میرا غم یا ان کا دکھ ۔۔۔؟

64 بار دیکھا گیا

میرا غم

علیزہ کی پیشانی پریشان کن حد تک گرم ہو گئی تھی۔۔۔ میری بچی آہستہ آہستہ نڈھال ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ ہروقت کی چنچل گڑیاکے منہ سے کچھ لفظ ہی نہیں نکل پا رہا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ شاید اس میں رونے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ میں نے رات کو اس کا بخار دوبارہ چیک کرنے کے لیے اس کے جلتے ہوئے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو میری پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔۔۔ دو دن پہلے ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے “بکٹیریل انفیکشن” (bacterial infection) کی تشخیص کی اور کچھ دوایاں لکھ کر دیں۔۔۔ اب دو دن کے دوا کی بعد بھی علیزہ کو کوئی افاقہ نہیں تھا۔۔۔ میں نے علیزہ کو اپنی گود میں بھرا۔۔۔ اور بیگم کو کہا کہ جلدی سے علیزہ کا بیگ تیار کرے اور میرے ساتھ ہسپتال چلے۔۔۔

دس منٹ بعد میں جی ایم سی ہسپتال(Gulf Medical College and Hospital)کی طرف گاڑی بھگا رہا تھا۔۔۔ ڈرائیو کرتے کرتے علیزہ کو دیکھتا تو اس کا مرجھایا ہوا چہرا دیکھ کر کلیجہ منہ میں آنے لگتا۔۔۔ مجھے بس ہسپتال پہنچنے کی جلدی تھی۔۔۔ بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد میں جی ایم سی پہنچا اور علیزہ کو گود میں لے کر ایمرجنسی کی طرف بھاگا۔۔۔  بیگم کو علیزہ کی فائل بنوانے کو کہا اور خود وہاں موجود اسٹاف کو علیزہ کی بیماری کا بتانے لگا۔۔۔ مجھے ٹریٹمنٹ روم کی طرف بھیج دیا گیا۔۔۔ شفٹ ڈاکٹر نے علیزہ کی بخار چیک کیا جو 103 ڈگری سے اوپر تھا۔۔۔ اس نے بلڈ ٹیسٹ اور سینے کا ایکسرے کروانے کو کہا۔۔۔ یہ ٹیسٹ کروانا بہت مشکل تھا کہ علیزہ کو سنبھالنا بہت دشوار کام ہے۔۔۔

خیر، میں نے علیزہ کی ٹانگیں اور بیگم نے علیزہ کے بازو مضبوطی سے پکڑے اور نرس نے اس کے ہاتھ سے دو انجیکشن خون کے لے لیے۔۔۔ اس دوران علیزہ تکلیف سے زور زور سے رو رہی تھی۔۔۔ کبھی اپنی ماں کو دیکھتی اور کبھی مجھے کہ اسے سوئی کے درد سے بچائیں۔۔۔ بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے ۔۔۔ جیسے ہی نرس نے خون لیا۔۔۔ میں نے علیزہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔ اور ایکسرے روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ ایکسرے لینے کا سارا عمل ویسا ہی کربناک تھا۔۔۔ علیزہ تکلیف اور بے بسی سے رو رہی تھی۔۔۔ اور اپنی بیٹی کی بے بسی دیکھ کر میں بھی خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرے آنسو نکل آئے۔۔۔

ایکسرے روم سے باہر آ کر میں باہر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ اور  اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرا چھپا کر زار وقطار رونے لگا۔۔۔ مجھ سے اپنی بیٹی کی تکلیف برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری بیٹی کو میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہو۔۔۔ روتے روتےمیں اللہ سے اپنی بیٹی کی صحت کی دعائیں کرتا رہا۔۔۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہا۔۔۔ آنسو تھم ہی نہیں رہے تھا۔۔۔ جانے کب تک روتا رہا۔۔۔

ڈاکٹر نے رزلٹ چیک کیے اور کچھ اضافہ کے ساتھ پہلے والی ادویات جاری رکھنے کو کہا۔۔۔ گھر آنے تک علیزہ کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔آتے ہی دادا دادی سے لپٹ کر کھیلنے لگی۔۔۔

اب دو دن سے علیزہ ماشاءاللہ کافی بہترہے۔۔۔ دوائیں تو اب بھی جاری ہیں۔۔۔ کافی کمزور ہو گئی ہے۔۔۔ لیکن آہستہ آہستہ پھر سے وہی شرارتی علیزہ واپس آ رہی ہے۔۔۔

ان کا دکھ

  پھر کچھ خبریں نظر سے گزریں۔۔۔ تو یہ احساس ہوا کہ میرا اور میری بیٹی کی تکلیف ان کے سامنے تو کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔ ان والدین پر کیا گزری ہوگی۔۔۔ ان کا کیا قصور ہے جو یہ وقت دیکھنا پڑا ۔۔۔ آخر کیا ہے یہ “معاشرہ”۔۔۔؟ آخر ہم اتنے بے حس کیوں ہو گئے ہیں۔۔۔ آخرت کو کیوں بھول گئے ہیں۔۔۔؟

news

1101206258-1

1101206890-1

 

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

16 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: