میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

58 بار دیکھا گیا


لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں
درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں
آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں
بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں

٭٭٭

کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں
چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری
ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے
رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری

٭٭٭

میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں
قہقہوں کی داستان کیا لکھوں
بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی
میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں

٭٭٭

آرزووں کا، تمناوں کا خون!
خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا
قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف
خون بھوکے مفلس و نادار کا

٭٭٭

مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے
دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں
چیختی ہے آبرو مظلوم کی!
گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں

٭٭٭

میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں
جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در
حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو
جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر

٭٭٭

میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں
حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں
مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی!
جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں

٭٭٭

تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں
پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں
جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے
خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں

٭٭٭

کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر
اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی
سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں
درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی

٭٭٭

کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے
جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا
کارخانہ دار کا اس کے سبب
گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا

٭٭٭

بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم
اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں
میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم
خون کے آنسو بہائے آسماں

٭٭٭

دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی
کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب
قافلے والو! بتاو تو سہی!
کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب

٭٭٭

آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے
دوستو میں مسکراوں کس طرح
مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں
میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

(محمد انوار المصطفیٰ)

ٹیگز: , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

3 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: