چلو پاکستان – حصہ 4

5 بار دیکھا گیا

 چائلڈ لیبر کے خاتمے کا جتنا سنا تھا وہ بھی صرف نعرے ہی ہیں۔۔۔ سڑکوں کی مرمت ہو یا ان کا اکھاڑنا، اس میں جو مزدور استعمال ہو رہے ہیں وہ زیادہ تر 12 سال سے کم عمر کے بچے ہی ہیں یا پھر عمر رسیدہ خواتین۔۔۔

جن پھول جیسے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں۔۔۔ وہ شاید پتھروں سےبھی سخت ہو چکے ہیں۔۔۔ اور وہ معاشرے کی بے حسی کی وجہ سے آج کے معاشرے سے بھی زیادہ بےحس اور سخت گیر ثابت ہوںگے۔۔۔ اور پھر یاد آتا ہے سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کا نعرہ” ہم بنائیں۔۔۔ پڑھا لکھا پنجاب”

لعنت ہے ایسے نعروں پر اور لعنت ہے ان پر جنہیں ایسے معصوم بچے نظر نہیں آتے۔۔۔ کہاں جا رہی ہے ہماری “تعلیم کی مد میں دی گئی امداد” جو ہمیں مل رہی ہے لیکن ہمیں مل ہی نہیں پا رہی۔۔۔

ہم کب تک بچوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھیں گے۔۔۔ اور کب تک ہم روشن مستقبل کے جھ۔وٹے نعرے لگاتے رہیں گے۔۔۔    اور کب تک ہم صرف  30 فیصد لٹریسی ریٹ کے ساتھ دنیا جیتنے کے جھوٹے خواب دیکھتے اور دکھاتے رہیں گےَ۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

4 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: