مقصدِحیات

144 بار دیکھا گیا

اس جگہ کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں سے سورج سمندر میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔۔۔

نارنگی روشنی، آسمان کے صفحہ پر پھیلتی ہوئی، شارجہ کارنش کو سنہرے رنگوں میں ڈبو دیتی ہے۔۔۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ، کہہ کر اپنے بائیں کاندھے  کی طرف سر موڑتے ہوئے اس نے نماز مغرب مکمل کی۔۔۔ ایک لمبی سانس بھری اوراپنے سامنے بچھے آسمان پر نظر ٹکا دی۔۔۔

ہزاروں دانشوروں اور علماء نے آسمانوں میں چھپی جنت کو کھوجنے کی کوشش کی۔۔۔ اور زندگی کے معمہ کو جاننا چاہا ہے۔۔۔

فرابی سے غزالی تک۔۔۔
ارسطو سے اقبال تک۔۔۔

لیکن کوئی روح کی تسکین کا سامان نہیں کر سکا۔۔۔

یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دیا اور پھر بلاوجہ سڑکیں ناپتا رہا۔۔۔

سوچنا اور تحقیق کرنا اس کی بہت پرانی عادت تھی۔۔۔ وہ کرہ ارض میں مخفی خزانوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ آسمان کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔ زندگی کے بارے میں سوچتاتھا۔۔۔ انسانی خصلتوں کے بارے میں سوچتا تھا۔۔۔

اس نے اپنی گاڑی کا رخ عجمان کارنش کی طرف کر دیا۔۔۔ جہاں ٹریفک جام اس کا منتظر تھا۔۔۔

ہم سب دنیا کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہیں۔۔۔ اپنے طور پر دنیا کے بارے میں سب کچھ جاننے کے دعویدار بھی ہیں۔۔۔ دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنا بھی چاہتے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔

کوئی بھی دنیا کی حقیقت سے واقف نہیں۔۔۔ اور وہی حقیقت تو مقصدِ حیات ہے۔۔۔

بھاری ٹریفک میں بریک پر پاوں رکھے وہ سوچتے ہوئے مسکرا اٹھا۔۔۔

“مقصدِ حیات تو مقصد سے بھرپور زندگی ہی ہے۔۔۔”

ٹیگز:

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

9 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: