ایک مظلوم باپ کا خط

281 بار دیکھا گیا

اس تحریر میں مذکورہ کریکٹر فرضی ہیں. حقیقی افراد سے کوئی مشابہت، زندہ اور مردہ، مکمل طور پر اتفاق ہے.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجھ جیسے غریب بندے کے بگڑے ہوئے بیٹےعبداللہ۔۔۔

تو تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے قطع تعلقی کا اعلان کر چکا ہوں۔۔۔ پاکستان کے ہر بڑے اخبار میں نوٹس بھی شائع کروا چکا ہے۔۔۔ اردو لکھنی نہیں آتی تھی لیکن تجھ تک پیغام بھیجنے کے لیے اس عمر میں آنٹی سے ٹیوشن بھی لینی پڑی اور ان کی چاکری الگ۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں غریب آدمی ضرور ہوں لیکن عزت والا ہوں۔۔۔ ساری عمر کبھی حرام نہیں کھایا۔۔۔ ساری عمر بڑوں بزرگوں کی سیوا کی ہے۔۔۔ اسلام کے بول بالے کے لیے بھی بڑی محنت کی ہے۔۔۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں غلطی ہو گئی مجھ سے تیری پرورش میں۔۔۔

بیٹا بچپن سے تجھے سمجھاتے آئے ہیں کہ سیاست گندی چیز ہے۔۔۔ اس کو ہاتھ مت لگا۔۔۔ اس کے قریب مت جا۔۔۔ لیکن ایک نظر کی چوک تجھے بھیا جی کی گود میں لے گئی۔۔۔ وہ لمحہ اور آج کا دن، تو ہمارا نہیں رہا۔۔۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اچانک تجھے ہوا کیا ہے۔۔۔ تیری سوچ اتنی گندی کیوں ہو تی جا رہی ہے آہستہ آہستہ۔۔۔

پھر ایک دن تو نرسری سے گھر نہیں آیا۔۔۔ بہت ڈھونڈا تجھے۔۔۔ تجھے نہیں ملنا تھا، تو نا ملا۔۔۔ تین ماہ تجھے کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔۔ کس کس کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔۔۔ تھک ہار کر، صبر شکر کر کے بیٹھ گئے۔۔۔ کہ شاید تو مر گیا ہے۔۔۔ (کاش تو مر ہی گیا ہوتا۔۔۔)۔۔۔

ایک دن تو اچانک لوٹ آیا۔۔۔ خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ اتنی سی عمر میں تیری اتنی گھنی مونچھیں کیسے آ گئیں۔۔۔ بہت پوچھا تجھے کہ کہاں تھا۔۔۔ “کیا کیا ہوا” تیرے ساتھ۔۔۔ لیکن تو کچھ بولتا ہی نہیں تھا۔۔۔

کبھی تو گلی میں کھیلتے بچوں سے لڑ پڑتا اور کبھی مسجد میں جاتے نمازیوں کو دور دور سے منافق منافق کہتا رہتا۔۔۔ کبھی گزرتی ہوئی عورتوں کو ان کے حجاب کے باوجود بے شرم، بے حیا کہہ کر آوازیں کستا۔۔تو کبھی میری داڑھی کی وجہ سے مجھے جماعتی جماعتی کے طعنے دیتا۔۔۔ ہر پرائے مسئلے میں اپنی ٹانگ اڑانا تیری عادت بن گیا۔۔۔ کسی فوتگی میں بھی چلا جاتا تو “بھیا جی زندہ باد” کے نعرے لگاتا۔۔۔ جس کی وجہ سے کئی بار تجھ سمیت مجھے بھی مار کھانی پڑی۔۔۔ ہر رات کو سونے سے پہلے اپنی انگلیوں پر بھیا جی بھیا جی کا ورد کرتا رہتا۔۔۔ ماسی بشیراں کے ساتھ تیری دوستی بڑھتی گئی، جو مجھ سمیت کسی محلے والے کو پسند نہیں تھی۔۔۔ (تو تو جانتا ہے کہ ماسی بشیراں “پھپھے کٹنی” کے طور پر مشہور تھی)، سب کو یقین ہوگیا کہ تو اسی کے کہنے پر ساری حرکتیں کرتا ہے۔۔۔

محلے کو کچھ غیور نوجوانوں نے کئی بار تیری پٹائی بھی کی لیکن ان تین ماہ میں تیری برین واشنگ ہو چکی تھی۔۔۔ لعن طعن اور مار کٹائی کا بھی تجھ پر کوئی اثر نا ہوا۔۔۔ ہر مار کے بعد تیری گھٹیا حرکتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔۔۔

پھر تیرے پاس اچانک پیسے کی ریل پھیر شروع ہو گئی۔۔۔ کبھی نئی شرٹ، کبھی نئی پینٹ، کبھی نیا موبائل۔۔۔ اور پھر ایک دفعہ نئی گاڑی۔۔۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اتنی بالی عمریا میں تجھے گاڑی کسی نے لے کر دی۔۔۔ کچھ چھان بین کے بعد پتا چلا کہ تو تو بھیا جی چیلوں کے “ہاتھوں اور گودوں” میں کھیلتا پایا جاتا ہے۔۔۔

ایک دن تو نیا لیپ ٹاپ لے آیا۔۔۔ اور پھر سارا دن تو اس لیپ ٹاپ سے چپکا رہتا۔۔۔ تیرے دو ہی کام رہ گئے، لیپ ٹاپ پر کچھ پڑھنا،  ماسی بشیراں کو رپورٹ دینا۔۔ اور پھر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے رہنا۔۔۔ اس کا اثر ہم نے یہ دیکھا کہ کبھی تو بستر پر الٹا پڑا روتا رہتا اور کبھی غسل خانے سے تیری دھاڑوں کی آواز آتی۔۔۔ رو رو کر تیری آنکھوں کے گرد “حلقے” بھی پڑ گئے۔۔۔ جب تو اپنی تنہائی میں یہ آوازیں لگاتا کہ “کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔۔۔ اور سب مجھے ذلیل کرتے رہتے ہیں”۔۔۔ تو تو نہیں جانتا کہ ہم پر کیا بیتتی تھی۔۔۔

تجھے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ اس لیے برداشت کرتے رہے تجھے۔۔۔ آخر کار ہمیں کسی نے مشورہ دیا اور ہم نے سعودی عرب سے ایک ڈاکٹر کو طلب کیا۔۔۔ ڈاکٹر “ج” نے ہر طرح سے تجھے سمجھانے اور تیرے علاج کی کوشش کی۔۔۔ لیکن جلد ہی  ڈاکٹر صاحب بھی امید چھوڑ بیٹھے۔۔۔ انھوں  نے ہم سے جو کہا، اس کے جواب میں ہم پکار اٹھے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا عبداللہ نفسیاتی مریض ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ پاگل ہو گیا ہے۔۔۔؟ کیا عبداللہ کو کوئی علاج نہیں۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچا لیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کو بچالیں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ورنہ عبداللہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ ہمارے عبداللہ کا علاج مفت میں کر دیں۔۔۔ پگلا ہے ہماراا عبداللہ۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ آپ ہماری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔۔۔ اور اسے دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا آپ نے۔۔۔ ہم تو دعائیں مانگ مانگ کے تھک گئے۔۔۔ اسے تو شاید اب کسی کی بددعا ہی لگے تو کام آئے۔۔۔

” ڈاکٹر “ج” بھی چلے گئے۔۔۔ تیرا علاج ان کے بس میں بھی نہیں تھا۔۔۔ اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔۔۔

تیری کرتوتوں کی وجہ سے تو محلے بھر میں “بارہ سنگھا” اور “آنٹی عبداللہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔۔ آج تک تو نا میری سمجھ نہیں آئی اور نا ہی کسی سپیشلسٹ ڈاکٹر کی، کہ تیرے سر پر سینگ کیسے نکل آئے۔۔۔ پیدا تو انسان ہوا تھا، لیکن انسان کے سر پر سینگ کب ہوتے ہیں۔۔۔  سب مجھے شک سے دیکھتے اور طرح طرح کی آوازیں کستے۔۔۔

بیٹا۔۔۔ میں عزت دار بندہ ہوں۔۔۔ جب تک زندہ ہوں حق حلال کی ہی کھاوں گا۔۔۔ تجھے بھی بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن تو نہیں مانا۔۔۔ تو نے بھیجا جی اور ماسی بشیراں کی صحبت میں بہت پیسہ کما لیا۔۔۔ لیکن بیٹا، ہمیں تیرے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بس تیرے بوڑھے باپ کی تجھ سے درخواست ہے کہ بیٹا اب بہت ہوگئی۔۔۔ اب تو سدھر جا۔۔۔ اب تو تو سیانا ہو گیا ہے۔۔۔ ہر اچھے بندے سے بھڑنا چھوڑ دے۔۔۔ آخر تیری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی۔۔۔ کہ جو تو، تیرابھیا جی اور تیری ماسی بشیراں سوچتی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ آخر تو عقل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا۔۔۔ کب تک تیری بے وقوفیاں برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔ کب تک دنیا ہمیں تیرے نام سے طعنے دیتی رہے گی۔۔۔ آخر کب تک۔۔۔ بیٹا، ان بوڑھی ہڈیوں پر کچھ رحم کر۔۔۔ اور ہمیں بخش دے۔۔۔ ہم تیری وجہ سے بہت ذلیل ہو چکے۔۔۔ بس کر بیٹا۔۔۔ بس کر۔۔۔

تیرا بوڑھا قابلِ رحم باپ۔۔۔

ابو عبداللہ

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

18 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: