پاکستان کی معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے کچھ نکات

میں نے “میرا پاکستان” پر ان کی ایک تحریر پر اپنے تبصرے میں کچھ نکات پیش کیے تھے۔۔۔ جو میرے خیال میں پاکستان کے معاشی حالات کو کسی حد تک مضبوط بنانے میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔۔۔


براہ کرم آپ حضرات بھی پڑھیں اور اپنی آرا سے نوازیں۔۔۔ عین نوازش ہو گی۔۔۔


کچھ عرصہ پہلے۔۔۔ پاکستان کے گورنر اسٹیٹ بنک نے یہ اعلان کیا تھا کہ شرح سود میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان کی معیشیت میں بہتری آئی ہے۔۔۔ “سود“ جو اسلام میں حرام ہے لیکن “اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں سود معیشیت میں بہتری کا باعث بنی۔۔۔ کیا گھٹیا بات ہے اور کس فضول دھوکے میں ڈال رکھا ہے مسلمانوں اور پاکستانیوں کو۔۔۔


زاتی اور سوشل معاشیات کو تو اسلام میں بہترین طریقے سے واضح کیا گیا ہے۔۔۔ تفصیل تو شاید میں بہتر نہیں بتا سکوں گا اور نا ہی میرا اتنا علم ہے۔۔۔ لیکن کچھ ایسے نکتے ہیں جن سے شاید کچھ مدد مل جائے۔۔۔


1) ہر شہری سے ٹیکس کی جگہ زکات لی جائے اور ایسے ایماندار لوگوں کو تعینات کیا جائے جو جائز طریقے سے حقیقی ضرورت مند لوگوں تک زکاۃ کا حصہ پہنچا سکیں۔۔۔


2) حد درجہ سادگی اختیار کی جائے۔۔۔ وہی سادگی جو صحابہ کرام کا وطیرہ تھی۔۔۔


3) توکل اللہ اختیار کیا جائے (نا صرت زاتی حد تک بلکہ اجتماعی سوچ میں انقلاب کی ضرورت ہے)۔۔۔


4) زاتی طور پر ہی سہی، لیکن شروع میں خود کو پیسے کی دوڑ سے باہر نکال لیا جائے۔۔۔ اور دکھاوا و ریاکاری سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔۔۔


5) صدقات عام کیے جائیں۔۔۔ لیکن اس نیت کے ساتھ کہ ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے کو معلوم بھی نا ہو۔۔۔


6) ضرورت مند حضرات کو قرض حسنہ انتہائی آسان شرائط پر دیے جاییں تا کہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔۔۔


7) درآمدات کم کی جایئں اور لوکل صنعتیں لگائی جایئں تا کہ نا صرف شرح برآمدات میں اضافہ ہو بلکہ بےروزگاری کا خاتمہ بھی ممکن ہو۔۔۔


8) منافع کی لالچ ختم ہو۔۔۔ حکومت “مینیوفکچرنگ کوسٹ“ پر کس قسم کے ٹیکس کی بجائے دکاندار یا صنعت کار کو صرف 10٪ یا 20٪ منافع رکھنے پر مجبور کرے۔


9) لین دین کے معاملات میں خدا خوفی ہو۔۔۔


اور جیسا کہ آپ نے اوپر لکھا ہے۔۔۔ یہ سب شروع تو حکومت کے اعلی اہلکاروں سے ہوگا لیکن زیادہ ضرورت ایک عام انسان کی عام زندگی میں تبدیلی ہے۔۔۔


4 Comments

  1. آپ کی باتیں درست ہیں۔ جسطرح جس طرح شراب کا ایک قطرہ پورے مشکیزے کو پلید کر دیتا ہے اسی طرح سود کا ایک روپیہ پوری معشیت کو بے برکت کردیتا ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین قسم کے مسلمانوں پہ جنت حرام قرار دی ان میں سے ایک قسم سود خوروں کی ہے۔

    زکواۃ اسلام کا معاشی نطام ہے۔ سود چھوڑنے اور اسلامی بینکنگ اپنے سے معشیت بھی بہتر ہوگی۔ اور لوگ تعاون بھی کریں گے۔ اور یہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب اس پہ عمل درآمد کرنے والے اور عمل درآمد کروانے کا اختیار رکھنے والوں میں خود خوف خدا ہو۔

    ReplyDelete
  2. بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

    ReplyDelete
  3. آپ نے درست لکھا ہے ۔ ميں سمجھتا ہوں کہ صرف آخری تجويز " ہر کام اللہ سے ڈر کر کيا جائے ہی کافی ہے بشرطيکہ لوگ شيطان کے نرغےس نکلنے کی کوش کريں
    ديگر پاکستان ميں فی الحال مزيد صنعتيں لگانے کی ضرور نہيں بلک صنعتوں پر ٹيکس کم کر کے اور تيار شدہ درآمدی مال پر ٹيکس بڑھا کر ملکی صنعت جو تباہ حال ہے اسے بحال کيا جائے
    خيال رہ کہ پرويز مشرف کے دور ميں آئی ايم ايف اور ورلڈ ٹريڈ آرڈر کے تحت دآمد پر زيادہ سے زيادہ ڈيوٹی تيس فيصد کر دی گئی جب کہ مقامی طور پر تيار ہون والے مال پر کل ٹيکس پينسٹھ فيص يا زيادہ ہے

    ReplyDelete
  4. [...] پاکستان کی معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے کچھ نکات [...]

    ReplyDelete

اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔