پردیس کی عید اور جدائی

241 بار دیکھا گیا

عید کا دن یہاں کئی لوگوں کے لیے اداسی لاتا ہے۔۔۔ آج صبح مسجد میں نمازِ عید کے بعد کئی ایسے چہرے دیکھے ، جو بے رنگ اور بے تاثر تھے۔۔۔ان کو شاید امید اور آس تھی کہ کوئی اپنا آئے اور انہیں عید مبارک کہہ کر گلے لگا لے۔۔۔ اور وہ گھر جائیں تو اپنے والدین، بیوی بچوں کے ساتھ عید کا مزہ لیں۔۔۔ لیکن، مجبوریِ روزگار انہیں اپنوں سے بہت دور لے آیا ۔۔۔ جہاں تنہائی میں یہ لوگ انہیں یاد کر کے رو سکتے ہیں، سسکیاں بھر سکتے ہیں لیکن مہنگے کالنگ چارجز ہونے کے سبب اپنے پیاروں سے تفصیلاً بات نہیں کر سکتے۔۔۔ چھٹی نا ملنے اور ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نا رکھنے کے باعث اپنے لوگوں کے ساتھ عید نہیں منا سکتے۔۔۔


میں خود کو بہت خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میرے والدین، بھائی، بہنیں اور ان کے اہل و عیال، میری بیگم اور بیٹی میرے ساتھ ہیں۔۔۔ میں گھر آیا، ان سب کو دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں اپنوں کے ساتھ ہوں۔۔۔ سب نے بیٹھ کر ساتھ ناشتہ کیا، ہنسے کھیلے اور عید کو “عید” کی طرح منایا۔۔۔

اب جب سب سکون سے اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں۔۔۔ تو میری آنکھوں کے سامنے وہی اداس چہرے پھر گھوم رہے ہیں۔۔۔ میں وہ کیفیات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جن سے میرے پردیسی بھائی گزر رہے ہیں۔۔۔

کاش جدائی جیسی کوئی زحمت ہو ہی نا۔۔۔ سب مل جل کر ہمیشہ ہمیشہ، ہر حال میں ساتھ رہیں۔۔۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں ایک دوسرے کا کندھا بنیں۔۔۔۔ کاش میرے پردیسی بھائی، ہمیشہ خوش رہیں اور ہنستے کھیلتے رہیں۔۔۔ کاش یہ مجبوری روزگار جدائیاں نا بنائے۔۔۔

ٹیگز: , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

11 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: