محلے کی آنٹی

3,495 بار دیکھا گیا

برے دنوں کا ذکر ہے۔۔۔ایک محلے میں ایک خاتون رہا کرتی ہیں۔۔۔ عمر کی تو اتنی پکی نہیں لیکن آس پاس کے ہمسائے نا جانے کیوں انہیں آنٹی کہہ کر عزت بخشتے ہیں۔۔۔

آنٹی اتنی ذہین تو نہیں لیکن انہیں بڑی بڑی باتیں کرنے کا بڑا شوق ہے۔۔۔ انگریزی زبان کی بڑی دلدادہ ہیں لیکن شو مئی قسمت انگریزی بولنے میں مار کھا گئیں۔۔۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہےکہ اردو کو منہ گھما کر انگریزی لہجے میں بول کر رعب جمانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں۔۔۔  آنٹی فلاسفر بننے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔۔۔ لیکن دماغ میں خون کی مکمل فراہمی نا ہونے کے باعث اب تک فلاسفر کے انگریزی ہجے ہی یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔

اب جب آنٹی “کہلاتی” ہی ہیں تو آنٹی “بننے” کا بھی بڑا شوق ہے۔۔۔ اکثر چیخ چلا کر سارے محلے کو روشن خیالی کی تبلیغ کیا کرتی ہیں۔۔۔ اپنی ہاں میں ہاں ملوانے کے لیے دو عدد بارہ سنگھے پال رکھے ہیں۔۔۔ اگر عام عوام میں سے کبھی کوئی ان کی روشن خیالی کے خلاف  اٹھ کھڑا ہوتو وہ اپنے دونوں پالتووں کو ان پر چھوڑ دیتیں ہیں۔۔۔اور وہ پالتو مگر بہادر بارہ سنگھے تب تک پرائی لڑائی سے اپنے سینگھ نہیں نکالتے جب تک عوام ان کو ذلیل کر کر کے ادھ موا نا کر دیں۔۔۔ معلوم نہیں کیا کھلاتی ہیں انہیں کہ پھر بھی یہ بارہ سنگھے آنٹی کے لیے سماج سے لڑ جاتے ہیں۔۔۔ شاید آنٹی کے ہاتھوں ذلالت کی بیعت لے چکے ہیں۔۔۔

آنٹی کو “عورت” زات سے بڑا بیر ہے۔۔۔ محلے کی کم و بیش تمام خواتین سے پھڈے بازی کر چکی ہیں۔۔۔  اور تو اور انہیں وہ مرد حضرات بھی بہت کم ظرف محسوس ہوتے ہیں جو خواتیں کی عزت کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ بقول آنٹی وہ “بلاوجہ” عزت نہیں کرتے۔۔۔ کوئی نا کوئی تو بات ہو گی۔۔۔ خیر تو بات چل رہی تھی آنٹی کے خواتین کے ساتھ ان گنت مسائل کی۔۔۔ محلے کی خواتین نے ان کے رویے کی وجہ یہ نکالی کہ چونکہ آنٹی خود حسن کی دولت سے مالامال نہیں، اس لیے انہیں دوسری حسیناوں سے حسد ہے۔۔۔ اور مرد حضرات یہ چہ مگوئیاں کرتے کہ کیونکہ ہم آنٹی کو کوئی لفٹ نہیں کرواتے، اس لیے انہیں دوسری عزت دار خواتین نہیں بھاتی۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ یہ آنٹی جانیں یا اللہ میاں۔۔۔

آنٹی روشن خیالی کی ایک زندہ مثال ہیں۔۔۔ خواتیں کی بے پردگی کو جائز ٹھراتے ہوئے “حجاب” کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔۔۔ ان کا مقصدِزندگی ہے کہ اسلام میں جکڑی ہوئی خواتین کو آزادی دلائیں اور ان میں شعور پیدا کریں کہ وہ عورت نہیں، ایک “کموڈیٹی” ہے۔۔۔ جس کا مقصد “دکھی انسانیت” کی ہمیشہ ہمیشہ خدمت کرنا ہے۔۔۔

آنٹی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ “متحدہ قومی مردار” کے قائد “چلبل پانڈے عرف بھیا جی” کے ہاتھوں بالمشافہ بیعت لینا ہے۔۔۔ آنٹی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پاکستان میں رہتے ہوئے “گوری میم عرف بڑی آنٹی عرف ملکہ الزبتھ” کے ایجنڈوں پر عمل کرنے کی قسم کھائی ہے اور اب ان کی پوری کوشش ہے کہ محلے کی کچھ کمسن بچیاں ہی لونگ سکرٹ پہن کر “بھیا جی – زندہ باد” کا نعرہ لگا دیں۔۔۔

آنٹی کو “ادب” بہت پسند ہے۔۔۔ مسندِبارہ سنگھا سے یہ شعر ان کو بہت پسند ہے:
آوٰ بچو سیر کرائیں تم کو “بلاگستان” کی۔۔۔
جس کی خاطر سہی ذلالت ہم نے دنیا جہاں کی۔۔۔

ادب کی خاطر ان کی قربانیاں رہتی دنیا یاد کی جائیں گی۔۔۔ انہوں نے ادب کے لیے ہر قسم کے ادب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے ادبی کی انتہا کی ہے۔۔۔ اور پھر بھی دوسروں سے ادب کی امید رکھتی ہیں۔۔۔ آخر آنٹی ہیں تو ان کا ادب کرنا تو “بنتا ہے نا باس”۔۔۔

محلے والوں نے اس جمعہ کو بعد از نماز جمعہ “آنٹی” کی دماغی صحت مندی کے لیے خصوصی مولوی کا انتظام کیا ہے۔۔۔ جو اللہ کے حضور رو رو کر آنٹی کے لیے دعا مانگے گا۔۔۔ آپ سب صرف آمین ہی کہہ دو۔۔۔ شاید آپ کی ہی سنی جائے اور محلے والے آپ کے ممنون ہو جائیں۔۔۔

ٓٓٓٓٓٓٓۤ———————————————————————————

میری اس تحریر کا کوئی سر پاوں نہیں۔۔۔ لیکن آنٹی کی باتوں کا بھی تو کوئی سر پاوں نہیں ہوتا نا۔۔۔ اس لیے جس نے میری یہ تحریر پڑھی ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اسے نا صرف پسند کرے بلکہ اچھا سا تبصرہ بھی کرے۔۔۔ ورنہ گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔۔۔

ۤۤۤۤۤۤۤۤۤٓٓٓٓٓٓٓ

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

41 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: