عمرانیات » بیویوں کے شرعی فرائض

بیویوں کے شرعی فرائض

بدھ, 20 اپریل 2011, 1:12 | زمرہ: عشق الہی
ٹیگز:

1) اللہ کی نافرمانی کے سوا عورت مرد کی ہر بات کی فرماں برداری کرے:

ارشاد حق تعالیٰ ہے: “اگر وہ تمہارا کہا مان لیں تو پھر ان پر (مار کا) کوئی راستہ تلاش نا کرو” (سورۃ النسا، آیت 34)

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:”جب مرد اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے، وہ نا جائے اور وہ ناراض ہی رات گزار دے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے ہیں”

نیز فرمایا: “اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے” (سنن ابی داود / صح الترمذی)

2) خاوند کے مال و متاع، عزت و ناموس  اور گھر کے جملہ امور میں اس کی محافظ بنے:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “نیک عورتیں خاوندوں کی تابع فرماں ہیں، غیب کی (اور ان کی) غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (ان کے حقوق) حفاظت کرنے والی ہیں کہ اللہ نے (ان کے) حقوق محفوظ رکھے ہیں” (النساء، آیت 34)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے”(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مزید فرمایا: تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ان کو نہ آنے دیں جن کو تم پسند نہیں کرتے اور تمہارے گھروں کے اندر ان کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم پسند نہیں کرتے”

3) خاوند کے گھر میں رہے، اس کی اجازت و مرضی کے بغیر نا نکلے، اپنی نظر نیچی رکھے، اونچی آواز میں کلام نہ کرے، برائی سے اپنے ہاتھ روکےاور زبان کو فحش کلامی سے بچائے، رشتہ داروں کے ساتھ احسان میں وہی معاملہ اختیار کرے، جو اس کا خاوند اختیار کیے ہوئے ہے، اس لیے کہ جو عورت مرد کے والدین اور قرابت داروں کے ساتھ اچھی نہیں ہے، وہ خاوند کے لیے اچھی کہاں ہوئی؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور اپنے گھروں میں ٹھری رہو، اور پہلی جاہلیت کی طرح بناو سنگھار نا کرو”(الاحزاب آیت 32/33)

نیز فرمایا: “اور مومن عورتوں سے کہیے کہ اپنی آنکھیں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نا کریں، الا یہ کہ جو از خود ظاہر ہو جائے” (النور آیت 31)

فرمان رسول اللہ ﷺ ہے: بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے خوش کرے، جب تو اسے حکم دے تو تیری اطاعت کرے اور جب تو اس سے غائب ہو تو اپنے نفس اور تیرے مال کی حفاظت کرے” (صحیح  بخاری و صحیح مسلم)

(منھاج المسلم)

اگلی قسط: خاوند کے شرعی فرائض



35 تبصرے برائے “بیویوں کے شرعی فرائض”

  1. 1انکل ٹام


    عمران بھای بہت اچھی پوسٹ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسکا آپکو بہترین اجر دیں ۔
    میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ مردوں کے طرف سے عورتیں کے جو حقوق سلب کیے جاتے ہین اس پر بھی ایک پوسٹ کر دیں ۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سی ہندوانہ رسموں کی پزیرای ہو جاتی ہے ۔۔۔ اسکی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ چند مخصوص لوگ بلاگی دنیا میں شور مچائیں گے کہ دیکھو کیسے یہ عورتوں کے فرائض کی بات تو کر رہے ہیں لیکن مردوں کے فرائض کو پوچھتے بھی نہیں ۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جہاں علماء عورت کی ذمہ داریوں کے متعلق بات کرتے ہیں وہیں مرد کی ذمہ داریوں کے متعلق بھی ساتھ ہی بات کرتے ہیں تا کہ کوی غلط فہمی نہ رہے ۔

    صرف ایک راے تھی جو میں دینا چاہتا تھا ۔

  2. 2عمران اقبال

    انکل ٹام، پہلے تو اتنا فاسٹ تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔۔۔ میں نے اپنی پوسٹ میں سب سے نیچے یہی لکھا ہے کہ اگلی قسط انشاءاللہ “مردوں کے فرائض” پر ہوگی۔۔۔ امید ہے ایک یا دو دن میں وہ بھی پوسٹ کر دوں گا۔۔۔ میری کوشش صرف یہی ہے کہ جو غلط فہمیاں گھر اجاڑنے کا باعث بنتی ہیں، ان کی شرعی صورت میں نشاندہی کر دی جائے۔۔۔” دعاووں میں یاد رکھیے گا۔۔۔

  3. 3جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین


    عمران بھائی!

    اللہ تعالٰٰی! آپ کو جزائے خیر دے آمیں

  4. 4Darvesh Khurasani

    ماشاءاللہ اچھی پوسٹ لکھی ہے۔۔اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر دے۔

  5. 5شازل

    عمران بھائی
    آپ نے بہت اہم موضوع بلکہ حساس موضوع پر قلم اٹھایا ہے قران مجید اور احادیث نے معلومات میں بیش بہا اضافہ کیا ہے
    بہت شکریہ

  6. 6خرم ابن شبیر


    السلام علیکم
    جزاک اللہ
    عمران بھائی شوہر کے فرائض بھی لکھ دیں تاکہ ہم بھی سیدھے ہو سکیں

  7. 7ضیاء الحسن خان

    بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان باتوں میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور ہونا بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انکل ٹام نے بھی ٹھیک کہا جتنی جلد ممکن ہو سکے دوسری پوسٹ لکھو ۔۔۔ اور میرے خیال سے پہلے مردوں کی فرائض کو پوسٹ کرتے تاکہ کچھ لوگوں کے دل کو کچھ تو ٹھنڈ پڑتی

  8. 8آنٹی

    میں آپ لوگوں سے اسی نوعیت کی پوسٹ کی امید کر رہی تھی۔
    جب آپ لوگوں کو اور کوئی دلیل نہیں ملتی تو چودہ سو سال پرانی کتابوں سے اقتباسات نکال کر لے آتے ہیں۔ میں پہلے بھی کتنی بار واضح کر چکی ہوں کہ وہ آیتیں اور حدیثیں صرف اُس دور کے لوگوں کے حالات سے مطابقت رکھتی ہیں، موجودہ دور سے ان کا کوئی تعلق نہیں! آپ عقل کے اندھوں کو آج کا دور اور چودہ سو سال پہلے کا دور ایک جیسا ہی نظر آتا ہے کیا؟
    عورت کی آزادی کے دشمن ہیں آپ لوگ! اور تبصرہ نگار بھی سب کے سب ذہنی اور نفسیاتی مریض ہیں اور قدیم یونانی دور کی طرح عورت کی غلامی کے قائل ہیں۔ میں آپ کو بتا دینا چاہتی ہوں جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں آپ کو آپ کے مذموم مقاصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دوں گی اور قلمی جہاد جاری رکھوں گی!!!

  9. 9UncleTom

    میرے خیال سے یہ آنٹی کا تبصرہ نہیں ہے ۔ کسی اور نے کیا ہے ۔

  10. 10عمران اقبال

    انکل ٹام۔۔۔ بے شک یہ عنیقہ نہیں ہیں۔۔۔ وہ اس پوسٹ پر تبصرہ بھی اپنے بلاگ پر ہی کریں گی۔۔۔ اپنی عادت کے عین مطابق۔۔۔

    جنہوں نے بھی یہ تبصرہ کیا ہے۔۔۔ میرے خیال میں تو وہ کوئی “وچکارلا” ہی ہے۔۔۔ جو درمیان میں بدمزگی پیدا کر کے خود مزہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ لیکن اس بے وقوف سے غلطی یہ ہو گئی کہ اس نے مذاق مذاق میں ہی قرآن پر طنز کر گیا ہے۔۔۔ جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔

    اللہ اسے عقل عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  11. 11افتخار اجمل بھوپال

    جزاک اللہ خيراٌ
    مردوں کے فرائض بھی پڑھنے کے بعد ميں مزيد کچھ کہنے کے قابل ہو سکوں گا

  12. 12یاسر خوامخواہ جاپانی

    میں پوسٹ پر کیا تبصرہ کروں۔۔۔
    آنٹی کا تبصرہ زبردست ہے۔
    آنٹی آپ نہ بھی بتائیں تو ہمیں ملوم ہے جی۔
    آپ کی سانسیں ہی تیزابی ہیں

  13. 13بلاامتیاز

    “اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتو کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے” (سنن ابی داود / صح الترمذی

    اس میں املا کی ایک غلطی ہے وہ دور کیجیئے۔ ان الفاظ میں۔
    “عورت کو حکم کرتو کہ وہ”

    باقی جزاک اللہ ۔

  14. 14جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ۔ اور میرے خیال سے پہلے مردوں کی فرائض کو پوسٹ کرتے تاکہ کچھ لوگوں کے دل کو کچھ تو ٹھنڈ پڑتی..ضیاء الحسن خان

    ََ@ 🙂 بھائی صاحب ! بقول یاسر بھائی۔ کچھ لوگوں کے اندر اسقدر تیزابیت ہوتی ہے کہ ان کے سینے کبھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔

    آنٹی کا تبصرہ نہ بھی ہوتا تو ہمیں پتہ ہے کہ پاکستان کے یہ نئے میر جعفر اور میر صادق کیا سوچ رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی فطرت میں اتنی کمینگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ انھیں عزت راس نہیں آتی اور وہ کمینگی کرنے سے ہی قابو آتے ہیں۔ یہ مذکورہ بالا آنٹی بھی شاید سی صنف سے ہیں۔

  15. 15Darvesh Khurasani

    میرے خیال میں تو آنٹی اس حق کی بات کر رہی ہے کہ عورت مرد کے بجائے کتے کو اپنا جیون ساتھ بنائے۔ کیوں بھائی مغربی تہذیب تو یہی سکھاتی ہے۔ اور یہی انکا فلسفہ اور مقصد ہے کہ کس طرح لوگوں کو انسانیت سے ہٹا کر حیوانیت کی طرف لائے۔

    یہ بیچارے سمجھتے نہیں اور شیطان کیلئے استعمال ہوتے ہیں، افسوس انکے دل کس قدر تاریک ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے

  16. 16عمران اقبال

    سب بھائیوں کے تبصروں کا بہت شکریہ۔۔۔ جیسا کہ میں نے اپنی پوسٹ میں بھی عرض کیا ہے کہ انشاءاللہ اگلی قسط “شوہر کے فرائض” کے متعلق ہو گی۔۔۔ اور مجھے یقین ہے کہ شوہر کے فرائض زرا سخت ہیں۔۔۔

    امید ہے آپ سب نے اس پوسٹ کے مقصد کا غلط مطلب نہیں لیا ہوگا جیسا کہ تیزابی بلاگ کی مہارانی آنٹی نے لیا ہے۔۔۔ اللہ انہیں عقل عطا فرمائے۔۔۔

    ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اگر خواتین کے متعلق بات کرے تو انہیں یہ تکلیف ہوتی ہے کہ کیوں بات کر رہے ہیں۔۔۔ اور اگر خواتین کو نظر انداز کریں تو بھی تکلیف ہوتی ہے کہ کیوں ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔۔۔ عجیب الخلقت مخلوق ہیں۔۔۔

  17. 17خرم ابن شبیر

    شوہر کے فرائض میرے خیال سے سخت بھی ہیں اور زیادہ بھی ہیں مجھے انتظار رہے گا اگلی پوسٹ کا شکریہ

  18. 18fikrepakistan

    ایسے ہی اچھی اچھی اور معلوماتی پوسٹ لکھا کریں، اگلی تحریر کا انتظار رہے گا۔

  19. 19Dr.Jawwad Khan

    بہت اعلیٰ عمران بھائی !
    بہت بر وقت اور اصلاحی و معلوماتی مضمون ہے . شاباش عمران بھائی

  20. 20وقاراعظم


    یار پوسٹ تو اچھی ہے زبردست لیکن آنٹی کا تبصرہ مزیدار ہے خاص کر قلمی جہاد کا استعمال۔ ویسے بھائی ان لوگوں کو لفظ جہاد سے تو الرجی ہے پھر یہ خالص شدت پسندانہ اصطلاح؟؟ 🙂

  21. 21عمران اقبال

    وقار بھائی۔۔۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کو اپنی مرضی سے مروڑ مروڑ کر آج اس کی یہ شکل کر دی ہے کہ انہیں خود نہیں پتا کہ اصل اسلام کیا ہے۔۔۔؟ عنیقہ نے تو اسلام اور قرآن کے معنی ہی اپنی مرضی اور آسانی کے لیے بدل دیے ہیں۔۔۔ اور ان کا پیروکار عبداللہ ان سے دو ہاتھ آگے چلا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا یہ پوسٹ کرنے مقصد نہایت نیک ہے۔۔۔ اللہ دل کے حال جانتا ہے۔۔۔

  22. 22Dr.Jawwad Khan


    ویسے عمران بھائی …شوھر کے فرائض کے بارے میں لکھنے کی اتنی کوئی خاص ضرورت نہیں ہیں. کیونکہ آپ تو جانتے ہیں کہ شوھر اپنے فرائض کتنی خوبی سے ادا کرتے ہیں . بیویوں کے فرائض پر ہی لکھتے رہیں …حاسد جل بھون کر کباب ہو جاتے ہیں 🙂

  23. 23عمران اقبال


    ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یار اصولا تو لکھنا ہی پڑے گا شوہر کے فرائض کے بارے میں۔۔۔ ورنہ مجھ سمیت آپ سب پر بھی منافق اور کافر ہونے کے فتوی لگ جائیں گے۔۔۔

    ویسے یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ شوہر حضرات اپنے فرائض نہایت عمدگی سے نہیں تو کم از کم اچھے طریقے سے ضرور نبھا رہے ہیں۔۔۔ اسی طرح کچھ بیویاں بھی گھروں کو جنت بنائے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن اصلاح پھر بھی دونوں طرف ہی ضروری ہے۔۔۔

  24. 24شاہدہ اکرم

    بہُت اچھی پوسٹ ہے اور بھی بہُت کُچھ لِکھا جا سکتا ہے اِس ضِمن میں اور یہ سب سے اِنکار بھلا کیسے مُمکِن ہے کہ یہ تو اِرشادِ ربّانی ہے ہاں ایسے شوہروں اور بیویوں کو کیا کہہ سکتے ہیں جو اپنے اپنے فرائِض تبدیل کر لیتے ہیں بات ہے حقُوق و فرائِض کے ادل بدل کی،،،،

  25. 25Dr.Jawwad Khan

    شاہدہ اکرام صاحبہ !
    ہر مسلمان اسی طرح سوچتا ہے کہ جب الله سبحانه تعالیٰ یا رسول کریم صلی الله علیھ وسلم کا حکم آجائے تو عقل کے گھوڑے دوڑانا بند کر دے .جس حد تک ممکن ہو عمل کرے اور اگر عمل نہ ہوسکے تو الله ذات عالی سے مغفرت طلب کرے . الله کی ذات عالی غفور اور رحیم ہے اور ہماری کمزوریوں کو سمجھتی ہے. خداوند تعالیٰ سے سرکشی اور بغاوت آنٹی جیسے لوگوں کا دل گردہ ہے جنہیں یہ یقین ہے کہ انسان بندر کی اولاد ہے …مرنے کے بعد کچھ نہیں

  26. 26عمران اقبال

    شاہدہ آپا۔۔۔ تبصرے کا شکریہ۔۔۔

    میرا ماننا یہ ہے کہ جو فرائض قدرتی طور پر اللہ تبارک تعالٰی نے مرد اور عورت کو دیئے ہیں۔۔۔ ان میں ردوبدل تو دنیا میں کی جاسکتی ہے لیکن کامیابی ہرگز نہیں پائی جا سکتی۔۔۔

    خواتین کا اپنا رول ہے اور مرد کا اپنا علیحدہ۔۔۔ اور یہ مثال بھی آپ نے سنی ہی ہوگی۔۔۔ کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال ہی بھول گیا۔۔۔

  27. 27جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ہر مسلمان اسی طرح سوچتا ہے کہ جب الله سبحانه تعالیٰ یا رسول کریم صلی الله علیھ وسلم کا حکم آجائے تو عقل کے گھوڑے دوڑانا بند کر دے .جس حد تک ممکن ہو عمل کرے اور اگر عمل نہ ہوسکے تو الله ذات عالی سے مغفرت طلب کرے ۔ ڈاکٹر جواد خان۔

    لاریب۔ متفق علیہ ۔ اللہ تعالٰی جزائے خیر دے ۔ آمین

  28. 28عمران اقبال

    شیطان اپنے آپ کو ہمیشہ درست سمجھتا ہے۔۔۔ اور اس کے پیروکار بھی۔۔۔ یہی حال ان روشن خیالوں کا ہے۔۔۔ اللہ کی بتائے ہوئے قوانین سے بغاوت کر دیں لیکن جائیں گے کہاں۔۔۔ لوٹ کے تو اللہ کے پاس ہی جانا ہے۔۔۔

  29. 29Taheem

    بہت اچھا آرٹیکل لکھا ہے پر ابھی مردوں کے حقوق پر لکھنا باقی ہے
    جسے دیکھو عورتون پر ہی لعن کرنے کی کوشش میں لکا رہتا ہے مردوں سے پہل کر لیتے اآپ

  30. 30عمران اقبال

    تحریم۔۔۔ خدارا یہ بھی بتا دیجیے کہ میری اس تحریر میں خواتین کو لعن طعن کہاں کی گئی ہے۔۔۔؟ کیا شرعی قوانین اور اسلامی بات کرنا گناہ ہے؟ مردوں پر لکھنا ابھی باقی ہے۔۔۔ اور انشاءاللہ ضرور لکھوں گا۔۔۔ لیکن خدا کے واسطے قرآن اور حدیث کو “عورتوں پر لعن طعن” مت کہیے۔۔۔ افسوس ہوا آپ کا یہ تبصرہ پڑھ کر۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔

  31. 31عدنان شاہد

    جزاک اللہ عمران بھائی بہت اچھی تحریر ہے

  32. 32Alinco

    I love reading these articles because they’re short but invormatife.

ٹریک بیکس

  1. 1. انکل ٹام
  2. 2. عمران اقبال
  3. 3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
  4. 4. Darvesh Khurasani
  5. 5. شازل
  6. 6. بیویوں کے شرعی فرائض | Tea Break
  7. 7. خرم ابن شبیر
  8. 8. ضیاء الحسن خان
  9. 9. آنٹی
  10. 10. UncleTom
  11. 11. عمران اقبال
  12. 12. افتخار اجمل بھوپال
  13. 13. یاسر خوامخواہ جاپانی
  14. 14. بلاامتیاز
  15. 15. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
  16. 16. Darvesh Khurasani
  17. 17. عمران اقبال
  18. 18. خرم ابن شبیر
  19. 19. fikrepakistan
  20. 20. Dr.Jawwad Khan
  21. 21. وقاراعظم
  22. 22. عمران اقبال
  23. 23. Dr.Jawwad Khan
  24. 24. عمران اقبال
  25. 25. شاہدہ اکرم
  26. 26. Dr.Jawwad Khan
  27. 27. عمران اقبال
  28. 28. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
  29. 29. عمران اقبال
  30. 30. Taheem
  31. 31. عمران اقبال
  32. 32. شوہر کے شرعی فرائض « دائرہ فکر… عمران اقبال
  33. 33. عدنان شاہد
  34. 34. دائرہ فکر – ابنِ اقبال - خاوند اور بیوی کے مشترکہ حقوق:
  35. 35. Alinco

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔