چلو پاکستان – حصہ 2

6 بار دیکھا گیا

پاکستان…
دنیا کی سب سے بہادر قوم… جو اب نا صرف دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہے… بلکہ حکومت کی بے حسی سے بھی مستقل جنگ میں ہے… اک بات جو بہت سننے کو ملی… کہ… یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے… ظالم حکمران… بےحس حکومت صرف ہماری وجہ سے ہے… ہم ایسے ہیں تو ہمارے حکمران بھی ایسے ہیں… لیکن مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جو بھی ہو… ہم جو بھی کہتے رہیں.. ہم اپنے اعمال ہرگز اور ہرگز بدلنے کو تیار نہیں… ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہنا چاہتے ہیں… لیکن دعا الله سے یہ کرتے ہیں کہ ہم سب کا دل بدل دے…

علامہ اقبال ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی… جو خدشات دل میں تھے… ان میں سے کچھ تو فورا ہی یقین کے مرحلے تک پہنچ گئے… سامان کے حصول سے لے کر ٹیکسی لینے تک… ہر شخص صرف اور صرف آپ سی کچھ نہ کچھ لوٹنے کی کوشش میں ہے… حلانکہ حکومت نے ہر سروس کے کچھ نہ کچھ چارجز لگا ہی رکھے ہیں… لیکن پورٹر سے لے کر تیکسی ڈرائیور تک سروس بعد میں دیتا ہے… اور اپنی ٹپ یا بخشش کی اسے پہلے فکر ہوتی ہے… مثبت سوچ رکھی جائے تو وہ بیچارے بھی غریب ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے انہیں بھی اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہے…

خیر… لاہور سے گوجرانوالہ اور پھر ڈسکہ کی لئے اپنا سفر شروع ہوا تو کئی چیزوں نے سوچنے پر مجبور کر دیا… سڑکوں کی حالت بہت ہی خراب ہے… چاہے وہ لاہور کی ملتان روڈ ہو یا گوجرانوالہ سی ڈسکہ تک GT روڈ ہو… ہر سڑک اکھاڑ کے رکھی ہوئی ہے… بغیر کسی منصوبہ بندی کے… جہاں دیکھا… روڈ اکھاڑئ جا رہی ہے… لیکن کہیں بنتے نہیں دیکھی… گوجرانوالہ سے ڈسکہ تک جو راستہ آدھے گھنٹے کا تھا… وہ آج ڈیڈھ گھنٹے میں طے پا رہا ہے… لاہور ملتان روڈ پر سمن آباد موڑ سے علامہ اقبال ٹاون تک 1 گھنٹہ لگتا تھا… آج کل کم سے کم 2 گھنٹے لگ رہے ہیں…

غربت بڑھ رہی ہے… لوگ اپنی خواہش اور ضرورت کو کاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں… “کوسٹ کٹنگ” کے نام پر…

ایک زریاتی ملک ہونے کی باوجود آٹا اور چینی ملتی ہی نہیں… کئی جگہ پر یہ بینر دیکھے کہ انڈیا سے امپورٹ کی ہوئی چینی 100 روپے کلو دستیاب ھے… خیال یہ آتا ہے کہ اگر ہم انڈیا یا سعودی عرب سے چینی امپورٹ کر رہے ہیں تو ہماری چینی کہاں جا رہی ہے… اتفاق شوگر ملز کیا صرف نام کے لئے کھڑی ہے… لوگوں سے پوچھنے پر علم ہوا کہ اتفاق سمیت ہر شوگر مل کی پہلی پریارٹی یا توچینی ذخیرہ کرنا ہے یا پھر UAE ، سعودی عرب یا دوسرے عرب ممالک میں ایکسپورٹ کرنا ہے… وہ بھی اپنی من مانگی قیمت پر… یہ ہمارا حال ہے کہ ہم لوگ پہلے “commission ” لے کر برآمد کرتے ہیں اور پھر گھٹیا کوالٹی چینی “commission ” لے کر درآمد کرتے ہیں… اور بوجھ پڑتا ہے غریب عوام پر…
(جاری ھے)

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

2 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: