عمرانیات » میری موت

میری موت

جمعہ, 5 اگست 2011, 2:54 | زمرہ: عشق الہی, میری سوچ
ٹیگز: , , , , , ,

چھوڑ دو مجھے، مت لے کر جاو۔۔۔ میں نہیں جاتا تمہارے ساتھ۔۔۔ مجھے یہ کپڑے کیوں پہنا رکھے ہیں۔۔۔ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔ چھوڑ دو مجھے، مجھے میرے گھر والوں کے پاس رہنے دو۔۔۔ یہ سب کیوں رو رہے ہیں۔۔۔ مجھے کہاں بھیج رہے ہیں۔۔۔ خدا کے واسطے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے نہیں جانا۔۔۔

تم لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے۔۔۔ کیا میری آواز تم کو نہیں آتی۔۔۔ کیوں مجھے نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ تم لوگ مجھے یہیں چھوڑ دو۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ کہاں چھوڑ دیا مجھے۔۔۔ اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں۔۔۔ اوہ ہو، اتنی مٹی۔۔۔ اتنی گرمی۔۔۔ اف، کوئی مجھے اس کپڑے سے نجات دے۔۔۔ میں تو گرمی سے پگھل رہا ہوں۔۔۔ کیسا گھٹا ہوا ماحول ہے۔۔۔ میری تو جان نکل رہی ہے۔۔۔

کوئی ہے۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کون ہیں؟ او ر یہاں کیا کر رہے ہیں؟

ہم منکر نکیر ہیں اور تم سے تمہاری زندگی کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔

کیا کہا؟ کون ہو تم؟ کیا میں مر چکا ہوں؟ تم لوگ کیا پوچھو گے مجھ سے؟ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے واپس میں دنیا میں جانے دو۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تم کو۔۔۔ مجھے جانے دو۔

شور مت کرو، تم مر چکے ہو اور اب واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ اب ہمارے سوالات کا جواب دو۔۔۔ بتاو کہ تمہارا رب کون ہے؟

میرا رب۔۔!!! میرا رب۔۔۔ کون ہے میرا رب۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے یاد نہیں میرا رب کون ہے۔۔۔

تمہارا رسول کون ہے؟

خدا کے واسطے مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ میرا رسول کون ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔

تمہارا مذہب کیا ہے؟

مذہب نہیں معلوم۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میرے آنسووں پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب کون ہے، میرا رسول کون ہے اور میرا مذہب کیا ہے۔۔۔؟ مجھے کچھ نہیں معلوم۔

تمہارا رب اللہ تبارک تعالیٰ ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا مذہب ، اسلام ہے۔ اور تمہیں کچھ یاد اس لیے نہیں آ رہا، کہ تم نے اپنی ساری زندگی اپنے رب اور اس کے احکامات کو جھٹلایا ہے۔۔۔ اس کی نافرمانی کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کو مانتے تو اس کے احکامات پر عمل کرتے، احکامات کو مانتے تو محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرتے اور محمدﷺ کی سنت کو مانتے تو دین اسلام کے ہر ہر حکم اور اصول پر پابند ہوتے۔

اے ابن آدم، تم نے اپنی زندگی برباد کر دی۔ شور شرابے اور کفر میں گزار دی۔ عیش و عشرت میں مبتلا رہے اور اپنا رب نا پہچان سکے۔ روزانہ پانچ دفعہ اللہ کی پکار سنتے رہے کہ وہ تمہیں بار بار اپنے پاس بلاتا رہا کہ اس کی طرف آو، نماز پڑھو اور اس کو یاد کرو، لیکن تم نے اللہ کی پکار کو نظر انداز کیا، اب تمہیں نافرمانی کی سزا ملے گی۔ تمہارے ہر گناہ کی سزا ملے گی۔

مجھے معاف کر دو۔۔۔ مجھے ایک بار پھر دنیا میں بھیج دو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ کی عبادت میں اپنی ہر سانس مصروف کر دوں گا۔۔۔ اس کے ہر حکم کا تابع رہوں گا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔

نہیں اے بشر، تیری مدت ختم ہو چکی۔۔۔ اب تو واپس نہیں لوٹ سکے گا۔ اب تو قیامت تک سزا بھگتتا رہے گا۔ اب آخری فیصلہ اللہ ہی روزِ قیامت کرے گا۔ تب تک تو مجرم ٹھرا اور سزا تیرا مقدر ٹھری۔

بچاو۔۔۔ کوئی تو مجھے بچاو۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ اے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے قبر کی ہولناکی سے بچا۔۔۔ اے اللہ مجھے بچا۔۔۔ اے اللہ میرے گناہ معاف فرما دے۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں

 




9 تبصرے برائے “میری موت”

  1. 1Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

    عمران بھائی!
    اللہ تعالٰی ہمیں اچھا اور نیک مسلمان بنائے۔ ایسا مسلمان جو لحد میں اترے تو لحد منور ۔ حساب کتاب ہو ۔ تو کوئی خوف دامنگیر نہ ہو۔ اور اللہ کی رحمت سے پل بھر میں سبھی امتحانوں سے سرخرو گزر جائے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب دنیا میں نیکی کرنے میں اسکے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا۔

    کر بھلا سو ہو بھلا۔ جو خدا کی مخلوق کو راضی نہیں کرسکتا۔ وہ خدا کو کیسے راضی کر سکتا ہے؟ نماز روزۓ زکواۃ حج ۔ یہ تو فرائض ہیں ۔ جو اسنے ہمیں ایمان نصیب کرنے کے بدلے ہم پہ عائد کئیے۔ یعنی ان فرائض کی ادائیگی ہماری “ڈیوٹی” ہے۔ جبکہ اسکی مخلوق کو راضی کرنا خدا کو راضی کرنا ہے ۔

  2. 2شعیب صفدر

    تیسرے سوال کے جواب میں کہا کہ “میرا رب۔۔!!! میرا رب۔۔۔ کون ہے میرا رب۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے یاد نہیں میرا رب کون ہے۔۔۔” مگر اگلے ہی سوال کے جواب میں بولا “خدا کے واسطے مجھے جانے دو”
    تضاد!!!
    یہ کیوں؟

  3. 3سعد

    مصیبت کے وقت تو فرعون نے بھی رب کو ہی پکارا تھا۔
    پتا سب کو ہوتا ہے کہ خدا ہے مگر وہاں پہنچ کر یہ یاد نہیں آتا ہو گا کہ خدا کون سا ہے، اللہ، بھگوان یا گوگل؟ 🙂

  4. 4محمد سلیم

    سعد۔ یہ گوگل بھگوان والی بات خوب یاد دلائی ہے۔

  5. 5عمران اقبال

    شعیب صفدر صاحب، معذرت کے ساتھ، آپ کے تبصرے میں “فکر” کم اور “شوخی” زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ لیکن آپ کے استفسار کا جواب سعد اور یاسر بھائی نے احسن طریقے سے دیا ہے۔۔۔ اور میرے کہنے کا مقصد بھی یہ تھا جو یاسر بھائی سمجھے ہیں۔۔۔

  6. 6یاسر خوامخواہ جاپانی

    جزاک اللہ۔
    رب کو نا ماننے والے۔
    مصیبت کے وقت رب کے واسطے ہی دیتے ہیں۔
    بھیکاری اللہ پر توکل نہیں کرتا
    لیکن۔۔۔
    مانگتا رب کے نام پر ہی ہے۔

  7. 7فکرپاکستان

    جاوید بھائی نے بہت اچھی بات کی ہے اور یہ ہی اصل مغز ہے اسلام کا۔

  8. 8محمد سلیم

    اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ المحیا والممات – اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر۔
    عمران اقبال بھائی، فکرِ موت اور فکر آخرت کی یاد دہانی کا شکریہ، اللہ آپکو جزائے خیر دے۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا خاتمہ بالایمان کرے اور ہمیں موت اس حالت میں آئے کہ وہ ہم پر راضی ہو۔

ٹریک بیکس

  1. 1. Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل
  2. 2. شعیب صفدر
  3. 3. سعد
  4. 4. محمد سلیم
  5. 5. عمران اقبال
  6. 6. یاسر خوامخواہ جاپانی
  7. 7. میری موت | Tea Break
  8. 8. فکرپاکستان
  9. 9. محمد سلیم

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔