چلو پاکستان – حصہ 3

6 بار دیکھا گیا

شوکت عزیز صاحب بینکر تھے… انہیں یہاں مسٹر2% کے نام سے جانا جاتا ہے… وہ ہمارے معاشرے کو لیزنگ اور انسٹالمنٹ  بمع سود کی لعنت دے گئے… انہوں نے ملک ویسے چلایا جیسے ایک بنک چلایا جاتا ہے… ہر وہ شخص جو کبھی موٹر سایکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا… اب کار لے کر روڈ پر گھوم رہا ہے… یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ لوگ کار چلانا افورڈ کیسے کر سکتے ہیں… ایک طرف ہم مہنگائی کا رونا روتے ہیں لیکن دوسری طرف آپ لاہور کے کسی بھی ریسٹورنٹ میں چلے جایں تو آپ کو سیٹ ملنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے… کسی شوپنگ سنٹر چلے جایں تو ہر جگہ کسٹمرز کی لاین لگی ہوتی ہیں… روڈز پر اچھی سی اچھی کار نظر آیگی… ٹھیک ہے صاحب استطاعت لوگ بھی ہونگے… لیکن غربت کی ریشو تو زیادہ ہے… پھر جب ہم سنتے ہیں لوگوں کے منہ سے اور میڈیا سے… جب حقیقت میں لاہور کی روڈز پر نکلتے ہیں تو جھوٹ کیوں لگتا ہے… کیا چینی اور آٹا اکونومی پرکھنے کا پیمانہ ہو گیا ہے… یا بقول پرویز مشرف صاحب، موبایل صارفین کی تعداد اکونومی کےمضبوط ہونے کا تعین کرتے ہیں..
ہمارے معاشرے کی قول اور فعل میں اتنا تضاد کیوں ہے… ہم جو کہتے ہیں وہ جھوٹ کیوں نظر آتا ہے اور جو سب کرتے ہیں وہ آرٹفیشل کیوں نظر آتا ہے… 
(جاری ہے)

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

ایک تبصرہ

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: