Archive for اپریل, 2011

بڑی تلخ ہے یہ زندگی

بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔ شاید ہی کسی کی سگی ہو گی۔۔۔ شاید ہی کسی کو راس آئی ہوگی۔۔۔ شاید ہی کسی کے کام آئی ہوگی۔۔۔ شاید ہی کسی کے لیے آسان ہوگی۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر کسی کے ساتھ اچھا کرتے رہو۔۔۔ لیکن کسی مجبوری سے ایک بار ساتھ نا دےسکو۔۔۔ تو ساری اچھائی کنویں میں گر جاتی ہے۔۔ ساری عمر کی ریاضتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر رشتے نبھاتے رہو۔۔۔ بس ایک بار چوک جاو۔۔۔ تو سارے رشتے روٹھ جائیں گے۔۔۔ ساری محبتیں امتحان لینے لگیں گی۔۔۔ سارے تعلق حساب  مانگنے لگیں گے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

ساری عمر زمہ داریاں نبھاتے گزر جائے۔۔۔ ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار اپنی خوشی کے لیے بغاوت کر گزرو۔۔۔ تو ساری محنتیں، سارے احساسات اور ساری کاوشوں پر سوالیہ نشان لگ جائے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

“نیکی کر دریا میں ڈال”۔۔۔ بڑا مشکل کام ہے۔۔۔ زندگی بھر نیکیاں کرتے رہو۔۔۔ اور دریا میں ڈالتے رہو۔۔۔ لیکن صرف ایک بار نیکی کی توقع کرلو۔۔۔ اور خود کو حد درجے کمزور ثابت کر دو۔۔۔ گرا لو دوسروں کی نظروں میں۔۔۔ الفاظ ہی مار ڈالیں گے۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

محبت کر لو۔۔۔ محبت دے دو۔۔۔ محبت بانٹ لو۔۔۔ محبت پھیلا لو۔۔۔ لیکن محب ہونے کی خواہش کرتے ہی۔۔۔ گناہگار ثابت کیئے جاو۔۔۔ کیسی محبت، کیسے جذبے۔۔۔ کیسا ایثار اور کیسے رشتے۔۔۔۔ بڑی تلخ ہے یہ زندگی۔۔۔

درخواست

جو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں۔۔۔untitled

تم میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔

میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا۔۔۔

خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا۔۔۔

میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا۔۔۔

قریب اپنے بٹھا کر۔۔۔

الفت کی دو باتیں کر لینا۔۔۔

میرا حال پوچھ لینا۔۔۔

اپنا حال سنا دینا۔۔۔

کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا۔۔۔

تحفے میں اک مسکان دے دینا۔۔۔

روک لینا اس پل کو۔۔۔

اک لمحہ میرے نام کر دینا۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)


خاوند اور بیوی کے مشترکہ حقوق:

پہلی قسط: بیویوں کے شرعی فرائض دوسری قسط: شوہر کے شرعی فرائض

ہر مسلمان اس بات کا معترف ہے کہ خاوند کے بیوی اور بیوی کے خاوند پر کچھ حقوق ہیں، قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

”اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے کہ جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے، البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔” (سورۃ البقرۃ، آیت 228)

اس آیت کریمہ نے خاوند، بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر کچھ حقوق و آداب ثابت کیے ہیں، جبکہ خصوصی اعتبار کی بنیاد پر مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کی خصوصیت حاصل ہے۔

رسول ﷺ نے حجہ الوداع کے موقعہ پر فرمایا:
”سنو! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔” (سنن ابی داود، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، صححہ الترمذی)

ان میں بعض حقوق تو دونون کے لیے مشترکہ اور برابر ہیں جبکہ بعض حقوق ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں، چنانچہ مشترکہ حقوق درج زیل ہیں:

1) امانت: دونوں ایک دوسرے کے امین ہوتے ہیں، کوئی دوسرے کی خیانت نا کرے۔ معمولی چیز ہو یا زیادہ۔  خاوند، بیوی دو شریک ساتھیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان میں امانت، خیرخواہی، سچائی اور اخلاص کا پایا جانا زندگی کے ہر موڑ پر ضروری ہے۔

2) محبت اور رحم کا جذبہ: دونوں میں اتنا ہونا چاہیے کہ دکھ سکھ میں ساری زندگی ایک دوسرے کے کام آئیں اور خالص محبت و شفقت کا اظہار کرتے رہیں تاکہ اس ارشاد حق تعالیٰ کا مصداق بنیں:

“ اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کر دیں، تا کہ تم ان کی طرف (مائل ہو کر) سکون حاصل کرو، اس لیے تمہارے درمیان محبت و شفقت پیدا کر دی”۔ (سورۃ الروم، آیت 21)

اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی بھی تعمیل ہو جائے: “جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا”۔ (صحیح مسلم، صحیح بخاری)

3) باہمی اعتماد: دونوں میں اس انداز کا باہمی اعتماد ہونا ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر کلی بھروسہ کریں، خیرخواہی، سچائی اور اخلاص میں ایک دوسرے پر شک نہ کریں۔

زوجیت کے رابطہ نے اخوت ایمانی کے ربط کو مزید بڑھا دیا ہے۔۔۔ اس میں پختگی اور اعتماد پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے خاوند اور بیوی دونوں خود کو ایک ہی ذات سمجھتے ہیں۔۔۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی ذات پر اعتماد نہ کرے اور اس کے لیے خیر خواہی کے جذبات نا رکھے؟ اپنے آپ سے خیانت کون کرتا ہے اور خود سے دھوکہ کون کر سکتا ہے۔۔۔؟

4) حقوق عامہ: معاملات میں نرمی، چہرے کی شگفتگی بات میں ادب و احترام اور یہی وہ اچھی معاشرت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے:

“اور عورتوں سے معروف طریقے کے ساتھ نباہ کرو”۔ (سورۃ النساء، آیت 19)

اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: “اور عورتوں کے لیے اچھی وصیت قبول کرو۔” (صحیح مسلم)

نیز ارشاد عالی ہے: “اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا، اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے” (سورۃ البقرۃ، آیت 237)


وقار اعظم اور میرا نیا بلاگ

میرے نئے بلاگ پر خوش آمدید

وقار اعظم بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔۔۔ مجھ سے آج تک ملا بھی نہیں۔۔۔ فیس بک پر کبھی کبھی گپ لگ جاتی ہے۔۔۔ ہاں ایک چیز جو ہم دونوں میں مشترکہ ہے، وہ  ہماری سوچ ہے۔۔۔ وہ کچھ زیادہ ہی صلاحیتوں سے مالا مال بندہ ہے۔۔۔ اللہ کا خاص کرم تو ہے ہی اس پر، لیکن شاید بندے نے محنت بھی بڑی کی لگتی ہے۔۔۔۔

کافی عرصے سے میں اپنے بلاگ کو کچھ “ پروفیشنل” لک دینا چاہ رہا تھا۔۔۔ وقار اعظم نے مشورہ کیا کہ اپنا نیا بلاگ بنالوں، ایک آزاد سروس پرووایڈر سے۔۔۔ تو  جناب نیا بلاگ بنا لیا۔۔۔ بڑا آسان کام تھا اپنے نام کے ساتھ رجسٹریشن کرنا۔۔۔ لیکن مسئلہ تو بعد میں اٹھا کہ بھیا، ہمیں تو ڈیزائنگ کا “الف سے ذیڈ” تک کچھ نہیں آتا۔۔۔ وقار اعظم پھر سے مدد کے لیے آ ٹپکا۔۔۔ اور سب کچھ سیٹ کر دیا۔۔۔ اور نیا بلاگ کچھ ہی دیر میں چلتا کیا، تھیم بھی ڈال دی اور اردو بھی انسٹال کر دی۔۔۔ شکریہ وقار۔۔۔

اب مجھے وقار اعظم، اپنا نیا بلاگ اور نئے بلاگ کی نئی شکل بہت پسند آئی ہے۔۔۔ وقار اعظم اس لیے کہ سائیں بندہ ہے۔۔۔ سب کی مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔ بلکہ بیٹھا بیٹھا مدد کر دیتا ہے۔۔۔ نیا بلاگ اس لیے پسند ہے کہ نیا ہے تو پسند آنا ہی چاہیے۔۔۔ نوی نکور چیز کسے اچھی نہیں لگتی۔۔۔ اور نئے بلاگ کی شکل کی تو کیا ہی بات ہے۔۔۔ اچھی شکل کا تو میں ویسا ہی دیوانہ ہوں۔۔۔

اب بات یہ ہے کہ ہم اپنے “ورڈ پریس” کے بلاگ کو کہہ رہے ہیں “خدا حافظ”۔۔۔ اور لکھنا لکھانا، پڑھنا پڑھانا رہے گا نئے بلاگ میں۔۔۔ اردو سیارہ والوں کو ایک ای میل بھیج دی کہ جناب ایڈریس میں تبدیلی کر دیں۔۔۔ اب پتا نہیں کہ کب تبدیلی ہوگی۔۔۔

آپ سب سے بھی درخواست ہے کہ اگر کسی مہربان نے بلاگ رول یا براوزر کے فیورٹس میں (اس کی توقع کم ہی ہے، لیکن پھر بھی۔۔۔) اگر میرا بلاگ محفوظ کیا ہے تو اس کا لنک تبدیل کر دیں۔۔۔

براہ مہربانی میرے پرانے بلاگ پر اب مزید تبصرے مت کیجیے۔۔۔ میری ساری پرانی تحاریر آپ کو اس بلاگ پر بھی ملیں گی۔۔۔ یہاں آئیے اور اپنے مفید تبصروں سے نوازیں۔۔۔  

نئے بلاگ کا ایڈریس یہ ہے: http://www.emraaniqbal.com

 

 

شوہر کے شرعی فرائض


گذشتہ قسط: بیویوں کے شرعی فرائض

1) شوہر معروف طریقے کے ساتھ عورت سے نباہ کرے، جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے:

“اور ان (عورتوں) کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو” (سورۃ النساء، آیت 19)

یعنی جب کھانا کھائے تو اسے کھلائے، کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کی نافرمانی کا خطرہ محسوس کرے تو اللہ کے حکم کے مطابق (گالی گلوچ اور برا بھلا کہے بغیر سمجھائے)، اگر کہا مان لے تو صحیح، ورنہ بستر کی جدائی اختیار کرے، اگر اس سزا سے درست ہوجائے تو بہتر، ورنہ چہرہ کے علاوہ معمولی ضرب اور تنبیہ اختیار کرے، نیز اس کا خون نا بہائے اور نا مار کٹائی کر کے اسے زخمی کرے اور نا اس کا کئی عضو توڑے۔

جیسا کہ حکم ربانی ہے:
“اور جن عورتوں کی نافرمانی محسوس کرو تو ان کو سمجھاو اور (اگر نا سمجھیں تو) شب باشی میں الگ کر دو اور (اگر اس پر بھی باز نا آئیں تو) ان کو مارو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان پر (مار کا) کوئی رستہ نا تلاش کرو۔” (سورۃ النساء، آیت 34)

رسول اللہﷺ سے ایک شخص نے پوچھا، “ہمارے ایک کی بیوی کے اپنے خاوند پر کیا حقوق ہیں؟، تو آپﷺ نے فرمایا، “کہ جب تو کھانا کھائے اسے کھلا، جب لباس پہنے تو اسے پہنا، اس کے منہ پر نا مار اور برا نہ کہہ اور گفتگو ترک کرے تو صرف گھر کی حد تک۔” (سنن ابی داود و اسناد حسن)

مزید فرمایا: خبر دار! تم پر عورتوں کا حق ہے کہ تم انہیں اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔” (سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ)

نیز فرمایا: “کوئی مومن، ایمان والی عورت سے نفرت نہ کرے، (اس لیے کہ) اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسرے پسند آ جائے گی۔”

2) بیوی کو ضروری دینی احکام سکھائے، اگر وہ نہیں جانتی، تو اسے اجازت دے کہ وہ مجالس علم و وعظ میں شریک ہو کر علم حاصل کرے، اس لیے کہ عورت کو کھانے پینے کی نسبت، اپنے دین اور روح کی اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے۔

باری تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچاو” (سورۃ التحریم، آیت 6)

بیوی بھی گھر والوں میں شامل ہے، لہٰذا ایمان اورعمل صالح کے ساتھ اسے جہنم سے بچانا ضروری ہے، اور عمل صالح کے لیے علم و معرفت کی ضرورت ہے۔ تاکہ علم کی بنیاد پر وہ اپنے عمل اور ایمان کو درست کر سکے۔۔۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: “سنو! عورتوں کے بارے میں اچھی وصیت قبول کرو، وہ تمہارے پاس پابند ہو چکی ہیں” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

3) اسلامی تعلیمات و آداب پر عمل پیرا ہونے کا اسے پابند بنائے، بے پردہ گھر سے نکلنے اور غیرمردوں کے اختلاط سے اسے منع کرے اور اس پر یہ لازم ہے کہ بیوی کی حفاظت اور پوری نگہداشت کرے، اخلاقی اور عملی خرابیوں سے اسے بچائے، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام سے بغاوت اور گناہ و فجور کی زندگی گزارنے کے لیے اس کے لیے کھلا میدان نا چھوڑ دے، اس لیے کہ وہ زمہ دارو نگہبان ہے، اس کی حفاظت اور صیانت اس کی زمہ داری ہے۔

ارشاد حق تعالیٰ ہے: “مرد عورتوں پر ذمہ دار ہیں”۔ ( سورۃ النساء، آیت 34)

حدیث رسول اللہﷺ ہے: “مرد اپنے اہل پر حاکم اور زمہ دار ہیں، اور ان کی زمہ داری کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

4) اگر دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے درمیان انصاف روا رکھے، خورد و نوش، لباس، رہائش اور رات گزارنے میں ان کے مابین عدل اور برابری کرے۔ ان امور میں ظلم زیادتی روا نہ رکھے۔ کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اگر تمہیں خطرہ ہو کہ عدل و انصاف نا کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری ملکیت میں ہیں” (سورۃ النساء آیت 3)

رسول اللہﷺ نے بھلائی کی وصیت فرمائے ہوئے ارشاد فرمایا: “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے اہل عیال کے لیے زیادہ بہتر ہو، اور میں تمہاری نسبت اپنے اہل کے لیے زیادہ بہتر ہوں”۔ (صحیح مسلم و صحیح بخاری)

5) اپنی بیوی کا کوئی راز افشا نا کرے اور نا اس کے کسی عیب کا تذکرہ کرے، اس لیے کہ وہ اس کا امین ہے اور اس کی حفاظت، نگہداشت اور دفاع کا اسے حکم دیا گیا ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے: “اللہ کے نزدیک، اس انسان کا مقام قیامت کے دن بدترین ہوگا، جو اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بعد اس کا راز افشا کرتا ہو”۔(صحیح مسلم)

6) عورت کا کئی رشتہ دار بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لیے اور فوت ہونے کی صورت میں جنازہ پر جانے کے لیے اس کی اجازت دینا بہتر ہے۔۔۔ اس کے علاوہ رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے بھی عورت جا سکتی ہے، مگر اس طور پر کہ خاوند کے مصالح کو نقصان نا پہنچے۔

7) اپنی بیوی کا جنسی حق ادا کرے اور اگر عورت کی کفایت کو پورا نہیں کر سکتا تو بھی چار ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور مجامعت کرے۔
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے: “جن مردوں نے اپنی عورتوں سے “ایلاء” کیا ہے (ان سے جماع نا کرنے کی قسم اٹھائی ہے) تو، وہ (عورتیں) چار ماہ انتظار کریں، اگر رجوع کرتے ہیں، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔” (سورۃ البقرۃ، آیت 226)

بیوی کی خاوند سے سرکشی اور ناچاقی:

اگر عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے، اور اس کے حقوق ادا نہ کرے تو اسے زبانی سمجھائے، اگر اطاعت میں آ جائے تو بہتر، ورنہ مخصوص مدت تک خاوند الگ بستر بنا لے، تاہم ترک کلام تین دن سے زیادہ نا کرے۔

اگر اس طرح وہ اطاعت قبول کر لے تو بہتر،ورنہ معمولی انداز سے مارے اور چہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔ اس کے بعد اطاعت قبول کر لے تو ٹھیک، ورنہ دو فیصلہ کرنے والے (ایک مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے) مقرر کریں، جو الگ الگ ان سے مل کر اصلاح حال اور ان میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں، اگر ان کی کوشش اس کے باوجود بار آور نہیں ہوتی تو ان کے مابین “طلاق بائن” کے ذریعہ تفریق کرا دیں۔

اللہ تعالیٰ سورۃ النسا کی  آیت نمبر 34 اور 35 میں فرماتا ہے:

“اور تم جن عورتوں کی سرکشی اور نا فرمانی معلوم کرو، ان کو سمجھاو، اور شب باشی میں ان کو علیحدہ کر دو اور ان کو مارو، بھر اگر تمہاری فرمانبرداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نا کرو، یقینا اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔ اور اگر دونوں میں سخت مخالفت پاو تو ایک منصف مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ ان کو صلح کی توفیق دے گا، یقینا اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔”

منھاج المسلم

اگلی قسط: شوہر اور بیوی کے مشترکہ حقوق

بیویوں کے شرعی فرائض

1) اللہ کی نافرمانی کے سوا عورت مرد کی ہر بات کی فرماں برداری کرے:

ارشاد حق تعالیٰ ہے: “اگر وہ تمہارا کہا مان لیں تو پھر ان پر (مار کا) کوئی راستہ تلاش نا کرو” (سورۃ النسا، آیت 34)

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:”جب مرد اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے، وہ نا جائے اور وہ ناراض ہی رات گزار دے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے ہیں”

نیز فرمایا: “اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے” (سنن ابی داود / صح الترمذی)

2) خاوند کے مال و متاع، عزت و ناموس  اور گھر کے جملہ امور میں اس کی محافظ بنے:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “نیک عورتیں خاوندوں کی تابع فرماں ہیں، غیب کی (اور ان کی) غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (ان کے حقوق) حفاظت کرنے والی ہیں کہ اللہ نے (ان کے) حقوق محفوظ رکھے ہیں” (النساء، آیت 34)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے”(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مزید فرمایا: تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ان کو نہ آنے دیں جن کو تم پسند نہیں کرتے اور تمہارے گھروں کے اندر ان کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم پسند نہیں کرتے”

3) خاوند کے گھر میں رہے، اس کی اجازت و مرضی کے بغیر نا نکلے، اپنی نظر نیچی رکھے، اونچی آواز میں کلام نہ کرے، برائی سے اپنے ہاتھ روکےاور زبان کو فحش کلامی سے بچائے، رشتہ داروں کے ساتھ احسان میں وہی معاملہ اختیار کرے، جو اس کا خاوند اختیار کیے ہوئے ہے، اس لیے کہ جو عورت مرد کے والدین اور قرابت داروں کے ساتھ اچھی نہیں ہے، وہ خاوند کے لیے اچھی کہاں ہوئی؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور اپنے گھروں میں ٹھری رہو، اور پہلی جاہلیت کی طرح بناو سنگھار نا کرو”(الاحزاب آیت 32/33)

نیز فرمایا: “اور مومن عورتوں سے کہیے کہ اپنی آنکھیں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نا کریں، الا یہ کہ جو از خود ظاہر ہو جائے” (النور آیت 31)

فرمان رسول اللہ ﷺ ہے: بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے خوش کرے، جب تو اسے حکم دے تو تیری اطاعت کرے اور جب تو اس سے غائب ہو تو اپنے نفس اور تیرے مال کی حفاظت کرے” (صحیح  بخاری و صحیح مسلم)

(منھاج المسلم)

اگلی قسط: خاوند کے شرعی فرائض

یہ ہے بلاگستان میری جان۔ ۔

آپ سب کو اردو بلاگستان میں خوش آمدید ۔۔۔امید ہے آپ کے پاس اپنی زندگی کی کچھ لمحے فارغ ہونگے یا آپ اپنی زندگی سے اس قدر اکتا چکے ہوں کہ آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے کچھ لمحے ضائع ہوں یا سارا دن ہی بغیر کسی مقصد کے گزرتا ہو۔۔۔

ویسے جتنا ٹائم آپ بلاگستان میں گزارتے ہیں۔۔۔ یقین تو نہیں آتا لیکن ہو سکتا ہے کہ مختلف بلاگز پر جھانکتے جھانکتے کچھ سیکھ ہی لیتے ہوں۔۔اب یہ تو نا کہیں کہ میں نےیہ بیان دے کر کچھ دانشور بلاگرز کی علم و فضائل کی توہین کر دی ہے۔۔۔ چھڈو جی۔۔۔

خیر۔۔۔ تو بات پھر سے جوڑتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں آپ سب کو پھر سے خوش آمدید۔۔۔ امید ہے کہ آپ کا یہ سفرِ بلاگستان بہت عمدہ گزرے گا۔۔۔ تو آئیے۔۔۔ میں آپ کو بلاگستان کے بارے میں کچھ تعارف دیتا چلوں۔۔۔

بلاگستان وہ جگہ ہے۔۔۔ جہاں ہربلاگر خود کو دنیا کا نہیں تو کم از کم پاکستان کا سب سے بڑا عالم و دانشور بندہ سمجھتا ہے۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھنے میں اور ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔۔۔ جب بھی کوئی بلاگر ” بلاگ سپاٹ یا ورڈ پریس” پر اپنا نیا بلاگ بنانے کا اہتمام کرتا ہے۔۔۔ تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی میں تو میری کوئی مانتا نہیں۔۔۔ چلو۔۔۔ لکھ کر ہی کچھ چولیں مار لیں۔۔۔ بلاگ پر ہماری کوئی مانے یا نا مانے۔۔۔ ہم بھی کسی کی نہیں مانیں گے۔۔۔

نہیں نہیں۔۔۔ آپ غلط سمجھے۔۔۔ یہاں صرف “دانشور” ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر طرح کے بلاگر پائے جاتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسند بھی ہیں۔۔۔ روشن خیال بھی ہیں اور ترقی پسند بھی۔۔۔ لیکن کچھ بلاگرز کی بدقسمتی سے یہاں کچھ زیادہ ہی انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔۔۔ بدقسمتی اس لیے کہ ان بلاگرز کی تبلیغِ روشن خیالی میں اگرکوئی پتھر حائل ہے تو وہ انتہاء پسند ہی ہیں۔۔۔ اوہ ہو۔۔۔ اب یقین نہیں آتا تو آنٹی سے ہی پوچھ لیں۔۔۔

کیا کہا۔۔۔ اب آنٹی کون ہیں۔۔۔ میں نہیں بتاتا بھائی۔۔۔۔ پڑھنا ہے تو یہاں پڑھ لو۔۔۔ میرا وقت کھوٹا نہیں کرو۔۔۔

ہاں جی تو ہم بات کر رہے تھے بلاگرز کی۔۔۔ جناب عالی۔۔۔ بلاگستان کا ایک طبقہ “روشن خیال ریوڑ” کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔۔۔ اب ریوڑ کس چیز کو کہتے ہیں۔۔۔ وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

روشن خیال ریوڑ کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ بلاگستان پہنچتے ہی اپنی اوقات سے باہر آ جاتے ہیں۔۔۔ ان کے خیال میں جوبات ان کے دماغِ ناچیز میں بچپن سے فٹ کر دی گئی ہے۔۔۔ وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔۔۔ ساری دنیا غلط ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن وہ غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔ پھر اپنی عادت سے بھی کچھ مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی کہہ دے کہ “یار کوا کالا ہے۔۔۔ تو فورا اٹھ کر کہہ دیں گے۔۔۔ اوبجیکشن ۔۔۔ کوا کبھی کالا نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے بچپن میں سفید کوا بھی دیکھا ہے۔۔۔ اور پھر مغربی مصنفین کی ایسے ایسے حوالے پیش کریں گے کہ آپ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا۔۔۔ آپ کا کام بس ہوشیار رہنا ہے۔۔۔

ان حضرات کو اسلام سے عمومی اور علماء اسلام سے خصوصی خدا واسطے کا بیر ہے۔۔۔ ملک و ملت کی ہر خرابی کا زمہ دار علماء کو ٹھرانا ان کے لیے سب سے آسان کام ہے۔۔۔ آج تک ان بلاگرز کی اتنی تحاریر پڑھنے کے بعد آپ کے اس نا چیز میزبان کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ اگر علماء نے کچھ نہیں کیا تو ان کے بھائی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔ اور اگر اسلام ان کے مطلب کا نہیں تو اپنا نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے۔۔۔

ان روشن خیالوں میں زیادہ تر خواتین پائی جاتی ہیں۔۔۔ اور کچھ خواتین نما مرد حضرات بھی۔۔۔ ان کی زندگی کا مقصد، مرد حضرات کو بالادستی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہے۔۔۔ اپنی کسی نا کسی تحریر میں خرابی ثقافت، بربادیِ مذہب اور تکلیف ِعورت کا ملبہ مرد حضرات پر ڈالتی نظر آئیں گی۔۔۔ بقول ان کے۔۔۔ ان کے عورت ہونے کا قصور بھی کسی مرد کا ہی لگتا ہے۔۔۔ ورنہ یہ آج مغرب کے کسی بار میں بیٹھی بیر کا مزہ “لے رہے ہوتے”۔۔۔۔ نہیں جی یہ کھلے عام کہتی نہیں۔۔۔ محسوس کرواتی ہیں۔۔۔

 

چلیں کچھ آگے چلتے ہیں۔۔۔ اوہ یہ دیکھیے۔۔۔ اس عجوبہ خلقت سے آپ کی جان پہچان کرواتے چلیں۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ یہ بارہ سنگھا ہی ہے۔۔۔

اوہ ہو۔۔۔ جی درست فرمایا۔۔۔ دور سے انسان ہی لگتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ صرف دور سے۔۔۔
کیا کہا۔۔۔؟ اس کے سینگھ بارہ نہیں ہیں۔۔۔ دیکھیے غور سے دیکھیے۔۔۔ کچھ سینگھ اس نے کہیں نا کہیں پھنسا رکھے ہیں۔۔۔ قریب مت جائیے۔۔۔ دیکھیں اسے چھیڑیں مت۔۔۔ ورنہ آپ پر منافق، جھوٹا اور کمینہ النفس ہونے کا فتویٰ لگ جائے گا۔۔۔ جی صحیح پہچانا آپ نے۔۔۔ یہ “روشن خیال ریوڑ” کی دوسری قسم ہے۔۔۔ بارہ سنگھے سے مزید تعارف کے لیے۔۔۔ یہاں کلک کریں۔۔۔۔

 

آئیے آپ کو اب روشن خیالوں کی تیسری قسم سے بھی ملواتے چلیں۔۔۔ یہ آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔۔۔ لیکن کسی انتہا پسند بلاگر کے بلاگ پر اگر آپ کو فحش یا بیہودہ کلمات نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ اس کارنامے کے پیچھےاسی تیسری مردانہ و زنانہ کمزوری کا ہاتھ ہے۔۔۔ داراصل اپنی خصلت سے مجبور ہیں۔۔۔ بچپن سے مادر پدر آزاد ٹھرے۔۔۔ تو کسی دوسرے کی عزت کرنا اور رکھنا انہیں آتا ہی نہیں۔۔۔ ہم انہیں روشن خیال ریوڑ کا بایاں بازو بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ جہاں روشن خیالیوں کو لگتا ہے کہ ان کی دال نہیں گل رہی تو وہ اس تیسری قسم کو چھو کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اور پھر ان کے مقابل شرفا کو خود ہی خاموش ہونا پڑتا ہے۔۔۔ کہ جاہلوں اور احمقوں کی بکواس کا کیا جواب دیں۔۔۔ خاموشی ہی بہتر ہے۔۔۔

صبر کریں جی۔۔۔

ہاں جی روشن خیالوں کی یہی تین قسمیں ہیں۔۔۔ اگر مزید قسمیں دریافت ہونگی تو بذریعہ ڈاک آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔۔۔

امید ہے آپ بلاگستان سے اپنا تعارف انجوائے کر رہے ہونگے۔۔

آئیے اب مزید آگے بڑھتے ہیں۔۔۔

یہ حضرات ترقی پسند ہیں۔۔۔ انگریزی ان کی محبوب زبان ہے۔۔۔ اتنی محبوب کہ اردو میں بھی انگریزی الفاظ لکھ کر قارئین کو مرعوب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی تحاریر کے سر پاوں کا انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔۔ بس کہیں سے فلسفے اور اردو انگریزی ادب کو ملا کر کچھ نا کچھ لکھ دیتے ہیں۔۔۔ ان کا ماننا ہے کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کا سب سے آسان طریقہ انہیں کنفیوز کرنا ہے۔۔۔ اس طرح ان کی پگڑی بھی اونچی رہتی ہے اور دال بھی گل جاتی ہے۔۔۔ ویسے انہیں بلاگستان میں اتنی سنجیدگی سے لیا بھی نہیں جاتا۔۔۔

وہ دیکھیے۔۔۔ یہ کچھ حضرات سر جھکائے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے پاس کرنے کو کئی کام نہیں۔۔۔ فیس بک سے یاری ہے۔۔۔ کسی کے لیے خطرہ جان یا ایمان نہیں ہیں۔۔۔ بس کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ لکھنے کا تو مہینے میں ایک آدھ پوسٹ لکھ مارتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں ان کا زیادہ تر وقت روشن خیالوں کے بلاگز پر تبصرے کرنے میں اور انہیں سمجھانے بجھانے میں ضائع ہوتا ہے۔۔۔ سنا ہے کہ اسلام کے متعلق روشن خیالوں کےمغلظات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔۔۔

جی ایک مرتبہ پھر آپ نے درست سمجھا۔۔۔۔ یہی انتہاء پسندِ اردو بلاگستان ہیں۔۔۔ چلیں، ان میں سے کچھ سے آپ کا بالمشافہ تعارف کرواتے چلیں۔۔۔ کیا یاد کریں گے۔۔۔

وہ داڑھی والے مولبی ہیں۔۔۔ بڑا خطرناک بندہ ہے۔۔۔ اس کا خاصہ ہے کہ ایک انگریزی کا حرف کہہ کر ہی اپنا سارا غصہ نکال لیتا ہے۔۔۔

وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوا بندہ ڈفر ہے۔۔۔ اوے نہیں یار۔۔۔ نام نہیں ہے اس کا۔۔۔ ویسے ہی ڈفر ہے۔۔۔ اسے سیریس مت لینا۔۔۔ ورنہ جان کے لالے پڑ جائیں گے۔۔۔

جی نہیں وہ کوئی جاپانی بلاگر نہیں پاکستانی ہیں۔۔۔ شریف آدمی ہے۔۔۔ لیکن روشن خیال اسے شریف رہنے نہیں دے رہے۔۔۔

اور وہ بچہ جو نظر آ رہا ہے آپ کو۔۔۔ بلاگرِاعظم کہا جا سکتا ہےانتہاء پسندوں کے وقار کو بلند رکھنے میں اس کا بڑا کردار رہا ہے۔۔۔زرا بچ کے۔۔۔ بڑے حوالے نکالتا ہے۔۔۔

دیکھیں۔۔۔ وہ نقلی مونچھیں لگائے “انکل سام کا رہائشی” ہے۔۔۔ حقیقت میں کاکا ہے اپنا۔۔۔ لیکن بڑوں کے ساتھ بیٹھنے کا بڑا شوق ہے اسے۔۔۔بڑی بڑی باتیں کرتا ہے۔۔۔

اور وہ سب کا استاد۔۔۔ بڑا استاد آدمی ہے۔۔۔

حیران مت ہوں۔۔۔ یہ آپ کو کوئی خطرہ نہیں پہنچائیں گی۔۔۔ آپ کو ان کی شکل نظر نہیں آ رہی۔۔۔ آئے گی بھی نہیں۔۔۔ حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں۔۔۔

اور یہ ڈاکٹر ہے جی۔۔۔ روشن خیالیوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے اس بندے نے۔۔۔

اہمم اہممم۔۔۔ زرا تمیز سے۔۔۔ ہمارے بزرگ ہیں۔۔۔ انتہا پسند بلاگر انہیں اپنا استاد اور پیرومرشد مانتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسندوں کے لیے باعث افتخار ہیں۔۔۔ ۔۔۔سلام کرو انہیں۔۔۔ شاباش۔۔۔

اور یہ جو بندہ فارغ بیٹھا ہے۔۔۔ کبھی کبھی اپنا منہ دکھاتا ہے۔۔۔ لیکن سلوک سب سے بلا امتیاز کرتا ہے۔۔۔

اوئے۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ میں کس گروپ کا بندہ ہوں۔۔۔ بڑے فارغ بندے ہو یار۔۔۔ تمہیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

ہماری تحریریں آنے والی نسلوں کی امانت ہیں! (via گیلی دھوپ)

حدیث شریف ہے کہ، عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے۔ ایک بار تانیہ رحمان صاحبہ نے بلاگرز سے ایک سوال کیا تھا کے، آپ بلاگ کیوں لکھتے ہیں؟ تقریباَ سب نے ہی بلاگ لکھنے کی وجہ بیان کی تھی، میں نے اس وقت بھی یہ ہی لکھا تھا کہ میں بلاگ کو سیکھنے سکھانے کا زریعہ سمجھتا ہوں۔ میرا ایسا ماننا ہے کے لکھنے کا کوئی بھی ایسا زریعہ جس سے آپ اپنی تحریر سپرد زد عام کر رہے ہوتے ہیں وہ قوم کی امانت ہوتی ہے وطن کی امانت ہوتی ہے وطن میں رہنے والے لوگ … Read More

via گیلی دھوپ

میرا غم یا ان کا دکھ ۔۔۔؟

میرا غم

علیزہ کی پیشانی پریشان کن حد تک گرم ہو گئی تھی۔۔۔ میری بچی آہستہ آہستہ نڈھال ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ ہروقت کی چنچل گڑیاکے منہ سے کچھ لفظ ہی نہیں نکل پا رہا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ شاید اس میں رونے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ میں نے رات کو اس کا بخار دوبارہ چیک کرنے کے لیے اس کے جلتے ہوئے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو میری پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔۔۔ دو دن پہلے ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے “بکٹیریل انفیکشن” (bacterial infection) کی تشخیص کی اور کچھ دوایاں لکھ کر دیں۔۔۔ اب دو دن کے دوا کی بعد بھی علیزہ کو کوئی افاقہ نہیں تھا۔۔۔ میں نے علیزہ کو اپنی گود میں بھرا۔۔۔ اور بیگم کو کہا کہ جلدی سے علیزہ کا بیگ تیار کرے اور میرے ساتھ ہسپتال چلے۔۔۔

دس منٹ بعد میں جی ایم سی ہسپتال(Gulf Medical College and Hospital)کی طرف گاڑی بھگا رہا تھا۔۔۔ ڈرائیو کرتے کرتے علیزہ کو دیکھتا تو اس کا مرجھایا ہوا چہرا دیکھ کر کلیجہ منہ میں آنے لگتا۔۔۔ مجھے بس ہسپتال پہنچنے کی جلدی تھی۔۔۔ بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد میں جی ایم سی پہنچا اور علیزہ کو گود میں لے کر ایمرجنسی کی طرف بھاگا۔۔۔  بیگم کو علیزہ کی فائل بنوانے کو کہا اور خود وہاں موجود اسٹاف کو علیزہ کی بیماری کا بتانے لگا۔۔۔ مجھے ٹریٹمنٹ روم کی طرف بھیج دیا گیا۔۔۔ شفٹ ڈاکٹر نے علیزہ کی بخار چیک کیا جو 103 ڈگری سے اوپر تھا۔۔۔ اس نے بلڈ ٹیسٹ اور سینے کا ایکسرے کروانے کو کہا۔۔۔ یہ ٹیسٹ کروانا بہت مشکل تھا کہ علیزہ کو سنبھالنا بہت دشوار کام ہے۔۔۔

خیر، میں نے علیزہ کی ٹانگیں اور بیگم نے علیزہ کے بازو مضبوطی سے پکڑے اور نرس نے اس کے ہاتھ سے دو انجیکشن خون کے لے لیے۔۔۔ اس دوران علیزہ تکلیف سے زور زور سے رو رہی تھی۔۔۔ کبھی اپنی ماں کو دیکھتی اور کبھی مجھے کہ اسے سوئی کے درد سے بچائیں۔۔۔ بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔۔۔ جیسے ہی نرس نے خون لیا۔۔۔ میں نے علیزہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔ اور ایکسرے روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ ایکسرے لینے کا سارا عمل ویسا ہی کربناک تھا۔۔۔ علیزہ تکلیف اور بے بسی سے رو رہی تھی۔۔۔ اور اپنی بیٹی کی بے بسی دیکھ کر میں بھی خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرے آنسو نکل آئے۔۔۔

ایکسرے روم سے باہر آ کر میں باہر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ اور  اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرا چھپا کر زار وقطار رونے لگا۔۔۔ مجھ سے اپنی بیٹی کی تکلیف برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری بیٹی کو میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہو۔۔۔ روتے روتےمیں اللہ سے اپنی بیٹی کی صحت کی دعائیں کرتا رہا۔۔۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہا۔۔۔ آنسو تھم ہی نہیں رہے تھا۔۔۔ جانے کب تک روتا رہا۔۔۔

ڈاکٹر نے رزلٹ چیک کیے اور کچھ اضافہ کے ساتھ پہلے والی ادویات جاری رکھنے کو کہا۔۔۔ گھر آنے تک علیزہ کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔آتے ہی دادا دادی سے لپٹ کر کھیلنے لگی۔۔۔

اب دو دن سے علیزہ ماشاءاللہ کافی بہترہے۔۔۔ دوائیں تو اب بھی جاری ہیں۔۔۔ کافی کمزور ہو گئی ہے۔۔۔ لیکن آہستہ آہستہ پھر سے وہی شرارتی علیزہ واپس آ رہی ہے۔۔۔

ان کا دکھ

  پھر کچھ خبریں نظر سے گزریں۔۔۔ تو یہ احساس ہوا کہ میرا اور میری بیٹی کی تکلیف ان کے سامنے تو کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔ ان والدین پر کیا گزری ہوگی۔۔۔ ان کا کیا قصور ہے جو یہ وقت دیکھنا پڑا ۔۔۔ آخر کیا ہے یہ “معاشرہ”۔۔۔؟ آخر ہم اتنے بے حس کیوں ہو گئے ہیں۔۔۔ آخرت کو کیوں بھول گئے ہیں۔۔۔؟

news

1101206258-1

1101206890-1

 

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: