میری دادی اماں

216 بار دیکھا گیا

ابو نے اپنی گود میں بیٹھی علیزہ سے پوچھا۔۔۔ بیٹا دادی امی کہاں ہیں۔۔۔ علیزہ کی انگلی دیوار پر لگی میری دادی اماں کی تصویر کی طرف اٹھ گئی۔۔۔ پھر علیزہ نے تصویر کی جانب اپنے دونوں بازو پھلا دئیے۔۔۔ ابو اٹھے اور علیزہ کو دیوار تک لے گئے۔۔۔ علیزہ نے اچک کر تصویر دیوار سے اتاری اور اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پہلے اپنے سینے سے لگا لیا اور پھر اپنے ہونٹ دادی کی تصویر پر لگا دیئے، ایسے کہ جیسے اسے چوم رہی ہو۔۔۔

میں بغور ابو اور علیزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ ان دونوں کا روز کا معمول ہے۔۔۔ ابو روز علیزہ سے دادی اماں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور علیزہ ایسے ہی دادی اماں کو چومتی ہے۔۔۔

دادی اماں کو ہم سے بچھڑے تین سال ہو چکے ہیں۔۔۔ کل یہی کچھ دیکھتے ہوئے بہت کچھ یاد آ گیا۔۔۔ سن 2006 میں، میں پاکستان گیا۔۔۔ دادی اماں کی گود میں سر رکھے میں نے مذاقا ان سے ابو کی شکایت کرتے ہوئے کہا، دادی امی، ابو میری شادی کیوں نہیں کروا رہے۔۔۔ اب اتنا انتظار نہیں ہوتا۔۔۔ دادی اماں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پنجابی میں کہا۔۔۔ ”میں تیرے پیو نال گل کراں گی۔۔۔”یہ سننا تھا اور میں نے ابو کو فون ملا کر دادی اماں کو پکڑا دیا۔۔۔ دادی اماں ابو سے کہنے لگی۔۔۔ ”وے اقبال۔۔۔ عمران بڑا پریشان پھردا ہے۔۔۔ گل کی اے؟”۔۔۔ ابو نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ تو دادی نے انہیں مصنوعی غصے سے کہا۔۔ ” میں تینوں کہندی پئی آں، میرے منڈے دا ویا جلدی کر دے۔۔ “ میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔ ابو نے انہیں جانے کیا کیا کہانیاں سنائیں۔۔۔ لیکن دادی اماں بٖضد تھیں کہ میرے منڈے دی جلد شادی ہونی چائیدی اے۔۔۔

دادی اماں کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے، میں نے ان کی صحت کا پوچھنے کے لیے انہیں پاکستان فون کیا۔۔۔ تو طبیعت کافی خراب تھی۔۔۔ کہنے لگیں۔۔۔”پتر۔۔۔ ہون لگدا اے کہ بلاوا آن والا اے۔۔۔ “۔ میں نے کہا کہ ”دادی امی۔۔۔ اللہ آپ کو صحت دے۔۔۔ ابھی تو آپ نے ہمارے بچوں کے ساتھ بھی کھیلنا ہے۔۔۔ “

میرے چھوٹے بھائی کا یہیں دبئی میں رشتہ طے ہوا۔۔۔ ابو نے پاکستان دادی امی کو فون کیا۔۔۔ اور تقریبا ایک گھنٹہ بات ہوئی۔۔۔ دادی اماں نے بھائی کے ساس سسر سے بھی بات کی۔۔۔ سب کو خوب دعائیں دیں۔۔۔

اگلے دن۔۔۔ شام کو چاچو کو فون آیا۔۔۔ کہ دادی امی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ صبح سے دادی اماں بہت خوش تھیں۔۔۔ سب رشتے داروں کو خود فون کر کے بتایا کہ میرے چھوٹے منڈے دا وی رشتہ ہو گیا۔۔۔ میں اپنے سارے بچے پگتا لئے۔۔۔ شام کو اچانک طبیعت خراب ہوئی۔۔۔ ہسپتال لے کر جاتے ہوئے رستے میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔۔۔

میری منگنی میری دادی نے خود کروائی تھی۔۔۔ اور میری جانب سے میری منگیتر کو انگوٹھی بھی خود انہوں نے پہنائی تھی۔۔ان کے انتقال کے ایک سال بعد میری شادی ہوئی۔۔۔۔ میرے ابو بہت اداس تھے۔۔۔خوشی کے اس موقع پر دادی ہمارے ساتھ نہیں تھیں۔۔۔

دادی کے ساتھ ابو کا پیار بہت ہی زیادہ تھا۔۔۔ دادی کا ہر حکم مانتے تھے۔۔۔ اور ہر حکم کی تعمیل کے بعد بہت خوش ہوتے تھے۔۔۔ ہمیں جب بھی بات ابو سے منوانی ہوتی تھی۔۔۔ تو دادی اماں سے کہلواتے تھے۔۔۔ اور ابو ان کا حکم ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔

آخری عمر میں دادی اماں کی نظر کافی کمزور ہو گئی تھی۔۔۔ ایک دفعہ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ تو اچانک کہنے لگیں۔۔۔ “پتر تو سگریٹ پینا ایں۔۔۔” میں نے گھبرا کر جھوٹ بول دیا کہ نہیں دادی اماں۔۔۔ میں نے تو کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔۔ ”پتر چوٗھٹ نا بول۔۔۔ تیرے دند پیلے ہوندے جا رے نے۔۔۔”

دادی اماں کے ساتھ میرا بہت کم وقت گزرا۔۔۔ لیکن۔۔۔ ان کا پیار ہمارے لیے بے بہا تھا۔۔۔ میرے ساتھ ان کا بہت مذاق تھا۔۔۔ ہر وقت ان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا رہتا۔۔۔ اور دادی اماں خوشی خوشی اپنے ہمسایوں کو میرے کارنامے بتاتی۔۔۔ ‘اج میرے منڈے نے مینوں اے کیا۔۔۔ اج میرا منڈا اے کردا پیا سی۔۔۔’

کل علیزہ دادی اماں کی تصویر چوم رہی تھی۔۔۔ اور میں یادوں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ کاش آج دادی امی زندہ ہوتی تو وہ کتنی خوش ہوتیں۔۔۔

اللہ دادی اماں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین

ٹیگز: , , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

16 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: