مقصدِحیات

اس جگہ کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں سے سورج سمندر میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔۔۔

نارنگی روشنی، آسمان کے صفحہ پر پھیلتی ہوئی، شارجہ کارنش کو سنہرے رنگوں میں ڈبو دیتی ہے۔۔۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ، کہہ کر اپنے بائیں کاندھے  کی طرف سر موڑتے ہوئے اس نے نماز مغرب مکمل کی۔۔۔ ایک لمبی سانس بھری اوراپنے سامنے بچھے آسمان پر نظر ٹکا دی۔۔۔

ہزاروں دانشوروں اور علماء نے آسمانوں میں چھپی جنت کو کھوجنے کی کوشش کی۔۔۔ اور زندگی کے معمہ کو جاننا چاہا ہے۔۔۔

فرابی سے غزالی تک۔۔۔
ارسطو سے اقبال تک۔۔۔

لیکن کوئی روح کی تسکین کا سامان نہیں کر سکا۔۔۔

یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دیا اور پھر بلاوجہ سڑکیں ناپتا رہا۔۔۔

سوچنا اور تحقیق کرنا اس کی بہت پرانی عادت تھی۔۔۔ وہ کرہ ارض میں مخفی خزانوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ آسمان کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ زندگی کے بارے میں سوچتاتھا۔۔۔ انسانی خصلتوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔

اس نے اپنی گاڑی کا رخ عجمان کارنش کی طرف کر دیا۔۔۔ جہاں ٹریفک جام اس کا منتظر تھا۔۔۔

ہم سب دنیا کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہیں۔۔۔ اپنے طور پر دنیا کے بارے میں سب کچھ جاننے کے دعویدار بھی ہیں۔۔۔ دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنا بھی چاہتے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔

کوئی بھی دنیا کی حقیقت سے واقف نہیں۔۔۔ اور وہی حقیقت تو مقصدِ حیات ہے۔۔۔

بھاری ٹریفک میں بریک پر پاوں رکھے وہ سوچتے ہوئے مسکرا اٹھا۔۔۔

"مقصدِ حیات تو مقصد سے بھرپور زندگی ہی ہے۔۔۔"

9 Comments

  1. مقصد ہی الٹا ہو تو۔۔۔۔۔ہم پاکستانیوں جیسا حال ہوتا ہے

    ReplyDelete
  2. زندگی کا کوئی ایک مقصد تو ہتا نہیں بلکہ زندگی تو مقاصد کے لیے ہوتی ہے

    ReplyDelete
  3. بلا مقصد زندگی گزارنے والے ڈیپرسڈ رہا کرتے ہیں ۔ اپنے گھر سے باہر کے لوگوں سے تعریف کرواتے ہیں ۔ نہ اپنے کام آتے ہیں اور نہ اپنے گھر والوں کے ۔
    دوسروں کو خوشیاں ضرور دیتے ہیں پر بدلے میں ملنے خوشیوں پر خوش ہو کر دکھا نہیں سکتے ۔ اسلئے دوسروں کو خوش نہیں دیکھ سکتے اور ان سے الجھتے رہتے ہیں ۔ بھلے ہی یہ دوسرے انکے اپنے گھر کے ہی افراد کیوں نہ ہوں ۔

    ReplyDelete
  4. پوسٹ کا آغاز پڑھ کے میں سمجھی سورج کے سمندر میں ڈوبنے کے بعد کا منظر پڑھنے کو ملے گا ۔۔ مگر سمندر غائب ہوگیا ۔۔ اور مزید پڑھنے کے لیئے ایک اور کلک کرنا بڑا مشکل لگتا ہے :roll:
    جاہل سنکی ، آپ نے آج ایک بھی انگلش کا لفظ استعمال نہیں کیا خیریت آپ جاہل سنکی سے پڑھے لکھے ہوگئے کیا :P

    ReplyDelete
  5. دنیا دھوکے کی ٹٹى (پردہ ) یہی اسکی حقیقت ہے اور اسکی حقیقت سمجھ کر جینا مقصد حیات..یہ بہت مشکل کام ہے مجھہ سے تو نہیں ہو پاتا...

    ReplyDelete
  6. یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ج ج س ہوں اور انگریزی نہ ہو . ارے انگریزی تو انکے گھر میں ہانڈی چولھا کرتی ہے. اپنے دیکھا کہ کس خوبی سے انہوں نے لفظ ڈپرسڈ کا استعمال کیا ہے کہ پڑھنے والے کو احساس ہی نہیں ہوا ...

    ReplyDelete
  7. بلاامتیازMay 6, 2011 at 3:06 PM

    ڈوبتے سورج کا منظر دیکھتے ہوئے اکثر دل بھی ڈوب جاتا ہے..

    ReplyDelete
  8. آپ چڑھتے سورج کو دیکھا کریں!

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔