چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔Man in Front on Lake

خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

بکھرے کی۔۔۔ بچھڑنے کی۔۔۔

بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔

بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔

میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔

تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔

کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔

مجھے آواز دے دینا۔۔۔

تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔

سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)

7 Comments

  1. بہت خوب۔ وفاؤن کی ۔ جفاؤں کی۔۔ یعنی زنگی کی اونچ نیچ کی بات کرتے ہیں۔

    ReplyDelete
  2. خرم بھائی۔۔۔ نظم کے بارے میں کچھ نہیں لکھا آپ نے۔۔۔ اور ڈائریکٹ ہی شاعر تک پہنچ گئے۔۔۔ ;-)

    سائیں۔۔۔ پہلی بات کہ شاعر نہیں۔۔۔ شاعرہ ہیں۔۔۔ اور دوسری بات۔۔۔ کہ کون ہیں۔۔۔ تو۔۔۔ پردہ میں رہنے دو۔۔۔ پردہ نا اٹھاو۔۔۔ :-)

    ReplyDelete
  3. اصل میں کبھی نام نہیں پڑھا تھا اس لیے تجسس ہوگیا تھا۔ ایک اچھی آزاد نظم ہے

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔