چچ چچ چچ

163 بار دیکھا گیا

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا۔۔۔ کہ جاہلوں کے منہ نا لگا کرو۔۔۔ ان سے نیکی کی کوئی امید نا رکھو۔۔۔ جاہل ہمیشہ اپنی بات کو ہی ٹھیک سمجھتا ہے۔۔۔ اس کے پاس لاجک والی بات تو ہوتی نہیں۔۔۔ بس جو محلے کی بڑی بی سے سن لیا، اسے ہی حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔۔۔ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے جاہل کا آخری حربہ چچ چچ چچ اورغوں غوں غاں غاں ہی رہ جاتا ہے۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا،  بس ہمیں ہی طبع آزمائی کاشوق ہو گیا تھا۔۔۔ گرمی بڑھتی جارہی تھی تو  ہم نے اس تالاب میں چھلانگ لگا دی جہاں بیشتر بارہ سنگھے غسل کیا کرتے ہیں۔۔۔ بارہ سنگھوں کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گزری اور کرنے لگے اپنے سینگھوں سے  حملے۔۔۔ میں نے بڑا سمجھایا کہ کسی اور کے نچلے بھائی، تیرا کیا کام۔۔۔؟ تو اپنی صفائی کر اور مجھے زرا ٹھنڈ ماحول لینے دے۔۔۔ لیکن عجب دماغ پایا ہے بارہ سنگھے نے۔۔۔ کہنے لگا، اس تالاب کے جملہ حقوق "کسی" نے انہیں اور "ان" کے شاگرد خاص کو عطا فرمائے ہیں۔۔۔ اور "ان" کو یہ تالاب "ان" کے جی داروں کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔ حکم ملا کہ نکلوں، ورنہ "منافقت"، "جہالت" اور "چچ چچ چچ" کا لیبل لگوا کر دربدر کروا دیا جاوں گا۔۔۔

بڑے بزرگوں نے بڑا سمجھایا تھا کہ اس تالاب میں سارے ہی گندے ہیں، ادھر کا رخ نا ہی کروں لیکن تجربہ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ بس جی اب تجربہ ہو گیا کہ "ان" سے بچ کے ہی رہا جائے۔۔۔ اور "لاحول ولا قوة" کا مستقل ورد رکھا جائے۔۔۔ ورنہ کالا جادو صرف بنگالی بابوں کی ہی میراث نہیں۔۔۔ آجکل بنگالی بابوں کے شاگرد بھی اس ہنر میں طاق ہو گئے ہیں۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

20 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: