پردیس کی عید اور جدائی

عید کا دن یہاں کئی لوگوں کے لیے اداسی لاتا ہے۔۔۔ آج صبح مسجد میں نمازِ عید کے بعد کئی ایسے چہرے دیکھے ، جو بے رنگ اور بے تاثر تھے۔۔۔ان کو شاید امید اور آس تھی کہ کوئی اپنا آئے اور انہیں عید مبارک کہہ کر گلے لگا لے۔۔۔ اور وہ گھر جائیں تو اپنے والدین، بیوی بچوں کے ساتھ عید کا مزہ لیں۔۔۔ لیکن، مجبوریِ روزگار انہیں اپنوں سے بہت دور لے آیا ۔۔۔ جہاں تنہائی میں یہ لوگ انہیں یاد کر کے رو سکتے ہیں، سسکیاں بھر سکتے ہیں لیکن مہنگے کالنگ چارجز ہونے کے سبب اپنے پیاروں سے تفصیلاً بات نہیں کر سکتے۔۔۔ چھٹی نا ملنے اور ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نا رکھنے کے باعث اپنے لوگوں کے ساتھ عید نہیں منا سکتے۔۔۔




میں خود کو بہت خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میرے والدین، بھائی، بہنیں اور ان کے اہل و عیال، میری بیگم اور بیٹی میرے ساتھ ہیں۔۔۔ میں گھر آیا، ان سب کو دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں اپنوں کے ساتھ ہوں۔۔۔ سب نے بیٹھ کر ساتھ ناشتہ کیا، ہنسے کھیلے اور عید کو "عید" کی طرح منایا۔۔۔


اب جب سب سکون سے اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں۔۔۔ تو میری آنکھوں کے سامنے وہی اداس چہرے پھر گھوم رہے ہیں۔۔۔ میں وہ کیفیات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جن سے میرے پردیسی بھائی گزر رہے ہیں۔۔۔


کاش جدائی جیسی کوئی زحمت ہو ہی نا۔۔۔ سب مل جل کر ہمیشہ ہمیشہ، ہر حال میں ساتھ رہیں۔۔۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں ایک دوسرے کا کندھا بنیں۔۔۔۔ کاش میرے پردیسی بھائی، ہمیشہ خوش رہیں اور ہنستے کھیلتے رہیں۔۔۔ کاش یہ مجبوری روزگار جدائیاں نا بنائے۔۔۔

12 Comments

  1. کوئی بات نہیں بھائی
    عادی ہو جاتے ہیں۔
    تیئیسس سال میں صرف ایک عید پاکستان کی ہے۔
    آپ کو عید مبارک

    ReplyDelete
  2. بہت بہت عیدمبارک.................یہ حقیقت ہے کہ ملک سے باہر رہنے والوں کے لیے کچھ خاص دن اداسی کے ہوتے ہیں ...بس یہ گھر سے دوری اللہ پاک کسی کو نہ دے

    ReplyDelete
  3. Shabih Fatima PakistaniAugust 30, 2011 at 5:48 PM

    Aameen

    Eid Mubarak

    ReplyDelete
  4. eid mubark! Bohat acha likha per yeah topic parah ka dil or b uddas ho giya or mujhy apni family shidat sa yaad anny lai ha say m..

    ReplyDelete
  5. میں نے چاہا اس عید پر
    اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
    اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
    جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
    جس دعا کو سوچ کر ہی
    دل خوشی سے بھر جائے
    جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
    کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
    کہ آنے والے دنوں میں
    غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
    تیرا دامن خوشیوں سے
    ہمیشہ بھرا رہے
    پر چیز مانگنے سے پہلے
    تیری جھولی میں ہو
    ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
    ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
    ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
    اپنے پاس بلاتا ہو
    ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
    تیری عید واقعی عید ہوجائے
    کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے

    ReplyDelete
  6. عادی ہو جاتے ہیں۔
    تیئیس سال میں ایک بار بھی عید پاکستان میں نہیں کی۔
    ایویں نا روندے رہا کرو

    ReplyDelete
  7. دل اُداس ہے
    تیر ی ہاد ہے ۔۔۔
    غمِ ہجر میں پھر
    صدیوں کی پیا س ہے
    عید کا جگنو پھر روشنی
    پھلا رہا ہے
    دل ملول کچھ نڈھال ہے
    اب کی بار بھی عیدِ سعد نے
    رنگ دیکھاہا ۔۔۔۔۔
    بچھڑا دوست پھر یاد اہا
    زیست تنہا ہے
    گلوں پر خاک یار ہے
    گزشتہ شب کی طرح
    دل لبِ جان ہے
    جان تو ہے اور تیری یاد ہے
    اج پھر چاند رات ہے

    ReplyDelete
  8. عمران اقبال بھائی، آپ نے اداس کیا ہے ہمیں۔
    ویسے بھی پہلے کونسی عیدیں وطن میں منائی بیٹھے ہیں۔
    میرا یہ بھی نظریہ ہے کہ اگر ایک کی قربانی سے کئی کے چہروں پر خوشیاں بکھرتی ہوں تو یہ قربانی رائیگاں نہیں ہوتی۔
    سب احباب کو عید مبارک ہو

    ReplyDelete
  9. Wow. That’s really all I can say. It’s shocking that the Discovery Channel is that egregiously sexist.Oh well, I never watch that shitty channel anyway. I wish TechTV wasn’t completely butt-reamed by Comcast.

    ReplyDelete
  10. سچ میں یار پردیس کی عید کا کوئی مزہ نہیں ہے آج آپ رولا دیا

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔