یہ ہے میری کہانی۔۔۔

مجھے سکون نہیں۔۔۔


نا نماز میں۔۔۔ نا قرآن میں۔۔۔


نا ماں باپ کی خدمت میں۔۔۔


نا بہن بھائی کے پیار میں۔۔۔


مجھے سکون نہیں۔۔۔


میں سو نہیں پاتا۔۔۔


میں ساری ساری رات سو نہیں پاتا۔۔۔


میں دفتر میں کام نہیں کر پاتا۔۔۔


کبھی میرا دماغ بلکل کورا ہوتا ہے لیکن مجھے سکون نہیں ہوتا۔۔۔


اور کبھی دماغ اور دل کی جنگ مجھے بدحواس کر دیتی ہے۔۔۔


کوئی چیز میں ایکسائیٹ نہیں کرتی۔۔۔


نا مجھ میں خوشی کا کوئی احساس ہے۔۔۔ اور نا ہی غم مجھے مرنے دیتا ہے۔۔۔


مجھے سکون نہیں۔۔۔


میں سکون کی تلاش میں پاگل ہو چکا ہوں۔۔۔


کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔۔۔


ہر طرف اندھیرا دکھائی دیتا ہے اور کوئی چارہ گر ساتھ نہیں دکھتا۔۔۔۔


میں کیا کروں کہ سکون کی نیند سو پاوں۔۔۔


ایسا کیا کروں کہ میرا دل کسی بھی بوجھ سے آزاد ہو۔۔۔


کیا کروں۔۔۔  کہ مجھے سکون مل جائے۔۔۔

7 Comments

  1. پھر اسکا کا کیا علاج ہونا چاھئے؟
    لاڈ پیار سے تو آپ نے سمجھنا نہیں۔
    اے ھڈ حرامی دے نخرے ہیں ۔
    روزانہ ٹانگیں جواب دینے تک دوڑا کریں۔
    انشا اللہ افاقہ ہو گا۔
    :w00t:

    ReplyDelete
  2. اللہ سبحانہ تعالیٰ آپکی مشکل آسان فرمائے....
    مگر بھائی عمران ، ایسا کیا ہوگیا کہ آپ جیسی ہستی کا سکون اور چین ختم ہوگیا ہے ؟
    اللہ تعالیٰ آپکی زندہ دلی اور شوخی طبع کو قائم و دائم رکھے.

    ReplyDelete
  3. بنیاد پرستJuly 30, 2012 at 6:33 PM

    تبلیغ کے ساتھ کچھ وقت لگا آئیں، بڑے بڑے لوگوں کا آزمایا ہوا نسخہ ہے :D

    ReplyDelete
  4. اللہ ہی خیر کرے گا .... تو کسی سے بیعت کر آج کل کے زمانے کے حساب سے بہت ضروری ہے

    ReplyDelete
  5. سلام بھائی میری نظر میں تو اس کا ایک ہی حل ہے بس الله سے لگا لو اس کو یاد کرو جو بھی ہے جیسا بھی ہے اسی میں الله کی رضا سمجھو اور اپنی بہتری جانو صرف اپنے لیے نہیں اپنے سے جوڑی باقی زندگیوں کو دیکھو اور جینا سیکھو وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوئے جا گا انشا الله

    ReplyDelete
  6. [وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ]صبر اور نماز سے (یعنی ان کے ذریعے) مدد مانگو۔[ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ [البقرة : 45]]اور بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہےمگر ان فرمانبردار بندوں کےلیے مشکل نہیں جو خشوع کرتے ہیں، جو دبے ہوئے ہیں، جو فرمانبرداری کرتے ہیں۔

    http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?p=348018

    ReplyDelete
  7. --------------------------------------------------------------------------------
    بھائی جی اآپ ہی کی طرح ایک صاحب نے ایک بزوگ سے سوال کیا تو پتہ ہے انہوں نے ان سے کیا کہا آپ خود پڑھ لیجئے گا ۔

    ایک شخص نے ایک بزرگ سے کہا۔”میں سکون چاہتا ہوں۔“
    بزرگ نے فرمایا۔ اس جملے سے”میں“ نکال دو کہ یہ تکبر کی علامت ہے۔
    ”چاہتا ہوں“ نکال دو کہ یہ خواہش نفس کی علامت ہے۔
    پھر”سکون“خودبخود تمہارے پاس ہو گا۔

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔