میرے گھر آئی ایک ننھی پری۔۔۔

243 بار دیکھا گیا

12 فروری کی رات کو خوشخبری ملی کہ پی آئی اے کا احتجاج ختم ہو گیا ہے اور پروازیں پھر سے اپنے معمول کے مطابق چلیں گی۔۔۔

13 فروری کی صبح دو بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائیٹ شارجہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔۔۔ یہ پرواز ایک بج کر چالیس منٹ پر آنی تھی لیکن کچھ نا معلوم وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔۔۔

میں پونے دو بجے ایر پورٹ پہنچ گیا۔۔۔ مجھے شدت سے انتظار تھا وہ چہرہ دیکھنے کا، جو مجھے میری زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔ جس نے میری زندگی میں آتے ہی اسے بہار کر دیا۔۔۔ جو مجھ سے اتنی قریب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔جب سے وہ میری زندگی میں آئی تو ہمارا ہر وقت کا ساتھ تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔

پھر اسے پاکستان جانا پڑا۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ نانا، نانی کے گھر۔۔۔ آج وہ پورے دو ماہ اور تین دن بعد آ رہی تھی۔۔۔

مجھے امید تھی کہ جیسے ہی وہ ٹرمینل سے باہر آئے گی۔۔۔ اور مجھے اپنا منتظر پائے گی تو مچل کر مسکرا اٹھے گی، ویسے ہی جیسے دو ماہ پہلے مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھل جاتی تھی۔۔۔

دو گھنٹے ائیر پورٹ کے ارائیول لاونج میں بیٹھے بیٹھے۔۔۔ کبھی موبائل سے کھلیتا اور کبھی کوئی اخبار پکڑ لیتا۔۔۔۔ اور پھر کچھ لمحوں کے بعد نظر فلائیٹس کی معلوماتی سکرین پر اٹھ جاتی کہ شاید اب کم وقت رہ گیا ہو جہاز کے آنے میں۔۔۔ لیکن یہ وقت تھا کہ کٹ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اللہ اللہ کر کے جہاز کی آمد کا اعلان ہوا اور پھر سے انتظار کی نئی گھڑیاں شروع ہو گئیں۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد مجھے وہ نظر آئی۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ باہر آتی ہوئ۔۔۔ میں خوشی سے نہال ہو گیا اور اس کی جانب لپکا کہ اسے اپنے سینے سے لگا سکوں اور پھر اسے اس کی ماں سے چھین کر اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے وہ مجھے جانتی ہی نہیں۔۔۔ اتنی بے یقینی اس کے آنکھوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔ شاید وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی میں نے اسے تھاما۔۔۔ اس کے ہونٹ تکلیف سے سکڑ گئے اور اس نے رونا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے ڈرتے ہوئے پھر سے اسے اس کی اماں کے حوالے کر دیا۔۔۔ اپنی ماں کے پاس جاتے ہی اس کا زور زور سے رونا ہلکی ہلکی سسکیوں میں بدل گیا اور مجھے غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ پھر سے اپنی ماں سے لپٹ گئی۔۔۔

اسکی اماں نے مجھے مخاطب کیا کہ دو ماہ بعد آپ کو دیکھ رہی ہے تو پہچانی نہیں۔۔۔ ایک دو دن میں پھر سے مانوس ہو جائے گی۔۔۔ یہ سن کر میرے اجڑے ہوئے دل کو حوصلہ ہوا کہ چلو جہاں دو ماہ گزار لیے۔۔۔ یہ دو دن بھی گزر جائیں گے۔۔۔

گھر پہنچنے تک وہ مجھے گھورتی رہی۔۔۔ اور میں اپنی بیٹی، علیزہ عمران کو (جو اب ماشاءاللہ آٹھ ماہ کی ہو گئی ہے) پیار سے منانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔

اب دو دن بعد علیزہ کو اپنے بابا جان یاد آگئے ہیں اور وہ پھر سے میری طرف بانہیں پھیلا کر مجھے بلاتی ہے۔۔۔ اوں اوں کرتی یہ کوشش کرتی ہے کہ میں اسے اٹھا لوں اور وہ میرے کندھے پراپنا سر رکھ کر ادھر ادھر دیکھتی رہے۔۔۔

————————————————

ایک نظم پڑھی کچھ دن پہلے۔۔۔ جسے پڑھ کر کچھ غمگین سا ہو گیا ہوں۔۔۔ پتا نہیں کیوں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔ بہت اچھی لگی تو شئیر کر رہا ہوں۔۔۔ امید ہے پسند آئے گی۔۔۔

بیٹی:
مجھے اتنا پیار نا دو بابا۔۔۔
کل جانا مجھے نصیب نا ہو۔۔۔
یہ جو ماتھا چوما کرتے ہو۔۔۔
کل اس پر شکن عجیب نا ہو۔۔
میں جب بھی روتی ہوں بابا۔۔۔
تم آنسو پونچھا کرتے ہو۔۔۔
مجھے اتنی دور نا چھوڑ آنا۔۔۔
میں رووں اور تم قریب نا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میرے لاڈ اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میری چھوٹی چھوٹی خواہش پر۔۔۔
تم جان لٹاتے ہو بابا۔۔۔
کل ایسا ہو ایک نگری میں۔۔۔
میں تنہا تم کو یاد کروں۔۔۔
اور رو رو کر فریاد کروں۔۔۔
اے اللہ۔۔۔ میرے بابا سا۔۔۔
کوئی پیار جتانے والا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھانے والا ہو۔۔۔
میرے بابا، مجھ سے عہد کرو۔۔۔
مجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔
دنیا کی ظالم نظروں سے۔۔۔
ؐمجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔

باپ:
ہر دم ایسا کب ہوتا ہے۔۔۔
جو سوچ رہی ہو لاڈو تم۔۔۔
وہ سب تو بس ایک مایا ہے۔۔۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کو۔۔۔
کب جانے سے روک پایا ہے۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

25 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: