جہاد اور شہادت کی حقیقت

اصل جہاد کیا ہے؟ حصہ دوم

گزشتہ سے پیوستہ

جہاد کی حکمت اور فضیلت کے بارے میں میری اپنی رائے مندرجہ ذیل آیات اور احادیث کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔۔۔ میں جتنا بھی آسان اردو میں بیان کر دوں تو بھی ان سے زیادہ آسان اور معنی خیز نہیں بنا سکتا۔۔۔ میری گزارش ہے کہ لکھی گئی ہر آیت اور حدیث کو بغور پڑھیں۔۔۔ اور ان کی لفظی معنی سے زیادہ جملے کی روح پر غور کریں۔۔۔ ہر حکمت خود بخود آپکے سامنے آشکار ہو جائے گی۔۔۔

جہاد کی حکمت:

مخصوص جہاد یعنی کفار اور محاربین کے ساتھ جنگ فرض کفایہ ہے۔۔۔ اگر کچھ لوگ یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔۔۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“اور یہ مناسب نہیں کہ سارے مسلمان نکل پڑیں، پس ایسا کیوں نہ کیا کہ ہر قوم میں سے چند آدمی نکلیں تا کہ دین کی سمجھ حاصل کر سکیں اور جب اپنی قوم میں آئیں تو ان کو ڈرائیں تا کہ وہ (برے کاموں سے) بچ سکیں۔” (سورۃ توبہ آیت نمبر 122)

البتہ خلیفہ وقت یا حکمران جن افراد کو متعین کر کے جہاد کا حکم دے، ان کے حق میں جہاد فرض عین ہے۔۔۔  جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا کہا جائے تو نکلو۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

جہاد کی فضیلت:

جہاد اور اللہ کی راہ میں شہادت کے فضائل میں بہت سی آیات صادقہ اور احادیث صحیحہ وارد ہیں۔۔۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد اللہ جل جلالہ کا تقرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور افضل عبادت ہے۔۔  چند ایک بطور نمونہ پیش خدمت ہیں:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اللہ نے جنت کے بدلے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ سو تم اس اپنی بیع(تجارت) پر جو تم نے کی ہے، خوش ہو جاو ، یہ بڑی کامیابی ہے۔” (سورۃ توبہ آیت نمبر 111)

اور فرمایا:

“اے ایمان والو! کیا تمہیں ایک تجارت کی نشاندہی کروں؟ جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے گی (وہ یہ کہ) تم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاو اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو، اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہترہے۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ہمیشگی کا باغوں میں اچھی رہائش دے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے” (سورۃ الصف آیت نمبر 10تا 12)

اور فرمایا؛

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی دیے جاتے ہیں۔۔۔ اللہ نے انہیں جو اپنا فضل دیا ہے، وہ اس پر خوش ہیں” (سورۃ آل عمران آیت نمبر 169/170)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ (دن کو) روزہ رکھنے والا اور (رات کو) قیام کرنے والا اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کر رہا ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ، اللہ کی کفالت میں ہے کہ اگر اسے فوت (یا شہید) کرے گا تو اسے بہشت میں داخل کرے گا، سلامتی، ثواب اور غنیمت کے ساتھ (واپس گھر کے طرف) لوٹا دے گا۔۔۔ (سنن ابن ماجہ)

مزید فرمایا:

بہشت میں داخل ہونے والے کو زمین پر جو کچھ ہے اگر دے دیا جائے تو پھر بھی وہ واپس دنیا میں آنا نہیں چاہے گا، سوائے شہید کے کہ وہ اس اعزاز کی بنا پر جو اسے ملا، تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور دس بار قتل ہو جائے”
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

قسط سوم میں مزید پڑھیے: ارکان جہاد اور جہاد کے آداب

اصل جہاد کیا ہے؟

“جہاد” ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جس کی نا صرف روح بدلی جا چکی ہے بلکہ جسمانی ساخت بھی اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔۔۔ جیسا کہ ہم ہر معاملے میں قصور بیرونی طاقتوں کا ٹھراتے ہیں، ویسے ہی جہاد کے بارے میں منفی پراپگینڈہ بھی اسی کے زمن میں ڈالنا بہترہے۔۔۔ لیکن، بطور مسلمان ہم نے جہاد کو کیا اور کہاں تک سمجھا ہے؟ جہاد ہمارے لیے فرض ہے یا کہ واجب؟ جہاد کا اصل مطلب کیا ہے؟ جہاد کب اور کیسے فرض ہوتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات ہمارے بہت سے مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے علماٰء مختلف طریقوں سے دیں گے۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ دنیا میں “جہاد” کا اتنا برا خاکہ کیوں بن رہا ہے۔۔۔ اس کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں “جہاد” کی اصلی روح کو دیکھنا ہوگا۔۔۔

شہادت کے بارے میں میری تحریر کے بعد میں نے سوچا کہ شہادت کا مضمون “جہاد” کی اصل تعریف کے بغیر نا مکمل ہے اور پھر امتیاز بھائی نے بھی اپنے تبصرے میں یہ مشورہ دیا کہ جہاد کے بارے میں بھی کچھ لکھوں۔۔۔ میں نے قرآن اور احادیث سے کچھ مواد اکٹھا کیا ہے جو قسط وار آپ تک پہنچا سکوں گا۔۔۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے آپ تک صحیح اور بہترین معلومات پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

پہلی قسط

جہاد کے لفظی معنی:
جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔

جہاد کی اقسام:
1) کفار اور محاربین (وہ منظم و مسلح جتھہ جو اسلام اور مسلمانوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائے) جہاد کرنا۔ اور یہ ہاتھ، مال، زبان اور دل کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو” (مسند احمد، سنن ابی داود ، سنن نسائی اور اسناد صحیح)

2) اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے نافرمانوں سے جہاد کرنا اور یہ بھی ہاتھ، زبان اور دل سے ہوتا ہے۔۔۔ چنانچہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے، اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے بدلے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو دل سے ہی برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے (صحیح مسلم)

3) شیطان سے جہاد کرنا۔۔۔ یعنی انسان اس کے ڈالے ہوئے شبہات و وسواس کو اپنے دل سے نکال دے اور اس کے مزین کردہ شہوات کو ترک کر دے۔۔۔ اس لیے کہ آللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

اور شیطان اللہ کے بارے میں تمہیں ہر گز دھوکا نہ دے سکے ( سورۃ لقمان آیت نمبر 33)
مزید فرمایا:
شیطان تمہارا دشمن ہےِ سو تم اسے اپنا دشمن سمجھو ( سورۃ فاطر آیت نمبر 6)

4) نفس سے جہادکرنا۔۔۔ یعنی انسان اپنے نفس کو دینی امور کی تعلیم کی طرف مائل کرے اور ان پر عمل کے لیے اسے آمادہ کرے، نفسانی خواہشات سے دور رہنے اور نفس کی رعونتوں سے بچنے کی سعی کرے۔۔۔ اور یہ جہاد کی انواع میں سب سے بڑا جہاد ہے یہاں تک کہ اسے جہاد اکبر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔۔۔

قسط دوم میں مزید پڑھیے: جہاد کی فضیلت اور حکمت کے بارے میں

والسلام، دعاوں کا طلبگار۔۔۔ عمران اقبال

ہمارے شہید کون ہیں؟

شہید کون ہے؟ شہادت کیا ہے؟

آئیں، پڑھتے ہیں کہ  قرآن اور حدیث شہید کی کیا تعریف کرتے ہیں۔۔۔

شہید ہونے والے مجاہدین کی شان میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 169 اور 170 میں ارشاد فرماتا ہے:

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں تم مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے روزی دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے انہیں اپنا فضل دیا ہے، وہ اس سے خوش ہیں”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ انسانوں میں افضل کون ہے؟ تو فرمایا:

”وہ مومن (افضل) ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے، پھر وہ مومن جو کسی پہاڑ میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ اور  حدیث میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ “اللہ کی راہ” ہے۔۔۔

جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے علاوہ یہ بھی شہید ہیں:
1) مطعون شہید ہے۔
2) ڈوبنے والا شہید ہے۔
3) زات الجنب (پیٹ کی بیماری) سے مرنے والا شہید ہے۔
4) جل کر مرنے والا شہید ہے۔
5) ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے۔
6) حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہید ہے۔۔۔

سُنن ابو داؤد حدیث ٣١١١/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفيء / اول کتاب الجنائز /باب ١٥ ، مؤطا مالک ، حدیث /کتاب الجنائز /باب ١٢ا

پاکستان میں ہم نے لفظ “شہید” کو بھی مذہبی سے زیادہ “سیاسی” بنا دیا ہے۔۔۔ جو لیڈر قتل کر دیا جائے۔۔۔ وہ اپنی پارٹی کے ممبران کے لیے “شہید”ہو جاتا ہے۔۔۔ ہم نے مذہب کو آسمان سے لٹکتی ایک رسی سمجھ رکھا ہے کہ جس کا جتنا جی چاہے، اپنی مرضی سے اتار لے اور جیسا مرضی سلوک کرے۔۔۔مثلا، ہمارے وہ “رہنما” جنہیں “بسم اللہ” اور “سورۃ اخلاص” زبانی تو دور کی بات، دیکھ کر پڑھنی بھی نہیں آتی، سلمان تاثیر کو شہید کا لقب دے بیٹھے۔۔۔

لال مسجد کے پورے واقعے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ جو افراد (یا بقول حکومت، دہشت گرد) لال مسجد میں مقید “جہاد” کر رہے تھے وہ شہید ہوئے یا ہماری وہ پاک فوج جو معاشرے میں پھیلتے ان “بنیاد پرست” افراد کا قلع قمع کرنا چاہتی تھی ان کے لوگ شہید ہوئے۔۔۔

پھر ایک نئی بحث اٹھی ۔۔۔ کہ وہ افراد جو “طالبان” کا نام استعمال کرتے ہوئے خودکش حملے کر رہے ہیں، وہ شہید ہیں یا وہ بے گناہ افراد جو ان حملوں میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید ہیں۔۔۔

ذوالفقار علی بھٹو شراب پیتا تھا، لیکن جب اسے پھانسی ہوئی تو شہید کہلایا اور ضیاء الحق جو اسلامی انقلاب کی باتیں کرتا ہوا ہوائی حادثے کا شکار ہوا تو کیا وہ شہید تھا۔۔۔

اگر اوپر لکھی گئی آیات اور احادیث مبارکہ سے نتیجہ اخذ کیا جائے تو کیا ہمارے “رہنما حضرات” شہید ہیں۔۔۔ اور کیا وہ افراد شہید ہیں جو دھوکے سے قتل و غارت کرتے ہیں اور پھر اپنے طور پر شہید کا لیبل لگوا لیتے ہیں۔۔۔

کیا سلمان تاثیر، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور سیاسی دنگوں میں مارے گئے جیالے، بھائی اور کارکن شہید ہیں؟

کیا خود کش حملے کرنے والے یا ان میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہید ہیں؟

کیا لال مسجد کے فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے طلبا شہید ہیں یا آپریشن کرنے والے فوجی شہید ہیں؟

اوروزیرستان میں جاری آپریشن میں شہید کون ہے؟

اب یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے شہید کون ہیں؟؟؟

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: