Archive for ستمبر, 2011

لبیک – قسط سوم – مکہ مکرمہ اور بیت اللہ

نوٹ: میری اس تحریر کا مقصد “ریاکاری” ہرگز نہیں ہے۔۔۔ نا ہی مجھے دنیا کے سامنے نیک بننے کا شوق ہے۔۔۔ اور نا ہی مجھے یہ یقین ہے کہ میں اچھا انسان ہوں۔۔۔ بلکہ میرا ماننا ہے کہ یقیناً روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہگار انسان کوئی نہیں ہے۔۔۔ براہ کرم اس تحریر کو صرف ایک سفرنامہ اور ایک تجربے کے طور پر لیجیے۔۔۔ شکریہ

پہلا عمرہ اور پہلا نظارہِ بیتُ اللہ۔۔۔ کیا احساسات ہو سکتے ہیں انسان کے۔۔۔؟

جوں جوں گاڑی مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ دل کی دھڑکن نہایت تیز ہو گئی۔۔۔ بےقراری ہی سمجھ لیں جس نے دو گھنٹے کی مسافت کو ناجانے کتنے سالوں کے لمحات بنادیا۔۔۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہی تھی۔۔۔ دل ندامت سے بھرپور تھا۔۔۔ اُسی سوچ کے ساتھ کہ جانے میرے گناہ مجھےاتنی پاک جگہ کیسے جانے دیں گے۔۔۔ میں تو اس قابل ہی نہیں کہ مجھے زیارتِ بیت اللہ کا شرف بخشا جائے۔۔۔ میں وہ ساری دعائیں دل ہی دل میں دہرانے لگا جو مجھے کعبہ کے پہلے دیدار پر مانگنی تھیں۔۔۔ اور بھی بہت سے لوگوں کی دعاووں کے لیے گزارشات یاد آئیں کہ جب بھی کوئی مجھے دعا کے لیے کہتا ، میں صرف انشاءاللہ ہی کہہ پاتا اور دل میں سوچتا کہ میں اس قابل کہاں کہ کسی کے لیے دعا کر سکوں۔۔۔

عشاء کی نماز راستے میں ہو گئی لیکن سلمان صاحب گاڑی روکنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ دیر ہو جائے گی۔۔۔ نماز حرم جا کر ہی پڑھیں گے۔۔۔ میں بادلِ ناخواستہ خاموش ہو گیا کہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سے سلمان سے ضد کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا۔۔۔

دس بجے مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوئے۔۔۔میں زبان پر مسلسل تلبیہ کا ورد کر رہا تھا۔۔۔ اور گاڑی کی رفتار سے بھی تیز گزرتی ہوئی نئی بنی عمارتوں کو تک رہا تھا۔۔۔ کہ کبھی یہاں صحابہ کرام رہتے ہونگے۔۔۔ کبھی یہاں رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ہو گا۔۔۔ کتنی مبارک زمین ہے یہ۔۔۔

اچانک سلمان نے میری توجہ بائیں طرف گزرتی ایک خوبصورت مسجد کی طرف مبذول کرائی اور بتایا کہ یہ مسجد عائشہ ہے۔۔۔ مکہ مکرمہ میں رہنے والے مسجد عائشہ سے ہی احرام باندھتے ہیں۔۔۔ اس وقت مجھے مسجد عائشہ کی تاریخی حیثیت کا علم نہیں تھا۔۔۔ فارغ وقت میں کچھ ریسرچ وغیرہ کی تو یہ پتا چلا کہ مسجد عائشہ حرم پاک سے تقریباً ساڑھے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے۔۔۔ اور حجۃ الوداع کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے عمرہ کے لیے احرام اور نیت یہاں باندھی تھی۔۔۔


مسجد عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

اب مکہ کا مشہور “کلاک ٹاور” بہت واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ ہم حرم پاک کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ پانچ منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد حرم پاک کے مینار نظر آئے۔۔۔ میں دور سے ہی میناروں کے نظارے میں گم تھا کہ پھر اچانک سلمان صاحب کی آواز آئی کہ بھائی ہوٹل پہلے دیکھ لیں یا عمرہ کے بعد۔۔۔ میں نے کہا ، بعد میں ہوٹل کا بندوبست کریں گے، ابھی سیدھا بیت اللہ چلو۔۔۔ اب مزید انتظار مشکل ہے۔۔۔




کچھ فاصلے سے گاڑی سے ہی حرم پاک کا پہلا منظر

مسجد الحرم کے باہر ایک پل کے جانب لگا یہ بل بورڑ، جس پر مستقبل کے توسیعی منصوبہ کی تصویر ہے۔ انشاءاللہ چند سالوں میں کعبہ کے اردگرد ایسی ہی بلندو بالا عمارتیں کھڑی ہونگی، جو حجاج کرام کی سہولت کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔

سلمان کا چونکہ مکہ مکرمہ باقاعدگی سے آنا جاناہوتا ہے تو اس نے کہا ویسے تو گاڑی کے لیے پارکنگ ملنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ہم حرم پاک کے بلک سامنے واقع ہلٹن ہوٹل کی بیسمنٹ میں پارکنگ کریں گے۔۔۔

ماہ رمضان کے بعد تو ویسے بھی زائرین کا رش بہت کم ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے ہمیں سڑکوں پر بھی کچھ خاص ٹریفک اور چہل پہل نظر نہیں آئی۔۔۔ گاڑی ہلٹن ہوٹل کی پارکنگ میں پارک کرنے کے بعد میں اپنا احرام سنبھالتے باہر نکلا ۔۔۔ چونکہ پہلی دفعہ تھی اس لیے “لنگی” کی طرح باندھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن خیر کسی نا کسی طرح وہیں کھڑے کمر کس ہی لی۔۔۔

لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمدہ والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک پڑھتے ہوئے میں اور سلمان مسجد الحرم کی جانب بڑھے۔۔۔ سلمان نے یاد دہانی کروائی کہ بھائی، کعبہ کو پہلی نظر دیکھتے ہی جو بھی دعا کرو، وہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ اس لیے یاد کر لو کہ کیا کیا دعا مانگنی ہے۔۔۔ دماغ میں اچانک بھابھی (سلمان کی زوجہ محترمہ) کی بھی بات یاد آگئی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بھائی، آپ جتنا بھی سوچ لوکہ کیا کیا مانگنا ہے یا دعا کرنی ہے، وہاں پہنچ کر کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ بہت کچھ دماغ سے نکل جاتا ہے، بس دل سخت ہو جاتا ہے۔۔۔




مسجد الحرم کی جانب بڑھتے ہوئے انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر

جاری ہے۔۔۔

Tags : , , , ,

لبیک – قسط دوم – الھفوف سے مکہ مکرمہ تک

 

عظیم میرا جگری دوست اور میری چچی کا بھانجا ہے۔۔۔ تقریباً آٹھ سال ہم نے دبئی میں ساتھ کام بھی کیا اور روم میٹ بھی رہے۔۔۔ توصیف اور خرم اس کے ماموں زاد بھائی ہیں ۔۔۔ تینوں احباب چار گھنٹوں سے میرے انتظار میں سوکھ رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی حکام کا رویہ کیسا ہے۔۔۔ باہر آ کر سلام دعا ہوئی اور الحفوف کی جانب رواں دواں ہوئے۔۔۔ توصیف گاڑی چلا رہا تھا اور پچھلی سیٹ پر عظیم اور میں براجمان تھے۔۔۔ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے بعدالحفوف پہنچے۔۔۔ جہاں توصیف کے والدین ہمارا انتظار کر رہے تھے۔۔۔

عظیم اور میرا پلان یہ تھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد الحفوف سے ڈرائیو کر کے جدہ تک جائیں گے جو تقریباً سولہ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے عظیم صاحب کی گاڑی نے انہیں دغا دے دیا اور گیراج جانے کے لیے تیار کھڑی ہی ہو گئی۔۔۔ جمعہ کو تو کوئی گیراج کھلا نا تھا اس لیے ایک رات اور الحفوف میں گزارنی پڑی۔۔۔ اور بروز ہفتہ صبح صبح گاڑی لے کر گیراج چلے گئے۔۔۔ گاڑی ایک بجے تیار ہوئی اور ہم دونوں نے رختِ سفر باندھا۔۔۔

بہت یادگار لیکن تھکا دینے والا سفر تھا۔۔۔ رستے میں صرف نمازوں کے لیے رکے یا ایک بار کھانے کے لیے۔۔۔ تین سال بعد ہم دونوں دوست ملے تھے۔۔۔ توبہت سی باتیں تھی کرنے کے لیے۔۔۔ نا صرف ذاتی نوعیت کی بلکہ مذہبی اور سیاسی معاملات پر بھی پرمغز گفت و شنید ہوئی۔۔۔ عظیم خود کو فلاسفر سمجھتا ہے۔۔۔ اور کسی حد تک ہے بھی۔۔۔ دجال اور دنیا میں پھیلتے دجالی سسٹم کے بارے میں عظیم کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کے لیے۔۔۔ میں خاموشی سےسنتا رہا۔۔۔ اور جب میں نے نوٹ کیا کہ یہ فلاسفر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا ہے۔۔۔ تو میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ بس کر بھائی۔۔۔ میں چھٹیوں پر آیا ہوں۔۔۔ اور اپنے دماغ پر سوچنے سمجھنے جیسا مشکل بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔ تو وہ کھسیانا ہو کر چپ ہو رہا۔۔۔

 

clip_image002clip_image004

الحفوف سے الریاض تک کا راستہ ایسا ہی سنسان ہے۔۔۔ میلوں تک حدِ نگاہ صحرا ہی صحرا ہے

clip_image006

مجھے بتایا گیا کہ یہاں سے الریاض شروع ہوتا ہے

 

clip_image008

clip_image010

الریاض کے فوراً بعد بہت ہی خوبصورت پہاڑی سلسہ شروع ہوجاتا ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بڑے بڑے پہاڑ کاٹ کر نہایت خوبصورت سڑکیں بنائی گئ ہیں۔۔۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک شام کا اندھیرے نے مجھے مزید تصاویر لینے اور دیگر علاقاجات کے نام پڑھنے اور نوٹ کرنے سے محروم نا کر دیا۔۔۔

clip_image012clip_image014

 

مجھے اس کے ساتھ اپنے چچا زاد بھائی سلمان کے پاس جدہ جانا تھا جہاں عظیم کو مجھے چھوڑ کر ینبوع چلا جانا تھا۔۔۔ عظیم صاحب اپنے عادت کے مطابق جدہ کا راستہ بھول گئے۔۔۔ اور سلمان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے انہیں فون کیا۔۔۔ سلمان نے جو راستہ عظیم کو بتایا وہ طائف سے ہو کر گزرتا تھا۔۔۔ طائف سے جدہ کی سڑک خوبصورت لیکن نہایت خطرناک ہے جو پہاڑی سلسلے کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔۔۔ پیمائش تو نہیں مانپ سکالیکن سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔

کافی سفر کے بعد ایک بورڈ نظر آیا جس پر ایک طرف مکہ مکرمہ کا اشارہ تھا اور دوسری جانب "غیر مسلموں کے لیے باہر " جانے کا اشارہ تھا۔۔۔ سلمان صاحب کی ہدایت کے مطابق عظیم نے "غیر مسلموں کے لیے باہر" جانے کا راستہ لیا۔۔۔ جو ہمیں سیدھا جدہ لے جاتا۔۔۔ لیکن عظیم صاحب تو عظیم ہیں جو وہاں سے بھی راستہ بھول گئے اور ناجانےکس راستے نکل پڑے۔۔۔

دور سے "مکہ کلاک ٹاور" نظر آیا تو میں چیخ اٹھا۔۔۔ کہ بھیا ہم تو مکہ کی جانب جا رہے ہیں۔۔۔ عظیم تھوڑا پریشان ہو گیا۔۔۔ اور کہنے لگا ، یار اگر مکہ کی جانب آ گئے ہیں تو سمجھو سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بڑھ گیا ہے۔۔۔ گاڑی جوں جوں مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی، میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔ اور میں تیز ائیر کنڈیشن میں بھی پسینہ سے شرابور ہو گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اور زبان پر خود بخود سبحان اللہ کا ورد جاری ہو گیا۔۔۔

 

clip_image016 clip_image018

clip_image020

منیٰ سے گزرتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث سے کچھ خاص تصاویر نہیں لے سکا۔۔۔ بس یہی کوالٹی بن سکی

 

گاڑی کلاک ٹاور کے قریب سے ہوتے ہوئے منیٰ کے درمیان سے گزر رہی تھی اور میں دونوں جانب حاجیوں کے لیے بنائے گئے سفید خیمے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں جس مقصد کے لیے سعودی عرب آیا ہوں کیا میں وہ مقصد پورا کر پاوں گا۔۔۔ کیا میں گناہ گار اس قابل ہوں کہ اللہ کے گھر حاضری دے سکوں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے گناہوں اور کوتاہیوں کے باعث اللہ تبارک تعالٰی مجھے بس یہیں سے واپس بھیج رہا ہے۔۔۔ اور بیت اللہ کا طواف کرنا بس میرا خواب ہی رہ جائے گا۔۔۔ کیا میرا قبیح جسم بیت اللہ پر قدم رکھنے کے قابل بھی ہے۔۔۔ شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ اٹھے۔۔۔ اور دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور درخواست کی کہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔۔۔

جدہ پہنچتے ہی سلمان اور بھابھی نے خوب خاطر مدارت کی ۔۔۔ تھکاوٹ کے مارے حال براتھا۔۔۔ عظیم تو کھانا کھاتے ہی سو گیا کہ اسے صبح صبح ینبوع کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ سلمان صاحب کے ساتھ اگلے دن مورخہ 4 ستمبر کو عمرہ کا پروگرام بنا۔۔۔۔ سلمان ایک رینٹ-اے – کار کمپنی میں اسسٹنٹ آپریشن مینیجر ہے اور اس کا فون مستقل چلتا رہتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ تو جائیں لیکن اس سے بات کرنا بہت مشکل ہے کہ اس کا زیادہ وقت فون پر ہی گزرتا ہے۔۔۔ بڑے ترلوں کے بعد اس کا فون بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔

بروز 4 ستمبر ، سلمان دوپہر کو ہی گھر آ گئے ۔۔۔ انہوں نے ضد کی کہ احرام گھر سے باندھیں گے۔۔۔ جو مجھے قبول نا تھا۔۔۔ میں نے اپنے استاد صاحب کو عجمان فون کیا اور ان سے مسئلہ پوچھا کہ کیا میں بھی احرام جدہ سے ہی باندھ سکتا ہوں تو انہوں نے منع فرما دیا اور میقات پر جانے کا مشورہ دیا۔۔۔ بادل ناخواستہ سلمان کو میری بات ماننی پڑی اور ہم نے میقات الجحفہ جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔

 

clip_image022clip_image024

clip_image026clip_image028

clip_image030

 
 

مسجد میقات الجحفہ میں غسل کا بہترین اہتمام ہے اور مسجد کے باہر کچھ دکانیں ہیں جہاں سے زائرین اپنے لیے احرام، قینچی چپل، بیلٹ، صابن اور ریزر جیسی اشیاء خرید سکتے ہیں

مسجد میقات الجحفہ جدہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ شام سوا چھے بجے مسجدِ میقات الجحفہ پہنچے اور پہلے نماز مغرب پڑھی پھر صفائی ستھرائی اور نہا دھو کر احرام باندھا۔۔۔ چونکہ یہ میرا پہلاعمرہ تھا اس لیے سلمان ہی میری رہنمائی کر رہا تھا۔۔۔ احرام باندھنے کے بعد مسجد میں دو نفل پڑھے اور نیت باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ گئے۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔

Tags : , , , ,

لبیک – قسط اول – پہلا تجربہ

یکم ستمبر سوا دس بجے فلائیٹ ا لدمام ائیر پورٹ پر اتری۔۔۔ اور میں جہاز سے اتر کر امیگریشن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ مختلف کاونٹروں پر لمبی قطار یں پہلے ہی منتظر تھیں۔۔۔ میں بھی ایک قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ مجھے لینے آئے عظیم، توصیف اور خرم باہر میرے منتظر تھے۔۔۔ میں نے فون پر انہیں اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور کہا کہ انشاءاللہ آدھے گھنٹے میں سارے مراحل سے گزر کر میں ان سے ملوں گا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلے کچھ گھنٹے میرے لیے نہایت اذیت ناک ہوں گے۔۔۔


تقریباً آدھا گھنٹہ بیت گیا اور جس قطار میں میں کھڑا تھا وہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ کل ملا کر صرف تین کاونٹر پر سعودی حکام بیٹھے تھے۔۔۔ اور تینوں قطاریں بس آہستہ آہستہ رینگ رہی تھیں۔۔۔ میں نے جھنجلاہٹ میں تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھا کہ مسئلہ کیا ہے، لوگ نکل کیوں نہیں رہے۔۔۔ دیکھا، کہ تینوں حکام آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور کسی کے سامنے کوئی مسافر نہیں کھڑا۔۔۔ جو آگے بڑھتا، اسے اشارے سے اپنی جگہ کھڑا رہنے کا کہتے اور پھر کبھی موبائل سے کھیلنے لگتے اور کبھی اٹھ کر دوسرے کے پاس جا کر کھڑے ہو جاتے۔۔۔ میرا دماغ گھوم گیا کہ یہ کر کیا رہے ہیں۔۔۔ میرا دل چاہا کہ جا کر کسی سعودی سے بات کروں کہ بھائی کچھ کام کر اور ہمیں فارغ کر۔۔۔ لیکن یہ بھی جانتا تھا کہ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔ اسی جھنجلاہٹ میں واپس اپنی جگہ آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔

کچھ دیر بعدشاید انہیں خیال آیا کہ اب کچھ کام کرنا چاہیے۔۔۔ تو ان میں سے دو نے کام شروع کیا اور تیسرا اسی طرح اونچی اونچی آواز میں دوسروں کو چھیڑنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔ تقریباً سوا گھنٹے کی انتظار کے بعد میرا نمبر بھی آ ہی گیا۔۔۔ امیگریشن کے افسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور پھر میری طرف واپس پھینک دیا۔۔۔ اور “نیو ویزا “کہہ کر ہاتھ کے اشارے سے آخری کاونٹر پر جانے کا حکم دے دیا۔۔۔ میں نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھااور کہا کہ میں پچھلے سوا گھنٹے سے اپنی باری کا انتطار کر رہا ہوں، اس لیے براہ مہربانی یہیں پر پاسپورٹ پر سٹیمپ لگا دے۔۔۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ حیرت اور غصے سے دھاڑا اور “نیو ویزا” کہہ کر پھر آخری کاونٹر کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ بھائی صاحب کو میری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ اور اس کا وقت مزید کھوٹا کرنے سے بہتر ہے کہ میں شرافت سے آخری کاونٹر پر جا کر کھڑا ہو جاوں۔۔۔

آخری کاونٹر بدقسمتی سے اسی افسر کا تھا جو باقی دو افسران کو جگتیں مار رہا تھا اور اس کا کام کرنے بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ میں ایک پاکستانی بھائی سے بات چیت کے بہانے اس کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ وہ بھی کوئی نہایت ہی شریف آدمی تھا جس نے خاموشی سے مجھے اپنے سے پہلے کھڑا ہونے کی اجازت دے دی۔۔۔ یہ قطار ان حضرات پر مشتمل تھی جو نئے ویزٹ یا ایمپلائمنٹ ویزے پر سعودیہ ظہور پزیر ہوئے تھے۔۔۔

بارہ بجتے ہی تینوں کاونٹرز سے حکام اٹھے اور کہیں غائب ہو گئے۔۔۔ اب اگلا آدھا گھنٹہ ہمیں پھر سے انتظار کرنا تھا کہ کوئی آئے اور ہمیں انتظار کی اس کوفت سے آزاد کرے۔۔۔ آخر کار دو اہلکار ہنستے کھیلتے آئے اور دو کانٹرز پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرنے لگے۔۔۔ ہمارا خالی کاونٹر اب بھی ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ انتظار اور یہ گھڑیاں اتنی تکلیف دہ تھیں کہ بتانا مشکل ہے۔۔۔

ایک بجے ایک چھوٹے سے قد کا سعودی اہلکار ہمارے سامنے سے منہ میں سگریٹ سلگائے گزرا اور ہم پر نہایت طنزیہ نگاہیں ڈال کر بولا “ویٹ”۔۔۔

ہمیں تھوڑی سے ڈھارس بندھی کہ چلو اب آ ہی گیا ہے بندہ ۔۔۔ لیکن یہ بندہ بھی کہیں دوسرے کمرے میں جا کر گم ہو گیا۔۔۔ ڈیڑھ بجے وہی حضرت کہیں سے نمودار ہوئے اور کاونٹر پر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔ اور اپنے موبائل سے کھیلنے لگے۔۔۔ آخر کار ان کے ذاتی کام ختم ہوئے اور انہیں اپنا آفیشل کام کرنے کا خیال آیا۔۔۔ اور انہوں نے بندے بلانے شروع کر دیے۔۔۔ دو بجے کے قریب میرا نمبر آیا۔۔۔ اس نے بغور میری شکل دیکھی اور پھر ویزے پر چھپی میری تصویر دیکھی۔۔۔ اور ہاتھوں کے اشارے سے فنگر سکینر پر ہاتھ رکھنے کو کہا۔۔۔ اور پاسپورٹ پر “اینٹری” کی سٹیمپ لگا دی۔۔۔

امیگریشن سے باہر نکل کر اپنا سامان سنبھالتے ہوئے میرے منہ سے نکلا۔۔۔۔

“Welcome to Kingdom of Saudi Arabia…

جاری ہے

Tags : , , ,

کتنے اچھے تھے ہم دونوں..


مکمل تحریر پڑھیں »

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: