وڈًا بن یار۔۔۔

307 بار دیکھا گیا

وڈًا بن یار۔۔۔ وڈًا بن۔۔۔

ابو جی بڑا تو میں ہوں۔۔۔ اب مزید کتنا بڑا بنوں۔۔۔

بیٹا، وڈًا عمر سے نہیں، کرموں سے بنا جاتا ہے۔۔۔ اپنے اندر بڑوں والی خصوصیات پیدا کر۔۔۔ دل بڑا کرے گا تو رتبہ بھی وڈًا ہو جائے گا خود ہی۔۔۔

اس وڈًا بننے کے چکر نے مجھے “میں”  نہیں رہنے دیا۔۔۔  وڈًا کہہ کہہ کر مجھے وڈًے بننے سے چڑ چڑھا دی ہے۔۔۔اب میرا کیا قصور کہ میں وڈًا ہوں۔۔۔ وڈًا پیدا ہوا ہوں۔۔۔

زندگی میں میری سب سے بڑی خواہش یہ رہی ہے کہ میرے والدین مجھے پر فخر کریں۔۔۔ ابو سینہ تان کر کہہ سکیں کہ میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔۔۔ ہر طرح کی کوشش کر لی لیکن اپنے پرفیکشنسٹ  والد صاحب کو آج تک  مطمئن نہیں کر پایا۔۔۔

زندگی کے ہر دوسرے قدم پر اپنی خواہشات کا گلہ یہ سوچ کر گھونٹتا رہا کہ کہیں  ابو امی کی  دل آزاری نا ہو جائے۔۔۔ اپنے حصے کی چیز  اور خواہشات بھی چھوٹے بھائی اور بہنوں میں بانٹتا رہا کہ وڈًے کا تو کام ہی قربانی ہے۔۔۔ لیکن اس وڈًے بننے کے چکر نے مجھے اب تک کہیں کا نہیں رکھا۔۔۔ چھوٹے مجھے “ایز گرانٹڈ” لیتے ہیں۔۔۔ اور بڑے۔۔۔!!!!  یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وڈًا ہے نا۔۔۔ وہ سنبھال ہی لے گا۔۔۔

حسد حرام ہے۔۔۔ رشک تو کیا جا ہی سکتا ہے۔۔۔ لیکن وڈًے بننے کی جدو جہد نے کہیں نا کہیں مجھ میں حسد پیدا کر ہی دیا ہے۔۔۔  دل ہی دل میں جلتا رہتا ہوں کہ یار چھوٹے ایسا نا کریں تو اچھا لیکن چھوٹوں پر مجھ سے بھی وڈًے کا دستِ شفقت ہے۔۔۔  انہیں مجھے “کراس” کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔۔۔ جہاں ان کا مطلب ہوتا ہے، وہاں میں ان کے لیے وڈًا بن جاتا ہوں ورنہ ۔۔۔!!! میں کون اور تو کون۔۔۔ !!!

اب جب میں اپنی حق تلفی محسوس کرتا ہوں اور یہ الفاظ مجھے سنائی دیتے ہیں کہ “وڈًا بن یار”۔۔۔ تو دل کھول اٹھتا ہے اور چاہتے نا چاہتے یہ کہہ اٹھتا ہوں کہ “اور کتنا وڈًا بنوں۔۔۔ اللہ نے بائے ڈیفالٹ بڑا بنا یا ہے۔۔۔ آپ مجھے مزید کتنا بڑا بنانا چاہتے ہیں”۔۔۔  اور پھر حسبِ معمول ابو کا جواب یہی ہوتا ہے “بیٹا ابھی تجھے احساس نہیں ہو رہا۔۔۔ تجھے ہی سب بہنوں اور بھائی کو اکٹھے رکھنا ہے۔۔۔ اور یہ کام کوئی بڑا ہی کر سکتا ہے۔۔۔ یہ بڑی زمہ داری ہوتی ہے۔۔۔ تو سمجھے گا لیکن دیر سے۔۔۔” اب اس جواب کے بعد تو خاموش رہنا ہی بنتا ہے۔۔۔ اور ہمیشہ کی طرح سر جھکائے ابو کا حکم اور خواہش کی تکمیل کی کوشش میں جت جاتا ہوں۔۔۔

کل میرا چار سالہ بھانجہ اپنی چھوٹی  بہن سے کوئی کھلونا چھین رہا تھا۔۔۔ تو بے اختیار میں کہہ اٹھا۔۔۔ “امام، وڈًا بن یار۔۔۔ “

ماموں۔۔۔ مجھے نہیں بننا وڈًا۔۔۔

ٹیگز:

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

12 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: