عمرانیات » میری محبت کے نام۔۔۔

میری محبت کے نام۔۔۔

اتوار, 16 جنوری 2011, 21:46 | زمرہ: میرا پسندیدہ کلام, میری محبّت
ٹیگز:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔!!!!

سوچتا ہوں‌کہ محبت سے کنارا کرلوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کرلوں
سوچتا ہوں‌کہ محبت ہے جنونِ رسوا
چند بے کار سے بے ہودہ خیالوں کا ہجوم
ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس
ایک بیگانے کو اپنانے کی سعئ موہوم
سوچتا ہوں کہ محبت سے سرور و مستی
اس کی تنویر سے روشن ہے فضائے ہستی
سوچتا ہوں کہ محبت ہے بشر کی فطرت
اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت سے ہے تابندہ حیات
اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں
اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش
چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی
دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی
درگہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی
سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں
ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اک کار زبوں
سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ
پیش ازاں وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش
یہی بہتر ہے کہ بیگانۂ الفت ہو کر
اپنے سینے میں‌کروں جذبۂ نفرت کی تلاش
سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کر لوں

(ساحر لدھیانوی)



3 تبصرے برائے “میری محبت کے نام۔۔۔”

  1. 1امتیاز

    بہت خوب

  2. 2سیّد شاہ رُخ کمال

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    یوں تو ساحر صاحب شاعر بہت اچھے تھے۔ ان کی کلیات میں نے بھی بہت شوق سے خریدی تھی۔ مگر ان کی شاعری میں محبت نچلے درجہ پہ نظر آتی ہے اور اس سے مایوسی سی ظاہر ہوتی ہے ہے جبکہ غالب اور اقبال کے کلام میں محبت خواہ ایک دوسرے الگ سمت میں ہیں مگر محبت سے مایوس نہیں. بیدم وارثی کی شاعری میں بھی محبت سے نہیں بلکہ محبوب سے شکوے ہیں۔ محبوب کو قصور وار بنانے کی بجائے ساحر صاحب نے سیدھا محبت پہ ہی الزام تراشی کر دی۔ اس کی وجہ ساحر صاحب کی چند ناکام محبتیں تھیں۔ بہر حال، پھر بھی ساحر صاحب نے ایسی شاعری سے ان لوگوں کی صف تیار کر لی کہ جو محبت سے ہی بیزار ہیں۔

  3. 3جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    آپ سے پورا اتفاق ہے۔

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔