یہ ہے بلاگستان میری جان۔ ۔

96 بار دیکھا گیا

آپ سب کو اردو بلاگستان میں خوش آمدید ۔۔۔امید ہے آپ کے پاس اپنی زندگی کی کچھ لمحے فارغ ہونگے یا آپ اپنی زندگی سے اس قدر اکتا چکے ہوں کہ آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے کچھ لمحے ضائع ہوں یا سارا دن ہی بغیر کسی مقصد کے گزرتا ہو۔۔۔

ویسے جتنا ٹائم آپ بلاگستان میں گزارتے ہیں۔۔۔ یقین تو نہیں آتا لیکن ہو سکتا ہے کہ مختلف بلاگز پر جھانکتے جھانکتے کچھ سیکھ ہی لیتے ہوں۔۔اب یہ تو نا کہیں کہ میں نےیہ بیان دے کر کچھ دانشور بلاگرز کی علم و فضائل کی توہین کر دی ہے۔۔۔ چھڈو جی۔۔۔

خیر۔۔۔ تو بات پھر سے جوڑتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں آپ سب کو پھر سے خوش آمدید۔۔۔ امید ہے کہ آپ کا یہ سفرِ بلاگستان بہت عمدہ گزرے گا۔۔۔ تو آئیے۔۔۔ میں آپ کو بلاگستان کے بارے میں کچھ تعارف دیتا چلوں۔۔۔

بلاگستان وہ جگہ ہے۔۔۔ جہاں ہربلاگر خود کو دنیا کا نہیں تو کم از کم پاکستان کا سب سے بڑا عالم و دانشور بندہ سمجھتا ہے۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھنے میں اور ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔۔۔ جب بھی کوئی بلاگر ” بلاگ سپاٹ یا ورڈ پریس” پر اپنا نیا بلاگ بنانے کا اہتمام کرتا ہے۔۔۔ تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی میں تو میری کوئی مانتا نہیں۔۔۔ چلو۔۔۔ لکھ کر ہی کچھ چولیں مار لیں۔۔۔ بلاگ پر ہماری کوئی مانے یا نا مانے۔۔۔ ہم بھی کسی کی نہیں مانیں گے۔۔۔

نہیں نہیں۔۔۔ آپ غلط سمجھے۔۔۔ یہاں صرف “دانشور” ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہر طرح کے بلاگر پائے جاتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسند بھی ہیں۔۔۔ روشن خیال بھی ہیں اور ترقی پسند بھی۔۔۔ لیکن کچھ بلاگرز کی بدقسمتی سے یہاں کچھ زیادہ ہی انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔۔۔ بدقسمتی اس لیے کہ ان بلاگرز کی تبلیغِ روشن خیالی میں اگرکوئی پتھر حائل ہے تو وہ انتہاء پسند ہی ہیں۔۔۔ اوہ ہو۔۔۔ اب یقین نہیں آتا تو آنٹی سے ہی پوچھ لیں۔۔۔

کیا کہا۔۔۔ اب آنٹی کون ہیں۔۔۔ میں نہیں بتاتا بھائی۔۔۔۔ پڑھنا ہے تو یہاں پڑھ لو۔۔۔ میرا وقت کھوٹا نہیں کرو۔۔۔

ہاں جی تو ہم بات کر رہے تھے بلاگرز کی۔۔۔ جناب عالی۔۔۔ بلاگستان کا ایک طبقہ “روشن خیال ریوڑ” کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔۔۔ اب ریوڑ کس چیز کو کہتے ہیں۔۔۔ وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

روشن خیال ریوڑ کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ بلاگستان پہنچتے ہی اپنی اوقات سے باہر آ جاتے ہیں۔۔۔ ان کے خیال میں جوبات ان کے دماغِ ناچیز میں بچپن سے فٹ کر دی گئی ہے۔۔۔ وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔۔۔ ساری دنیا غلط ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن وہ غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔ پھر اپنی عادت سے بھی کچھ مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی کہہ دے کہ “یار کوا کالا ہے۔۔۔ تو فورا اٹھ کر کہہ دیں گے۔۔۔ اوبجیکشن ۔۔۔ کوا کبھی کالا نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے بچپن میں سفید کوا بھی دیکھا ہے۔۔۔ اور پھر مغربی مصنفین کی ایسے ایسے حوالے پیش کریں گے کہ آپ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا۔۔۔ آپ کا کام بس ہوشیار رہنا ہے۔۔۔

ان حضرات کو اسلام سے عمومی اور علماء اسلام سے خصوصی خدا واسطے کا بیر ہے۔۔۔ ملک و ملت کی ہر خرابی کا زمہ دار علماء کو ٹھرانا ان کے لیے سب سے آسان کام ہے۔۔۔ آج تک ان بلاگرز کی اتنی تحاریر پڑھنے کے بعد آپ کے اس نا چیز میزبان کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ اگر علماء نے کچھ نہیں کیا تو ان کے بھائی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔ اور اگر اسلام ان کے مطلب کا نہیں تو اپنا نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے۔۔۔

ان روشن خیالوں میں زیادہ تر خواتین پائی جاتی ہیں۔۔۔ اور کچھ خواتین نما مرد حضرات بھی۔۔۔ ان کی زندگی کا مقصد، مرد حضرات کو بالادستی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہے۔۔۔ اپنی کسی نا کسی تحریر میں خرابی ثقافت، بربادیِ مذہب اور تکلیف ِعورت کا ملبہ مرد حضرات پر ڈالتی نظر آئیں گی۔۔۔ بقول ان کے۔۔۔ ان کے عورت ہونے کا قصور بھی کسی مرد کا ہی لگتا ہے۔۔۔ ورنہ یہ آج مغرب کے کسی بار میں بیٹھی بیر کا مزہ “لے رہے ہوتے”۔۔۔۔ نہیں جی یہ کھلے عام کہتی نہیں۔۔۔ محسوس کرواتی ہیں۔۔۔

 

چلیں کچھ آگے چلتے ہیں۔۔۔ اوہ یہ دیکھیے۔۔۔ اس عجوبہ خلقت سے آپ کی جان پہچان کرواتے چلیں۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ یہ بارہ سنگھا ہی ہے۔۔۔

اوہ ہو۔۔۔ جی درست فرمایا۔۔۔ دور سے انسان ہی لگتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ صرف دور سے۔۔۔
کیا کہا۔۔۔؟ اس کے سینگھ بارہ نہیں ہیں۔۔۔ دیکھیے غور سے دیکھیے۔۔۔ کچھ سینگھ اس نے کہیں نا کہیں پھنسا رکھے ہیں۔۔۔ قریب مت جائیے۔۔۔ دیکھیں اسے چھیڑیں مت۔۔۔ ورنہ آپ پر منافق، جھوٹا اور کمینہ النفس ہونے کا فتویٰ لگ جائے گا۔۔۔ جی صحیح پہچانا آپ نے۔۔۔ یہ “روشن خیال ریوڑ” کی دوسری قسم ہے۔۔۔ بارہ سنگھے سے مزید تعارف کے لیے۔۔۔ یہاں کلک کریں۔۔۔۔

 

آئیے آپ کو اب روشن خیالوں کی تیسری قسم سے بھی ملواتے چلیں۔۔۔ یہ آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔۔۔ لیکن کسی انتہا پسند بلاگر کے بلاگ پر اگر آپ کو فحش یا بیہودہ کلمات نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ اس کارنامے کے پیچھےاسی تیسری مردانہ و زنانہ کمزوری کا ہاتھ ہے۔۔۔ داراصل اپنی خصلت سے مجبور ہیں۔۔۔ بچپن سے مادر پدر آزاد ٹھرے۔۔۔ تو کسی دوسرے کی عزت کرنا اور رکھنا انہیں آتا ہی نہیں۔۔۔ ہم انہیں روشن خیال ریوڑ کا بایاں بازو بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ جہاں روشن خیالیوں کو لگتا ہے کہ ان کی دال نہیں گل رہی تو وہ اس تیسری قسم کو چھو کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اور پھر ان کے مقابل شرفا کو خود ہی خاموش ہونا پڑتا ہے۔۔۔ کہ جاہلوں اور احمقوں کی بکواس کا کیا جواب دیں۔۔۔ خاموشی ہی بہتر ہے۔۔۔

صبر کریں جی۔۔۔

ہاں جی روشن خیالوں کی یہی تین قسمیں ہیں۔۔۔ اگر مزید قسمیں دریافت ہونگی تو بذریعہ ڈاک آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔۔۔

امید ہے آپ بلاگستان سے اپنا تعارف انجوائے کر رہے ہونگے۔۔

آئیے اب مزید آگے بڑھتے ہیں۔۔۔

یہ حضرات ترقی پسند ہیں۔۔۔ انگریزی ان کی محبوب زبان ہے۔۔۔ اتنی محبوب کہ اردو میں بھی انگریزی الفاظ لکھ کر قارئین کو مرعوب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی تحاریر کے سر پاوں کا انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔۔ بس کہیں سے فلسفے اور اردو انگریزی ادب کو ملا کر کچھ نا کچھ لکھ دیتے ہیں۔۔۔ ان کا ماننا ہے کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کا سب سے آسان طریقہ انہیں کنفیوز کرنا ہے۔۔۔ اس طرح ان کی پگڑی بھی اونچی رہتی ہے اور دال بھی گل جاتی ہے۔۔۔ ویسے انہیں بلاگستان میں اتنی سنجیدگی سے لیا بھی نہیں جاتا۔۔۔

وہ دیکھیے۔۔۔ یہ کچھ حضرات سر جھکائے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے پاس کرنے کو کئی کام نہیں۔۔۔ فیس بک سے یاری ہے۔۔۔ کسی کے لیے خطرہ جان یا ایمان نہیں ہیں۔۔۔ بس کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ لکھنے کا تو مہینے میں ایک آدھ پوسٹ لکھ مارتے ہیں۔۔۔ بلاگستان میں ان کا زیادہ تر وقت روشن خیالوں کے بلاگز پر تبصرے کرنے میں اور انہیں سمجھانے بجھانے میں ضائع ہوتا ہے۔۔۔ سنا ہے کہ اسلام کے متعلق روشن خیالوں کےمغلظات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔۔۔

جی ایک مرتبہ پھر آپ نے درست سمجھا۔۔۔۔ یہی انتہاء پسندِ اردو بلاگستان ہیں۔۔۔ چلیں، ان میں سے کچھ سے آپ کا بالمشافہ تعارف کرواتے چلیں۔۔۔ کیا یاد کریں گے۔۔۔

وہ داڑھی والے مولبی ہیں۔۔۔ بڑا خطرناک بندہ ہے۔۔۔ اس کا خاصہ ہے کہ ایک انگریزی کا حرف کہہ کر ہی اپنا سارا غصہ نکال لیتا ہے۔۔۔

وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوا بندہ ڈفر ہے۔۔۔ اوے نہیں یار۔۔۔ نام نہیں ہے اس کا۔۔۔ ویسے ہی ڈفر ہے۔۔۔ اسے سیریس مت لینا۔۔۔ ورنہ جان کے لالے پڑ جائیں گے۔۔۔

جی نہیں وہ کوئی جاپانی بلاگر نہیں پاکستانی ہیں۔۔۔ شریف آدمی ہے۔۔۔ لیکن روشن خیال اسے شریف رہنے نہیں دے رہے۔۔۔

اور وہ بچہ جو نظر آ رہا ہے آپ کو۔۔۔ بلاگرِاعظم کہا جا سکتا ہےانتہاء پسندوں کے وقار کو بلند رکھنے میں اس کا بڑا کردار رہا ہے۔۔۔زرا بچ کے۔۔۔ بڑے حوالے نکالتا ہے۔۔۔

دیکھیں۔۔۔ وہ نقلی مونچھیں لگائے “انکل سام کا رہائشی” ہے۔۔۔ حقیقت میں کاکا ہے اپنا۔۔۔ لیکن بڑوں کے ساتھ بیٹھنے کا بڑا شوق ہے اسے۔۔۔بڑی بڑی باتیں کرتا ہے۔۔۔

اور وہ سب کا استاد۔۔۔ بڑا استاد آدمی ہے۔۔۔

حیران مت ہوں۔۔۔ یہ آپ کو کوئی خطرہ نہیں پہنچائیں گی۔۔۔ آپ کو ان کی شکل نظر نہیں آ رہی۔۔۔ آئے گی بھی نہیں۔۔۔ حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں۔۔۔

اور یہ ڈاکٹر ہے جی۔۔۔ روشن خیالیوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے اس بندے نے۔۔۔

اہمم اہممم۔۔۔ زرا تمیز سے۔۔۔ ہمارے بزرگ ہیں۔۔۔ انتہا پسند بلاگر انہیں اپنا استاد اور پیرومرشد مانتے ہیں۔۔۔ انتہاء پسندوں کے لیے باعث افتخار ہیں۔۔۔ ۔۔۔سلام کرو انہیں۔۔۔ شاباش۔۔۔

اور یہ جو بندہ فارغ بیٹھا ہے۔۔۔ کبھی کبھی اپنا منہ دکھاتا ہے۔۔۔ لیکن سلوک سب سے بلا امتیاز کرتا ہے۔۔۔

اوئے۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ میں کس گروپ کا بندہ ہوں۔۔۔ بڑے فارغ بندے ہو یار۔۔۔ تمہیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

24 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: