ہمارے شہید کون ہیں؟

73 بار دیکھا گیا

شہید کون ہے؟ شہادت کیا ہے؟

آئیں، پڑھتے ہیں کہ  قرآن اور حدیث شہید کی کیا تعریف کرتے ہیں۔۔۔

شہید ہونے والے مجاہدین کی شان میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 169 اور 170 میں ارشاد فرماتا ہے:

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں تم مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے روزی دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے انہیں اپنا فضل دیا ہے، وہ اس سے خوش ہیں”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ انسانوں میں افضل کون ہے؟ تو فرمایا:

”وہ مومن (افضل) ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے، پھر وہ مومن جو کسی پہاڑ میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ اور  حدیث میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ “اللہ کی راہ” ہے۔۔۔

جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے علاوہ یہ بھی شہید ہیں:
1) مطعون شہید ہے۔
2) ڈوبنے والا شہید ہے۔
3) زات الجنب (پیٹ کی بیماری) سے مرنے والا شہید ہے۔
4) جل کر مرنے والا شہید ہے۔
5) ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے۔
6) حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہید ہے۔۔۔

سُنن ابو داؤد حدیث ٣١١١/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفيء / اول کتاب الجنائز /باب ١٥ ، مؤطا مالک ، حدیث /کتاب الجنائز /باب ١٢ا

پاکستان میں ہم نے لفظ “شہید” کو بھی مذہبی سے زیادہ “سیاسی” بنا دیا ہے۔۔۔ جو لیڈر قتل کر دیا جائے۔۔۔ وہ اپنی پارٹی کے ممبران کے لیے “شہید”ہو جاتا ہے۔۔۔ ہم نے مذہب کو آسمان سے لٹکتی ایک رسی سمجھ رکھا ہے کہ جس کا جتنا جی چاہے، اپنی مرضی سے اتار لے اور جیسا مرضی سلوک کرے۔۔۔مثلا، ہمارے وہ “رہنما” جنہیں “بسم اللہ” اور “سورۃ اخلاص” زبانی تو دور کی بات، دیکھ کر پڑھنی بھی نہیں آتی، سلمان تاثیر کو شہید کا لقب دے بیٹھے۔۔۔

لال مسجد کے پورے واقعے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ جو افراد (یا بقول حکومت، دہشت گرد) لال مسجد میں مقید “جہاد” کر رہے تھے وہ شہید ہوئے یا ہماری وہ پاک فوج جو معاشرے میں پھیلتے ان “بنیاد پرست” افراد کا قلع قمع کرنا چاہتی تھی ان کے لوگ شہید ہوئے۔۔۔

پھر ایک نئی بحث اٹھی ۔۔۔ کہ وہ افراد جو “طالبان” کا نام استعمال کرتے ہوئے خودکش حملے کر رہے ہیں، وہ شہید ہیں یا وہ بے گناہ افراد جو ان حملوں میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید ہیں۔۔۔

ذوالفقار علی بھٹو شراب پیتا تھا، لیکن جب اسے پھانسی ہوئی تو شہید کہلایا اور ضیاء الحق جو اسلامی انقلاب کی باتیں کرتا ہوا ہوائی حادثے کا شکار ہوا تو کیا وہ شہید تھا۔۔۔

اگر اوپر لکھی گئی آیات اور احادیث مبارکہ سے نتیجہ اخذ کیا جائے تو کیا ہمارے “رہنما حضرات” شہید ہیں۔۔۔ اور کیا وہ افراد شہید ہیں جو دھوکے سے قتل و غارت کرتے ہیں اور پھر اپنے طور پر شہید کا لیبل لگوا لیتے ہیں۔۔۔

کیا سلمان تاثیر، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور سیاسی دنگوں میں مارے گئے جیالے، بھائی اور کارکن شہید ہیں؟

کیا خود کش حملے کرنے والے یا ان میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہید ہیں؟

کیا لال مسجد کے فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے طلبا شہید ہیں یا آپریشن کرنے والے فوجی شہید ہیں؟

اوروزیرستان میں جاری آپریشن میں شہید کون ہے؟

اب یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے شہید کون ہیں؟؟؟

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

7 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: