری آنکھ صبح چھ بجے کھلی۔۔۔ علیزہ اور بیگم اب بھی سو رہے تھے۔۔۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی سے پردے سرکائے۔۔۔ باہر کا منظر میرے لیے حیران کن حد تک خوبصورت تھا۔۔۔ دور دور تک سبز پہاڑ  اور افق  پر کہیں سفید اور کہیں گہرے کالے بادل میرے لیے دلکشی کی انتہاء تھے۔۔۔ میں نے جیکٹ پہنی اور  کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔ سیدھا ریسٹورنٹ گیا، وہاں سے ایک کپ کافی کا پکڑا اور چہل قدمی کرتا، ایک پگڈنڈی کی طرف چل نکلا۔۔۔ دونوں طرف طویل قامت درخت  کی قطار،  پرندوں کی چہکنے کی آواز اور نیم گیلی سڑک جو پستی کی جانب مڑ رہی تھی۔۔۔ چلتا چلتا کافی دور چلا آیا۔۔۔ حُسن ِ منظر میں ایسا کھو چکا تھا کہ کتنا چلا، اس کا اندازہ نہیں۔۔۔ کہیں کہیں رک کر اپنے موبائل سے تصاویر بھی بناتا رہا۔۔۔  دل یوں چاہ رہا تھا کہ کاش یہ سفر کبھی ختم نا ہو۔۔۔ یہ وقت یہیں تھم جائے۔۔۔ اور میں ہمیشہ کے لیے یہیں بسر کر لوں۔۔۔

 

صبح کا منظر

افق کے خوبصورت رنگ

خوبصورت درخت اور آسمان کے مختلف رنگ

پستی کی جانب جاتی یہ سڑک

کمروں کے باہر کشادہ اور پرسکون جگہ

 

 

 

Tags : , ,

سفر نامہ / Suffer-nama

یوں تو بندہ (مراد بذات خود، یعنی میں یعنی عمران اقبال) ہر طرح کے سفر سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر تین گھنٹے کی فلائیٹ گزار کر لاہور بھی جانا پڑے تو جان پر بن آتی ہے۔۔۔ آخر کیا کریں ان تین گھنٹوں میں۔۔۔ سوائے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کروٹیں بدلنے کے۔۔۔ یا اپنے ہمسائے کی “ڈاکخانہ” ملانے کی کوشش اور پھر ان کے سفر کرنے کی ذاتی وجوہات سننے اور برداشت کرنے کے۔۔۔ آن فلائیٹ اینٹرٹینمنٹ بھی کچھ زیادہ اینٹرٹین نہیں کرتا۔۔۔ ایک دو کلک کے بعد بور ہو جاتا ہوں۔۔۔۔

میرا یار برھان منہاس جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔۔۔ اکثر ضد کرتا ہے کہ ویزہ لگواں اور امریکہ کا چکر لگا لوں۔۔۔ اور میں یہ سوچ کر ہی ویزہ کے لیے اپلائی نہیں کرپاتا کہ کون اٹھارہ گھنٹے جہاز میں بیٹھے۔۔۔ سفر سے میری بیزاریت کا عالم یہاں تک ہے کہ آئل اینڈ گیس کی ایک کانفرنس مئی میں ہیوسٹن میں منعقد ہو رہی ہے۔۔۔ اور میرا اس میں شرکت کرنا میرے کیرئیر کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔ میری کمپنی مجھے اور میری ایک کولیگ کو وہاں بھیجنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔۔۔ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔۔۔ اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔۔۔

واللہ، میں بھی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کہ نا تو سکون سے بیٹھا پاتا ہے۔۔۔ اور نا اپنی خاموش خلا میں کسی کی غیر ضروری مداخلت پسند کرتا ہے۔۔۔ سفر کے دوران وقت گزاری کے لیے کوئی کتاب پڑھنا تو بہتر محسوس ہوتا ہے۔۔۔ لیکن کسی اجنبی شخص سے “وقت گزاری” کرنا مجھے زرا بھی نہیں بھاتا۔۔۔ خیر۔۔۔ جیسے میں نے عرض کی کہ میں بڑا ہی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کوئی اور سمجھے تو سمجھے، میں تو خود کو زرہ برابر نہیں سمجھ پایا۔۔۔

اس مرتبہ سفر کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ اپنی گزری زندگی ایسے تجربے سے بلکل نافہم ہی رہی۔۔۔ اور وہ یہ تھی کہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی کے ہمراہ چھٹیاں گزاری جائیں۔۔۔ اور یہاں چھٹیوں سے مراد، ایک محدود مدت کے لیے آفس کی چخ چخ ، باقی دنیا سے کنارہ کشی ، کچھ پرانے اور نئے احباب سے ملاقات ہے۔۔۔ تو اپنی بارہ دن کی چھٹیوں کو ایسے پلان کیا کہ ڈسکہ، اپنے آبائی گاوں “بوبکانوالہ” ، گوجرانوالہ، لاہور، اسلام آباد، مری اور کراچی کی “سیاحت” کی جائے۔۔۔ اور ان بارہ دنوں میں جان، مال اور رشتے داروں سے عزت بچا کر واپس دبئی پہنچنا ہی شایدمیری کامیابی رہی۔۔۔

چیدہ چیدہ تجربے جن کے بارے میں لکھنے کا ارادہ ہے اور انشاءاللہ موقع ملا تو جلد ہی لکھ بھی دوں گا وہ یہ رہے۔۔۔

مری میں قیام اور تجربے
اسلام آباد میں انتہائی دلکش بلاگر دوست”بلاامتیاز” سے ملاقات۔۔۔
خانصپور میں ایک بزرگ “ٹورسٹ گائیڈ” سے ملاقات۔۔۔
کراچی میں دو دن کی روداد اور اپنے بہت عزیز دوست “وقار اعظم اور کاشف نصیر” سے ملاقات۔۔۔

(یہ سلسلہِ سفرنامہ امتیاز کی فرمائش پر لکھ رہا ہوں۔۔۔ ورنہ جو خوبصورت وقت گزرا، اس کے بارے لکھنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔ اب بس دعا کریں کہ سلسلہ پورا لکھ ہی دوں۔۔۔)

Tags : , , ,

کالا صاب – پارٹ ٹو

یوں تو جو بھی استادِ محترم نے لاہور ائیرپورٹ پر دیکھا ، میرا تجربہ کچھ زیادہ مختلف نا تھا۔۔۔ ما سوائے کہ استادِ محترم صبر کا پیمانہ ہاتھ میں تھامے امیگریشن کی قطار میں کھڑے اپنے سبزپاسپورٹ پر “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں آفیشل داخلے کا ٹھپہ لگوانے کے منتظر رہے۔۔۔ اور میں اپنے سب اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جرم کر بیٹھا۔۔۔

قصہ یوں ہوا کہ جوں ہی ہمارے شاہین مسافر لاہور ائیرپورٹ پر اترے۔۔۔ ساری تمیزداریاں بھولے، اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دینے کو اتاولے ہوئے جاتے تھے۔۔۔ پاسپورٹ کنٹرول پر چار عدد خوبرو اور بانکے چھبیلے بزرگ افسران بیٹھے “مستعدی” دکھا رہے تھے۔۔۔ حالانکہ امارات ائیرلائن کا بوئنگ 777 طیارہ جو نان سٹاپ ، بارو باری، فل پیسنجر آیا تھا۔۔۔ اور اتنی کثیر تعداد کو جلد اذ جلد نپٹنے کے لیے چار وں حضرات بظاہر ناکافی تھے ۔۔۔ لیکن انا بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ اب کاونٹروں پر قطار لگانا تو ہم پاکستانیوں کی شان کے خلاف ہے۔۔۔ اس لیے چار کی بجائے ان گنت قطاریں سج گئیں۔۔۔

میں اپنے طور پر ممی ڈیڈی بچہ بنے، حیرت سے یہ سوچ رہا تھا کہ کونسی قطار کا حصہ بنوں ۔۔۔ جس سے باری جلدی آ جائے۔۔۔ لیکن سمجھ جواب دے گئی اور میں آنکھیں کھولے کوئی آسان حل ڈھونڈنے لگا۔۔۔ میری شکل اور عقل کا اندازہ لگا کر ایک پورٹر صاحب میری جناب بڑھے۔۔۔ اور اپنے لب میری کانوں کے پاس لا کر گویا ہوئے۔۔۔
” سر جی، جلدی ہے۔۔۔!!!”
ہاں یار جلدی تو ہے۔۔۔
“فکر نا کریں جناب۔۔۔ آپ چاہیں تو آپ کا کام جلدی کروا دیتا ہوں۔۔۔”
وہ کیسے۔۔۔؟
“آپ اپنا پاسپورٹ مجھے دیں، اور میرے پیچھے چلے آئیں۔۔۔”
بھائی جان، وہ تو ٹھیک ہے، پیسے کتنے لو گے۔۔۔؟
“کیسی بات کرتے ہیں سر جی، آپ تو اپنے بھائی جیسے ہیں۔۔۔ جتنا دل چاہے، اتنی عیدی دے دیجیے گا۔۔۔”
ھممم ، چلو ٹھیک ہے۔۔۔

اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔۔ ان حضرت نے مجھے کاونٹر کراس کروایا اور ایک بزرگ افسر کے پاس جا کر میرا پاسپورٹ اس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔ آنکھوں آنکھوں میں دونوں حضرات نے کچھ باتیں کیں۔۔۔ افسر نے میرے پاسپورٹ پر ٹھپہ لگایا۔۔۔ اور میری طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔ میں نے بھی جوابی مسکراہٹ سے ان کی مستعدی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
پورٹر صاحب میرے پاس آئے۔۔۔ اور پاسپورٹ مجھے دیتے ہوئے بولے، “آئیں سر، اب آپ کا سامان لے لیں۔۔۔”

سامان آتے آتے مزید پندرہ منٹ لگ گئے۔۔۔ لیکن پورٹر صاحب پوری جانفشانی سے میری خدمت کا لطف اٹھا رہے تھے۔۔۔ سامان آتے ہی میرا سامان ٹیکسی تک پہنچایا۔۔۔ اور میرے سامنے آ کر دانت دکھاتے ہوئے بولے۔۔۔ “سر جی، دیکھ لیں، آپ کے دو گھنٹے بچا لیے۔۔۔”

میں نے پورٹر بھائی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ اور جیب سے دو سو روپے نکال کر اسے اس کی محنت کا صلہ دینے کی کوشش کی۔۔۔ اب کی بار ان کے دانت نہیں، بلکہ آنکھیں باہر نکل آئیں۔۔۔ “سر جی، کیا مذاق کر تے ہیں۔۔۔ پانچ سو تو صرف پاسپورٹ افسر کو دینا ہے۔۔۔ کچھ درہموں میں دیں نا۔۔۔ بچے دعائیں دیں گے۔۔۔”

میں نے کہا یار، میرے پاس درہم تو فی الحال نہیں ہیں، لیکن تم نے اتنی مدد کر دی ہے تو میں زیادہ سے زیادہ تمہیں سات سو روپے دے سکتا ہوں۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔۔ بڑی بحث کے بعد آخر اسے پیار محبت سے آٹھ سے روپے کی “رشوت” دے کر اپنی جان چھڑوائی اور اپنی بیٹی سے ملنے ڈسکہ روانہ ہوا۔۔۔

نخرے تو ہم نے ساری عمر دوسروں کے اٹھائے ہیں۔۔۔ لیکن پاکستان پہنچتے ہی جو”عزت” مجھے پورٹر صاحب اوربزرگ افسر نے دی۔۔۔ اس نے مجھے میرے نفس کو یقین دلا دیا۔۔۔ کہ ہونہہ، گورے کیا ہوتے ہیں۔۔۔ اپنے ملک میں تو ہم کالے بھی، “کالے صاحب” ہی ہیں۔۔۔ جہاں جہاں دوسروں کی عزتِ نفس پامال کرنی ہو۔۔۔ یہ خدمت ہم سے اچھی کوئی کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے جیسے ہزاروں “کالے صاحب” اپنی عزت نفس خود اپنے ہاتھوں سے مجروح کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔۔۔ اور انہیں کوئی تکلیف یا بےعزتی بھی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔

رکیے حضرات، یہ ایسا واحد جرم نہیں جو میں نے پاکستان میں کیا۔۔۔ اس طرح کے “ہلکے پھلکے “جرم قدم قدم پر میں کرتا آیا ۔۔۔ اس لیے نہیں کہ میرے پاس بڑے پیسے تھے۔۔۔ بلکہ اس لیے کہ میرے پاس اور کوئی “چوائس ” نہیں تھی۔۔۔ ان جرائم کی تفصیلات پھر کبھی۔۔۔

یہ تحریر استادِ محترم جناب جعفر حسین کے کالمکالا صاحب   سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔۔۔

 

Tags : , ,

لبیک – قسط سوم – مکہ مکرمہ اور بیت اللہ

نوٹ: میری اس تحریر کا مقصد “ریاکاری” ہرگز نہیں ہے۔۔۔ نا ہی مجھے دنیا کے سامنے نیک بننے کا شوق ہے۔۔۔ اور نا ہی مجھے یہ یقین ہے کہ میں اچھا انسان ہوں۔۔۔ بلکہ میرا ماننا ہے کہ یقیناً روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہگار انسان کوئی نہیں ہے۔۔۔ براہ کرم اس تحریر کو صرف ایک سفرنامہ اور ایک تجربے کے طور پر لیجیے۔۔۔ شکریہ

پہلا عمرہ اور پہلا نظارہِ بیتُ اللہ۔۔۔ کیا احساسات ہو سکتے ہیں انسان کے۔۔۔؟

جوں جوں گاڑی مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ دل کی دھڑکن نہایت تیز ہو گئی۔۔۔ بےقراری ہی سمجھ لیں جس نے دو گھنٹے کی مسافت کو ناجانے کتنے سالوں کے لمحات بنادیا۔۔۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہی تھی۔۔۔ دل ندامت سے بھرپور تھا۔۔۔ اُسی سوچ کے ساتھ کہ جانے میرے گناہ مجھےاتنی پاک جگہ کیسے جانے دیں گے۔۔۔ میں تو اس قابل ہی نہیں کہ مجھے زیارتِ بیت اللہ کا شرف بخشا جائے۔۔۔ میں وہ ساری دعائیں دل ہی دل میں دہرانے لگا جو مجھے کعبہ کے پہلے دیدار پر مانگنی تھیں۔۔۔ اور بھی بہت سے لوگوں کی دعاووں کے لیے گزارشات یاد آئیں کہ جب بھی کوئی مجھے دعا کے لیے کہتا ، میں صرف انشاءاللہ ہی کہہ پاتا اور دل میں سوچتا کہ میں اس قابل کہاں کہ کسی کے لیے دعا کر سکوں۔۔۔

عشاء کی نماز راستے میں ہو گئی لیکن سلمان صاحب گاڑی روکنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ دیر ہو جائے گی۔۔۔ نماز حرم جا کر ہی پڑھیں گے۔۔۔ میں بادلِ ناخواستہ خاموش ہو گیا کہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سے سلمان سے ضد کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا۔۔۔

دس بجے مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوئے۔۔۔میں زبان پر مسلسل تلبیہ کا ورد کر رہا تھا۔۔۔ اور گاڑی کی رفتار سے بھی تیز گزرتی ہوئی نئی بنی عمارتوں کو تک رہا تھا۔۔۔ کہ کبھی یہاں صحابہ کرام رہتے ہونگے۔۔۔ کبھی یہاں رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ہو گا۔۔۔ کتنی مبارک زمین ہے یہ۔۔۔

اچانک سلمان نے میری توجہ بائیں طرف گزرتی ایک خوبصورت مسجد کی طرف مبذول کرائی اور بتایا کہ یہ مسجد عائشہ ہے۔۔۔ مکہ مکرمہ میں رہنے والے مسجد عائشہ سے ہی احرام باندھتے ہیں۔۔۔ اس وقت مجھے مسجد عائشہ کی تاریخی حیثیت کا علم نہیں تھا۔۔۔ فارغ وقت میں کچھ ریسرچ وغیرہ کی تو یہ پتا چلا کہ مسجد عائشہ حرم پاک سے تقریباً ساڑھے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے۔۔۔ اور حجۃ الوداع کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے عمرہ کے لیے احرام اور نیت یہاں باندھی تھی۔۔۔


مسجد عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

اب مکہ کا مشہور “کلاک ٹاور” بہت واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ ہم حرم پاک کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ پانچ منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد حرم پاک کے مینار نظر آئے۔۔۔ میں دور سے ہی میناروں کے نظارے میں گم تھا کہ پھر اچانک سلمان صاحب کی آواز آئی کہ بھائی ہوٹل پہلے دیکھ لیں یا عمرہ کے بعد۔۔۔ میں نے کہا ، بعد میں ہوٹل کا بندوبست کریں گے، ابھی سیدھا بیت اللہ چلو۔۔۔ اب مزید انتظار مشکل ہے۔۔۔




کچھ فاصلے سے گاڑی سے ہی حرم پاک کا پہلا منظر

مسجد الحرم کے باہر ایک پل کے جانب لگا یہ بل بورڑ، جس پر مستقبل کے توسیعی منصوبہ کی تصویر ہے۔ انشاءاللہ چند سالوں میں کعبہ کے اردگرد ایسی ہی بلندو بالا عمارتیں کھڑی ہونگی، جو حجاج کرام کی سہولت کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔

سلمان کا چونکہ مکہ مکرمہ باقاعدگی سے آنا جاناہوتا ہے تو اس نے کہا ویسے تو گاڑی کے لیے پارکنگ ملنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ہم حرم پاک کے بلک سامنے واقع ہلٹن ہوٹل کی بیسمنٹ میں پارکنگ کریں گے۔۔۔

ماہ رمضان کے بعد تو ویسے بھی زائرین کا رش بہت کم ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے ہمیں سڑکوں پر بھی کچھ خاص ٹریفک اور چہل پہل نظر نہیں آئی۔۔۔ گاڑی ہلٹن ہوٹل کی پارکنگ میں پارک کرنے کے بعد میں اپنا احرام سنبھالتے باہر نکلا ۔۔۔ چونکہ پہلی دفعہ تھی اس لیے “لنگی” کی طرح باندھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن خیر کسی نا کسی طرح وہیں کھڑے کمر کس ہی لی۔۔۔

لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمدہ والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک پڑھتے ہوئے میں اور سلمان مسجد الحرم کی جانب بڑھے۔۔۔ سلمان نے یاد دہانی کروائی کہ بھائی، کعبہ کو پہلی نظر دیکھتے ہی جو بھی دعا کرو، وہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ اس لیے یاد کر لو کہ کیا کیا دعا مانگنی ہے۔۔۔ دماغ میں اچانک بھابھی (سلمان کی زوجہ محترمہ) کی بھی بات یاد آگئی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بھائی، آپ جتنا بھی سوچ لوکہ کیا کیا مانگنا ہے یا دعا کرنی ہے، وہاں پہنچ کر کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ بہت کچھ دماغ سے نکل جاتا ہے، بس دل سخت ہو جاتا ہے۔۔۔




مسجد الحرم کی جانب بڑھتے ہوئے انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر

جاری ہے۔۔۔

Tags : , , , ,

لبیک – قسط دوم – الھفوف سے مکہ مکرمہ تک

 

عظیم میرا جگری دوست اور میری چچی کا بھانجا ہے۔۔۔ تقریباً آٹھ سال ہم نے دبئی میں ساتھ کام بھی کیا اور روم میٹ بھی رہے۔۔۔ توصیف اور خرم اس کے ماموں زاد بھائی ہیں ۔۔۔ تینوں احباب چار گھنٹوں سے میرے انتظار میں سوکھ رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی حکام کا رویہ کیسا ہے۔۔۔ باہر آ کر سلام دعا ہوئی اور الحفوف کی جانب رواں دواں ہوئے۔۔۔ توصیف گاڑی چلا رہا تھا اور پچھلی سیٹ پر عظیم اور میں براجمان تھے۔۔۔ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے بعدالحفوف پہنچے۔۔۔ جہاں توصیف کے والدین ہمارا انتظار کر رہے تھے۔۔۔

عظیم اور میرا پلان یہ تھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد الحفوف سے ڈرائیو کر کے جدہ تک جائیں گے جو تقریباً سولہ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے عظیم صاحب کی گاڑی نے انہیں دغا دے دیا اور گیراج جانے کے لیے تیار کھڑی ہی ہو گئی۔۔۔ جمعہ کو تو کوئی گیراج کھلا نا تھا اس لیے ایک رات اور الحفوف میں گزارنی پڑی۔۔۔ اور بروز ہفتہ صبح صبح گاڑی لے کر گیراج چلے گئے۔۔۔ گاڑی ایک بجے تیار ہوئی اور ہم دونوں نے رختِ سفر باندھا۔۔۔

بہت یادگار لیکن تھکا دینے والا سفر تھا۔۔۔ رستے میں صرف نمازوں کے لیے رکے یا ایک بار کھانے کے لیے۔۔۔ تین سال بعد ہم دونوں دوست ملے تھے۔۔۔ توبہت سی باتیں تھی کرنے کے لیے۔۔۔ نا صرف ذاتی نوعیت کی بلکہ مذہبی اور سیاسی معاملات پر بھی پرمغز گفت و شنید ہوئی۔۔۔ عظیم خود کو فلاسفر سمجھتا ہے۔۔۔ اور کسی حد تک ہے بھی۔۔۔ دجال اور دنیا میں پھیلتے دجالی سسٹم کے بارے میں عظیم کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کے لیے۔۔۔ میں خاموشی سےسنتا رہا۔۔۔ اور جب میں نے نوٹ کیا کہ یہ فلاسفر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا ہے۔۔۔ تو میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ بس کر بھائی۔۔۔ میں چھٹیوں پر آیا ہوں۔۔۔ اور اپنے دماغ پر سوچنے سمجھنے جیسا مشکل بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔ تو وہ کھسیانا ہو کر چپ ہو رہا۔۔۔

 

clip_image002clip_image004

الحفوف سے الریاض تک کا راستہ ایسا ہی سنسان ہے۔۔۔ میلوں تک حدِ نگاہ صحرا ہی صحرا ہے

clip_image006

مجھے بتایا گیا کہ یہاں سے الریاض شروع ہوتا ہے

 

clip_image008

clip_image010

الریاض کے فوراً بعد بہت ہی خوبصورت پہاڑی سلسہ شروع ہوجاتا ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بڑے بڑے پہاڑ کاٹ کر نہایت خوبصورت سڑکیں بنائی گئ ہیں۔۔۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک شام کا اندھیرے نے مجھے مزید تصاویر لینے اور دیگر علاقاجات کے نام پڑھنے اور نوٹ کرنے سے محروم نا کر دیا۔۔۔

clip_image012clip_image014

 

مجھے اس کے ساتھ اپنے چچا زاد بھائی سلمان کے پاس جدہ جانا تھا جہاں عظیم کو مجھے چھوڑ کر ینبوع چلا جانا تھا۔۔۔ عظیم صاحب اپنے عادت کے مطابق جدہ کا راستہ بھول گئے۔۔۔ اور سلمان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے انہیں فون کیا۔۔۔ سلمان نے جو راستہ عظیم کو بتایا وہ طائف سے ہو کر گزرتا تھا۔۔۔ طائف سے جدہ کی سڑک خوبصورت لیکن نہایت خطرناک ہے جو پہاڑی سلسلے کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔۔۔ پیمائش تو نہیں مانپ سکالیکن سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔

کافی سفر کے بعد ایک بورڈ نظر آیا جس پر ایک طرف مکہ مکرمہ کا اشارہ تھا اور دوسری جانب "غیر مسلموں کے لیے باہر " جانے کا اشارہ تھا۔۔۔ سلمان صاحب کی ہدایت کے مطابق عظیم نے "غیر مسلموں کے لیے باہر" جانے کا راستہ لیا۔۔۔ جو ہمیں سیدھا جدہ لے جاتا۔۔۔ لیکن عظیم صاحب تو عظیم ہیں جو وہاں سے بھی راستہ بھول گئے اور ناجانےکس راستے نکل پڑے۔۔۔

دور سے "مکہ کلاک ٹاور" نظر آیا تو میں چیخ اٹھا۔۔۔ کہ بھیا ہم تو مکہ کی جانب جا رہے ہیں۔۔۔ عظیم تھوڑا پریشان ہو گیا۔۔۔ اور کہنے لگا ، یار اگر مکہ کی جانب آ گئے ہیں تو سمجھو سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بڑھ گیا ہے۔۔۔ گاڑی جوں جوں مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی، میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔ اور میں تیز ائیر کنڈیشن میں بھی پسینہ سے شرابور ہو گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اور زبان پر خود بخود سبحان اللہ کا ورد جاری ہو گیا۔۔۔

 

clip_image016 clip_image018

clip_image020

منیٰ سے گزرتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث سے کچھ خاص تصاویر نہیں لے سکا۔۔۔ بس یہی کوالٹی بن سکی

 

گاڑی کلاک ٹاور کے قریب سے ہوتے ہوئے منیٰ کے درمیان سے گزر رہی تھی اور میں دونوں جانب حاجیوں کے لیے بنائے گئے سفید خیمے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں جس مقصد کے لیے سعودی عرب آیا ہوں کیا میں وہ مقصد پورا کر پاوں گا۔۔۔ کیا میں گناہ گار اس قابل ہوں کہ اللہ کے گھر حاضری دے سکوں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے گناہوں اور کوتاہیوں کے باعث اللہ تبارک تعالٰی مجھے بس یہیں سے واپس بھیج رہا ہے۔۔۔ اور بیت اللہ کا طواف کرنا بس میرا خواب ہی رہ جائے گا۔۔۔ کیا میرا قبیح جسم بیت اللہ پر قدم رکھنے کے قابل بھی ہے۔۔۔ شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ اٹھے۔۔۔ اور دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور درخواست کی کہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔۔۔

جدہ پہنچتے ہی سلمان اور بھابھی نے خوب خاطر مدارت کی ۔۔۔ تھکاوٹ کے مارے حال براتھا۔۔۔ عظیم تو کھانا کھاتے ہی سو گیا کہ اسے صبح صبح ینبوع کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ سلمان صاحب کے ساتھ اگلے دن مورخہ 4 ستمبر کو عمرہ کا پروگرام بنا۔۔۔۔ سلمان ایک رینٹ-اے – کار کمپنی میں اسسٹنٹ آپریشن مینیجر ہے اور اس کا فون مستقل چلتا رہتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ تو جائیں لیکن اس سے بات کرنا بہت مشکل ہے کہ اس کا زیادہ وقت فون پر ہی گزرتا ہے۔۔۔ بڑے ترلوں کے بعد اس کا فون بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔

بروز 4 ستمبر ، سلمان دوپہر کو ہی گھر آ گئے ۔۔۔ انہوں نے ضد کی کہ احرام گھر سے باندھیں گے۔۔۔ جو مجھے قبول نا تھا۔۔۔ میں نے اپنے استاد صاحب کو عجمان فون کیا اور ان سے مسئلہ پوچھا کہ کیا میں بھی احرام جدہ سے ہی باندھ سکتا ہوں تو انہوں نے منع فرما دیا اور میقات پر جانے کا مشورہ دیا۔۔۔ بادل ناخواستہ سلمان کو میری بات ماننی پڑی اور ہم نے میقات الجحفہ جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔

 

clip_image022clip_image024

clip_image026clip_image028

clip_image030

 
 

مسجد میقات الجحفہ میں غسل کا بہترین اہتمام ہے اور مسجد کے باہر کچھ دکانیں ہیں جہاں سے زائرین اپنے لیے احرام، قینچی چپل، بیلٹ، صابن اور ریزر جیسی اشیاء خرید سکتے ہیں

مسجد میقات الجحفہ جدہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ شام سوا چھے بجے مسجدِ میقات الجحفہ پہنچے اور پہلے نماز مغرب پڑھی پھر صفائی ستھرائی اور نہا دھو کر احرام باندھا۔۔۔ چونکہ یہ میرا پہلاعمرہ تھا اس لیے سلمان ہی میری رہنمائی کر رہا تھا۔۔۔ احرام باندھنے کے بعد مسجد میں دو نفل پڑھے اور نیت باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ گئے۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔

Tags : , , , ,

لبیک – قسط اول – پہلا تجربہ

یکم ستمبر سوا دس بجے فلائیٹ ا لدمام ائیر پورٹ پر اتری۔۔۔ اور میں جہاز سے اتر کر امیگریشن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ مختلف کاونٹروں پر لمبی قطار یں پہلے ہی منتظر تھیں۔۔۔ میں بھی ایک قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ مجھے لینے آئے عظیم، توصیف اور خرم باہر میرے منتظر تھے۔۔۔ میں نے فون پر انہیں اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور کہا کہ انشاءاللہ آدھے گھنٹے میں سارے مراحل سے گزر کر میں ان سے ملوں گا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلے کچھ گھنٹے میرے لیے نہایت اذیت ناک ہوں گے۔۔۔


تقریباً آدھا گھنٹہ بیت گیا اور جس قطار میں میں کھڑا تھا وہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ کل ملا کر صرف تین کاونٹر پر سعودی حکام بیٹھے تھے۔۔۔ اور تینوں قطاریں بس آہستہ آہستہ رینگ رہی تھیں۔۔۔ میں نے جھنجلاہٹ میں تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھا کہ مسئلہ کیا ہے، لوگ نکل کیوں نہیں رہے۔۔۔ دیکھا، کہ تینوں حکام آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور کسی کے سامنے کوئی مسافر نہیں کھڑا۔۔۔ جو آگے بڑھتا، اسے اشارے سے اپنی جگہ کھڑا رہنے کا کہتے اور پھر کبھی موبائل سے کھیلنے لگتے اور کبھی اٹھ کر دوسرے کے پاس جا کر کھڑے ہو جاتے۔۔۔ میرا دماغ گھوم گیا کہ یہ کر کیا رہے ہیں۔۔۔ میرا دل چاہا کہ جا کر کسی سعودی سے بات کروں کہ بھائی کچھ کام کر اور ہمیں فارغ کر۔۔۔ لیکن یہ بھی جانتا تھا کہ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔ اسی جھنجلاہٹ میں واپس اپنی جگہ آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔

کچھ دیر بعدشاید انہیں خیال آیا کہ اب کچھ کام کرنا چاہیے۔۔۔ تو ان میں سے دو نے کام شروع کیا اور تیسرا اسی طرح اونچی اونچی آواز میں دوسروں کو چھیڑنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔ تقریباً سوا گھنٹے کی انتظار کے بعد میرا نمبر بھی آ ہی گیا۔۔۔ امیگریشن کے افسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور پھر میری طرف واپس پھینک دیا۔۔۔ اور “نیو ویزا “کہہ کر ہاتھ کے اشارے سے آخری کاونٹر پر جانے کا حکم دے دیا۔۔۔ میں نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھااور کہا کہ میں پچھلے سوا گھنٹے سے اپنی باری کا انتطار کر رہا ہوں، اس لیے براہ مہربانی یہیں پر پاسپورٹ پر سٹیمپ لگا دے۔۔۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ حیرت اور غصے سے دھاڑا اور “نیو ویزا” کہہ کر پھر آخری کاونٹر کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ بھائی صاحب کو میری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ اور اس کا وقت مزید کھوٹا کرنے سے بہتر ہے کہ میں شرافت سے آخری کاونٹر پر جا کر کھڑا ہو جاوں۔۔۔

آخری کاونٹر بدقسمتی سے اسی افسر کا تھا جو باقی دو افسران کو جگتیں مار رہا تھا اور اس کا کام کرنے بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ میں ایک پاکستانی بھائی سے بات چیت کے بہانے اس کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ وہ بھی کوئی نہایت ہی شریف آدمی تھا جس نے خاموشی سے مجھے اپنے سے پہلے کھڑا ہونے کی اجازت دے دی۔۔۔ یہ قطار ان حضرات پر مشتمل تھی جو نئے ویزٹ یا ایمپلائمنٹ ویزے پر سعودیہ ظہور پزیر ہوئے تھے۔۔۔

بارہ بجتے ہی تینوں کاونٹرز سے حکام اٹھے اور کہیں غائب ہو گئے۔۔۔ اب اگلا آدھا گھنٹہ ہمیں پھر سے انتظار کرنا تھا کہ کوئی آئے اور ہمیں انتظار کی اس کوفت سے آزاد کرے۔۔۔ آخر کار دو اہلکار ہنستے کھیلتے آئے اور دو کانٹرز پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرنے لگے۔۔۔ ہمارا خالی کاونٹر اب بھی ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ انتظار اور یہ گھڑیاں اتنی تکلیف دہ تھیں کہ بتانا مشکل ہے۔۔۔

ایک بجے ایک چھوٹے سے قد کا سعودی اہلکار ہمارے سامنے سے منہ میں سگریٹ سلگائے گزرا اور ہم پر نہایت طنزیہ نگاہیں ڈال کر بولا “ویٹ”۔۔۔

ہمیں تھوڑی سے ڈھارس بندھی کہ چلو اب آ ہی گیا ہے بندہ ۔۔۔ لیکن یہ بندہ بھی کہیں دوسرے کمرے میں جا کر گم ہو گیا۔۔۔ ڈیڑھ بجے وہی حضرت کہیں سے نمودار ہوئے اور کاونٹر پر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔ اور اپنے موبائل سے کھیلنے لگے۔۔۔ آخر کار ان کے ذاتی کام ختم ہوئے اور انہیں اپنا آفیشل کام کرنے کا خیال آیا۔۔۔ اور انہوں نے بندے بلانے شروع کر دیے۔۔۔ دو بجے کے قریب میرا نمبر آیا۔۔۔ اس نے بغور میری شکل دیکھی اور پھر ویزے پر چھپی میری تصویر دیکھی۔۔۔ اور ہاتھوں کے اشارے سے فنگر سکینر پر ہاتھ رکھنے کو کہا۔۔۔ اور پاسپورٹ پر “اینٹری” کی سٹیمپ لگا دی۔۔۔

امیگریشن سے باہر نکل کر اپنا سامان سنبھالتے ہوئے میرے منہ سے نکلا۔۔۔۔

“Welcome to Kingdom of Saudi Arabia…

جاری ہے

Tags : , , ,

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: