میرا تعارف

میں آدمی عام سا۔۔۔
اک قصہ نا تمام سا۔۔۔
نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔
نہ بات میں کمال سا۔۔۔
ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔
اداسیوں کی شام سا۔۔۔
جیسے اک راز سا۔۔۔
خود سے بے نیاز سا۔۔۔
نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔
نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔
رانجھا، نا قیس ہوں
انشا، نا فیض ہوں۔۔۔
میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔
وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔
میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔
اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔
میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔
یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: