Archive for جون, 2011

تم بھی، بروٹس۔۔۔!!!

;-( کیانی صاحب۔۔۔ آپ بھی۔۔۔؟

کس پر تکیہ کریں اب جناب۔۔۔ آپ تو محافظ اعلٰی تھے۔۔۔ اور آپ بھی۔۔۔؟؟؟

کیوں کیانی صاحب۔۔۔ کیا اس دھرتی کا سپوت ہونے پر شرمندگی ہے۔۔۔؟؟؟

کیا غیور قوم کی بہادر فوج کے رہنما ہونے کا قلق ہے۔۔۔؟

کیانی صاحب۔۔۔ کیا  آپ بھی ہمارے سیاستدانوں جیسی سوچ رکھتے ہیں۔۔۔؟

کیا آپ بھی بس ہمیں چارنے ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔؟

کیوں کیانی صاحب۔۔۔ ایک اچھا مسلمان “انتہاء پسند” کب سے ہو گیا۔۔۔؟ بتائیے جناب۔۔۔

کیا نماز پڑھنے والا آپ کی فوج کے قابل نہیں۔۔۔؟

کیا سچ کہنے والے کو آپ کی فوج قبول نہیں کرتی۔۔۔؟

جواب دیجیے کیانی صاحب۔۔۔بریگیڈئیر علی کا قصور بتائیے۔۔۔

کیا ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے آپ کے سائیں مشرف سے کچھ سوال پوچھ لیے تھے۔۔۔؟

کیا یہ ان کا جرم ہے کہ وہ “پاکستان” کو “امریکی سرکار” کی غلامی سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔؟

وڈے سائیں۔۔۔ سنا ہے کہ ان کی قید کا پروانہ بھی آپ نے جاری کیا ہے۔۔۔ اور آپ کو ان کی بڑے لوگوں سے خط و کتابت بھی نہیں بھائی۔۔۔

کیوں کیانی صاحب۔۔۔ کیوں۔۔۔؟؟؟

کیانی صاحب۔۔۔ مشکل وقت میں قوم کی نگاہ آپ پر تھی۔۔۔ اور آپ ہی۔۔۔!!! آپ بھی۔۔۔  :-$

😉  You too, Brutus…!!!

Tags : , , , ,

بلاگستان کا ایک تنقیدی اور اصلاحی جائزہ

آج کچھ سنجیدہ ہو ہی جائیں۔۔۔ بہت مغز ماری ہو گئی۔۔۔

جناب، جب میں نے بلاگستان میں شمولیت کا اعزاز حاصل کیا ہے۔۔۔ تب میری کوشش یہی تھی کہ کچھ اچھا لکھوں اور کچھ اچھا پڑھوں۔۔۔ مجھ نا چیز کے پاس جو تھوڑا بہت علم ہے، اسے بانٹوں اور باقی بلاگرز کے علم سے مستفید ہوں۔۔۔

شروع کے کچھ ماہ تو بہت عمدہ گزرے۔۔۔ بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔۔۔ بہت عمدہ بحثیں بھی ہوئیں۔۔۔ اور مختلف سوچوں سے دوستی بھی ہوئی۔۔۔ یہ بھی کوشش کی، کہ دوسروں کی آرا کو سمجھوں اور برداشت کروں۔۔۔  بدلے میں یہ امید رکھی کہ باقی حضرات بھی میری سوچ کو سمجھیں اور اسے میری سوچ سمجھ کر برداشت کریں گے۔۔۔ 95٪ فیصد بلاگرز میری اس سوچ کے مطابق ملے۔۔۔ تنقید برائے اصلاح پر زیادہ یقین رکھنے والے۔۔۔ اور تنقید برائے تنقید اور ہڈ دھرمی سے دور بھاگنے والے۔۔۔

سب کچھ اچھا چل سکتا ہے، صرف برداشت کا مادہ ہونا چاہیے۔۔۔ اچھائی اور برائی ہر انسان میں ہوتی ہے۔۔۔ اچھائی کے ساتھ دوسرے شخص کی برائی کو بھی اپنانا چاہیے۔۔۔ لکھنے والے کم نہیں۔۔۔ لیکن سوچ سمجھ کر اور اصلاح کے لیے لکھنے والے بہت کم ہیں۔۔۔ اور ان سے بھی کم وہ حضرات ہیں جو تبصروں میں تنقید کو اصلاح میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔۔۔

میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے بلاگرز میں ہی کچھ ایسے دوست ملے، جن کو نا دیکھا اور نا ان کی آواز سنی۔۔۔ لیکن ان کے الفاظ، ان کی خوبصورت شخصیت کو اجاگر کرگئے۔۔۔ جن سے بات کر کے، بحثیں کر کے، ٹانگ کھینچ کر، جگتیں مار کے۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔۔۔ میرے جیسے سادہ اور “جاہل” لوگ ہیں۔۔۔ جنہیں سیکھنے کا شوق ہے۔۔۔ مزید یہ کہ اللہ نے انہیں خوبصورت اور اچھا لکھنے کی صلاحیت بھی عطا کی ہے۔۔۔ جو صرف خوبصورت الفاظ ہی نہیں، خوبصورت دل کے بھی مالک ہیں۔۔۔  مثلاٗ

افتخار اجمل بھوپال صاحب۔۔۔ سب بلاگرز کے انکل، چاچا اور بابا جی۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے انکل اپنے بیٹے کے پاس دبئی میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔۔۔ میری ان سے فون پر بات ہوئی۔۔۔ بدقسمتی سے وقت کی کمی کی وجہ سے بالمشافہ  ملاقات نا ہو سکی۔۔۔ فون پر انکل سے جو گفتگو ہوئی، میں کبھی فراموش نہیں کر پاوں گا۔۔۔ انکل نا صرف اچھا لکھتے ہیں۔۔۔ بلکہ گفتگو بھی بہت عمدہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک شفیق استاد کی طرح میرے سوال، جو سیاست اور مذہب پر مشتمل تھے، ان کا جواب تفصیل اور صبر سے دیتے رہے۔۔۔ انکل کی آواز کی مٹھاس اور نرمی نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔۔۔ ان سے وعدہ لیا ہے کہ جب بھی اب دوبارہ دبئی آئیں گے۔۔۔ ملاقات کا شرف لازمی بخشیں گے۔۔۔ انشاءاللہ

اور یاسر خوامخواہ جاپانی، ضیا بھائی، وقار اعظم بھائی، ڈاکٹر جواد، حجاب، سعدنمبر 1 تا نمبر 3 ، بنیاد پرست، وسیم، ڈاکٹر منیر ،جاوید گوندل صاحب اور انکل ٹام کے روپ میں مجھے نئے دوست ملے۔۔۔ جن سے جب بھی بات کرتا ہوں تو ایسے اچھے دوست پانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔۔۔

عبداللہ نامی ایک شخص، جو بلاگستان میں بارہ سنگھا، آنٹی عبداللہ اور نا جانے کس کس نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔۔۔ کئی معاملوں میں شاید اس کی رائے ٹھیک ہو۔۔۔ لیکن اپنے طرز کلام سےعبداللہ نے اپنے دوست کم اور نقاد زیادہ بنا لیے ہیں۔۔۔ عبداللہ کا تعلق جس بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو، ہمیں اس سےکوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ لیکن عبداللہ کی کوشش ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔۔۔ کہ سخت اور تلخ زبان استعمال کرتے ہوئے، دوسروں کو منافق، جاہل کہہ کر اپنی بات منوا لو۔۔۔ جو کہ ایک غلط طریقہ ہے۔۔۔ ہمارا اپنا نظریہ ہے اور عبداللہ کا اپنا۔۔۔ ہم اپنا نظریہ اس پر نہیں تھوپ رہے۔۔۔ لیکن عبداللہ کو بھی چاہیے۔۔۔ کہ وہ اپنا نظریہ اور سوچ ہم پر حاوی نا کرے۔۔۔ عبداللہ کے اسی طریقے کی وجہ سے بلاگرز  اور تبصرہ نگار اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔۔۔ کئی بلاگرز اسے اپنے بلاگز پر بلاک کر چکے ہیں۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ عبداللہ سے ہماری کوئی زاتی دشمنی تو ہے نہیں۔۔۔ بس ہم اس کی زبان اور گندگی سے بچتے ہیں۔۔۔ پچھلے کئی دنوں سے عبداللہ سے بحث کرتے کرتے، سب بلاگرز نے تنگ آ کر اس کے بارے میں پوسٹ لکھیں۔۔۔ جن میں اس پر تنقید کی گئی۔۔۔ اسے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ پھر مزید تنگ آ کر اس کا مزاق بھی اڑایا گیا۔۔۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔۔۔ کہ برداشت کی حد ختم ہو گئی۔۔۔

عنیقہ ناز، ایک بہترین لکھاری ہیں۔۔۔ کئی بار نا صرف میں بلکہ  دیگر بلاگرز بھی ان کے بلاگ پر اس کا اظہار کر چکے ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ عنیقہ ناز “احساس برتری” میں اس حد تک مبتلا ہیں، کہ اپنے سوا ان کو کوئی دوسرا ٹھیک نظر نہیں آتا۔۔۔ جو، جب تک ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے، تب تک سب اچھا ہے۔۔۔ لیکن جیسے ہی کسی تبصرہ نگار نے ان کے نکتہ سے اختلاف کیا، وہ برا ٹھرا۔۔۔ (کم از کم، میں نے تو ایسا ہی محسوس کیا ہے) ۔۔۔ عبداللہ کی غیر ضروری سپورٹ کی وجہ سے، عنیقہ بھی اپنی “کریڈیبیلٹی” کھوتی جا رہی ہیں۔۔۔ جو بحیثیت ایک مصنف اور بلاگر ان کی شناخت ہونی چاہیے۔۔۔ میں ان کی تحاریر کا “فین” ہونے کے باوجود ان کے بلاگ پر تبصرہ کرنے سے گھبراتا ہوں، کہ کہیں الٹی سیدھی نا سننے کو مل جائے۔۔۔ یا کم از کم عبداللہ منہ متھے نا لگ جائے۔۔۔

اب ذاتی طور پر میں نے تو یہ فیصلہ کیا ہے کہ مکمل خاموشی اختیار کر لوں۔۔۔ عبداللہ کو مکمل طور پر نظر انداز کروں۔۔۔  اوراپنی تحاریر کو بہتر موضوعات کے لیے صرف کروں۔۔۔ عبداللہ سے معذرت ، کہ اسےکم از کم مجھ جیسے جاہل، منافق اور گنوارکے متھے لگنا پڑا۔۔۔ اور ایک گزارش کہ بھائی۔۔۔ اپنا علم ضائع ناکرو۔۔۔ اور اس کو تعمیری کاموں میں صرف کرو۔۔۔ پراپگینڈے کر کے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ باقی تمہاری مرضی۔۔۔

میں بلاگستان میں اپنے دوستوں کی موجودگی میں بہت خوش ہوں۔۔۔ میری اکثر تحاریر میرے دوستوں کے ساتھ ہونے والی علمی بحثوں کا نتیجہ ہیں۔۔۔ اور اسی طرح میرے دوست بلاگرز نے کئی تحاریرہمارے سیاسی، مذہبی اور نظریاتی اختلافات کو مدنظر رکھ کر لکھیں۔۔۔ سب نے اپنے نظریے ہمارے سامنے رکھے۔۔۔ ہمیں ٹھیک لگی تو ان کو اپنا لیا۔۔۔ نہیں ٹھیک لگی تو ان پر چڑھ نہیں دوڑے ۔۔۔ بلکہ اپنی رائے پیش کی۔۔۔ انہوں نے مانی تو ٹھیک۔۔۔ ورنہ اللہ اللہ خیر صلہ۔۔۔

تازہ مثال، مکی صاحب کی تحاریر پر نیک نیت حضرات کے تبصرے اور اسی سلسلے پر ان کے خیالات پر مبنی ان کی ریسرچ اور تحاریر ہیں۔۔۔  اب مکی صاحب کو بھی میں خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بہت خندہ پیشانی سے تنقید برداشت کی اور اپنی رائے پیش کی۔۔۔

خیر جناب۔۔۔  مجھے بلاگستان فیملی کا حصہ بنانے کے لیےبہت بہت شکریہ۔۔۔ انشاءاللہ اب “دائرہ فکر” گندگی کو نظر انداز کرے گا۔۔۔ اور گندگی مٹانے کے طریقوں پر فکر کرے گا۔۔۔

یہ رہی میری سوچ۔۔۔ آپ کی کیا سوچ ہے اس بارے میں۔۔۔ بتائیے گا ضرور۔۔۔

Tags : , , , , , , , , , , , , ,

ایک مظلوم باپ کا خط

اس تحریر میں مذکورہ کریکٹر فرضی ہیں. حقیقی افراد سے کوئی مشابہت، زندہ اور مردہ، مکمل طور پر اتفاق ہے.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجھ جیسے غریب بندے کے بگڑے ہوئے بیٹےعبداللہ۔۔۔

تو تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے قطع تعلقی کا اعلان کر چکا ہوں۔۔۔ پاکستان کے ہر بڑے اخبار میں نوٹس بھی شائع کروا چکا ہے۔۔۔ اردو لکھنی نہیں آتی تھی لیکن تجھ تک پیغام بھیجنے کے لیے اس عمر میں آنٹی سے ٹیوشن بھی لینی پڑی اور ان کی چاکری الگ۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں غریب آدمی ضرور ہوں لیکن عزت والا ہوں۔۔۔ ساری عمر کبھی حرام نہیں کھایا۔۔۔ ساری عمر بڑوں بزرگوں کی سیوا کی ہے۔۔۔ اسلام کے بول بالے کے لیے بھی بڑی محنت کی ہے۔۔۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں غلطی ہو گئی مجھ سے تیری پرورش میں۔۔۔

بیٹا بچپن سے تجھے سمجھاتے آئے ہیں کہ سیاست گندی چیز ہے۔۔۔ اس کو ہاتھ مت لگا۔۔۔ اس کے قریب مت جا۔۔۔ لیکن ایک نظر کی چوک تجھے بھیا جی کی گود میں لے گئی۔۔۔ وہ لمحہ اور آج کا دن، تو ہمارا نہیں رہا۔۔۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اچانک تجھے ہوا کیا ہے۔۔۔ تیری سوچ اتنی گندی کیوں ہو تی جا رہی ہے آہستہ آہستہ۔۔۔

پھر ایک دن تو نرسری سے گھر نہیں آیا۔۔۔ بہت ڈھونڈا تجھے۔۔۔ تجھے نہیں ملنا تھا، تو نا ملا۔۔۔ تین ماہ تجھے کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ کس کس کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔۔۔ تھک ہار کر، صبر شکر کر کے بیٹھ گئے۔۔۔ کہ شاید تو مر گیا ہے۔۔۔ (کاش تو مر ہی گیا ہوتا۔۔۔)۔۔۔

ایک دن تو اچانک لوٹ آیا۔۔۔ خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ اتنی سی عمر میں تیری اتنی گھنی مونچھیں کیسے آ گئیں۔۔۔ بہت پوچھا تجھے کہ کہاں تھا۔۔۔ “کیا کیا ہوا” تیرے ساتھ۔۔۔ لیکن تو کچھ بولتا ہی نہیں تھا۔۔۔

کبھی تو گلی میں کھیلتے بچوں سے لڑ پڑتا اور کبھی مسجد میں جاتے نمازیوں کو دور دور سے منافق منافق کہتا رہتا۔۔۔ کبھی گزرتی ہوئی عورتوں کو ان کے حجاب کے باوجود بے شرم، بے حیا کہہ کر آوازیں کستا۔۔تو کبھی میری داڑھی کی وجہ سے مجھے جماعتی جماعتی کے طعنے دیتا۔۔۔ ہر پرائے مسئلے میں اپنی ٹانگ اڑانا تیری عادت بن گیا۔۔۔ کسی فوتگی میں بھی چلا جاتا تو “بھیا جی زندہ باد” کے نعرے لگاتا۔۔۔ جس کی وجہ سے کئی بار تجھ سمیت مجھے بھی مار کھانی پڑی۔۔۔ ہر رات کو سونے سے پہلے اپنی انگلیوں پر بھیا جی بھیا جی کا ورد کرتا رہتا۔۔۔ ماسی بشیراں کے ساتھ تیری دوستی بڑھتی گئی، جو مجھ سمیت کسی محلے والے کو پسند نہیں تھی۔۔۔ (تو تو جانتا ہے کہ ماسی بشیراں “پھپھے کٹنی” کے طور پر مشہور تھی)، سب کو یقین ہوگیا کہ تو اسی کے کہنے پر ساری حرکتیں کرتا ہے۔۔۔

محلے کو کچھ غیور نوجوانوں نے کئی بار تیری پٹائی بھی کی لیکن ان تین ماہ میں تیری برین واشنگ ہو چکی تھی۔۔۔ لعن طعن اور مار کٹائی کا بھی تجھ پر کوئی اثر نا ہوا۔۔۔ ہر مار کے بعد تیری گھٹیا حرکتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔۔۔

پھر تیرے پاس اچانک پیسے کی ریل پھیر شروع ہو گئی۔۔۔ کبھی نئی شرٹ، کبھی نئی پینٹ، کبھی نیا موبائل۔۔۔ اور پھر ایک دفعہ نئی گاڑی۔۔۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اتنی بالی عمریا میں تجھے گاڑی کسی نے لے کر دی۔۔۔ کچھ چھان بین کے بعد پتا چلا کہ تو تو بھیا جی چیلوں کے “ہاتھوں اور گودوں” میں کھیلتا پایا جاتا ہے۔۔۔

ایک دن تو نیا لیپ ٹاپ لے آیا۔۔۔ اور پھر سارا دن تو اس لیپ ٹاپ سے چپکا رہتا۔۔۔ تیرے دو ہی کام رہ گئے، لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھنا،  ماسی بشیراں کو رپورٹ دینا۔۔ اور پھر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے رہنا۔۔۔ اس کا اثر ہم نے یہ دیکھا کہ کبھی تو بستر پر الٹا پڑا روتا رہتا اور کبھی غسل خانے سے تیری دھاڑوں کی آواز آتی۔۔۔ رو رو کر تیری آنکھوں کے گرد “حلقے” بھی پڑ گئے۔۔۔ جب تو اپنی تنہائی میں یہ آوازیں لگاتا کہ “کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔۔۔ اور سب مجھے ذلیل کرتے رہتے ہیں”۔۔۔ تو تو نہیں جانتا کہ ہم پر کیا بیتتی تھی۔۔۔

تجھے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ اس لیے برداشت کرتے رہے تجھے۔۔۔ آخر کار ہمیں کسی نے مشورہ دیا اور ہم نے سعودی عرب سے ایک ڈاکٹر کو طلب کیا۔۔۔ ڈاکٹر “ج” نے ہر طرح سے تجھے سمجھانے اور تیرے علاج کی کوشش کی۔۔۔ لیکن جلد ہی  ڈاکٹر صاحب بھی امید چھوڑ بیٹھے۔۔۔ انھوں  نے ہم سے جو کہا، اس کے جواب میں ہم پکار اٹھے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا عبداللہ نفسیاتی مریض ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ پاگل ہو گیا ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ کو کوئی علاج نہیں۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچا لیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچالیں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ورنہ عبداللہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کا علاج مفت میں کر دیں۔۔۔ پگلا ہے ہماراا عبداللہ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ آپ ہماری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔۔۔ اور اسے دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا آپ نے۔۔۔ ہم تو دعائیں مانگ مانگ کے تھک گئے۔۔۔ اسے تو شاید اب کسی کی بددعا ہی لگے تو کام آئے۔۔۔

” ڈاکٹر “ج” بھی چلے گئے۔۔۔ تیرا علاج ان کے بس میں بھی نہیں تھا۔۔۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔۔۔

تیری کرتوتوں کی وجہ سے تو محلے بھر میں “بارہ سنگھا” اور “آنٹی عبداللہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔۔ آج تک تو نا میری سمجھ نہیں آئی اور نا ہی کسی سپیشلسٹ ڈاکٹر کی، کہ تیرے سر پر سینگ کیسے نکل آئے۔۔۔ پیدا تو انسان ہوا تھا، لیکن انسان کے سر پر سینگ کب ہوتے ہیں۔۔۔  سب مجھے شک سے دیکھتے اور طرح طرح کی آوازیں کستے۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں عزت دار بندہ ہوں۔۔۔ جب تک زندہ ہوں حق حلال کی ہی کھاوں گا۔۔۔ تجھے بھی بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن تو نہیں مانا۔۔۔ تو نے بھیجا جی اور ماسی بشیراں کی صحبت میں بہت پیسہ کما لیا۔۔۔ لیکن بیٹا، ہمیں تیرے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس تیرے بوڑھے باپ کی تجھ سے درخواست ہے کہ بیٹا اب بہت ہوگئی۔۔۔ اب تو سدھر جا۔۔۔ اب تو تو سیانا ہو گیا ہے۔۔۔ ہر اچھے بندے سے بھڑنا چھوڑ دے۔۔۔ آخر تیری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی۔۔۔ کہ جو تو، تیرابھیا جی اور تیری ماسی بشیراں سوچتی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ آخر تو عقل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا۔۔۔ کب تک تیری بے وقوفیاں برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔ کب تک دنیا ہمیں تیرے نام سے طعنے دیتی رہے گی۔۔۔ آخر کب تک۔۔۔ بیٹا، ان بوڑھی ہڈیوں پر کچھ رحم کر۔۔۔ اور ہمیں بخش دے۔۔۔ ہم تیری وجہ سے بہت ذلیل ہو چکے۔۔۔ بس کر بیٹا۔۔۔ بس کر۔۔۔

تیرا بوڑھا قابلِ رحم باپ۔۔۔

ابو عبداللہ

سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟

کوئی سمجھائے مجھے۔۔۔

حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے۔۔۔؟

سنت وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔۔۔

حدیث وہ الفاظ، احکامات یا ارشادات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔۔۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔۔۔؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔۔؟

کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل میں تضاد تھا۔۔۔؟

اگر ایسا نہیں ہے جو میرے جیسا جاہل سمجھ رہا ہے تو کیوں ہم سنت اور حدیث کو مختلف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔

خدا کے واسطے کوئی تو سمجھائے مجھے۔۔۔

Tags : , ,

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: