عمرانیات » اللہ رے…

اللہ رے…

جمعہ, 23 مارچ 2012, 0:06 | زمرہ: میری ڈائیری, میری سوچ
ٹیگز:

اکثر سوچتا ہوں، کہ آخر اس زندگی کی ساتھ انصاف کر پاوں گا۔۔۔ اس طرح جی پاوں گا کہ جیسے جینے کا حق ہے۔۔ کیا وہ سب کچھ کر پاوں گا، کہ جسے کرنے کے لیے زندگی بخشی گئی۔۔۔

یوں تو زندگی گزارنا اتنا مشکل بھی نہیں۔۔۔ کہ گزر ہی جاتی ہے کسی نا کسی طرح۔۔۔ ہاں، اس کے حقائق کے ساتھ زندہ رہنا اکثر نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ حقائق جن کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں۔۔۔ جی ہی انہیں حقائق کے سر پر جاتی ہے۔۔۔

کیا ہمیشہ خوش نہیں رہا جا سکتا۔۔۔؟ کیا کسی اور کی خوشی میں خوشی ڈھونڈھی نہیں جا سکتی۔۔۔؟ کیا ہمیشہ اپنا غم ہی سب سے بڑا غم ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا زندگی کسی اور کے لیے “جی” نہیں جا سکتی۔۔۔؟ کیوں نہیں ایسا ہوتا۔۔۔ کہ خود غرضی چھوڑ کر خود کو اور خود کی خوشیوں اور غموں کو کسی اور کو مکمل طور پر سونپ دیں۔۔۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔

کیا مجھ سمیت کوئی بھی زندگی سے انصاف کر سکا ہے۔۔۔؟ کیا سچے دل سے مطمئن ہو پایا ہے۔۔۔؟ کیا غموں کو اللہ کی مرضی کہہ کر نظر انداذ کرتاہے۔۔۔ اور کیا مسرتوں کے میلوں سےکسی بھی ڈر کے بغیر لطف اندوذ ہوا ہے۔۔۔؟

کبھی بہت ہی حقیقت پسندی سے اپنی اب تک گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچوں تو یہ فقرہ ہمیشہ دماغ میں گونجتا ہے۔۔۔

What a Waste of Life…!!!

ہم جیئے جا رہے ہیں۔۔۔ غم پیئے جا رہے ہیں۔۔۔ شاعر نے تو کمال ہی کر دیا ۔۔۔ سمجھ گیا زندگی کی کیفیت کو۔۔۔ اور کہہ دیا۔۔۔ کہ غم پیئے جا رہے ہیں۔۔۔

زندگی بوجھ ہے کیا۔۔۔؟ کیوں گھسیٹتے پھر رہے ہیں اسے۔۔۔ ؟ جسے دیکھوں۔۔۔ وہ مجبورا ہی زندہ ہے۔۔۔ جیسے بس سانسیں لینے کی نوکری ملی ہو۔۔۔ اور اس نوکری کو “بادل ناخواستہ” کھینچنا ہی ہے۔۔۔ جب تک “یو آر فائرڈ” کا حکم نہیں آ جاتا۔۔۔

What a Waste of Life…!!!

مقصد ہی نہیں۔۔۔ بس آو، گزارو اور نکلو۔۔۔

یہی ہے زندگی۔۔۔۔ اللہ رے۔۔۔



6 تبصرے برائے “اللہ رے…”

  1. 1بنیاد پرست

    عمران بھائی غم تو ہر کسی کے ساتھ لگے ہیں،۔ کوئی ظاہر کرتا ہے اور کوئی نہیں۔ ۔کڑھنے سے مرض بڑھتا ہی ہے کمپرومائز کرنا پڑتا ہے اپنے لیے اپنے پیاروں کے لیے۔ ۔ بعض اوقات بندہ اپنی پریشانیوں کو دیکھ کر ذیادہ جذباتی ہوجاتا ہے اور اللہ سے شکایت پر اتر آتا ہے ، اس حال میں کسی ہاسپٹل کا چکر لگانا اور وہاں مریضوں کی حالت دیکھنا طبیعت کافی سیٹ کردیتا ہے۔ یہ لکھنے والا خود بھی یہ دوائی آزماتا رہتا ہے۔ آپ بھی چیک کرکے دیکھ لیں شکر کے الفاظ میں ذیادتی ہوگی۔ انشا اللہ
    میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ہم لوگوں کو شیطان اس بیکار زندگی کا احساس دلا کر افسردہ تو رکھتا ہے اور موت کے بعد کی تکلیفوں کا ڈر بھی ذہن میں رہتا ہے لیکن اعمال میں لگنے نی دیتا۔ ۔ بعض اوقات توسوچ کر ہنسی آتی ہے کہ اپنی کیا عجیب فلمی حالت بنائی ہوئی۔ صحابہ کی طرح زندگی گزارنے کو دل بھی کرتا ہے ، لیکن تکلیف اٹھانا نفس کو گوارا بھی نہیں ،قبر آخرت سے ڈر بھی لگتا ہے اور گناہ چھوڑنے کو دل بھی نی کرتا۔ چاہتا ہوں کہ اللہ کی مدد آجائے لیکن گناہوں کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔
    اللہ ہی ہمیں سیدھا چلا دے ورنہ تو اس حال میں ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔

  2. 2یاسر خوامخواہ جاپانی

    عمران بھائی۔
    سب اپنے اپنے دکھ لکھنے پہ آئیں تو آپ اپنے دکھ بھول جائیں گے۔
    جیسی بھی زندگی ہے الحمد اللہ ۔۔
    بحر حال مجھے تو اللہ تعالی نےنہایت مشکل زندگی عطا کی
    اور میں تو کہتا ہوں اگر ایسی نا ہوتی تو جینے کا مقصد ہی تلا ش کرتے زندگی گم کر بیٹھتا ۔
    الحمد اللہ زندگی اپنی تمام سختیوں کے باوجود اللہ کی رحمت ہے۔
    مرنا تو نہایت آسان ہے۔۔ہر دکھ سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔
    لیکن ‘ جی ‘ کر مرنے کا لطف کچھ اور ہی ہوتا ہے۔
    اگر کسی مسئلہ کا حل پریشان ہوکر بھی نہیں ملتا تو پریشان ہونا فضول ہے
    پریشان ہو کر اگر مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو پریشان ہونا بیوقوفی ہے

  3. 3بلا امتیاز

    مجھے یہ لائن بہت پسند ہے آپ بھی ٹرائی کریں ۔۔

    Now that dont kill me, make me even stronger.

  4. 4شعیب صفدر

    جو چل رہی ہیں سانسیں! جو گرز رپی ہے زندگی! منزل کی جستجو کے لئے منزل کا تعین ضروری ہے زندگی کا مقصد پانے کو منزل کا انتخاب کریں!

  5. 5کوثر بیگ

    بہت اچھا لکھتے ہیں آپ لگتا ہے اپنے ہی دل کی آواز ہو۔

  6. 6عمران اقبال

    زرہ نوازی کا بہت شکریہ۔۔۔

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔