کوئی بتائے گا۔۔۔؟



تاریخی ہیرو یا ولن:

اسامہ بن لادن مر گیا یا شہید ہوا۔۔۔؟ میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔ میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن نے امت مسلمہ کی کس طرح اور کس حد تک اور کیسی خدمت کی ہے۔۔۔؟ جہاں تک میں جانتا ہوں۔۔۔ اگر اس نے امریکہ، اس کے یورپی حواریوں اور پھر مسلمان حواریوں کو کسی حد تک زق پہنچایا تو بدلے میں بہت سے بے گناہ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی اب تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔۔۔

کیا اسامہ بن لادن نے غریب مسلمان ممالک میں خیراتی ہسپتال، اسکول یا ادارے بنائے۔۔۔؟ کیا کسی اور طرح ہی اسامہ مسلمانوں کے کام آ سکا۔۔۔؟؟؟

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب جب اسامہ منظر عام پر آیا یا اس نے کوئی کارنامہ انجام دیا۔۔۔ تو اس کا فائدہ کسی نا کسی طرح صرف اور صرف امریکہ اور اس کی حواریین کو ہی ہوا۔۔۔؟ اور ہم مسلمان اور پاکستانی ہمیشہ سزا کا مستحق ٹھرے۔۔۔؟

کیا اسامہ اب ہلاک ہوا ہے یا بہت پہلے ہلاک یا طبعی موت مر چکا تھا۔۔۔؟؟؟ امریکہ نے اسے سمندر میں جگہ دینے کی اتنی جلدی کیسے کی۔۔۔؟ اگر وہ واقعی دشمن تھا۔۔۔ تو اس فرعون کی طرح نشانِِعبرت کیوں نہیں بنا دیا گیا۔۔۔؟

کیا اسامہ بن لادن مسلمانوں کا ہیرو ہے۔۔۔ یا تاریخ اسے ایک ولن کے طور پر یاد کرے گی۔۔۔؟

حسب معمول میں تو شدید شدومد میں مبتلا ہوں۔۔۔



ہمارے ہجڑے حکمران:

جلال آباد سے چار فوجی ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں۔۔۔ کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے پاکستان کے ایک مرکزی شہر ایبٹ آباد پہنچتے ہیں۔۔۔ اس میں سے امریک میرین نکلتے ہیں۔۔۔ شہر کے ایک نہایت مصروف رہائشی محلے کا محاصرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک بڑا آپریشن کیا جاتا ہے۔۔۔ بمباری کی جاتی ہے۔۔۔ مرنے والے کو اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔۔۔

اور ہم۔۔۔ ہماری فوج لاعلم۔۔۔۔ ہمارے حکمران طاقت بانٹنے میں مصروف۔۔۔ ہماری عوام مردہ۔۔۔ ہجڑے ہی تو بن گئے ہیں۔۔۔



طالبان کا احسان:

تحریک طالبان پاکستان نے اعلان کیا۔۔۔ کہ “اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ پاکستانی فوج، حکمران اور عوام سے لیا جائے گا۔۔۔ “

تو پہلے ہم پر کیا کرم کر رکھا ہے آپ نے۔۔۔ پہلے ہی پاکستانی فوجی مر رہے ہیں۔۔۔ پہلے ہی آپ بے گناہ پاکستانی عوام کو مار رہے ہو۔۔۔ خدارا اب حکمرانوں کو نشانہ بنا لو۔۔۔ اگر مارنا ہی ہے تو انہیں مار دو۔۔۔ بندے تو آپ نے کم کرنے ہی ہیں۔۔۔ آپ ان دو اڑھائی ہزار سیاستدانوں کو مار کر کم کر لو۔۔۔ پاکستانی عوام ایویں آپ کے ساتھ ہو جائے گی۔۔۔ اور پھر آپ کی “شریعت” پر بھی عمل درآمد کروانا آسان ہو جائے گا۔۔۔

 

عوام کو کیا۔۔۔؟

بجلی نہیں ہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

تنخواہیں نہیں بڑھ رہی۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

ڈروون حملے نہیں رک رہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

آٹا مہنگا۔۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

چینی ناپید۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

اور جو کرنے والا کام ہے۔۔۔ وہ نا کرو۔۔۔

جو لوگ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے “رینٹل پلانٹس” پر لگا رہے ہیں۔۔۔  جو لوگ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں لیکن مزدور کی تنخواہ کی فکر نہیں۔۔۔ جو لوگ ڈروون حملے کرنے کی اجازت دے رہیں۔۔۔ جو لوگ آٹے اور چینی کی زخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے خلاف کیا کر رہے ہیں۔۔۔

انقلاب انقلاب کا نعرہ بھی ٹھندا ہو گیا۔۔۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔۔۔ برائی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس برے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، جو مستقل برائی پھیلا رہا ہے۔۔۔

 

ہمیں “شخص” کی فکر ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے مسئلوں” کا غم ہے۔۔۔ قوم کے نہیں۔۔۔

ہمیں “میری حفاظت” کرنی ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے پیسے” پیارے ہیں۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

11 Comments

  1. میری نظر میں پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا اور اگر آج دیانتدار قیادت میسر بھی ہوجائے تو اور ؐھنت کرے تو ان سب باتوں کاحل اداروں کو مظبوط کرنے میں۔ لوگ شخصیات کی بجائے پارٹی کو ادار کی صورت دیکھیں اور اسکی سابقہ کارکرگی کا جائزہ لیں۔ آئیند کا منشور دیکھیں۔ پولیس کا ادارہ مستحکم ہو اور اسے کسی "شخصیت" کہ کہنے پہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہ کیا جاسکے۔ ملک ایک ادارے کے طور مضبوط ہو اور اسکے صدر اور وزیر اعظم کی بکائے اسکے ملک کی حیثیت مضبوط ہو۔ اسی طرح عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ بی حیثیت اس قدر مضبوط ہوں کے انھیں اپنے کسی جعلی مقصد کے لئیے کوئی بڑے سے بڑی شخصیت پہ مجبور نہ کر سکے اور ایسا کرنے والے کو بغیر کسی خوف کے ادارے گرفتار کر لیں۔

    شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں۔ آپس میں بعدالطرفین کی طرح بغض رکھنے والے دو امریکی صدور نے دو مختلف پارٹیز کے پلیٹ فارم امریکی صدر کے امریکہ سے انتخابات جیتے۔ مگر انکے قومی اہداف افغانستان کی جنگ۔ اسامہ بن لادن وغیرہ ان سب اہداف سے وہ کبھی نہیں چوکے۔ جب کہ پاکستان میں بکاؤ مال تھرڈ کلاس سیاستدان حکمرانوں کے لئیے پورے ادارے کی ہی قربانی دے دی جاتی ہے۔ اور محج اپنے من پسندوں کو نوازنے کے لئیے راتوں رات نئی منسٹریز اور ادارے کھڑے کر لئیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ملک پانچ سات سال بڑی مشکل سے چل پاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ہورہا ہے۔

    پاکستان میں افراد اور شخصیتوں کی بجائے اداروں پہ توجہ دے جائے گی؟ کیا کبھی ایسا ہو سکے گا؟؟

    ReplyDelete
  2. ہمارے ہجڑے حکمران:
    جلال آباد سے چار فوجی ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں۔۔۔ کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے پاکستان کے ایک مرکزی شہر ایبٹ آباد پہنچتے ہیں۔۔۔ اس میں سے امریک میرین نکلتے ہیں۔۔۔ شہر کے ایک نہایت مصروف رہائشی محلے کا محاصرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک بڑا آپریشن کیا جاتا ہے۔۔۔ بمباری کی جاتی ہے۔۔۔ مرنے والے کو اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔۔۔
    اور ہم۔۔۔ ہماری فوج لاعلم۔۔۔۔ ہمارے حکمران طاقت بانٹنے میں مصروف۔۔۔ ہماری عوام مردہ۔۔۔ ہجڑے ہی تو بن گئے ہیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس یہاں بات ختم ہوجاتی ہے

    ReplyDelete
  3. تحریک طالبان والے ویسے ہی امریکہ کے ایجنٹ ہیں، انکو تو یہ اعلان کرنا ہی تھا ۔

    ReplyDelete
  4. جاوید بھائی آپکی بات بلکل درست ہے کے حکمرانوں کے انڈیا اور افغانستان کے صدور کی زہر افشانی کا جواب دینا چاہیے مگر یہ ابھی تک کیوں نہیں دے پائے جواب؟ میں نے اپنی تازہ پوسٹ میں یہ ہی حقائق بتانے کی کوشش کی ہے کے یہ سب کٹھہ پتلیاں ہیں انکی اتنی اوقات ہی نہیں ہے کے یہ اس حساس معاملے پر اپنی سوچ سمجھہ کے مطابق زبان کھول سکیں، یہ فوج کے لکھے ہوئے اسکرپٹ کا انتظار کررہے ہیں جب فوج اور ایجنسیز انہیں اسکرپٹ لکھہ کر دیں گی تو یہ ٹی وی پہ آکر اسے پڑھہ کر سنا دیں گے۔ یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی اصل اوقات اور یہ ہے پاکستان کی اصل جہموریت، ہمارے اصل حکمران فوج اور ایجنسیز ہی ہیں بھائی میں دعوے سے کہتا ہوں کے صدر اور وزیراعظم تک کو خبر نہیں ہوگی کے کیا ہوگیا ہے پاکستان میں کل رات، کیوں کے انکی اتنی اوقات ہی نہیں کے امریکہ ان سے پوچھنے کی جسارت کرئے، یہ سب امریکہ کے زر خرید غلام ہیں اور کوئی بھی مالک کوئی کام کرنے سے پہلے اپنے غلام سے پوچھتا نہیں ہے، وہ تو کام کرنے کے بعد صرف بتاتا ہے۔ یہ سب امریکہ نے فوج اور ایجنسیز کے ساتھہ طے کیا اور آرام سے سب کچھہ کر کے چلے بھی گئے۔ سیاستدانوں کی اوقات ہی کیا ہے جناب، کیسی آزادی کیسی جمہوریت؟ پاکستان کا مطلب ہی فوج اور ایجنسیز ہیں۔

    ReplyDelete
  5. آپ کا انداز تحریر پسند آیا. آپ نے حرف بحرف سچ لکھا ہے.

    ReplyDelete
  6. بھوکے ننگے پاکستانی عوام تیار رہیں۔
    اب روزانہ کچھ نہ کچھ پھٹتا رہے گا۔

    ReplyDelete
  7. نہ تو اوسامہ ہيرو ہے اور نہ ويلين ۔ اُس کی ہلاکت کا واقعہ ايک ڈرامہ جو پاکستام کيلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ آنے والا وقت بتائے گا ۔ اللہ ہميں اب بھی توبہ کر کے سيدھی راہ پر چلنے کی توفيق دے ۔ ورنہ ہم تباہی کے کنارے تو کھڑے ہی ہيں

    ReplyDelete
  8. عجیب المیہ ہے کہ جہاد کرنے والے اعتدال سے محروم ہیں. حکمران غیرت ، عزت نفس، شرم و حیا سے محروم اور عوام ضروریات زندگی سے محروم اور بوکھلائے ھوۓ.

    ReplyDelete
  9. عمران اقبالMay 4, 2011 at 6:43 PM

    سب قارئین کے تبصروں کا بہت شکریہ... جزاک اللہ...

    ReplyDelete
  10. میرے خیال میں آپ نے کچھ زیادہ برا نہیں لکھا ہے۔ واقعی امریکیوں سے زیادہ نقصان ہمیں پہنچا ہے۔

    اور یہ ہجڑے تو انکے لئے عافیہ کی چوڑیاں ہی کافی ہیں۔

    ReplyDelete
  11. اقبال جہانگیرOctober 15, 2011 at 3:25 AM

    تاریخی ہیرو یا ولن
    حالات گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القائدہ کے بے شمار لوگ یہان مارے جا چکے ہین یا گرفتار ہوچکے ہیں۔
    القائدہ ایک مجرمانہ سرگرمیوں مین ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور اسامہ ان مجرموں کا سردار تھا۔
    اسامہ اور اس کی تنظیم القائدہ کے اسلام اور اسلامی امہ کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ القائدہ اور طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، آئیندہ کے لئے القائدہ ،مسلمانوں اور اسلام کو اپنی عنایات سے معاف ہی رکھے تو یہ ملت اسلامی کے حق مین بہتر ہے۔ القائدہ نےقران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔