بڑی تلخ ہے یہ زندگی

بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔ شاید ہی کسی کی سگی ہو گی۔۔۔ شاید ہی کسی کو راس آئی ہوگی۔۔۔ شاید ہی کسی کے کام آئی ہوگی۔۔۔ شاید ہی کسی کے لیے آسان ہوگی۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر کسی کے ساتھ اچھا کرتے رہو۔۔۔ لیکن کسی مجبوری سے ایک بار ساتھ نا دےسکو۔۔۔ تو ساری اچھائی کنویں میں گر جاتی ہے۔۔ ساری عمر کی ریاضتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر رشتے نبھاتے رہو۔۔۔ بس ایک بار چوک جاو۔۔۔ تو سارے رشتے روٹھ جائیں گے۔۔۔ ساری محبتیں امتحان لینے لگیں گی۔۔۔ سارے تعلق حساب  مانگنے لگیں گے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر زمہ داریاں نبھاتے گزر جائے۔۔۔ ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار اپنی خوشی کے لیے بغاوت کر گزرو۔۔۔ تو ساری محنتیں، سارے احساسات اور ساری کاوشوں پر سوالیہ نشان لگ جائے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

“نیکی کر دریا میں ڈال”۔۔۔ بڑا مشکل کام ہے۔۔۔ زندگی بھر نیکیاں کرتے رہو۔۔۔ اور دریا میں ڈالتے رہو۔۔۔ لیکن صرف ایک بار نیکی کی توقع کرلو۔۔۔ اور خود کو حد درجے کمزور ثابت کر دو۔۔۔ گرا لو دوسروں کی نظروں میں۔۔۔ الفاظ ہی مار ڈالیں گے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

محبت کر لو۔۔۔ محبت دے دو۔۔۔ محبت بانٹ لو۔۔۔ محبت پھیلا لو۔۔۔ لیکن محب ہونے کی خواہش کرتے ہی۔۔۔ گناہگار ثابت کیئے جاو۔۔۔ کیسی محبت، کیسے جذبے۔۔۔ کیسا ایثار اور کیسے رشتے۔۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

12 Comments

  1. نیکی کر گزرنے والوں کو اپنے ساتھ نیکی کر گزرنے والوں کا پتا ہی نہیں چلا کرتا جی ۔
    احسان کو نیکی سمجھ لینے سے مسائل ضرور ہو جایا کرتے ہیں ۔ احسان فراموش اسے کہا جاتا ہے جو احسان مند ہوتے ہوئے بھی احسان کرنے والے کے جھوٹ کو سچ نہ مانے ۔

    ReplyDelete
  2. یااللہ خیر!

    عمران بھائی خیریت؟ آپ آج بڑے تلخ ہورہے ہیں؟۔ پہلے شاہد اکرم سسٹر نے کچھ اس سے ملتا جلتا مواد اپنے بلاگ کی زینت کیا ہے اور اب آپ؟۔

    آپ نے لکھا ہے "بس ایک بار چوک جاؤ" عمران بھائی! محبت کرنا اگر مشکل ہے تو محبت کی لاج رکھنا محبت کرنے سے بھی مشکل ہے۔ محبت ایثار مانگتی ہے۔ محبت ہر روز ، ہار بار، بار بار تجدید وفا اور اسکا اظہار مانگتی ہے۔ محبت باری کی قائل نہیں۔ محبت اعدادوشمار کو نہیں مانتی کہ اگر کوئی بس "بس ایک بار چوک جائے" تو وہ اسے معاف کردے۔ محبت میں "معافی نام کا تصور ہی نہیں۔ محبت کرنے والے بہتر جانتے کہ جس نے لغرش کی۔ "چوک گیا" پھر اسے جائے امان نہیں ملی۔

    اسلئیے محبت کرنے والے چوکتے نہیں۔ہمیشہ اپنے پائے میں استقامت رکھتے ہیں۔ الغرض محبت میں بھول جانا ، چوک جانا، لغرش کرنا۔ اس کا کوئی ذکر نہیں اور جو کرجاتے ہیں انھیں معافی نہیں۔

    ہماری وہ "چوک" جسے ہم "ایک بار" سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ لوگوں پہ یہ ساری عمر کے ایثار سے "بھاری" ہوتی ہے۔ اس سے بچنا چاہئیے ۔ اگر سرزد ہوجائے تو ندامت ، پچھتاواہ اور انتظار اسکا وہ مرہم ہے۔ جو ایک دن ذخم پہ پھاہا رکھ دے۔

    ReplyDelete
  3. شکر ہے کہ کوئی تو آیا اس طرف۔۔۔
    بلاگ واہ واہ کروانے کے لیے نہیں
    دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ہوتے ہیں ۔۔۔

    بسیار خوب است ۔۔۔

    ReplyDelete
  4. سلام عمران بھائی محبت میں حاصل تو کچھ نہیں ہوتا۔ محبت کا تو اصل مفہوم ہی لا حاصل ہوتا ہے۔حاصل ہو جانے والی تو کوئی خواہش ہوتی ہے محبت نہیں

    ReplyDelete
  5. لگتا ھے پاکستان میں موسم بہار آگیا تے چھا گیا۔
    سنا ہے موسم بہار جب آتا ہے تو لوگاں کے جذبات لاوا خوب دھکتا ہے۔
    جس سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تو ہیں ہی اپنے آپ سے کچھ زیادہ ہی محب ہو جاتے ہین۔یعنی خود غرض۔
    تو جناب ایسے موسم سے دور بسنے والے جذبات کی کسی دوسری نہج پر ہوتے ہیں۔
    اسس لئے کچھ عجیب لگتا ہے۔

    ReplyDelete
  6. جناب خیر تو ہے۔ اتنی تلخی؟؟؟
    خیر کبھی کبھی چلتا ہے۔
    برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
    ہے کبھی اور جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

    تو اسے پیمانہء امروز و فردا سے نہ ناپ
    جاوداں، پیہم جواں، ہر دم رواں ہے زندگی

    ReplyDelete
  7. غم ہے یا خوشی ہے تو
    میری زندگی ہے تو۔

    صرف اس شعر کے معنیٰ ہی اگر ٹھیک سے سمجھہ آجائیں تو پھر ہمیں اپنے رشتوں سے کبھی بھی گلہ نام کی کوئی چیز نہ رہے۔

    ReplyDelete
  8. جہاں وابستگی ہوتی ہے وہاں توقعات ہوتی ہیں اور جہاں توقعات ہوتی ہیں وہاں یہ سب کچھ تو ہوتا ہی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کیا کرایا مٹی میں مل گیا ہم تو آپکے آرام و سکون اور خوشی کی خاطر مرے جارہے تھے اور آپ ہیں کہ آپکو خبر ہی نہیں. مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا. کوئی بھلے اپنے منہ سے نہ کہے مگر دل ہی دل میں آپکا اعتراف ضرور کرتا ہے. اب یہ آپکی ہوشیاری ہے کہ اس اعتراف کو زبان پر کیسے لیکر آتے ہیں.

    ReplyDelete
  9. عمران اقبالMay 1, 2011 at 4:24 PM

    @ جاہل صاحب: 'احسان فراموش اسے کہا جاتا ہے جو احسان مند ہوتے ہوئے بھی احسان کرنے والے کے جھوٹ کو سچ نہ مانے "...
    درست فرمایا جناب... سو فیصد درست

    @ جاوید بھائی... وہ محبت ہی کیا جس میں معافی نا ہو... معاف کرنا، نظر انداز کرنا محبت کی خصوصیات میں سے ہیں...

    @ بلا امتیاز بھائی... دوسروں کا تو نہیں پتا... لیکن میں واہ واہ کروانے کے لیے نہیں لکھتا... الحمدللہ...

    @ عادل بھائی... آپ کے تبصرے کا شکریہ

    @ یاسر بھائی... میں تو پاکستان میں نہیں ہوں... اور دبئی کے گرم موسم میں بھلا نازک جذبات کہاں نکھرتے ہیں... محبوب بناتے ہیں بندہ خود سے بھی محبت کرنا شروع کر دیتا ہے... یہ جذبہ قدرت نے عجیب ہی رکھا ہے...

    @ وقار بھائی... زندگی تلخ ہے، رشتے تلخ ہیں، حالات تلخ ہیں... تو فطرت بھی قدرتی طور پر تلخ ہو جاتی ہے... ہمارا کیا قصور بھلا :)

    @ فکر پاکستان بھائی... درست فرمایا... رشتے، محبت اور ناتے غم دیں یا خوشی... ان کو ہم سے دور کوئی نہیں کر سکتا...

    @ ڈاکٹر جواد صاحب... یہ توقعات ہی تو جینے نہیں دیتیں... لیکن توقعات کو نظر انداز بھی کیسے کیا جائے... جتنا ان سے دور رہنے کی کوشش کریں... اتنی ہی بڑھتی جاتی ہیں...

    @ وسیم بھائی... آپ نے جو لکھا... اسے میں "عشق" کے زمرے میں لاتا ہوں... میری نظر میں محبت، "عشق" سے کافی نچلے درجہ کا جذبہ ہے...

    سب قارئین کا تبصروں کے لیے بہت شکریہ...

    ReplyDelete
  10. م م م م م م م مم م م م مم م م م م
    بس یہ ہی میرا تبصرہ ہے

    ReplyDelete
  11. کاش آپ کے سب دکھ میں خود میں سمو لوں
    کاش
    کاش ایسا ہو

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔