میں نے جب لکھنا سیکھا تھا…

395 بار دیکھا گیا

میں نے  جب لکھنا سیکھا تھا…

پہلے تیرا نام لکھا تھا…

میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو…

جن و ملک نے سجدہ کیا تھا…

میں وہ صبر صمیم ہوں جس نے…

بار امانت سر پر لیا تھا…

تو نے کیوں میرا ہاتھ نہ پکڑا…

جب میں رستے سے بھٹکا تھا…

پہلی بارش بھیجنے والے…

میں تیرے درشن کا پیاسا تھا…

(ناصر کاظمی)

الله نے پکارا… ہے کوئی جو میری ایک امانت کا بوجھ اٹھاے… یہ سن کر سمندر کی سانسیں ٹوٹنے لگیں… پہاڑ ہیبت سے لرزنے لگے… پوری کائنات پر لرزہ طاری ہو گیا… کسسی کو طاقت نہ تھے کہ وہ یہ بوجھ اٹھاتا… پھر الله نے وہ امانت انسان کو سونپ دی… اور انسان اسے اٹھاے مضطرب اور سرگرداں ہے… یہ کائنات کا سب سے بڑا صبر ہے…

وہ امانت الله کی تمام صفات کا پر تو ہے… ہلکا سا عکس…

الله نے اپنی تمام صفات انسان کو سونپ دی… رحم، کرم، قہر، جبر، پوری ٩٩ صفات… اور اپنا اسم ذات نور سے لکھ کر پہلے ہی اس کی پیشانی میں رکھ دیا… الله نے جب جن و ملائک کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ شرک کا حکم نعوذ باللہ نہیں دیا تھا… وہ سجدہ آدم کے لئے نہیں تھا بلکے وہ تو پیشانی میں محفوظ اسم ذات کے لئے تھا… الله کے لئے تھا…  اس لئے شاعر نے کہا کے میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا… پھر اپنی ٩٩ صفات کا عکس انسان پر ڈالا تو اس نے یہ  بتا  دیا کہ انسان اس کا خلیفہ، اس کا نائب ہے… اس میں اتنا صبرہے کہ وہ یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے… تو انسان میں رحیمی بھی ہے…  جباری  بھی ہے…اور قہاری بھی ہے… اب انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ان صفات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے… رحمتوں کا اور صفات کا یہ توازن صرف ایک انسان نے قائم کر کے دکھایا ہے… اور وہ ہیں… رحمت العالمین صل الله ہو علیہ وسلم…

یوں انسانیت سرخرو ہوئ اور امانت کا حق ادا ہوا…

علیم حقی کی کتاب “عشق کا عین” سے اقتباس

 

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

3 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: