ماہ رمضان اور میرے ایمان کی کمزوری

278 بار دیکھا گیا

رمضان آنے کو ہے اور پہلا روزہ کل یا پرسوں متوقع ہے۔ متحدہ عرب امارات ، سعودی رویت ہلال کمیٹی کی تلقید کرتی ہے۔ عشاء کی نماز کے فوراً بعد روزہ ہونے یا نا ہونے کی خبر آ جائے گی۔

سچ بتاوں تو دل بہت گھبرایا ہوا ہے۔ ایک ڈر دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس دفعہ روزے بھی کافی لمبے ہونگے۔ تقریباً پندرہ گھنٹے کا۔ 48 سے 50 فارہنایٹ ڈگری کی گرمی اور بنا پانی کے پندرہ گھنٹے۔۔۔!!! اف، کتنے مشکل روزے ہونگے۔ بھوک پیاس کو اتنا برداشت کیسے کروں گا۔

ایمان کی کیسی زبردست کمزوری ہے۔ ہاں دل کا سچا حال لکھنے کی ہمت ضرور ہے کہ کئی حضرات کی طرح دلوں میں روزے رکھنے کی جھنجلاہٹ چھپائے دنیا دکھاوے کے لیے “رمضان مبارک” کے ایس ایم ایس فارورڈ نہیں کرتا۔

نیکی کرنے کا خوف کس حد تک بیٹھ گیا ہے میرے دل میں کہ ڈائٹ کے نام پر ہفتہ ہفتہ کچھ نا کھاوں پیوں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن احکام الہیٰ پورے کرتے میری جان جا رہی ہے۔

شاید میرے جیسا حال اور بہت سے حضرات کا ہے۔ شاید وہ بھی دنیاوی تکلیف کا سوچ کر آخرت کی حساب اور جزا سزا کو بھول رہے ہیں۔ شاید کہ میری یہ تحریر میرے اور ان کے دلوں کے حال بدل دے۔

اسلام کے کسی بھی مسلک میں رمضان کی اہمیت، فرضیت، قوانین و قواعد اور ثواب محترم ہیں۔ میرے جیسے “بے ایمان” اور “شیطان کا تابع” انسان اگر مندرجہ ذیل نکات پر غور کرلے اور ان کو سنجیدگی سے خود پر طاری کر لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ہمیں معاف فرما دیں اور ہمارے روزے ہمارے لیے باعث ِلطف اور کارخیر ثابت ہو سکتے ہیں

دعا ہے کہ اللہ مجھ سمیت سب مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے روزوں کوقبول فرمائے۔ آمین

ٹیگز: , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

9 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: