عمرانیات » کوئی بتائے گا۔۔۔؟

کوئی بتائے گا۔۔۔؟

پیر, 2 مئی 2011, 22:07 | زمرہ: ارض عالی شان
ٹیگز:

تاریخی ہیرو یا ولن:

اسامہ بن لادن مر گیا یا شہید ہوا۔۔۔؟ میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔ میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسامہ بن لادن نے امت مسلمہ کی کس طرح اور کس حد تک اور کیسی خدمت کی ہے۔۔۔؟ جہاں تک میں جانتا ہوں۔۔۔ اگر اس نے امریکہ، اس کے یورپی حواریوں اور پھر مسلمان حواریوں کو کسی حد تک زق پہنچایا تو بدلے میں بہت سے بے گناہ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی اب تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔۔۔

کیا اسامہ بن لادن نے غریب مسلمان ممالک میں خیراتی ہسپتال، اسکول یا ادارے بنائے۔۔۔؟ کیا کسی اور طرح ہی اسامہ مسلمانوں کے کام آ سکا۔۔۔؟؟؟

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب جب اسامہ منظر عام پر آیا یا اس نے کوئی کارنامہ انجام دیا۔۔۔ تو اس کا فائدہ کسی نا کسی طرح صرف اور صرف امریکہ اور اس کی حواریین کو ہی ہوا۔۔۔؟ اور ہم مسلمان اور پاکستانی ہمیشہ سزا کا مستحق ٹھرے۔۔۔؟

کیا اسامہ اب ہلاک ہوا ہے یا بہت پہلے ہلاک یا طبعی موت مر چکا تھا۔۔۔؟؟؟ امریکہ نے اسے سمندر میں جگہ دینے کی اتنی جلدی کیسے کی۔۔۔؟ اگر وہ واقعی دشمن تھا۔۔۔ تو اس فرعون کی طرح نشانِِعبرت کیوں نہیں بنا دیا گیا۔۔۔؟

کیا اسامہ بن لادن مسلمانوں کا ہیرو ہے۔۔۔ یا تاریخ اسے ایک ولن کے طور پر یاد کرے گی۔۔۔؟

حسب معمول میں تو شدید شدومد میں مبتلا ہوں۔۔۔

ہمارے ہجڑے حکمران:

جلال آباد سے چار فوجی ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں۔۔۔ کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے پاکستان کے ایک مرکزی شہر ایبٹ آباد پہنچتے ہیں۔۔۔ اس میں سے امریک میرین نکلتے ہیں۔۔۔ شہر کے ایک نہایت مصروف رہائشی محلے کا محاصرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک بڑا آپریشن کیا جاتا ہے۔۔۔ بمباری کی جاتی ہے۔۔۔ مرنے والے کو اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔۔۔

اور ہم۔۔۔ ہماری فوج لاعلم۔۔۔۔ ہمارے حکمران طاقت بانٹنے میں مصروف۔۔۔ ہماری عوام مردہ۔۔۔ ہجڑے ہی تو بن گئے ہیں۔۔۔

طالبان کا احسان:

تحریک طالبان پاکستان نے اعلان کیا۔۔۔ کہ “اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ پاکستانی فوج، حکمران اور عوام سے لیا جائے گا۔۔۔ “

تو پہلے ہم پر کیا کرم کر رکھا ہے آپ نے۔۔۔ پہلے ہی پاکستانی فوجی مر رہے ہیں۔۔۔ پہلے ہی آپ بے گناہ پاکستانی عوام کو مار رہے ہو۔۔۔ خدارا اب حکمرانوں کو نشانہ بنا لو۔۔۔ اگر مارنا ہی ہے تو انہیں مار دو۔۔۔ بندے تو آپ نے کم کرنے ہی ہیں۔۔۔ آپ ان دو اڑھائی ہزار سیاستدانوں کو مار کر کم کر لو۔۔۔ پاکستانی عوام ایویں آپ کے ساتھ ہو جائے گی۔۔۔ اور پھر آپ کی “شریعت” پر بھی عمل درآمد کروانا آسان ہو جائے گا۔۔۔

 

عوام کو کیا۔۔۔؟

بجلی نہیں ہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

تنخواہیں نہیں بڑھ رہی۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

ڈروون حملے نہیں رک رہے۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

آٹا مہنگا۔۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

چینی ناپید۔۔۔ احتجاج کرو۔۔۔!!!

اور جو کرنے والا کام ہے۔۔۔ وہ نا کرو۔۔۔

جو لوگ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے “رینٹل پلانٹس” پر لگا رہے ہیں۔۔۔  جو لوگ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں لیکن مزدور کی تنخواہ کی فکر نہیں۔۔۔ جو لوگ ڈروون حملے کرنے کی اجازت دے رہیں۔۔۔ جو لوگ آٹے اور چینی کی زخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے خلاف کیا کر رہے ہیں۔۔۔

انقلاب انقلاب کا نعرہ بھی ٹھندا ہو گیا۔۔۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔۔۔ برائی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس برے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، جو مستقل برائی پھیلا رہا ہے۔۔۔

 

ہمیں “شخص” کی فکر ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے مسئلوں” کا غم ہے۔۔۔ قوم کے نہیں۔۔۔

ہمیں “میری حفاظت” کرنی ہے۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔

ہمیں “میرے پیسے” پیارے ہیں۔۔۔ قوم کی نہیں۔۔۔



12 تبصرے برائے “کوئی بتائے گا۔۔۔؟”

  1. 1جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    میری نظر میں پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا اور اگر آج دیانتدار قیادت میسر بھی ہوجائے تو اور ؐھنت کرے تو ان سب باتوں کاحل اداروں کو مظبوط کرنے میں۔ لوگ شخصیات کی بجائے پارٹی کو ادار کی صورت دیکھیں اور اسکی سابقہ کارکرگی کا جائزہ لیں۔ آئیند کا منشور دیکھیں۔ پولیس کا ادارہ مستحکم ہو اور اسے کسی “شخصیت” کہ کہنے پہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہ کیا جاسکے۔ ملک ایک ادارے کے طور مضبوط ہو اور اسکے صدر اور وزیر اعظم کی بکائے اسکے ملک کی حیثیت مضبوط ہو۔ اسی طرح عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ بی حیثیت اس قدر مضبوط ہوں کے انھیں اپنے کسی جعلی مقصد کے لئیے کوئی بڑے سے بڑی شخصیت پہ مجبور نہ کر سکے اور ایسا کرنے والے کو بغیر کسی خوف کے ادارے گرفتار کر لیں۔

    شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں۔ آپس میں بعدالطرفین کی طرح بغض رکھنے والے دو امریکی صدور نے دو مختلف پارٹیز کے پلیٹ فارم امریکی صدر کے امریکہ سے انتخابات جیتے۔ مگر انکے قومی اہداف افغانستان کی جنگ۔ اسامہ بن لادن وغیرہ ان سب اہداف سے وہ کبھی نہیں چوکے۔ جب کہ پاکستان میں بکاؤ مال تھرڈ کلاس سیاستدان حکمرانوں کے لئیے پورے ادارے کی ہی قربانی دے دی جاتی ہے۔ اور محج اپنے من پسندوں کو نوازنے کے لئیے راتوں رات نئی منسٹریز اور ادارے کھڑے کر لئیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ملک پانچ سات سال بڑی مشکل سے چل پاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ہورہا ہے۔

    پاکستان میں افراد اور شخصیتوں کی بجائے اداروں پہ توجہ دے جائے گی؟ کیا کبھی ایسا ہو سکے گا؟؟

  2. 2خرم ابن شبیر

    ہمارے ہجڑے حکمران:
    جلال آباد سے چار فوجی ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں۔۔۔ کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے پاکستان کے ایک مرکزی شہر ایبٹ آباد پہنچتے ہیں۔۔۔ اس میں سے امریک میرین نکلتے ہیں۔۔۔ شہر کے ایک نہایت مصروف رہائشی محلے کا محاصرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک بڑا آپریشن کیا جاتا ہے۔۔۔ بمباری کی جاتی ہے۔۔۔ مرنے والے کو اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔۔۔
    اور ہم۔۔۔ ہماری فوج لاعلم۔۔۔۔ ہمارے حکمران طاقت بانٹنے میں مصروف۔۔۔ ہماری عوام مردہ۔۔۔ ہجڑے ہی تو بن گئے ہیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس یہاں بات ختم ہوجاتی ہے

  3. 3انکل ٹام

    تحریک طالبان والے ویسے ہی امریکہ کے ایجنٹ ہیں، انکو تو یہ اعلان کرنا ہی تھا ۔

  4. 4fikrepakistan

    جاوید بھائی آپکی بات بلکل درست ہے کے حکمرانوں کے انڈیا اور افغانستان کے صدور کی زہر افشانی کا جواب دینا چاہیے مگر یہ ابھی تک کیوں نہیں دے پائے جواب؟ میں نے اپنی تازہ پوسٹ میں یہ ہی حقائق بتانے کی کوشش کی ہے کے یہ سب کٹھہ پتلیاں ہیں انکی اتنی اوقات ہی نہیں ہے کے یہ اس حساس معاملے پر اپنی سوچ سمجھہ کے مطابق زبان کھول سکیں، یہ فوج کے لکھے ہوئے اسکرپٹ کا انتظار کررہے ہیں جب فوج اور ایجنسیز انہیں اسکرپٹ لکھہ کر دیں گی تو یہ ٹی وی پہ آکر اسے پڑھہ کر سنا دیں گے۔ یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی اصل اوقات اور یہ ہے پاکستان کی اصل جہموریت، ہمارے اصل حکمران فوج اور ایجنسیز ہی ہیں بھائی میں دعوے سے کہتا ہوں کے صدر اور وزیراعظم تک کو خبر نہیں ہوگی کے کیا ہوگیا ہے پاکستان میں کل رات، کیوں کے انکی اتنی اوقات ہی نہیں کے امریکہ ان سے پوچھنے کی جسارت کرئے، یہ سب امریکہ کے زر خرید غلام ہیں اور کوئی بھی مالک کوئی کام کرنے سے پہلے اپنے غلام سے پوچھتا نہیں ہے، وہ تو کام کرنے کے بعد صرف بتاتا ہے۔ یہ سب امریکہ نے فوج اور ایجنسیز کے ساتھہ طے کیا اور آرام سے سب کچھہ کر کے چلے بھی گئے۔ سیاستدانوں کی اوقات ہی کیا ہے جناب، کیسی آزادی کیسی جمہوریت؟ پاکستان کا مطلب ہی فوج اور ایجنسیز ہیں۔

  5. 5میرا پاکستان

    آپ کا انداز تحریر پسند آیا. آپ نے حرف بحرف سچ لکھا ہے.

  6. 6یاسرخوامخواہ جاپانی

    بھوکے ننگے پاکستانی عوام تیار رہیں۔
    اب روزانہ کچھ نہ کچھ پھٹتا رہے گا۔

  7. 7افتخار اجمل بھوپال

    نہ تو اوسامہ ہيرو ہے اور نہ ويلين ۔ اُس کی ہلاکت کا واقعہ ايک ڈرامہ جو پاکستام کيلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ آنے والا وقت بتائے گا ۔ اللہ ہميں اب بھی توبہ کر کے سيدھی راہ پر چلنے کی توفيق دے ۔ ورنہ ہم تباہی کے کنارے تو کھڑے ہی ہيں

  8. 8ڈاکٹر جواد احمد خان

    عجیب المیہ ہے کہ جہاد کرنے والے اعتدال سے محروم ہیں. حکمران غیرت ، عزت نفس، شرم و حیا سے محروم اور عوام ضروریات زندگی سے محروم اور بوکھلائے ھوۓ.

  9. 9عمران اقبال

    سب قارئین کے تبصروں کا بہت شکریہ… جزاک اللہ…

  10. 10درویش خُراسانی

    میرے خیال میں آپ نے کچھ زیادہ برا نہیں لکھا ہے۔ واقعی امریکیوں سے زیادہ نقصان ہمیں پہنچا ہے۔

    اور یہ ہجڑے تو انکے لئے عافیہ کی چوڑیاں ہی کافی ہیں۔

  11. 11اقبال جہانگیر

    کوئی بتائے گا۔۔۔؟
    اسامہ بن لادن کے بعد
    دنیا پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھتی ہے اور یہ غلط بھی نہ ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گرد ہمارے ہان موجود ہین۔ اسامہ ہماری ناک کے نیچے ایبٹ آباد مین ۵ سال سے چھپا ہیٹھا تھا اور ہمین کچھ پتا نہ تھا۔اسامہ بن لادن القاعدہ کے فکری قائد اور آپریشنل کمانڈر بھی تھے۔
    اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اُسامہ بن لادن کی یمنی بیوی اِمل نے دوران تفتیش حکام کو بتایاہے کہ2007ءمیں ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن منتقل ہونے سے پہلے القاعدہ کے رہنماءاپنے خاندان کے ساتھ ضلع ہری پور میں ہزارہ کے قریب ایک گاﺅں چک شاہ محمدمیں مقیم تھاجہاں وہ سب تقریباً اڑھائی سال تک قیام پذیر رہے ۔ گویا اسامہ کم وبیش آٹھ برس سے ہری پور اور ایبٹ آباد میں رہائش پذیر تھا۔گزشتہ سوموار کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن، جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔
    دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
    بہرحال اس واقعے کے بعد پاکستان کا امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون و تعلق کو ختم نہیں ہونا چاہئے، وہ اس لئے کہ پاکستان War against Terror میں امریکہ کا Strategic partner ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے۔
    پاکستان ایک ایسا ملک جس میں بدقسمتی اور مصائب پہلے ہی زائد از ضرورت ہین،ہم اس نام نہاد مجاہداسلام اسامہ بن لادن اور اس کی عنایات سے ہم محفوظ ہی رہتے تو اچھا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھا تو ہمارے لیے ایک درد ِ سر تھا ، اُس کی موت کسی طوفان سے کم نہ ہے۔اسامہ نے ہمیں زندگی میں بھی نقصان پہنچایا تھا اور اُس کے موت پر آج ہم احمقوں کی طرح اپنا سا منہ لیے کھڑے ہیں۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔

  12. 12اقبال جہانگیر

    تاریخی ہیرو یا ولن
    حالات گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القائدہ کے بے شمار لوگ یہان مارے جا چکے ہین یا گرفتار ہوچکے ہیں۔
    القائدہ ایک مجرمانہ سرگرمیوں مین ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور اسامہ ان مجرموں کا سردار تھا۔
    اسامہ اور اس کی تنظیم القائدہ کے اسلام اور اسلامی امہ کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ القائدہ اور طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، آئیندہ کے لئے القائدہ ،مسلمانوں اور اسلام کو اپنی عنایات سے معاف ہی رکھے تو یہ ملت اسلامی کے حق مین بہتر ہے۔ القائدہ نےقران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔