Archive for فروری, 2011

چچ چچ چچ

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا۔۔۔ کہ جاہلوں کے منہ نا لگا کرو۔۔۔ ان سے نیکی کی کوئی امید نا رکھو۔۔۔ جاہل ہمیشہ اپنی بات کو ہی ٹھیک سمجھتا ہے۔۔۔ اس کے پاس لاجک والی بات تو ہوتی نہیں۔۔۔ بس جو محلے کی بڑی بی سے سن لیا، اسے ہی حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔۔۔ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے جاہل کا آخری حربہ چچ چچ چچ اورغوں غوں غاں غاں ہی رہ جاتا ہے۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا،  بس ہمیں ہی طبع آزمائی کاشوق ہو گیا تھا۔۔۔ گرمی بڑھتی جارہی تھی تو  ہم نے اس تالاب میں چھلانگ لگا دی جہاں بیشتر بارہ سنگھے غسل کیا کرتے ہیں۔۔۔ بارہ سنگھوں کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گزری اور کرنے لگے اپنے سینگھوں سے  حملے۔۔۔ میں نے بڑا سمجھایا کہ کسی اور کے نچلے بھائی، تیرا کیا کام۔۔۔؟ تو اپنی صفائی کر اور مجھے زرا ٹھنڈ ماحول لینے دے۔۔۔ لیکن عجب دماغ پایا ہے بارہ سنگھے نے۔۔۔ کہنے لگا، اس تالاب کے جملہ حقوق "کسی" نے انہیں اور "ان" کے شاگرد خاص کو عطا فرمائے ہیں۔۔۔ اور "ان" کو یہ تالاب "ان" کے جی داروں کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔ حکم ملا کہ نکلوں، ورنہ "منافقت"، "جہالت" اور "چچ چچ چچ" کا لیبل لگوا کر دربدر کروا دیا جاوں گا۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا تھا کہ اس تالاب میں سارے ہی گندے ہیں، ادھر کا رخ نا ہی کروں لیکن تجربہ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ بس جی اب تجربہ ہو گیا کہ "ان" سے بچ کے ہی رہا جائے۔۔۔ اور "لاحول ولا قوة" کا مستقل ورد رکھا جائے۔۔۔ ورنہ کالا جادو صرف بنگالی بابوں کی ہی میراث نہیں۔۔۔ آجکل بنگالی بابوں کے شاگرد بھی اس ہنر میں طاق ہو گئے ہیں۔۔۔

محلے کی آنٹی

برے دنوں کا ذکر ہے۔۔۔ایک محلے میں ایک خاتون رہا کرتی ہیں۔۔۔ عمر کی تو اتنی پکی نہیں لیکن آس پاس کے ہمسائے نا جانے کیوں انہیں آنٹی کہہ کر عزت بخشتے ہیں۔۔۔

آنٹی اتنی ذہین تو نہیں لیکن انہیں بڑی بڑی باتیں کرنے کا بڑا شوق ہے۔۔۔ انگریزی زبان کی بڑی دلدادہ ہیں لیکن شو مئی قسمت انگریزی بولنے میں مار کھا گئیں۔۔۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہےکہ اردو کو منہ گھما کر انگریزی لہجے میں بول کر رعب جمانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں۔۔۔  آنٹی فلاسفر بننے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔۔۔ لیکن دماغ میں خون کی مکمل فراہمی نا ہونے کے باعث اب تک فلاسفر کے انگریزی ہجے ہی یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔

اب جب آنٹی “کہلاتی” ہی ہیں تو آنٹی “بننے” کا بھی بڑا شوق ہے۔۔۔ اکثر چیخ چلا کر سارے محلے کو روشن خیالی کی تبلیغ کیا کرتی ہیں۔۔۔ اپنی ہاں میں ہاں ملوانے کے لیے دو عدد بارہ سنگھے پال رکھے ہیں۔۔۔ اگر عام عوام میں سے کبھی کوئی ان کی روشن خیالی کے خلاف  اٹھ کھڑا ہوتو وہ اپنے دونوں پالتووں کو ان پر چھوڑ دیتیں ہیں۔۔۔اور وہ پالتو مگر بہادر بارہ سنگھے تب تک پرائی لڑائی سے اپنے سینگھ نہیں نکالتے جب تک عوام ان کو ذلیل کر کر کے ادھ موا نا کر دیں۔۔۔ معلوم نہیں کیا کھلاتی ہیں انہیں کہ پھر بھی یہ بارہ سنگھے آنٹی کے لیے سماج سے لڑ جاتے ہیں۔۔۔ شاید آنٹی کے ہاتھوں ذلالت کی بیعت لے چکے ہیں۔۔۔

آنٹی کو “عورت” زات سے بڑا بیر ہے۔۔۔ محلے کی کم و بیش تمام خواتین سے پھڈے بازی کر چکی ہیں۔۔۔  اور تو اور انہیں وہ مرد حضرات بھی بہت کم ظرف محسوس ہوتے ہیں جو خواتیں کی عزت کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ بقول آنٹی وہ “بلاوجہ” عزت نہیں کرتے۔۔۔ کوئی نا کوئی تو بات ہو گی۔۔۔ خیر تو بات چل رہی تھی آنٹی کے خواتین کے ساتھ ان گنت مسائل کی۔۔۔ محلے کی خواتین نے ان کے رویے کی وجہ یہ نکالی کہ چونکہ آنٹی خود حسن کی دولت سے مالامال نہیں، اس لیے انہیں دوسری حسیناوں سے حسد ہے۔۔۔ اور مرد حضرات یہ چہ مگوئیاں کرتے کہ کیونکہ ہم آنٹی کو کوئی لفٹ نہیں کرواتے، اس لیے انہیں دوسری عزت دار خواتین نہیں بھاتی۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ یہ آنٹی جانیں یا اللہ میاں۔۔۔

آنٹی روشن خیالی کی ایک زندہ مثال ہیں۔۔۔ خواتیں کی بے پردگی کو جائز ٹھراتے ہوئے “حجاب” کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔۔۔ ان کا مقصدِزندگی ہے کہ اسلام میں جکڑی ہوئی خواتین کو آزادی دلائیں اور ان میں شعور پیدا کریں کہ وہ عورت نہیں، ایک “کموڈیٹی” ہے۔۔۔ جس کا مقصد “دکھی انسانیت” کی ہمیشہ ہمیشہ خدمت کرنا ہے۔۔۔

آنٹی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ “متحدہ قومی مردار” کے قائد “چلبل پانڈے عرف بھیا جی” کے ہاتھوں بالمشافہ بیعت لینا ہے۔۔۔ آنٹی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پاکستان میں رہتے ہوئے “گوری میم عرف بڑی آنٹی عرف ملکہ الزبتھ” کے ایجنڈوں پر عمل کرنے کی قسم کھائی ہے اور اب ان کی پوری کوشش ہے کہ محلے کی کچھ کمسن بچیاں ہی لونگ سکرٹ پہن کر “بھیا جی – زندہ باد” کا نعرہ لگا دیں۔۔۔

آنٹی کو “ادب” بہت پسند ہے۔۔۔ مسندِبارہ سنگھا سے یہ شعر ان کو بہت پسند ہے:
آوٰ بچو سیر کرائیں تم کو “بلاگستان” کی۔۔۔
جس کی خاطر سہی ذلالت ہم نے دنیا جہاں کی۔۔۔

ادب کی خاطر ان کی قربانیاں رہتی دنیا یاد کی جائیں گی۔۔۔ انہوں نے ادب کے لیے ہر قسم کے ادب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے ادبی کی انتہا کی ہے۔۔۔ اور پھر بھی دوسروں سے ادب کی امید رکھتی ہیں۔۔۔ آخر آنٹی ہیں تو ان کا ادب کرنا تو “بنتا ہے نا باس”۔۔۔

محلے والوں نے اس جمعہ کو بعد از نماز جمعہ “آنٹی” کی دماغی صحت مندی کے لیے خصوصی مولوی کا انتظام کیا ہے۔۔۔ جو اللہ کے حضور رو رو کر آنٹی کے لیے دعا مانگے گا۔۔۔ آپ سب صرف آمین ہی کہہ دو۔۔۔ شاید آپ کی ہی سنی جائے اور محلے والے آپ کے ممنون ہو جائیں۔۔۔

ٓٓٓٓٓٓٓۤ———————————————————————————

میری اس تحریر کا کوئی سر پاوں نہیں۔۔۔ لیکن آنٹی کی باتوں کا بھی تو کوئی سر پاوں نہیں ہوتا نا۔۔۔ اس لیے جس نے میری یہ تحریر پڑھی ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اسے نا صرف پسند کرے بلکہ اچھا سا تبصرہ بھی کرے۔۔۔ ورنہ گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔۔۔

ۤۤۤۤۤۤۤۤۤٓٓٓٓٓٓٓ

Children learn, what they live

 

babies_50_010

If a child lives with criticism
He learns to condemn

If a child lives with hostility
He learns to fight

If a child lives with ridicule
He learns to be shy

If a child lives with shame
He learns to feel guilty

If a child lives with tolerance
He learns to be patient

If a child lives with encouragement
He learns confidence

If a child lives with praise
He learns to appreciate

If a child lives with fairness
He learns justice

If a child lives with security
He learns to have faith

If a child lives with approval
He learns to like himself

If a child lives with honesty
He learns truth

If a child lives with acceptance and friendship
He learns to find love in the world

(Reference: Unknown)

میرے گھر آئی ایک ننھی پری۔۔۔

12 فروری کی رات کو خوشخبری ملی کہ پی آئی اے کا احتجاج ختم ہو گیا ہے اور پروازیں پھر سے اپنے معمول کے مطابق چلیں گی۔۔۔

13 فروری کی صبح دو بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائیٹ شارجہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔۔۔ یہ پرواز ایک بج کر چالیس منٹ پر آنی تھی لیکن کچھ نا معلوم وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔۔۔

میں پونے دو بجے ایر پورٹ پہنچ گیا۔۔۔ مجھے شدت سے انتظار تھا وہ چہرہ دیکھنے کا، جو مجھے میری زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔ جس نے میری زندگی میں آتے ہی اسے بہار کر دیا۔۔۔ جو مجھ سے اتنی قریب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔جب سے وہ میری زندگی میں آئی تو ہمارا ہر وقت کا ساتھ تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔

پھر اسے پاکستان جانا پڑا۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ نانا، نانی کے گھر۔۔۔ آج وہ پورے دو ماہ اور تین دن بعد آ رہی تھی۔۔۔

مجھے امید تھی کہ جیسے ہی وہ ٹرمینل سے باہر آئے گی۔۔۔ اور مجھے اپنا منتظر پائے گی تو مچل کر مسکرا اٹھے گی، ویسے ہی جیسے دو ماہ پہلے مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھل جاتی تھی۔۔۔

دو گھنٹے ائیر پورٹ کے ارائیول لاونج میں بیٹھے بیٹھے۔۔۔ کبھی موبائل سے کھلیتا اور کبھی کوئی اخبار پکڑ لیتا۔۔۔۔ اور پھر کچھ لمحوں کے بعد نظر فلائیٹس کی معلوماتی سکرین پر اٹھ جاتی کہ شاید اب کم وقت رہ گیا ہو جہاز کے آنے میں۔۔۔ لیکن یہ وقت تھا کہ کٹ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اللہ اللہ کر کے جہاز کی آمد کا اعلان ہوا اور پھر سے انتظار کی نئی گھڑیاں شروع ہو گئیں۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد مجھے وہ نظر آئی۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ باہر آتی ہوئ۔۔۔ میں خوشی سے نہال ہو گیا اور اس کی جانب لپکا کہ اسے اپنے سینے سے لگا سکوں اور پھر اسے اس کی ماں سے چھین کر اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے وہ مجھے جانتی ہی نہیں۔۔۔ اتنی بے یقینی اس کے آنکھوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔ شاید وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی میں نے اسے تھاما۔۔۔ اس کے ہونٹ تکلیف سے سکڑ گئے اور اس نے رونا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے ڈرتے ہوئے پھر سے اسے اس کی اماں کے حوالے کر دیا۔۔۔ اپنی ماں کے پاس جاتے ہی اس کا زور زور سے رونا ہلکی ہلکی سسکیوں میں بدل گیا اور مجھے غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ پھر سے اپنی ماں سے لپٹ گئی۔۔۔

اسکی اماں نے مجھے مخاطب کیا کہ دو ماہ بعد آپ کو دیکھ رہی ہے تو پہچانی نہیں۔۔۔ ایک دو دن میں پھر سے مانوس ہو جائے گی۔۔۔ یہ سن کر میرے اجڑے ہوئے دل کو حوصلہ ہوا کہ چلو جہاں دو ماہ گزار لیے۔۔۔ یہ دو دن بھی گزر جائیں گے۔۔۔

گھر پہنچنے تک وہ مجھے گھورتی رہی۔۔۔ اور میں اپنی بیٹی، علیزہ عمران کو (جو اب ماشاءاللہ آٹھ ماہ کی ہو گئی ہے) پیار سے منانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔

اب دو دن بعد علیزہ کو اپنے بابا جان یاد آگئے ہیں اور وہ پھر سے میری طرف بانہیں پھیلا کر مجھے بلاتی ہے۔۔۔ اوں اوں کرتی یہ کوشش کرتی ہے کہ میں اسے اٹھا لوں اور وہ میرے کندھے پراپنا سر رکھ کر ادھر ادھر دیکھتی رہے۔۔۔

————————————————

ایک نظم پڑھی کچھ دن پہلے۔۔۔ جسے پڑھ کر کچھ غمگین سا ہو گیا ہوں۔۔۔ پتا نہیں کیوں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔ بہت اچھی لگی تو شئیر کر رہا ہوں۔۔۔ امید ہے پسند آئے گی۔۔۔

بیٹی:
مجھے اتنا پیار نا دو بابا۔۔۔
کل جانا مجھے نصیب نا ہو۔۔۔
یہ جو ماتھا چوما کرتے ہو۔۔۔
کل اس پر شکن عجیب نا ہو۔۔
میں جب بھی روتی ہوں بابا۔۔۔
تم آنسو پونچھا کرتے ہو۔۔۔
مجھے اتنی دور نا چھوڑ آنا۔۔۔
میں رووں اور تم قریب نا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میرے لاڈ اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میری چھوٹی چھوٹی خواہش پر۔۔۔
تم جان لٹاتے ہو بابا۔۔۔
کل ایسا ہو ایک نگری میں۔۔۔
میں تنہا تم کو یاد کروں۔۔۔
اور رو رو کر فریاد کروں۔۔۔
اے اللہ۔۔۔ میرے بابا سا۔۔۔
کوئی پیار جتانے والا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھانے والا ہو۔۔۔
میرے بابا، مجھ سے عہد کرو۔۔۔
مجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔
دنیا کی ظالم نظروں سے۔۔۔
ؐمجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔

باپ:
ہر دم ایسا کب ہوتا ہے۔۔۔
جو سوچ رہی ہو لاڈو تم۔۔۔
وہ سب تو بس ایک مایا ہے۔۔۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کو۔۔۔
کب جانے سے روک پایا ہے۔۔۔

مسیحا۔۔۔ تیرا انتظار اب بھی ہے۔۔۔

ہم پاکستانی کب سے کسی  مسیحا اور لیڈر کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کہیں سے اچانک ظہور پزیر ہو اور ہمیں انقلاب کا رستہ دکھا دے۔۔۔ لیکن وہ مسیحا ہے کہ نظر ہی نہیں آ رہا۔۔۔

کیا وہ مسیحا میں تو نہیں۔۔۔؟ا

کیا وہ مسیحا آپ تو نہیں۔۔۔؟

شاید قوم ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔۔۔ اور یہ کہہ رہی ہو۔۔۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا۔۔۔ اگر اور جیتے رہتے۔۔۔ یہی انتظار ہوتا۔۔۔

سوچیے۔۔۔

بیتے دنوں کی یاریاں۔۔۔

 

آئیے،  یاد کرتے ہیں اپنے پرانے دن۔۔۔ وہ دن جو دوستوں کے ساتھ گزارے تھے۔۔۔

عجب چیز ہے لذت آشنائی۔

رات کو میں اپنے کمرے کی ساری روشنیاں گل کرنے سے پہلے اپنی بیوی اور بیٹی کوسکون کی نیند سوتے ہوئے دیکھتاہوں  اور اپھر اپنے والدین کے کمرے میں نظر دوڑاتا ہوں کہ وہ جاگ تو نہیں رہے۔۔۔ انہیں کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ صحن سے منسلک اپنےچھوٹے بھائی کے کمرے کی طرف جھانکتا ہوں کہ وہ اب تک سویا یا نہیں۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کے کمرے کی جلتی روشنی دیکھ کر سوچتا ہوں کہ یہ اتنا پڑھتی کیوں ہے۔۔۔

وضو کرتا ہوں اور روشنی گل کرنے کے بعد نماز وتر کے لیےجائے نماز بچھا کر 10 سے 15 سیکند کے لیے کھڑا ہو کر سوچتا ہوں کہ میں کیا کرنے والا ہوں؟ کس کے سامنے کھڑا ہونے والا ہوں؟ میں کیا بات کروں گا اس سے؟ میرا مقصد کیا ہے یہ مشق کرنے کا۔۔۔؟

اندھیرے کمرے میں، مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میری بیوی، میری بیٹی اور میرے علاوہ کوئی اور بھی ہے۔۔۔ جو اتنا بڑا ہے کہ وہ میرے کمرے میں سما نہیں سکتا۔۔۔ لیکن پھر بھی موجود ہے۔۔۔ وہ ایسا ہے کہ جس کے سامنے میں آنکھوں سے دو آنسو بہاوں گا تو وہ میرے پاس آ کر کہے گاا کہ بس۔۔۔ فکر نا کر۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔

وہ ایسا ہے۔۔۔ کہ جس کے سامنے میں اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہونگا۔۔۔ تو وہ حکم کرےگا  کہ بخش دو میرے اس گناہگار بندے کو۔۔۔ اس نے کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے لیکن صرف مجھ سے بخشش مانگی۔۔۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں زور زور سے چلا کر ساری دنیا کو بتاوں کہ “اللہ سب سے بڑا ہے۔۔۔” ۔۔۔ لیکن میں آداب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرگوشی کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔۔۔  ہاتھ باندھے کہتا ہوں کہ “ساری تعریف صرف اللہ کی ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے”۔۔۔ میں اس کے سامنے جھک کر اسے بتاتا ہوں کہ “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو سب سے عظیم ہے”۔۔۔ اور جب میں  زمیں پر اپنا ماتھا لگاتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ میں اس ہستی کے سامنے جھک رہا ہوں جس نے مجھے سب کچھ دیا۔۔۔ زندگی دی، سانسیں دی۔۔۔ اتنے خوبصورت  رشتے دیے۔۔۔عزت اور محبت دیے۔۔۔ اور آج تک مجھے بھوکا نہیں رہنے دیا۔۔۔ تو میرے ہونٹ اور دل ایک ساتھ کہہ اٹھتے ہیں کہ  “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو بلند تر ہے”۔۔۔ اور “اے اللہ تو پاک ہے، اے میرے پروردگار اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔۔۔ یا اللہ مجھے بخش دے”۔۔۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس اندھیرے کمرے میں میرا آقا، میرا پروردگاراور میرا دوست میرے ساتھ ہے جو میری سرگوشیاں سن رہا ہے ۔۔  میں جو بھی کچھ اسے بتاتا ہوں وہ سنتا ہے۔۔۔ اور پھر نماز کے بعد دعا کے لیے جب میرے ہاتھ اٹھتے ہیں اوربے اختیار میں اپنے دوست سے دل کے سب حال کہہ جاتا ہوں کہ میرا یہ کام بنا دے۔۔۔ میرا وہ کام پورا کر دے۔۔۔ میرے والدین، میری بیوی، میری بیٹی، میرے بھائی بہنوں اور پھر سب مسلمانوں  کو صحت، معافی اور ہدایت عطا فرما۔۔۔ تو میں یہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میرے دو کھلے ہاتھوں کو کوئی تھام رہا ہے۔۔۔ کوئی مجھے کہہ رہا ہے کہ تو فکر نا کر۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تو نے کس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہیں۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تیرا پروردگار تیرا صرف بھلا چاہتا ہے۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ تو جانتا ہے کہ اگر تو وہ کرے جو میں نے تجھے کرنے کا حکم دیا تو، تو کبھی افسوس نا کر پائے گا۔۔۔ میں تجھے وہ دوں گا جو میں نے نیک کاروں سے وعدہ کیا ہے۔۔۔ لیکن اگر تو کرے گا وہ جو شیطان کہتا ہے تو اس کی سزا تو تجھے ملے گی ہی۔۔۔

میرا پروردگار۔۔۔ میرا آقا۔۔۔ میرا ولی۔۔۔ میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔ جب ساری دنیا کے رشتے مجھے چھوڑ جائیں گے تو میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔ اور جب میں دنیا چھوڑ جاوں گا تب بھی میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔

میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی اچھائیوں پر خوش ہوتا اور ثواب کے ڈھیر لگا دیتا ہے۔۔۔ اور میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میں کوئی غلطی کر دوں۔۔۔ کوئی گناہ کر دوں تو شرمندگی کے دو آنسو کے عوض وہ مجھے معاف کر دیتا ہے۔۔۔ اب دوست ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔

میرا دوست ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ غم میں مجھے حوصلہ دیتا ہے اور خوشیوں میں شکرکرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔۔۔

میں یہ سوچنا ہی نہیں چاہتا کہ اللہ کہاں رہتا ہے۔۔۔ عرش پر ہے یا زمین پر ہر جگہ موجود ہے۔۔۔ میرے لیے تو یہی کافی ہے کہ وہ میرا دوست ہے اور میری شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے۔۔۔ جو میری خاموشی سے کہی گئی عرضیں بھی سنتا ہے۔۔۔

میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔  جب مجھے اس پر پیار آتا ہے تو یون محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجھے محسوس کروا رہا ہے کہ وہ بھی مجھے پیار کرتا ہے۔۔۔ اور میرے دوست سے زیادہ اور کون مجھےپیار کرنے والا ہوگا کہ جو جو یہ چاہے کہ میں نہ صرف اس دنیا میں، بلکہ اگلی دنیا میں بھی ہر تکلیف اور عذاب سے بچ جاوں۔۔۔

اورپھر جب میں اپنے دوست سے باتیں کرتے کرتے اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹتا ہوں تو میرا یہ ایمان کامل ہو جاتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔ میرا خیال رکھ رہا اور اب مجھے کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اتنا سکون اور محبت بھرا احساس لیے میں نیند کی آغوش میں اتر جاتا ہوں۔۔۔

 

 

ماں

کسی نے ماں سے سوال کیا کہ
اگر آپ کے قدموں سے جنت لے لی جائے
اور………………..
آپ سے کہا جائے کچھ اور مانگ لو
تو آپ الله سے کیا مانگو گی ؟

ماں نے بہت خوبصورت جواب دیا
کہ میں اپنی اولاد کا نصیب
اپنے ہاتھہ سے لکھنے کا حق مانگوں گی
کیونکہ
ان کی خوشی کے آگے
میرے لئے ہر جنت چھوٹی ہے

اب آپ خود سوچئے کہ
الله نے اگر ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے تو ٹھیک رکھی ہے نا

ماں تیری عظمت کو سلام

ایکسپریس

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: