بلاعنوان

212 بار دیکھا گیا

میں امیگریشن کاونٹر سے آگے نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ سفید فراک میں ملبوس میری پری، علیزہ بار بار پیچھے مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہونے سے پہلے وہ پھر سے مڑی۔۔۔ اور مجھے زور سے آواز دی۔۔۔ “بابا، آ جاو۔۔۔”

میں اپنی جگہ کھڑے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ علیزہ نے سر اٹھا کر توتلی زبان میں اپنی ماں سے پوچھا۔۔۔ “ماما، بابا نہیں آلے۔۔۔؟”

اس کی ماں کو اشارہ کیا کہ اسے لے جاو۔۔۔ اور وہ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہوتے ہی میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔۔۔ بس علیزہ کی آخری نظر میں مجھے اداسی نظر آئی۔۔۔

امیگریشن کاونٹر  سے میری گاڑی تک دس منٹ کی پیدل مصافت تھی۔۔۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ گاڑی تک پہنچنے تک، میں چلتے چلتے ہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔۔۔  اور میرے آنسو  میرے چہرے کو مکمل طور پر بھگو چکے تھے۔۔۔

ٹیگز:

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

9 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: